ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (1)


\"\"تعارفی نوٹ:

کچھ عرصہ ہوا مجھے دوستوں نے بتایا کہ یو ٹیوب پر مولانا ابوالکلام آزاد کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تاریخی تقریر خود ان کی آواز میں مہیا ہے۔ میں نے چیک کیا تو پتہ چلا کہ ایک ہی جعلی رکارڈنگ کو متعدد لوگوں نے طرح طرح سے لوگوں نے اپلوڈ کر رکھا ہے، اور ہر جگہ اس پر خوب خوب خیال آرائیاں ہو رہی ہیں۔ ٹھیک اسیطرح جیسےاس انٹرویو پر ہوئی تھیں، اور اب بھی ہوتی رہتی ہیں، جو احراری جرنلسٹ شورش کاشمیری نے شائع کیا تھا۔ (ابوالکلام آزاد: سوانح و افکار۔ 1988۔ یہ کتاب ان کے بیٹوں نے مرتب کی ہے۔ )۔ کچھ عرصہ ہوا نوجوان وکیل اور دانشمند کالم نگار یاسر لطیف ہمدانی نے اس انٹرویو کی حقیقت کھول دی تھی اور انگریزی کی حد تک لوگوں کے علم میں آگیا تھا کہ وہ محض ایک جعل سازی ہے۔ یہاں صرف دو باتوں کا اضافہ کرنا چاہوں گا۔

شورش نے دو جگہ یہ لکھا ہے کہ مولانا نے 14 اور 15 اگست کی نیم شب کی تقریب میں کوئی حصہ نہیں لیا، اور ایک جگہ یہ اضافہ بھی جواہر لال نہرو کی زبانی کیا ہے کہ مولانا اس رات شدت غم سے سوئے بھی نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہےکہ مولانا پہلی کابینہ میں شامل تھے اور شب کی تقریب میں سب وزراٴ کی طرح شریک ہوےتھے۔ اس موقعہ کی تصویر انٹرنیٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا سردار پٹیل کی بغل میں کھڑےہیں۔

اسی طرح شورش کا دعوی ہے کہ جب حیدرآباد کا معاملہ زور پر تھا تو نظام نے ان کے پاس کچھ لوگ بھیجے تھے اور مولانا نے انھیں 5 پوائنٹ کا مشورہ دیا تھا، جس کا ان نمائندوں نےمذاق اڑایا تھا۔ اس کے بعد شورش لکھتے ہیں: “حیدرآباد کا سقوط ہوگیا تو مولانا مسلمانوں کی بربادی کا احوال سن کر وہاں پہونچے۔ جو لوگ خونریزی کےمرتکب ہو رہے تھے انھیں روکا، مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی۔ نظام نے کھانے پر مدعو کیا۔ جو مصاحب دعوت نامہ لے کر آیا اس سے کاغذ لے کر پشت پر لکھ دیا: ’جس شخص کی سوٴ فہم اور نظر کج کی بدولت مسلمانوں کا لہو اس طرح بہا ہے، میرے لئے اس کے دسترخوان پر آنا ممکن ہی نہیں۔ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر مجھے دسترخوان پر مدعو کرنا ابلہانہ جسارت ہے‘۔ قطع نظر اس سےکہ یہ نجی تحریرکس طرح حیدرآباد سے لاہور شورش کے پاس پہنچی حقیقت یہ ہے کہ حیدرآباد کے نمائندے دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ کراچی میں تھے اور مسلم لیگ کے لیڈروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔ مولانا ان لوگوں سے ملتے یا خود حیدرآباد جاتےتو اس کا ذکر ان کی India Wins Freedom میں ضرور ہوتا، لیکن ایسا نہیں۔ اے۔ جی۔ نورانی کی تازہ کتاب The Destruction of Hyderabad مفصل ترین تاریخ ہے، اس میں بھی یہ ذکر نہیں۔ البتہ وہ 1950 میں ضرور حیدرآباد گئے تھے، نہرو کے ساتھ اور وزیرِتعلیم کی حیثیت سے۔ اس موقعہ پر ان کے میزبان نظام ہی تھے جو تب راج پرمکھ کہے جاتے تھے۔ اس موقعہ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

\"\"

یوٹیوب پر مہیا تقریر (رکارڈنگ اور متن) بھی اسی طرح کی جعل سازی ہے۔ اس کا متن ایک ملغوبہ ہے جس میں اصل تقریر کے ٹکڑے جگہ جگہ شامل ضرور ہیں لیکن ان کےآگے پیچھے یاروں نے شورش کاشمیری کی ’یادوں‘ اور مولانا کی بعض دوسری تحریروں کے ٹکڑے لگا کر اپنا تنور گرم کیا ہے۔ آواز کسی ایسے شخص کی ہے جو بے ہنگام ذاکری کرکے کماکھا سکتا ہے لیکن جسےمولانا کی مدلّل خطابت کا ذوق نہیں، صرف چیخنے کا شوق ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہ رکارڈنگ کس نے کی تھی اور اب کس طرح دستیاب ہوئی ہے۔ 1947 میں ٹیپ رکارڈر عام نہیں تھے۔ اسٹوڈیو میں بھی wire recording ہی ممکن تھی جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہ تھی۔ اب اگر یہ رکارڈنگ آل انڈیا ریڈیو نے کی تھی اور وہاں سے حاصل کی گئی ہے تو اعتراف میں کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ نہ اس میں کوئی ایسی منافقانہ یا فرقہ وارانہ بات ہے جس کو بھارتی حکومت پوشیدہ رکھنا چاہتی۔ خود یوٹیوب پر آل انڈیا ریڈیو کی ایک رکارڈنگ میں مولانا کی آواز موجود ہے، اور اس مختصر تقریر میں بھی مولانا کی صاف گوئی نمایاں ہے۔

آزادی یا تقسیم کے فوراً بعد مولانا نے دو بڑی اہم تقریریں کی تھیں۔ پہلی تقریر اکتوبر 1947 میں عیدالاضحی کے نماز کے موقعہ پر جامع مسجد دہلی میں، اور دوسری تقریر دسمبر 1947 میں لکھنو کے وکٹوریہ پارک میں۔ پہلی تقریر بےحد اہم اور متاثرکُن تھی۔ جس نے بھی اس زمانے میں اسے سنا یا پڑھا رو رو دیا، لیکن خوداعتمادی بھی، جو اس وقت نایاب ہو رہی تھی، اس سے حاصل کی۔ اس میں مولانا کا انداز خطابت اپنی معراج پر پہونچ گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرےایک چچا، جو پہلے خلافتی تھےاور بعد میں کانگریسی بنے، اس کے پورے پورے پیراگراف ہمیں سنایا کرتے تھے۔ دوسری تقریر کی اہمیت سیاسی یا تنظیمی زیادہ تھی۔ چنانچہ اب وہ کسی کو یاد نہیں۔ کچھ سال بعد مولانا کی ایک تیسری تقریر بھی بہت مشہور ہوئی تھی جو انھوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں کی تھی اور جس میں انھوں نے جن سنگھی ذھنیت کے لوگوں، بالخصوص پرشوتم داس ٹنڈن کو براہ راست خطاب کرتےہوئےاپنی صاف گوئی اور زورِخطابت کا بھرپور اظہار کیا تھا۔

ذیل میں مولانا کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تقریر کا اصل متن پیش کیا جاتا ہے۔ اس کیتیاری میں تین کتابوں سے مدد لی گئی ہے:
1۔ مالک رام (مرتب)، خطباتِ آزاد ( نئی دہلی: ساہتیہ اکادیمی، 1974)۔
2۔ عرش ملسیانی، ابوالکلام آزاد: سوانح حیات (نئی دہلی: پبلیکیشنز ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات، 1974)۔
3۔ عابد رضا بیدار، مولانا ابوالکلام آزاد (رامپور: انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز، 1968)۔

ان کے علاوہ دو تین دیگر کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مجھےیہ کہتے ہوئے شدید افسوس ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے مآخز کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ رشید احمد صدیقی صاحب نےایک جگہ لکھا ہے کہ یہ تقریر متعدد اردو اخباروں میں فوراً شائع ہوگئی تھی۔ میرےخیال میں ان جرائد میں تو ضرور چھپی ہوگی جن کا تعلق جمعیة العلماٴہند یا انڈین نیشنل کانگریس سے تھا، جیسے الجمعیة (دہلی)، مدینہ (بجنور)، اور قومی آواز (لکھنئو)۔ افسوس کہ ان کی پرانی فائلیں مجھے دستیاب نہیں۔

یاسر لطیف ہمدانی کی تحریریں:

http://www.wichaar.com/news/315/ARTICLE/17497/2009-12-02.html

http://www.dailytimes.com.pk/opinion/30-Jun-2014/shorish-kashmiri-azad-and-partition

مولانا آزاد کی ایک تقریر کا اقتباس انکی آواز میں:
https://www.youtube.com/watch?v=n72A1VUYkF4


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (1)

  • 22-01-2017 at 10:03 pm
    Permalink

    مجھے ندامت ہے کہ مولانا کی تقریر کا ممکمل متن ابھی تک نہیں پیش کرسکا ہوں۔ مشکل کمپوٹری ہے۔ حل تلاش کر رہا ہوں۔ انشاٴالله جلد ہی تصحیح شدہ متن بھی پیش کردیا جائےگا۔

Comments are closed.