بن سنور کر زرا سجا تو کھلا ۔۔ حامد محبوب


\"\"

بن سنور کر زرا سجا تو کھلا
زاویہ وار آئینہ، تو کھلا

اک تماشا نہیں، تحیر تھا
جب وہ بندِ قبا کھلا، تو کھلا

بے یقینی سے گھپ فضاوں میں
ایک بے سمت راستہ تو کھلا

بات کو جوت جب لگی تو جلی
رنگ اس شوخ کا اڑا، تو کھلا

سنگ نے سرکو حوصلہ سا دیا
خارسے ایک آبلہ تو کھلا

چلمنوں سے شگاف کرتی نظر
مجھ پہ وہ یارِ خوش نما تو کھلا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔