گلزار…. فلم سے ادب تک (2)


Haider Qureshi

جس طرح اپنی جنم بھومی دینہ کے معاملہ میں گلزار بہت زیادہ جذباتی ہیں، ویسے ہی اپنے گزرے ہوئے زمانے کے معاملہ میں بھی حساس ہیں۔ اپنی عمر کے گزر چکے وقت اور گزرتے جاتے وقت کے حوالے سے گلزار کی چند نظموں کی مختلف کیفیات دیکھیں۔

٭٭٭میں اڑتے ہوئے پنچھیوں کو ڈراتا ہوا کچلتا ہوا گھاس کی کلغیاں گراتا ہوا گردنیں ان درختوں کی، چھپتا ہواجن کے پیچھے سےنکلا چلا جا رہا تھا وہ سورج۔ ۔ ۔ ۔ تعاقب میں تھا اس کے میں! گرفتار کرنے گیا تھا اسےجو لے کے مِری عمر کا ایک دن بھاگتا جا رہا تھا(وقت۔ ۱)

 ٭٭٭شیشم اب تک سہما سا چپ چاپ کھڑا ہےبھیگا بھیگا، ٹھٹھرا ٹھٹھرا بوندیں پتّہ پتّہ کرکےٹپ ٹپ کرتی ٹوٹتی ہیں تو سسکی کی آواز آتی ہے بارش کے جانے کے بعد بھی دیر تلک ٹپکا رہتا ہےتم کو چھوڑے دیر ہوئی ہےآنسو اب تک ٹوٹ رہے ہیں(آنسو۔ ۳)

 ٭٭٭منہ ہی منہ کچھ بڑ بڑکرتا، بہتا ہے یہ بڈھا دریا پیٹ کا پانی دھیرے دھیرے سوکھ رہا ہےدبلا دبلا رہتا ہے اب کود کے گرتا تھا یہ جس پتھر سے پہلےوہ پتھر اب دھیرے سے لٹکا کے اس کواگلے پتھر سے کہتا ہےاس بڈھے کو ہاتھ پکڑ کے پار کرا دے(بڈھا دریا۔ ۳)

عمرِ رواں کے رنگ دیکھتے ہوئے اور ان رنگوں میں گھلتے ہوئے گلزاروقت کو ایک اور انداز سے دیکھنے لگتے ہیں:

٭٭٭منو اکثرپوچھتی ہے دائی ماں سے۔ ۔ ۔ ۔ ”ماں! کھلونے بھی بڑے ہوتےانہیں بھی عمر لگ جاتی۔ ۔ ۔ ۔ تو کیا ہوتا؟“ (کھلونے)

٭٭٭ہم نے دیکھا تھا بہت دیر تلک ڈوبتے سورج کی طرف اور جب چلتے ہوئے ہاتھ ملایا تھا، کہا تھا اس نےتم نے وعدہ تو کیا ہے کہ یہیں کل بھی ملو گےاور مجھ سے بھی کہا ہے کہ گواہی دینامیں نہیں آؤں گا، کل دوسرا سورج ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے دیکھا تھا بہت دور تلک ڈوبتے سورج کی طرف دوسرے دن بھی مگر دیکھ کے ہم کو، وہ ہنسا کیوں تھا؟ (ہم نے دیکھا تھا بہت دیر تلک )

گلزار نے اپنے خون کے رشتوں میں سے اپنے”ابو“اور بیٹی”بوسکی“ (میگھنا) کو خاص اہمیت دی ہے۔ اسے میں یوں دیکھتا ہوں جیسے وہ ماضی کی گہری یادوں کے باوجود اپنے مستقبل کو بھی دیکھنے لگے ہیں۔ ہجرت کی داستان بیان کرتے ہوئے ماں اور بہن کا ذکر آتا ہے تاہم بیوی کا ذکر براہِ راست دکھائی نہیں دیتا۔ میرا قیاس ہے کہ گلزار کی محبت کی شاعری کا بیشتر حصہ یا ایک بڑا حصہ اپنی بیوی کے لیے ہے۔ ہجر اور وصال کی متعدد کیفیات اس کی گوہی دیتی ہیں کہ یہ تو بیوی سے محبت یا جھگڑے کی بات ہو رہی ہے۔ مثلاَ یہ نظم دیکھیں:

٭٭٭رات بھر ایسے لڑی جیسے کہ دشمن ہو مِری! آگ کی لپٹوں سے جھلسایا، کبھی تیروں سے چھیدا جسم پر دُکھتی ہیں ناخونوں کی مرچیلی کھرونچیںاور سینے پہ مِرے، داغی ہوئی دانتوں کی مُہریںرات بھر ایسے لڑیں جیسے کہ دشمن ہو مِری!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھنبھناہٹ بھی نہیں صبح سے گھر میں اس کی میرے بچوں میں گھری بیٹھی ہےاپنی ممتا سے بھرا شہد کا چھتّا لے کر!!(رات بھر ایسے لڑی جیسے کہ دشمن ہو مِری!)

میاں بیوی کی محبت اور جھگڑوں میں الجھی ہوئی زندگی کی مزید روداد ان چار نظموں سے بخوبی عیاں ہورہی ہے۔ یہ نظمیں بیک وقت خوبصورت بھی ہیں اور اداس کرنے والی بھی ہیں۔

٭٭٭ہے سوندھی تُرش سی خوشبودھوئیں میں ابھی کاٹی ہے جنگل سےکسی نے گیلی سی لکڑی جلائی ہےتمہارے جسم سے سرسبزگیلے پیڑ کی خوشبو نکلتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھنیرے کالے جنگل میںکسی دریا کی آہٹ سُن رہا ہوں میں کوئی چپ چاپ چوری سے نکل کے جا رہا ہےکبھی تم نیند میں کروٹ بدلتی ہو تو بل پڑتا ہے دریا میں۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری آنکھ میں پرواز دِکھتی ہے پرندوں کی تمہارے قد سے اکثر آبشاروں کی بلندی یاد آتی ہے(ہے سوندھی تُرش سی خوشبو۔ ۔ ۔ )

٭٭٭وہ شب جس کو تم نے گلے سے لگا کرمقدس لبوں کی حَسیں لوریوں میں سُلایا تھا سینے پہ ہر روزلمبی کہانی سنا کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ شب جس کی عادت بگاڑی تھی تم نےوہ شب آج بستر پہ اوندھی پڑی رو رہی ہے(وہ شب جس کو تم نے گلے سے لگا کر)

٭٭٭میں اپنے گھر میں ہی اجنبی ہو گیا ہوں آکرمجھے یہاں دیکھ کر مِری روح ڈر گئی ہےدبک کے سب آرزوئیں کونوں میں جا چھپی ہیںلویں بجھا دی ہیں اپنے چہروں کی حسرتوں نےکہ شوق پہچانتا نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مُرادیں دہلیز پر ہی سر رکھ کے مر گئی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کس وطن کو تلاش کرنے چلا تھا گھر سےکہ اپنے گھر میں بھی اجنبی ہو گیا ہوں آکر(میں اپنے گھر میں ہی اجنبی ۔ ۔ ۔ ۔ )

٭٭٭مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے!اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بُنتےجب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا پھر سے باندھ کےاور سرا کوئی جوڑ کے اس میں آگے بُننے لگتے ہو تیرے اس تانے میں لیکن ایک بھی گانٹھ گرہ بُنترکی دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی میں نے تو اک بار بُنا تھا ایک ہی رشتہ لیکن اس کی ساری گرہیں صاف نظر آتی ہیں میرے یار جلاہے!(مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے!)

Gulzarمیں بار بار بیوی سے محبت اور جھگڑے کی بات کر رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گلزار کی زندگی میں اور کوئی محبت نہیں ہے۔ گلزار کسی محلے کے عام نوجوان بھی ہوتے تو اپنے محلے کی کئی لڑکیوں کے ہیرو ہوتے۔ پھر ان کی عمر کا بڑا حصہ تو بالی ووڈ کی چمک دمک والی زندگی میں گزرا ہے۔ سو ان کی زندگی میں ایک نہیں مختلف نوعیت کی کئی محبتیں آئی ہوں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ وصال کی سرشاری کے باوجود گلزارہجرکی لذت میں زیادہ گم رہتے ہیں۔ وصال صرف یاد کرتے رہنے کا ایک جوا زہوتا ہے، پگھلنے کا سامان کرتا ہے۔ باقی اصل مزہ ہجر میں ہی آتا ہے۔

٭٭٭یاد ہے اک دن میرے میز پہ بیٹھے بیٹھےسگریٹ کی ڈبیہ پر تم نےچھوٹے سے اک پودے کاایک اسکیچ بنایا تھاآکر دیکھواس پودے پر پھول آیا ہے(سکیچ)

٭٭٭میں اپنے بزنس کے سلسلے میں کبھی کبھی اس کے شہر جاتا ہوں تو گزرتا ہوں اُس گلی سےوہ نیم تاریک سی گلی اور اسی کے نکڑ پہ اونگھتا سا پرانا کھمبا اسی کے نیچے تمام شب انتظار کرکےمیں چھوڑ آیا تھا شہر اس کا۔ ۔ ۔ بہت ہی خستہ سی روشنی کے عصا کو ٹیکےوہ کھمبا اب بھی وہیں کھڑا ہے! فتورہے یہ، مگر میں کھمبے کے پاس جا کرنظر بچا کے محلّے والوں کی پوچھ لیتا ہوں آج بھی یہ وہ میرے جانے کے بعد بھی، آئی تو نہیں تھی؟(وہی گلی تھی۔ ۔ ۔ )

٭٭٭سبھی دھندلا گیا پھر سےاندھیرا پھر سے بہنے لگ گیا ہے پگھل کر پھر کوئی شے بہہ رہی ہےٹپکتا جا رہا ہے قطرہ قطرہ کوئی چہرہسبھی کچھ تیرتا ہے اور پھر کچھ دیر میں سب ڈوب جاتا ہے۔ ۔ ۔ مِری آنکھوں میں شاید پھر سے آنسو بھر گئے ہیں!(سبھی دھندلا گیا پھر سے!)

ایک شاعر کی حیثیت سے گلزار کو کبھی خیال اور الفاظ کے چناؤ کی کشمکش میں نظم کی تخلیق کا عمل دُکھی کرنے لگا تو ان سے یہ نظم تخلیق ہو گئی:

٭٭٭ایک خیال کوکاغذ پر دفنایا تواک نظم نے آنکھیں کھول کے دیکھا ڈھیروں لفظوں کے نیچے وہ دبی ہوئی تھی!۔ ۔ سہمی سی، اک مدھم سی، آواز کی بھاپاُڑی کانوں تک کیوں اتنے لفظوں میں مجھ کو چنتے ہو؟باہیں کس دی ہیں مصرعوں کی تشبیہوں کے پردے میں ہر جنبش تہ کر دیتے ہو!۔ ۔ اتنی اینٹیں لگتی ہیں کیا ایک خیال دفنانے میں؟(ایک خیال کو۔ ۔ )

جس شاعر کو اپنے تخلیقی عمل کے دوران خیال اور الفاظ کے چناؤ  کی کشمکش اتنا مضطرب کر رہی ہو، اسے نقادوں کے ہاتھوں اپنی نظموں کا تجزیہ کیسا لگے گا؟اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے گلزار نے سکہ بند نقادوں کی طرف سے نظموں کے کھوکھلے تجزیوں پر اپنی رائے ایک نظم میں یوں بیان کر دی ہے۔

٭٭٭نظم کا تجزیہ کرتے کرتے، پورا گلاب ہی چھیل دیا مصرعے الگ ، الفاظ الگ ڈنٹھل سا بچا، نہ کھانے کو، نہ سونگھنے کو!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خوشبو کچھ ہاتھ پہ مسلی گئی کچھ مٹی میں گر کے گرد ہوئی نظم پڑھوں تو وہ بھی اب خالی برتن سی بجتی ہے!!(نظم کا تجزیہ کرتے کرتے۔ ۔ ۔ ۔ )

اپنے شعری مجموعہ”پلوٹو“کے شروع میں گلزار لکھتے ہیں:

”پلوٹو: پلوٹو سے پلینیٹ کا رتبہ تو حال ہی میں چھنا ہے، سائنسدانوں نے کہہ دیا:”جاؤ ۔ ۔ ۔ ہم تمہیں اپنے نو گِرہوں میں نہیں گنتے۔ ۔ ۔ ۔ تم پلینیٹ نہیں ہو! “میرا رُتبہ تو بہت پہلے چھن گیا تھا، جب گھر والوں نے کہہ دیا:”بزنس فیملی میں یہ ’میراثی‘کہاں سے آگیا!“خاموشی کہتی تھی۔ تم ہم میں سے نہیں ہو!اب’ پلوٹو‘کی اداسی دیکھ کر، میرا جی بیٹھ جاتا ہے۔ بہت دور ہے۔ ۔ ۔ ۔ بہت چھوٹا ہے۔ ۔ ۔ میرے پاسجتنی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں۔ سب اس کے نام کر دیں۔ بہت سے لمحے چھوٹے، بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ اکثر کھوجاتے ہیں۔ مجھے شوق ہے انہیں جمع کرنےکا۔ موضوع کے اعتبار سے، اس مجموعے میں بہت سی نظمیں غیر روایتی ہیں۔ ۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ وہ کیا بری بات ہے؟ گلزار“

لیکن مجھے اس مجموعہ میں پلوٹو کے بارے میں کوئی نظم نہیں ملی۔ البتہ ان کے ایک اور شعری مجموعہ”پندرہ پانچ پچھتر“میں پلوٹو کے عنوان سے یہ ایک نظم ملتی ہے:

٭٭٭سینکڑوں بار گنے تھے میں نےجیب میں نو ہی کنچے تھےایک جیب سے دوسری جیب میں رکھتے رکھتےاک کنچہ کھو بیٹھا ہوں نہ ہارا نہ گرا کہیں پر’پلوٹو‘میرے آسمان سے غائب ہے۔ (سینکڑوں بار گنے تھے میں نے)

تاج محل کے حوالے سے ساحر لدھیانوی کے بعد کوئی نئی نظم لکھنا اچھا خاصا آزمائش کا بلکہ ابتلا کا مقام بن سکتا ہے۔ ساحرلدھیانوی نے اس موضوع کو مس کیا تو ترقی پسند گھن گرج کے ساتھ خون کو گرما دینے والی نظم لکھ ڈالی۔ گلزار نے تاج محل کوجدید لب و لہجے میں پانی پہ رکھا ہوا آنسو بنا دیا ہے۔ کوئی غم و غصہ نہیں، کوئی نعرہ نہیں (غم و غصہ اور نعرہ کی گونج کے باوجود ساحر لدھیانوی کی نظم شاندار فن پارہ ہے)، بس ایک اداس سی کیفیت ہے جس میں قاری اپنی یادوں کے ساتھ مزید اداس ہوتاچلا جاتا ہے۔

٭٭٭تاج ایک لَے ہے ، ڈولتی ہوئی تاج”سم“ ہے درد کا چاندنی میں ایک بلبلہ سا تیرتا ہوانیلی کانچ رات میں۔ ۔ ۔ کسی نے اک خیال رکھ دیا ہے یہ تاج استعارہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی پر رکھا ہوایہ صرف ایک آنسو ہےایک اداس یاد ہے(تاج محل)

صندل چندن کے بارے میں میری معلومات زیادہ نہیں ہے۔ بچپن میں صندل کا شربت پینا یاد ہے۔ ایک بار ایک کوٹھی میں جانا ہوا تھا تواس کے چندن کے دروازوں کی خوشبو سے گزرتا ہوا اندرپہنچا تھا۔ یہاں جرمنی میں صندل کی خوشبو بھی کبھی کبھار استعمال کی ہے۔ گیتوں کی حد تک ”چندن سا بدن، چنچل چتون“بہت اچھا گانا لگتا ہے۔ اپنے ادبی معرکوں کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے میں نے ایک غزل کہی تھی

جب اس نے خاک اُڑانے کا ارادہ کر لیا ہے      تو ہم نے دل کے صحرا کو کشادہ کر لیا ہے

نہیں، اس جیسی عیّاری تو ممکن ہی نہیں تھی     زمانے سے ذرا بس استفادہ کر لیا ہے

چلو حیدر غنیمت ہے یہ صندل کی مہک بھی      کہ یاروں نے تو لکڑی کا برادہ کر لیا ہے

(جاری ہے )


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “گلزار…. فلم سے ادب تک (2)

  • 04-03-2016 at 10:42 pm
    Permalink

    بہت اعلیٰ مضمون ۔معلومات کی داد تو بنتی ہی ہے۔اسلوب بھی بے مثال ہے

Comments are closed.