باتیں چوہدری نثار علی خان کی


\"\" چوہدری نثار علی خان نواز شریف کابینہ کے واحد رکن ہیں جو اپوزیشن بالخصوص پیپلز پارٹی ’’تختہ مشق‘‘ بنے رہتے ہیں چوہدری نثار علی خان بھی اپوزیشن کی طرف سے چڑھایا ہوا ادھار اتارنے میں دیر نہیں لگاتے ہیں پیپلز پارٹی والوں کی توان سے بنتی ہی نہیں یا یہ کہیے کہ ان کی پیپلز پارٹی سے نہیں بنتی ،دونوں باتیں درست ہیں ۔میں نے ایک بار چوہدری نثار علی خان کے بارے میں لکھا کہ’’ وہ پیپلز پارٹی کے شروع دن سے دشمن ہیں‘‘ تو انہوں نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ ’’محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات اچھے تھے لیکن ان کی کرپشن کے سمندر میں غوطہ زن پیپلز پارٹی کی قیادت نہیں بنتی ۔انہوں نے پارٹی کی اعلی قیادت سے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا’’ وہ کرپشن میں ملوث کسی شخص کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے خواہ اس کا تعلق ان کی اپنی پارٹی سے ہی کیوں نہ ہو؟ ان کے منصب کے تقاضے اپنی جگہ لیکن وہ رب العزت کے سامنے بھی جوب دہ ہیں ۔چوہدری نثار علی خان نے گذشتہ7،8سال سے پنجاب ہائوس میں ’’قید‘‘ کر رکھا ہے ان کی بیشتر سرگرمیاں ’’پنجاب ہائوس ‘‘ تک محدود ہوتی ہیں چوہدری نثار علی خان نواز شریف کابینہ کے واحد رکن ہیں جو ہر وقت موضوع گفتگو رہتے ہیں ہفتہ بھر خاموشی اختیار کر لیںتو ان کے بارے افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں جب وہ سیاسی مخالفین کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیں ہیں تو ان کی گفتگو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی شہ سرخیاں بن جاتی ہیں اگر پیپلز پارٹی کی شان میں’’ قصیدہ خوانی ‘‘ کر دیں تو پوری قیادت کی ’’چیخ و پکار‘‘ شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے سب سے زیادہ ’’مطلوب ‘‘ وزیر چوہدری نثار علی خان ہیں پارلیمنٹ ہائوس یا پنجاب ہائوس ، جہاں بھی صحافیوں کو ان تک رسائی ہو جائے تو ان کے گرد مجمع لگ جاتا ہے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’’تنہائی پسند‘‘ اور’’ مردم بے زار‘‘ شخصیت ہیں ان کی گردن میں ’’سریا‘‘ ہے لیکن جن صحافیوں کا ان سے واسطہ پڑا ہے وہ اس بات کی نفی کرتے ہیں جب چوہدری نثار علی خان محفل سجاتے ہیں تو کھل اٹھتے ہیں ’’ محفل آرائی ‘‘ ان کی کمزوری ہے اکثر و بیشتر وہ حال دل بیان کرتے ہیں تو انہیں جلد احساس ہونے لگتا ہے ان کی باتوں سے طوفان برپا ہو جائے گا تو وہ اپنی گفتگو پر ’’آف دی ریکارڈ ‘‘ کی قدغن لگا دیتے ہیں۔

میری چوہدری نثار علی خان سے ہونے والی ایسی کئی ملاقاتوں پر ’’آف دی ریکارڈ‘‘ کی پابندی لگا دی گئی انہیں ہمیشہ یہ خدشہ رہتا ہے کہ \"\"ان سے ہونے والی ’’آٖ ف دی ریکارڈ ‘‘شہ سرخی بن جائے گی یا میرے کالم کا مواد بن جا ئے گی چوہدری نثار علی خان اس لئے کوئی چونکا دینے والی ’’خبر ‘‘ دینے سے گریز کرتے ہیں چونکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف میری چوہدری نثار علی خان سے دوستی کے بارے میں آگاہ ہیں اکثر اوقات وزیر اعظم ہائوس کا ’’مکین‘‘ ایکسکلیوسو خبر کی اشاعت پر چوہدری نثار علی خان کو ’’سورس‘‘ سمجھتا ہے جس کی وجہ سے چوہدری نثار علی خان ’’خبر ‘‘کو اپنے سینے سے لگائے رکھتے ہیں جب کبھی میں ایک اور باخبر وزیر سے خبر کے بارے میں سوال کرتا ہوں تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ آپ کے پاس تو ’’خبروں کا خزانہ ‘‘ ہے ہم سے کیوں خبر مانگتے ہو جب کہ حقیقت یہ ہے چوہدری نثار علی خان ’’خبر‘‘ دینے کے بارے میں بے حد کنجوس ہوگئے ہیں خبر کی بات کرو تو ’’موڈ ‘‘آف کر لیتے ہیں ۔ اس لئے ان پر خبر دینے کا الزام’’ تہمت ‘‘سے کم نہیں پچھلے ایک ماہ کے دوران چوہدری نثار علی خان سے تین’’ آن دی ریکارڈاور آٖ ف دی ریکارڈ‘‘ ملاقاتیں ہو چکی ہیں چوہدری نثار علی خان سے 30،35سال سے دوستی ہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ،موسم سرد ہو یا گرم دوستی میں کمی نہیں آئی اس دوستی کے ہاتھوں کئی خبروں کا ’’قتل عام ‘‘ ہوچکا ہے ۔ جن صحافیوں کی چوہدری نثار علی خان تک مہینوں رسائی نہیں ہوتی وہ آئے روز چوہدری نثار علی خان کے بارے میں ’’پھلجھڑیاں ‘‘ چھوڑتے رہتے ہیں کبھی ان کے استعفے کی افواہ پھیلا دی جاتی ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ ان سے وزارت داخلہ کا قلمدان واپس لیا جارہا ہے ،کبھی ان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے اختلافات کی قیاس آرائیاں شروع کر دی جاتی ہیں لیکن میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے چوہدری نثار علی خان کہیں جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے منصب سے کوئی ہٹا سکتا بلکہ وزیر اعظم ان کو کبھی اپنے سے دور نہیں ہونے دیں گے۔

میرا موقف ہمیشہ درست ثابت ہوا ’’آف دی ریکارڈ ‘‘ گفتگو میں میں نے چوہدری نثار علی خان کو ہمیشہ ایک کٹر مسلمان کی سوچ کا حامل سیاست دان پایا جو حلال وحرام کے درمیان تمیز کرتا ہے۔ کرپشن کے بارے میں ’’زیرو ٹالرنس ‘‘رکھنے والے اس وزیر سے ہر وہ شخص نالاں ہے جو اپنی بد عنوانیوں کی وجہ سے قانون کی گرفت میں آگیا ہے یا اسے خطرہ ہے وہ قانون کی گرفت میں آنے والا ہے ۔ ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی’’ توپوں ‘‘کا رخ ان کی طرف رہتاہے چوہدری نثار علی خان پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں یا کسی اجتماع سے خطاب کریں تو پیپلز پارٹی سے متعلق سوالات ان کا تعاقب کرتے رہتے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے بارے میں عمومی طور پر کوئی جواب دینے سے گریز کرتے ہیں کل ہی بات ہے ان سے کلر سیداں کے دورے کے دوران ایک اخبار نویس نے ان پر سوال داغ دیاکہ ’’پیپلز پارٹی کو آپ سے کیا تکلیف ہے‘‘ تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ’’ ہر کوئی جانتا ہے پیپلز پارٹی کو ان سے کیا تکلیف ہے ؟ ان کا رونا دھونا لگا رہتا ہے‘‘ چوہدری نثار علی خان سے ہونے والی’’ آف دی ریکارڈ ‘‘ گفتگو میں ، میں نے ان کو بڑا دل گرفتہ پایا وہ جہاں بھی اسلام اور پاکستان کے خلاف کوئی بات دیکھتے ہیں تو اپنے اندر ہی اندرکڑھتے رہتے ہیں اکثر و بیشتر وہ حال دل بیان کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے رہتے ہیں چوہدری نثار علی خان کو ایک بنیاد پرست مسلمان ہیں جو بھارت کے ساتھ سر نیچا کر کے تعلقات کار قائم کرنے کے حق میں نہیں، دنیا کے کسی حصے میں کسی مسلمان کو کانٹا چبھ جائے تو وہ تڑپ تھے ہیں سفارتی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک محب وطن پاکستانی کی طرح جواب دیتے ہیں وزارت خارجہ نے بنگلہ دیش میں ’’پاکستانیوں ‘‘کے قتل عام پر خاموشی اختیار کر لی تو یہ چوہدری نثار علی خان ہی تھے جنہوں نے بنگلہ دیشی پاکستانیوں کے حق میں آواز بلند کی وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ہمراہ دورہ امریکہ پر گئے تو انہوں نے وہاں جس جرات سے پاکستان کا مقدمہ پیش کیا اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات کی اشاعت پر پابندی لگا دی ’’ آف دی ریکارڈ گفتگو اور حلف ‘‘کی پابندی کے باعث ان کی کوئی بات میڈیا کی زینت نہ بن سکی ۔

میں ان کے نظریات سے پوری طرح آگاہ ہوں قومی ایشوز پر ان کی سوچ برصغیر پاک و ہند کے نامور صحافی جناب مجید نظامی کی سوچ سے ملتی جلتی ہے وہ اپنے نظریات پر کمپرو مائز نہیں کرتے خواہ اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے نوائے وقت کے مطالعہ سے اپنے دن کا آغاز کرنے والا چکری کا راجپوت اپنے خلاف ایک سطر شائع ہو جائے تو اس کا جواب دئیے بغیر نہیں رہتا۔کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب الیکٹرانک میڈیا پر ان کے بیانات یا ان سے منسوب کہانیوں کے حوالے سے’’ عدالتیں ‘‘نہ لگائی جائیں ہر روز ان کے حق اور مخالفت میں کالموں کی بھرمار ہوتی ہے کچھ اینکر پرسنز ’’رسائی ‘‘نہ ہونے کچھ ’’ذاتی ناراضی‘‘ کی وجہ سے اپنا غصہ نکالتے رہتے ہیں مجھے ذاتی طور معلوم ہے کہ ان سے انٹرویو لینے کے خواہش مند صحافیوں کی ایک طویل فہرست پڑی ہے لیکن وہ کسی کو انٹرویو دینے کے لئے تیار نہیں اس لئے اکثراینکر پرسنز اپنے پروگراموں میں ان پر غصہ نکالتے رہتے ہیں پاکستان کے کسی کونے میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو چوہدری نثار علی خان کو ہی نمورد الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے خالق کو ہی اس پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے شاید اکثر ناقدین نے نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات کو سرے سے پڑھا ہی نہیں 11، 12 نکات کا تعلق ہی صوبوں سے ہے جب کہ وزارت داخلہ سے متعلق 3،4 نکات ہیں ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں امن و امان کی ذمہ داری جن سیکیورٹی اداروں کے پاس ہے۔ ان سے پوچھنے کی کوئی جرات نہیں کرتا۔ اہل سنت و الجماعت کے قائد احمد لدھیانوی کی چوہدری نثار علی خان سے ملاقات سیاسی حلقوں میں موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز بھی اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے احمد لدھیانوی، ساجد نقوی اور حامد علی موسوی کو محب طن قرار دے کر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے اور کہا کہ ان کی تنظیمیں کالعدم قرار دی جا سکتی ہیں لیکن ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

چوہدری نثار علی خان کے بیان پر پیپلز پارٹی کی جانب سے فوری رد عمل آگیا پیپلز پارٹی شاید ان کی پریس کانفرنس کا ہی انتظار کر رہی تھی جوابی رد عمل میں کہا گیا ہے کہ’’پیپلز پارٹی کو ان سے یہ تکلیف ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ترجمان بن گئے ہیں ‘‘ دلچسپ امر یہ ہے پیپلز پارٹی کی قیادت چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بارے میں اپنے دل میں ’’نرم گوشہ ‘‘ رکھتی ہے اور انہیں باور کرانے کی کوشش کرتی ہے چوہدری نثار کے طرز عمل سے پیپلز پارٹی مسلم لیگ(ن) سے دور ہو گئی ہے جب کہ چوہدری نثار علی خان وزیر اعظم محمد نواز شریف کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ہمیں پیپلز پارٹی کی کرپشن کا بھاری بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے شاید پیپلز پارٹی کو ان سے یہی مسئلہ ہے کہ وہ اسے نواز شریف کے قریب نہیں ہونے دے رہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نواز رضا کی دیگر تحریریں
نواز رضا کی دیگر تحریریں