مجھے گالیاں دینے سے نواز شریف پانامامہ کیس سے نہیں بچ سکتے : عمران


\"\"تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وزرا مجھے مریم نواز کے کہنے پر گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں جب کہ (ن) لیگ والے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نوازشریف کو رعایت مل جائے گی لیکن یہ ان کی بھول ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے باہر حکمران جماعت کی پوری کابینہ موجود ہوتی ہے اور مجھے گالیاں دی جاتی ہیں، یہ سب مریم نواز کے کہنے پر ہوتا ہے وہ ہرروز تمام وزار سے باری باری پوچھتی ہیں کہ تم نے عمران خان کو کتنی گالیاں دیں اور کتنا برا کہا اور دھمکی دیتی ہیں کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں سب کے کرپشن کے کیس عوام کے سامنے لے آوں گی۔ (ن) لیگ والے کہتے ہیں کہ عمران خان کو اتنا برا کہا جائے کہ نوازشریف کو پاناما کیس میں رعایت مل جائے، یہ کیا سوچتے ہیں کہ مجھے برا بھلا کہہ کر کیس سے بچ جائیں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں گالی دینے والا سیاستدان ہوں، میری گالی یہ ہے کہ نوازشریف ملک کا سب سے بڑا کرپٹ آدمی اور ڈاکو ہے،میں اس پر قائم ہوں کیوں کہ میں نوازشریف کو 30 سال سے جانتا ہوں، انہوں نے ایک فیکٹری سے اقتدارمیں آنے کے بعد 30 فیکٹریاں بنائی ہیں، اقتدارمیں آکر ذات کو فائدہ پہنچانا ہی کرپشن ہے اور جب میں ان کی اصلیت بتاتا ہوں تو مجھ پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں جب کہ میں کبھی بھی اقتدار میں نہیں آیا اور یہ ملک میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اقتدارمیں آنے سے پہلے ہی کسی انسان کو کرپٹ کہہ دیا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نوازشریف نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ جائیدادوں سے متعلق میرے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں لیکن ان کے وکیل نے وہ دستاویزات تاحال عدالت میں پیش نہیں کئے، نوازشریف نے کہا کہ میں ہرفورم پر احتساب کے لئے تیارہوں اور کوئی استثنیٰ نہیں لوں گا لیکن اب وہ پارلیمنٹ کی آڑ لے کر استثنیٰ لے رہے ہیں، جب ہم دھرنا دیتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ پارلیمنٹ میں آو¿، پارلیمنٹ میں آئے تو ہمیں بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور کہا کہ عدالت میں جاو¿ اور جب عدالت گئے تو کہا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ کی پناہ لے کر استثنیٰ لے لی ہے، اب ہم کہاں جائیں۔
عمران خان نے کہا کہ نومبر 2011 میں مریم نواز نے انٹرویو میں کہا تھا کہ بیرون ملک تو درکنار ہماری پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں لیکن جب 2016 میں پاناما کا انکشاف ہوا تو انہیں مجبوراً ماننا پڑا کہ ہماری جائیداد میں مے فئیر کے فلیٹ بھی ہیں اور آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر آنے والے تمام ناموں میں سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران جب اخلاقی جواز کھو بیٹھے تو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں، پہلے چھپائے جانے والے فلیٹس کو بعد میں ماننا جھوٹ ہے،سپریم کوٹ میں بتانا پڑے گا لندن فلیٹس کے لئے رقم کہاں سے اور کیسے بیرون ملک منتقل ہوئی۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ کو بھی علم ہے کہ اس کیس سے ملک پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے اور عدالت نے کہا ہے کہ یہ تاریخ کا انوکھا کیس ہے، اب فیصلہ ہوگا کہ مستقبل کا پاکستان کیسا ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  پاناما کیس؛ ایف آئی اے کا جے آئی ٹی کیلیے 3 نام بھجوانے کا فیصلہ

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔