کچھ میٹھا ہو جائے….


adnan Kakarاگر تم مصنف بننا چاہتے ہو۔ اس کے لیے ایک اہم چیز یاد رکھو۔ انسان تین چار طرح کے موڈ کا شکار ہوتا ہے۔ جس طرح کا موڈ ہوتا ہے، اسی طرح کی تحریر لکھو۔ اگر وہ بس سے باہر ہو تو اس وقت کچھ نہ لکھو۔

اگر تم نہایت اداس ہو تو قوم کی موجودہ حالت کا نوحہ لکھو۔ بگڑتی ہوئی اقدار کا رونا روﺅ۔ مستقبل کے بارے میں نا امیدی کا اظہار کرو۔ لوگوں کے غموں کے بارے میں لکھو۔

اگر تم دانشمند محسوس کر رہے ہو تو قوم کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کرو۔ مستقبل کا خوف ظاہر کرو۔ اور اپنی حکمت بیان کرو جس پر عمل کر کے قوم فلاح پا سکتی ہے اور ایک روشن مستقبل کی طرف جا سکتی ہے۔

اگر کسی سبب سے تم خوشی کا شکار ہو گئے ہو تو مزاح لکھو۔ لطیفے بیان کرو۔ قوم کی موجودہ گئی گزری حالت میں بھی اس کی خوبیاں بیان کرو اور انہیں کی بنیاد پر قوم کو سب اقوام مشرق و مغرب سے بلند قرار دو۔

اور اگر تمہیں کسی نے رومانی موڈ کا شکار کر دیا ہے تو عشق پر لکھو۔ بتاو کہ جو قومیں عشقیہ داستانیں نہیں رکھتیں، ان کا حال کتنا عبرتناک ہوتا ہے۔ اپنے معاشقوں کو دوستوں کے معاشقے قرار دے کر لکھ ڈالو تاکہ اہل و عیال سے محفوظ رہ سکو۔ اور اگر جوانی میں معاشقوں سے محروم رہے ہو تو دوستوں کے معاشقے اپنے نام سے بیان کرو تاکہ بیگم کو یقین رہے کہ تم نے اس سے شادی کر کے اس پر بہت بڑا احسان کیا ہے ورنہ سارے شہر کی حسینائیں ٹوکن لے کر لائن بنائے کھڑی تھیں۔

اگر تم نہایت ناکارہ محسوس کر رہے ہو تو تنقید کا میدان پکڑو۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar