انتظار حسین – کتاب اور آدمی


siftain_khanایک عہد کی داستان ۔ افسانہ نگار، ناول نگار اور تنقید نگار ۔ سرزمین پاکستان میں سابقون الاولون ادبا کی آخری نشانی ۔ ادب کی مشرقی تہذیب کا آخری استعارہ ۔ برصغیر کی ادبی تاریخ کا عینی گواہ ۔ اردو اور انگریزی میں یکساں مہارت کا حامل ۔ محمد حسن عسکری جیسے نابغے سے فیض حاصل کرنے والا ۔ جیسا استاد ویسا شاگرد ۔ عظمت سے عظمت کشید کرنے والا ۔ لسانیات سے شاعری اور پھر افسانہ نگاری تک کا سفر کرنے والی ایک بے چین روح ۔ عام سی جگہوں کو لافانی کرداروں کا حصہ بنا کر ھمیشگی کا مقام عطا کرنے والا ۔ انسانیت کی اقدار کا بہترین مبلغ ۔ ادبی تعصبات اور حلقہ بندیوں سے اوپر اٹھ کر کام کرنے والا۔ لفظ جس کے سامنے سرنگوں رھے ۔ وہ جو آخری دم تک تخلیق کرتا رہا ۔ ماضی کو حال سے جوڑنے والا ۔ بے روح اجسام میں روح پھونکنے والا ۔ داستاں گوئی کو نئے رنگ میں ابدیت عطا کرنے والا ۔ اپنی اقدار پر فخر کرنے کا درس دینے والا ۔ ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھنے والا ۔ تقسیم ہند کا بہترین مصور ۔ ہجرت کو اپنے وجود میں سمیٹ لینے والا ۔ روایت کا امین ۔ ایک ایسی الجھی ہوئی ذات جو اپنی تلاش میں شہر کا ذرہ ذرہ چھانتی ہے ۔
کردار نگاری جس پر ختم تھی۔

کردار نگاری جس پر ختم تھی ۔ جس کے قلم سے ” بستی ” جیسے شاہکار نکلے آج خود بستی کو ویران کر گیا۔ ” لاہور نامہ ” کا مصنف آج خود لاہور کو الوداع کہہ گیا ۔ وہ جو اپنے عہد کا ” آخری آدمی ” تھا ۔ “جستجو کیا ہے” کا خالق خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہا۔ ” علامتوں کا زوال ” لکھنے والا ادب کی آخری علامت تھا ۔ ” گلی کوچے ” اس کے ہجر میں نوحہ کناں ہیں ۔ ” قطرے میں دریا ” کو دیکھنے والا خود دریا تھا ۔ “شہر افسوس” آج زندہ بن کر ڈس رہا ہے ۔ جو نظریے سے زیادہ تخلیقی حسن پر یقین رکھتا تھا ۔ ادب برائے ادب کا نقیب ۔ اسلوب ہی اس کا عقیدہ تھا اور احساس ہی اس کا منبہ خیال ۔ محبتوں کا مسافر جو چلا تو اکیلا تھا جانب منزل مگر کارواں بنتا گیا ۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے ۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “انتظار حسین – کتاب اور آدمی

  • 10-02-2016 at 12:25 am
    Permalink

    Kia alfaz istemal kiye hy. Wah

Comments are closed.