پاکستان میں پرکشش منافع انویسٹرز کا منتظر ہے؛ وزیراعظم


\"\"

ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے 47 ویں اجلاس کے موقع پر مختلف بین الاقوامی کارپوریشنزکے نمائندوں سے ملاقات کی۔ وزیراعظم سے چیئرمین علی بابا گروپ جیک مانے ملاقات کی اس موقع پر جیک مانے وزیراعظم کو کمپنی کے مرکزگوانگ ژوکے دورے کی دعوت دی جس کے جواب میں وزیراعظم نے بھی انھیں دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ جیک ما نے کہا کہ علی بابا سے دنیا بھرمیں 6 کروڑ کمپنیاں استفادہ کررہی ہیں، ترقی پذیرملکوں میں چھوٹی صنعتوں کی معاونت کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری نے سرمایہ کاری کے بہترین مواقع مہیا کیے ہیں۔

وزیراعظم سے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسرجوز وینالز نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں ریکوری قابل ذکر ہے اور اس کے تمام اقتصادی اشاریے مثبت ہیں۔ جوزوینالز نے کہاکہ پاکستان اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کا اہم پارٹنر ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک چینی بینک کے ساتھ کام کررہاہے۔

وزیراعظم نے ومپل کام گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسرجین چارلی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت دہشت گردی، معیشت اور بجلی کی قلت جیسے بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹ رہی ہے۔ جین چارلی نے کہا کہ وہ تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام سے متعلق حکومت کے ساتھ کام کرنے کیلیے سرکاری اورنجی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ ان کی کمپنی پاکستان میں نئی پراڈکٹس کا آغاز کرنا چاہتی ہے کیونکہ پاکستان ابھرتی ہوئی بڑی منڈیوںمیں شامل ہے۔

وزیراعظم نے سوئس کنفیڈریشن کی صدر ڈورس لتھ بارڈ کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ نوازشریف نے کہاکہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام دیرینہ تنازعات کا پرامن حل چاہتاہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعمل درآمد کرے۔ سوئٹزرلینڈ کی این ایس جی کی رکنیت کے حوالے سے سوچ قابل تعریف ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ این ایس جی کااہم حصہ ہونے کے ناطے سوئٹزرلینڈاپنے اس اصولی موقف کو برقرار رکھے گا، پاکستان کی سلامتی براہ راست افغانستان میں امن واستحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ سوئس صدر نے کہاکہ ان کی حکومت کوپاکستان کی مختلف چیلنجوںکے باوجود معیشت میں تیز ترین ترقی پر خوشی ہے۔ نواز شریف کی حکومت کی جانب سے پاکستان اور خطے کے استحکام کے فروغ کیلیے اقتصادی نقشے کوسراہتے ہیں۔ حکومت پاکستان کے ساتھ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پرکام کرنے پرتیار ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے چیئرمین کلاز شواب نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی اور معاشی محاذ پر پاکستان کی ترقی کی تعریف کی۔ انھوں نے مختلف تجارتی رہنمائوں سے ملاقات میں پاکستان کی سازگار سرمایہ کاری اور تجارتی فضا کو اجاگرکیا اور وزیراعظم کو بتایا کہ تاجر رہنما پاکستان کو سرمایہ کاری کی ایک منزل تصور کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے سے بھی ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان سری لنکاکے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتاہے جوانتہائی خوش گواراوردوستانہ ہیں۔ پاکستان کی یہ پرخلوص خواہش ہے کہ جنوبی ایشیاکے ساتھ امن وتعاون کوفروغ دیاجائے، غربت کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کیلیے سیکیورٹی اور استحکام ضروری ہے اور اس سلسلے میں ہم سری لنکا کو ایک اہم شراکت دار تصور کرتے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے سویڈن کے وزیراعظم اسٹیفن ایلفیون کے ساتھ ملاقات کی اور انھیں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلیے اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔علاوہ ازیں ڈیووس میں ابراج گروپ کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ امن و استحکام کے بغیر ترقی خواب ہے۔ آج ہماری معیشت پہلے سے بہتر ہے۔ 2013 میں جب حکومت سنبھالی تو شدید بحران کا سامنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح پاکستان پُرامن ملک ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام اور فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں، آج پاکستان بہت محفوظ ملک بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سال ترقی کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلیے عالمی اتحاد کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔