دو چوریوں کی سچی کہانیاں


\"\"چند سال قبل مجھے لاہور میں بچوں کی جیل جانے اور وہاں پر قید بچوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ کوئی ایک سو پچاس بچے اس جیل میں بند تھے۔ ہر بچہ مظلومیت کی ایک دکھ بھری داستان تھا۔ ایک بچے کی کہانی سناتا ہوں۔
فیصل کی عمر گیارہ برس تھی۔ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہنے والا تھا اور داتا صاحب لاہور کے قریب ایک چائے خانے پر کام کرتا تھا۔ اسے پانچ ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے۔ وہ ہر تین مہینے بعد گھر جاتا اور تقریباً سارے پیسے اپنے ماں باپ کو دے آتا تھا۔ ایک دن چائے خانے کے گلے سے آٹھ سو روپے غائب تھے تو مالک نے فیصل پر اس رقم کی چوری کا الزام لگایا۔ مار پیٹ کے باوجود بھی جب فیصل نے اقرار جرم نہ کیا تو اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس نے کہا یہ رقم تو بہت کم ہے لہٰذا درخواست میں تین ہزار روپے کی چوری ڈال دی اور مقدمہ درج کر لیا۔
بچہ اڑھائی مہینے سے جیل میں تھا۔ فیصل کی سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اس کے گھر جانے کا وقت آ رہا ہے۔ اگر وہ اپنے وقت پر گھر نہیں پہنچ پایا تو اس کے گھر والوں کو صورت حال کا علم ہو جائے گا اور اس کی ماں فکر مند ہو جائے گی۔ میں نے ایک ماہ کے بعد پھر چیک کیا، فیصل ابھی تک جیل میں تھا۔ فیصل اپنی ماں کو اس فکر سے نہ بچا سکا۔ ماں کے پاس فیصل نہ پہنچا لیکن فیصل کے جیل جانے کی خبر پہنچ گئی۔ فیصل کو ایک سال سے زیادہ عرصہ جیل میں رہنا پڑا پھر جا کر کہیں ضمانت پر رہائی ہوئی۔ مقدمہ ابھی جاری تھا۔
ایڈمرل منصور الحق پاکستان نیوی کے سربراہ تھے۔ ان پر تقریباً 300 ارب روپے کی چوری کا الزام تھا۔ مقدمے کی تحقیقات کے دوران ایڈمرل صاحب 1998 ءمیں ملک سے فرار ہو کر امریکہ میں جا بسے۔ وہ ایک ’عزت دار‘ آدمی تھے۔ ظاہر ہے اربوں روپے کی چوری تو شرفا ہی کر سکتے ہیں ناں۔ اس لئے ہم نے تو ان کے خلاف وہی کرنا تھا جو بڑی چوریوں کے باقی ملزمان یعنی شرفا کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن پاکستانی حکومت کی اطلاع پر امریکی حکومت نے کرپشن کے الزام میں انہیں 17 اپریل 2001ءکو آسٹن سے سچ مچ گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور ان کے خلاف مقدمہ شروع کر دیا۔
ایڈمرل صاحب کو جیل میں عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا جہاں انہیں قیدیوں کا لباس پہنایا گیا اور قیدیوں کے لیے مخصوص سلیپر دیے گئے۔ عام چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا اور عام مجرموں جیسا کھانا دیا گیا۔ انہیں ہتھکڑی پہنا کر عدالت لایا جاتا۔ یہ سلوک نازوں کے پلے ہوئے ریٹائرڈ ایڈمرل منصور الحق برداشت نہ کر سکے اور انہیں وطن کی یاد ستانے لگی۔ انہوں نے امریکی حکومت سے پاکستان واپس بھیجے جانے کی درخواست کی۔ عرضی قبول ہوئی اور وہ پاکستان بھیج دیے گئے۔
امریکی قانون کے مطابق انہیں ہتھکڑی لگا کر جہاز میں سوار کیا گیا نیز سفر کے دوران میں بھی ان کے ہاتھ سیٹ کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ یہاں تک تو امریکی سلوک تھا۔
مگر جوں ہی یہ جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو نہ صرف منصور الحق کے ہاتھ کھول دیے گئے بلکہ انہیں وی آئی پی لاونج کے ذریعے ائیر پورٹ سے باہر لایا گیا اور نیوی کی شاندار گاڑی میں بٹھایا گیا۔ یہ سہالہ لائے گئے جہاں سہالہ کے ریسٹ ہاوس کو سب جیل قرار دیا گیا اور منصور الحق کو اس ’جیل‘ میں ’قید‘ کر دیا گیا۔ منصور الحق کی ’جیل‘ میں نہ صرف اے سی کی سہولت تھی بلکہ انہیں خانساماں بھی دیا گیا۔ بیگم صاحبہ اور دوسرے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت بھی تھی اور منصورالحق لان میں چہل قدمی بھی کر سکتے تھے۔ یہ نیب اور ایف آئی اے کے دفتر نہیں جاتے تھے بلکہ تفتیشی ٹیمیں ان سے تفتیش کے لیے ریسٹ ہاوس آتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ پولیس، ایف آئی اے اور نیب کے افسران، تفتیش کے ساتھ ساتھ انہیں سیلوٹ بھی کیا کرتے تھے۔
یہ عدالت بھی تشریف نہیں لے جاتے تھے بلکہ عدالت چل کر ان کے ریسٹ ہاوس آتی تھی۔ منصور الحق نے کرپشن کی دولت کا 25 فیصد سرکار کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا۔ صدر مشرف نے ان کی”پلی بارگیننگ‘ منظور کر لی اور یوں ریٹائرڈ ایڈمرل منصور الحق کو بقیہ 75 فیصد کرپشن کے ساتھ رہا کر دیا گیا۔
ایڈمرل منصور الحق صاحب اس کے بعد اپنے گھر شفٹ ہو گئے اور یہ آج تک مزے سے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ گالف اور برج کھیلتے ہیں۔ اپنی سوشل لائف اور سابق نیول چیف کے مکمل پروٹوکول کے مزے لیتے ہیں۔
گیارہ سالہ فیصل کو ایڈمرل منصورالحق کی چوری کی کہانی معلوم پڑ جائے تو وہ آئندہ کے لئے آٹھ سو روپوں کی بجائے تین سو ارب کی چوری کے الزام میں پکڑا جانا پسند کرے گا۔
بچے کی شناخت چھپانے کی خاطر فرضی نام استعمال کیا گیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات انٹرنیٹ سے اٹھائی گئی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 129 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “دو چوریوں کی سچی کہانیاں

  • 19-01-2017 at 10:05 pm
    Permalink

    آپ نے جس مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے وہ اہم ہے، لیکن ایک اور مسئلہ بھی اتنا ہی اہم ہے، وہ جیل میں بند لڑکوں اور لڑکیوں کا مسئلہ۔ آپ لکھتے ہین: “چند سال قبل مجھے لاہور میں بچوں کی جیل جانے اور وہاں پر قید بچوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ” یہ اتفاق کیسے ہوا؟ کیا آپ ایک شہری کی حیثیت سے وہاں جاکر متعدد بچوں سے ملے تھے؟ کیا اب بھی جیلوں میں شہریوں کی “وزٹنگ کمیٹی” سالانہ معائنہ پر جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ان بچوں کے مسائل حل کرنے کے لئےبالغ شہری کیا کر رہے ہیں، یا کر سکتے ہیں؟ موقعہ ملے تو کچھ اس تعلق سے بھی لکھیں۔

Comments are closed.