میری’ماں‘ ہی میری قاتل ہے؟


\"\"اسلام آباد کے ایک سیشن جج کے گھر میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن ملازمہ طیبہ پوچھتی ہے۔ لاہور کے جناح ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑنے والی قصور کی غریب زہرہ بی بی پوچھتی ہے۔ 19 سال بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ سے مظلوم ثابت ہونے والے مظہر حسین (رہائی سے دو سال قبل ہی جس کی سلاخوں کے پیچھے موت ہو چکی تھی) کی روح تڑپ تڑپ کہ یہ سوال کرتی ہے۔ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی بدین کے غریب کسان کی ذہنی معذور بیٹی پوچھتی ہے۔ صحرائے تھر میں بھوک و پیاس سے بلک بلک کر دم توڑنے والے اور ان جیسے کروڑوں مظلوم یہ پوچھتے ہیں کہ ہمیں آزادی کب نصیب ہو گی ؟ ہمیں انصاف کب ملے گا؟ ہمیں انسانوں کا درجہ کب ملے گا اور کون دے گا؟ ہماری شنوائی کون سی عدالت میں ہو گی؟ ہم ٹی وی مذاکروں کا موضوع کب بنیں گے؟ ہماری تصویریں انسانی حقوق والوں کے بینرز میں کب آویزاں ہوں گی ؟ ہمارے لئے کوئی بار کونسل ہڑتال کی کال کیوں نہیں دیتی؟ ہمارے لئے کوئی بھوک ہڑتالی کیمپ کیوں نہیں لگتا؟ ہمارے لئے کبھی کوئی ’انصاف مارچ‘ کیوں نہ ہوا ؟ ہمارے لئے کوئی دھرنا کیوں نہیں دیتا؟ ہمارے لئے امیدوں کے چراغ کب روشن ہوں گے ؟ ہمیں تاریک گلیوں سے نکالنے کون آئے گا؟ ہماری حکومت کہاں ہے؟ اب میں ان سیاہ بخت لوگوں کو کیا بتاوں کہ آپ کی حکومت نے معاشی اعشاریوں کے درجوں اور غربت شماری میں چار سے ساڑھے چار ہزار آمدن والے خاندانوں کو غربت کی فہرست سے نکال دیا ہے اور حکومت کی نظر میں یہ خاندان اتنی آمدن میں زندگی کا پہیہ گھما سکتے ہیں جبکہ عوامی ’قائدین‘ کی پارلیمنٹ نے ایک بل اتفاق رائے سے منظور کر کے اپنی لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافہ کر دیا ہے۔ میں ان لوگوں کو کیا بتاو¿ں کہ اقتدار کی رنگ رلیوں میں مست آپ کی حکومت قومی اثاثے گروی رکھ کر قرضے لے رہی۔ میں ان بے وسیلہ دکھیارے لوگوں کو کیا بتاو¿ں کہ حکمران اشرافیہ عوام میں خیرات تو بانٹے گی لیکن ان کا مساوی بنیادوں پر شراکت اقتدار ، فیصلہ سازی ، قومی وسائل اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا حق تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہو گی۔کسی گراس روٹ لیول کی تبدیلی کے معجزے تک۔
جمہوریت اور عوامیت کا تاثر ابھارنے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ اور نوازشریف ہیلتھ کارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ سستے تندور لگائے جاتے ہیں۔ طلبا میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے نمائشی اقدامات عوام کی زندگیوں میں کسی راحت کا باعث تو نہیں بن رہے البتہ احساس محرومی کو ضرور ہوا دیتے ہیں۔ جب بنیادی انفراسٹرکچر ہی خستہ حالی کا شکار ہے۔ طبی مراکز میں سر درد کی گولی تک دستیاب نہیں۔ ہسپتالوں میں دو دو مریض ایک بیڈ شیئر کرتے ہوں۔ پچھلے دنوں لاہور کے ایک ہسپتال میں ایک حاملہ خاتون نے بیڈ نہ ملنے پر ہسپتال کے صحن میں بچے کو جنم دیا۔ پورے ملک میں بیشتر دیہی یا پسماندہ علاقوں میں ہسپتال، ڈسپنسریاں اور نجی کلینک سرے سے موجود ہی نہ ہوں تو ایسے میں ہیلتھ کارڈ لے کر لوگ کریں گے کیا؟ گزشتہ دور میں آصف علی زرداری کی حکومت نے ہر منصوبے میں ڈاکہ ڈالنے کا بھرپور اہتمام کیا اور بے نظیر اِنکم سپورٹ کارڈ بھی ایسا ہی ایک کارنامہ ہے۔ اربوں روپے کے فنڈز بے نظیر اِنکم سپورٹ فنڈ کی طرف منتقل کر کے ’مستحقین‘ جیالوں کو ماہوار ہزار روپے وظیفے کی ایک یا دو قسطیں جاری کی گئیں اور باقی پیسہ ہڑپ کر لیا گیا۔ خود ساختہ خادم اعلیٰ نے پنجاب میں سستے تندور لگا کر کہا کہ اس سے غریبوں کو راحت ملے گی …. مگر کیسے؟ سستے تندور باعزت روزگار کا نعم البدل کیسے ہو سکتے تھے۔ بالفرض کسی غریب خاندان کا کفیل اگر سستی روٹی سے بھوک مٹا بھی لیتا تو اپنے خاندان کو وہ کہاں سے کیا کھلائے گا ؟ کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے سے بھی سرکار کے بھائی بندے خوب فیض یاب ہوئے اور غریب کے حصے میں فقط ذلت ہی آئی۔
خوفناک حقیقت یہ ہے کہ سماج میں نا منصفانہ طبقاتی تقسیم نے انتہائی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ حکمران اشرافیہ نے اپنی الگ دنیا بسا رکھی ہے۔ عوام کے نام نہاد قائدین جو خود اپنا طبی معائنہ بیرون ملک کرواتے ہوں وہ عوام کے صحت کے بنیادی حقوق کے بارے میں فکر مند کیوں ہوں گے؟ اگر ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیا جائے کہ ملک کے کتنے فیصد اراکین پارلیمنٹ ،ایم این ایز ، بیوروکریٹس ، جج صاحبان حتیٰ کہ سرکاری معلمات کے اپنے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں سے استفادہ کرتے ہیں تو اصل صورتحال واضح ہو جائے گی کیونکہ اس کی کوئی شاذونادر مثال ہی ملے گی۔
حالات کا تقاضا اور ناگزیر ضرورت یہ ہے کہ اس ضمن میں قانون سازی کر کے منتخب نمائندوں، افسران اور متعلقہ محکموں سے وابستہ تمام افراد کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ بنیادی ضروریات کے حوالے سے سرکاری اداروں سے ہی استفادہ کریں۔ اگر اس طرح ہونے لگے تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ چیزیں خودبخود ٹھیک ہونے لگیں گی۔
قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2016 ء میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں برپا ہونے والے قیامت خیز سانحے نے سول اور فوجی زعما کو سر جوڑ کہ بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔انسداد دہشت گردی کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کا اعلان ہوا۔ فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ کچھ لوگوں کو موت کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ تخریب کاری میں ملوث تنظیموں کی مالی اعانت روکنے، مدرسہ اصلاحات وغیرہ کو انسداد دہشت گردی کے لئے بنیادی نکات قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی تخریب کاری کے بڑے واقعات میں کمی سے عوام کو یہ باور کرایا جانے لگا کہ امن بحال ہو رہا ہے اور حالات جلد ہی نارمل ہو جائیں گے۔مگر کیسے؟ انسداد غربت و جہالت اور انسداد لاقانونیت کے بغیر حالات کیسے نارمل ہو جائیں گے؟ جب بنیادیں ہی ٹیڑھی ہوں تو اس پر پائیدار عمارت کیسے تعمیر کی جا سکتی ہے؟ جب خارجہ پالیسی سے لے کر چائلڈ لیبر تک مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ فرقہ واریت کا زہر سماج کی رگوں میں پھیلتا جا رہا ہے تو ایسے میں بنیادی نوعیت کے سوال اٹھانا نا گزیر ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جب ریاست کے بالا دست، مراعات یافتہ طبقات ( زمام اقتدار اور فیصلہ سازی پرجن کی گرفت مضبوط ہے )اپنی اپنی ضروریات اور مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بناتے اور بدلتے ہیں تو اس سے قومی سلامتی کے وسیع تر تقاضے ہرگز پورے نہیں ہو سکتے۔
پاکستان /فاٹا میں 2004 ءکے بعد سے امریکی ڈرون حملوں میں ان گنت شہری ہلاک، معذور اور بے گھر ہوئے۔ حتیٰ کہ ملبہ اٹھانے والے لوگ ، شادیاں ، جنازے، سکول اور مدرسے تک ان حملوں کا نشانہ بنے۔اسلام آباد سے ہمیشہ اس پر ایک رٹا رٹایا بیان جاری کیا جاتا رہا کہ پاکستان کی سالمیت پر حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ حالانکہ مغربی ذرائع ابلاغ نے ہمیشہ تلخ ترین حقائق کا پردہ چاک کیا کہ یہ حملے پاکستانی حکام کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر امریکی حکام کے اس دعوے کو سچ مان لیا جائے کہ ڈرون حملے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو مارنے کے لئے کئے جاتے ہیں تو پھر سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر مبینہ دہشت گرد پاکستانی ریاست کی عمل داری کو چیلنج کر رہے تھے تو ان سے نمٹنا بھی ریاست کا ہی کام تھا۔ کوئی دوسرا ملک یہ کام کس قانون کے تحت سر انجام دے سکتا ہے ؟ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہشت گردی کا سدباب تو نہ ہو سکا البتہ متاثرہ قبائلیوں میں یہ سوچ پنپنے لگی کہ ڈالروں کے عوض ہمارا خون بہایا جا رہا ہے۔
مختصر بات یہ ہے کہ جب تک ایک ریاست اپنے شہریوں کے معاملے میں حقیقی نہیں بلکہ سوتیلی ماں والا کردار ادا کرے گی تو پھر سوتیلی ماں کے سلوک کا شکار ہونے والے شہریوں کا طرز عمل بھی مہذب شہریوں والا نہیں ہو گا بلکہ چڑچڑاپن اور تلخی انتہا پسند رویوں کو فروغ دے گی اور اس کے نتائج وہی ہوں گے جو ہمارے سامنے ہیں۔
ایک ماں کے لئے اس کی اولاد برابر ہوتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ماں اپنے بچوں میں تمیز کرے کسی پر زیادہ ممتا نچھاور کرے کسی پر کم۔ ہاں ماں اپنے ان بچوں کو زیادہ توجہ دیتی ہے جو پیدائشی طور پر کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہوں کہ ماں اپنے بچوں کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے۔
ریاست بھی تو ماں ہی ہوتی ہے۔ اور ایک آئیڈیل ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے شہریوں میں رنگ، نسل، عقیدہ، زبان یا کسی بھی پہلو کے حوالے سے تمیز نہ کرتے ہوئے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرے۔امن و امان برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور اس کے بدلے میں اپنے شہریوں سے بھی کچھ فرائض کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ریاستی قوانین و ضوابط کی پاسداری کریں۔
میرے نزدیک کسی ریاست کا طرز حکومت جیسا بھی ہو امن ، ترقی اور خوشحالی بنیادی طور پر’رول آف لا‘ سے مشروط ہے یعنی نظام عدل کا مو¿ثر ہونا۔ قانون کی حکمرانی اعتماد سازی اور بقائے باہمی کے لئے لازم ہے۔ عام فہم بات ہے کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی وہاں جرائم کی پرورش ہو گی۔ مافیاز کی حکمرانی ہو گی۔ طبقاتی کشمکش ہو گی جس میں بالادست طبقات لازمی طور پر کمزور اور غریب لوگوں پر بالا دستی قائم رکھیں گے۔
جس ریاست میں لاکھوں کی تعداد میں بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے کشکول تھما دیے جائیں اور لاکھوں کی تعداد میں بچوں سے جسمانی مشقت لی جاتی ہو۔ امیر لوگوں کی کوٹھیوں پر کم سن ملازم بچے تشدد کا نشانہ بنتے ہوں۔ وکلا بھاری فیسوں کے عوض عدالتوں میں جرائم پیشہ اور بدعنوان لوگوں کا ہر ممکن دفاع کرتے ہوں۔ اساتذہ بچوں پر تشدد کرتے ہوں۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے بیشتر وڈیروں اور جاگیرداروں نے اپنی نجی جیلیں قائم کر رکھی ہوں۔ سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ اور بدعنوان لوگوں کا گڑھ بن چکی ہوں وہاں انسداد جہالت اور ایک ہموار معاشرے کے فروغ کا تصور دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔ عام طور پر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جہالت سے مراد محض ناخواندگی ہے حالانکہ جہالت سے مراد شعور ، آگہی اور تہذیب کی عدم موجودگی ہے۔ جہالت سے مراد منفی اور غیر انسانی رویے ہیں۔ جہالت سے مراد احساس ذمہ داری کا نہ ہونا ہے۔ جہالت سے مراد دوسروں کے حقوق تسلیم کئے بغیر اپنے حقوق کی مانگ ہے۔ یہ اور دیگر کئی عوامل جہالت کی انتہائی شکل ہیں۔ جب ایک جج کے گھر میں کم سن ملازمہ ظلم کا نشانہ بنتی ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معاشی طور پر ناہموار اور لاقانونیت کا شکار معاشروں میں ناخواندہ اور بظاہر پڑھے لکھے لوگ برابر مسئلہ ہیں۔ ایسے میں رول آف لا کی ضرورت ناگزیر ہے۔ جو معاشرے رول آف لا کی نفی کرتے یا اس کے بغیر پروان چڑھتے ہیں وہاں طاقتور اور بااثر طبقے کے ’قانون‘کی اجاراداری قائم ہو جاتی ہے۔ ریاستی وسائل اور دولت کا بڑا حصہ بالادست قوتوں کے قبضے میں رہتا ہے۔ ایسے ناہموار معاشروں میں نام نہاد منتخب حکومت ہو یا غیر منتخب عوام کا استحصال جاری رہتا ہے۔ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے حالانکہ عوام کی اکثریت کی یا تو اپنی کوئی رائے ہی نہیں ہوتی یا پھر ان کی رائے طبقہ اشرافیہ کے تابع ہوتی ہے۔
ایسے میں راہ نجات کا سوال بنیادی ہے۔ مسخ شدہ معاشروں کو سنبھلنے کے لئے ہمیشہ فکری انقلاب کی ضرورت رہتی ہے اور اس ضمن میں درس گاہوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کا کردار بڑا مو¿ثر ہو سکتا ہے لیکن اس حوالے سے بھی صورت حال خوفناک ہے۔ بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ بیشتر میڈیا مالکان ، میڈیا ہاو¿سز اور قلم فروشوں نے ریاست کے طاقتور مراکز کے ساتھ ایکا کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی یہ رحجان بھی زور پکڑ رہا ہے کہ مفاداتی اور فشاری گروہ جن میں صنعت کاروں، سرمایہ داروں ، سیاسی جماعتوں، خود کو مذہبی یا لبرل کہلوانے والے فرقوں اور خاکی والوں نے اپنے اپنے اخبارات ، سیٹلائٹ چینلز ، آن لائن ویب سائٹس لانچ کرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال بھی بڑے بے رحمانہ طریقے سے ہو رہا ہے جو کہ فکری انتشار کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایسے میں عام آدمی کی بات کون کرے اور کس فورم پر؟ اس کی گنجائش تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
ہر چیز ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے سب سے بڑھ کر آئین اور قانون۔ ایسے میں ریاست کے وجود کا مفہوم عام آدمی کے لئے نہ صرف بے معنی بلکہ تکلیف دہ احساس بن کر رہ گیا ہے۔ ریاست مساوات کی علمبردار ہوتی ہے اور اپنے شہریوں کو زندگی کی تمام تر بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب ٹیکس چوروں سے لے کر قاتلوں تک بااثر جرائم پیشہ لوگ دندناتے پھر رہے ہوں ایسے میں کم سن ظلم رسیدہ طیبہ اور مظہر حسین جیسے بے وسیلہ لوگ تو یہی کہیں گے کہ…. میری’ماں‘ ہی میری قاتل ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔