سعادت حسن مر گیا آخر؟


\"\"”منٹو صاحب بڑے افسانہ نگار تھے۔“

میں پریشان تو بالکل نہیں تھا۔۔ نہیں قطعا نہیں مگر ۔۔۔ وہ مجھے پریشان سمجھ رہا تھا۔ ”اچھا“۔ میں دور آسمان میں، جہاں ہلکے پھلکے بادل اٹکھیلیوں میں مصروف تھے، گھور رہا تھا۔ مجھے اس شخص کی برسی پر کچھ سوجھ نہیں رہا تھا جو اردو ادب میں مجھے سب سے زیادہ عزیز تھا، وہ شخص جس جیسا حساس اور ماہر نفسیات شاید اردو ادب میں پیدا ہوا ہو۔ بادل یکدم ایک جگہ جمع ہونے لگے۔ میرا ہمزاد جو مجھے منٹو کے افسانے سنانے میں مگن تھا، اس کی تعریف و توصیف کے لیے حسین کلمات کی مالائیں بن رہا تھا، مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

افق سے ایک اندھیرا میری طرف بڑھنے لگا۔ آسمان یکدم کالا ہونے لگا جسیے نئے چاند کے نکلنے کے دن ہوں اور راتیں خاموش ہوتی ہیں۔ ایک گہرا سکوت۔۔۔ ۔۔ میری حسیات سمٹ رہی تھیں۔۔۔ میری روح جسم کی قید سے آزاد ہونے میں مصروف تھی۔۔ میں کسی سحر کی زد میں آ چکا تھا۔

میرا ہمزاد کہہ رہا تھا ، منٹو کہتا ہے”میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا وہ تو ہے ہی ننگی، میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش نہیں کرتا، اس لیے کہ یہ میرا کام نہیں، درزیوں کا ہے ، میں تختہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا، سفید چاک استعمال کرتا ہوں تاکہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جائے۔۔۔۔۔“

میری گویائی سلب ہو رہی تھی اور میری بینائی چندھیا رہی تھی مگر وہ کہے جا رہا تھا ”منٹو کے افسانے ہر شخص کے لیے نہیں ہیں ، ہر شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا ، منٹو کے افسانے تو اس جج کے لیے ہیں جو عدالت میں فیصلہ سنا کر منٹو سے ہاتھ ملانے کو سعادت سمجھتا ہے۔ منٹو کے افسانے اس شخص کے لیے ہیں جو ایک ہی تھالی میں کھا کر ایک ہی کمرے میں سو کر ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ منٹو کے افسانے اس شخص کے لیے ہیں جواپنی بیٹی کو تلاش کرتا ہے مگر اسے کوئی اور ہی ہاتھ لگتا ہے۔ منٹو کے افسانے اس شخص کے لیے ہیں جو دشمن کے کتے کو بھی دشمن ہی خیال کرتا ہے۔۔۔ یہ لوگ منٹو کو کیا سمجھیں گے۔ منٹو کے افسانے معاشرے کو بیان کرتے ہیں جس کو ہم تنہائی میں سوچتے ہیں اور محفل میں بات نہیں کر سکتے ۔۔۔ منٹو کے افسانے ہمارے اندر کی گندگی ساری دنیا کو دکھاتے ہیں۔ منٹو کہتے ہیں ’میرے افسانے پڑھیں اگر آپ انہیں برداشت نہیں کر سکتے تو سمجھ لیں یہ معاشرہ ناقابل برداشت ہے۔ میری برائیاں میرے معاشرے کی برائیاں ہیں، میرے الفاظ گندے نہیں، گندی تو آپ کی سوچ ہے۔۔۔۔۔“

اسی بارے میں: ۔  راجہ گدھ ایسے لکھا جیسے کوئی لکھوا رہا ہو۔۔۔ بانو قدسیہ کا تاریخی انٹرویو

میں کسی اور طلسم میں تھا۔ ہر طرف گہرا سکوت تھا۔ آسمان بالکل صاف تھا۔ ہلکی ہلکی ہریالی تھی۔ زمین نرم و نازک تھی میرے ہوش و حواس بحال ہوئے۔ میں غور کرنے لگا کہ میں کس نگری میں آ گیا ہوں۔ مجھے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آنے لگی مگر یہ عجیب سے سسکیاں تھیں۔ ان میں اداسی نہیں تھی بلکہ ایسے جیسے کوئی مسرت کے عالم کے ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہا ہو، ۔۔۔ ایک معنی خیز خاموشی۔۔۔ پھر وہی ہلکی ہلکی سسکیاں۔۔ عجیب و غریب خاموشی تھی ، جیسے پس پردہ ایک ہی وقت میں طبلے کی تھاپ پر کوئی ناچ بھی رہا ہے ، کسی کے گھنگھرو بجنے کی آواز آ رہی ہے ۔۔ ایک بڑے ہجوم کی چیخیں جو سمت کا تعین کیے بھاگ رہا ہے ۔۔ وہاں یہ سب ہو رہا تھا مگر کوئی شخص نظر نہیں آ رہا تھا۔ ٹرین کے پہیوں کی رگڑ کی آواز، عورتوں بچوں کے چیخنے کی آواز۔۔

کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔ میں نے مڑ کر دیکھا، مریل سا لڑکا تھا ۔۔۔ عمر ستائیس اٹھائیس برس ہو گی۔۔۔ دھوپ کا چشمہ پہنا ہوا تھا۔ بالوں میں خوب تیل لگایا ہوا تھا، کان میں بالیاں، بے سلیقہ کٹی ہوئی داڑھی، ہاتھ میں سیگریٹ جس سے عجیب سی بو آ رہی تھی، شاید چرس تھی۔ ”یہ بازار شام کے بعد کھلتا ہے، دن میں یہاں کوئی نہیں ہوتا“ اس نے ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

” مجھے سعادت حسن سے ملنا ہے“۔۔ میں نے کہا ”کون سعادت حسن “۔۔۔ ”اچھا وہ منٹو۔۔۔۔۔۔ “ ۔۔ ”نہیں منٹو نہیں۔۔ منٹو کو میں جانتا ہوں۔ منٹو سے میں کبھی نہیں ملنا چاہتا۔ میں تو سعادت حسن سے ملنا چاہتا ہوں“ اسے لگا میں شاید پاگل ہوں، مجھے غور سے دیکھنے لگا پھر بولا”صاحب یہاں کوئی سعادت حسن نہیں رہتا۔ ہاں ایک شخص ہے مگر اس کو بھی لوگ منٹو کے نام سے بلاتے ہیں آپ کو اس سے ملنا ہے، تو ملا سکتا ہوں، گندی گندی کہانیاں لکھتا ہے۔ میرا اس سے ملنا جلنا کم ہے کیوں کہ وہ بہت کم نظر آتا ہے۔ تاہم معاشرے میں اس کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا ۔ میں نے ایک مرتبہ اسے اپنی ماں کے پاس دیکھا تھا وہ اس سے کہہ رہی تھی میری بھی کہانی لکھو تاکہ میں بھی مشہور ہو جاﺅں وہ شراب کے نشے میں تھا۔ ایک پیالہ ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا بولا، ہاں لکھوں گا۔ میں اس شخص سے ملا سکتا ہوں“ میں نے اس کی طرف دیکھا وہ تو منٹو کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  گورڈن کالج: آئینۂ آواز میں چمکا کوئی منظر

”مجھے تو سعادت حسن سے ملنا ہے“ میں نے پوچھا۔ ” اس سے بھی ملا سکتا ہوں ،اس کے لیے پیسے لگیں گے۔ “وہ معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھنے لگا ۔ میں نے جیب سے بیس کا نوٹ لگا کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ میرے لیے بیس روپے کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ میرے آگے آگے چلنے لگا۔ سنسان سا علاقہ تھا۔ اونچے اونچے برگد کے پیڑ تھے کہیں ہلکی ہلکی جھاڑیاں تھی مگر کوے چیخ رہے تھے ۔ کہیں کہیں کبوتر بھی منڈلا رہے تھے۔

یہ قبرستان تھا۔۔ وہ مجھے ایک قبر پر لے گیا جس پر تحریر تھا ”یہ لوح سعادت حسن منٹو کی قبر کی ہے جو اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں تھا“ ۔۔ بیس کا نوٹ ابھی تک اس لڑکے کے ہاتھ میں تھا اس نے سکون سے جیب میں ڈالا ”صاب! مل لیے سعادت حسن سے“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

”یہ تاریخ دیکھیے ،آج ہی کی ہے“ اس نے قبر کے کتبے کی طرف اشارہ کیا” سعادت حسن آج ہی کے دن آج سے باسٹھ برس پہلے مر گیا تھا ، ۔۔۔۔“ اس نے ایک لمبا سانس لیا” مگر منٹو آج بھی زندہ ہے اسے کوئی نہیں مار سکتا ۔۔ سعادت حسن نے ٹھیک کہا تھا کہ اس کا نام لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں ہے مگر منٹو حرف مکرر ہے۔ اسے اردو ادب کے زندہ رہنے تک کوئی نہیں مٹا سکتا“۔

میرے دل سے آہ نکلی”منٹو تو زندہ ہے مگر سعادت حسن تو۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔ مر گیا آخر“

میرے ہمزاد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ یہ وہی تھا جو مجھے سعادت حسن سے ملوانے چلا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔