سی پیک کے خلاف سازش یا عوام کے خلاف؟


\"\"

جب سے انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان کی ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ ضلع غذر میں دہشت گرد پکڑے گئے ہیں اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے تو میری طرح وطن سے دور رہنے والوں کی تشویش میں اضافہ ہواہے۔ حالیہ دنوں میں غذر میں داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروپ کی کارروائیوں کے خطرے کی گھنٹی کی آواز ابھی مدھم بھی نہیں ہوئی تھی کہ بالاورستان نیشنل فرنت نام کی تنظیم کی سی پیک کے خلاف سازش کے انکشاف نے تو ہمارا خون ہی خشک کردیا۔ چونکہ اس طرح کی ایک کارروائی پچھلے دنوں بھی ہو چکی تھی اور اس کی خبریں بھی اسی طرح پہنچی تھیں، ہنگامی پریس کانفرنس، مبارکباد اور کارروائی میں شریک پولیس افسران کو ترقیاں اور انعامات وغیرہ وغیرہ تو ابھی اس نئی خبر پر تو دل بیٹھ ہی گیا۔

خبر کو غور سے پڑھا تو شک سا ہوا کہ پرانی خبر کو ہی دھرایا جا رہا ہے ادھر ادھر ٹٹولا تو صحافت سے وابستہ احباب بھی مجھ سے متفق پائے گئے کہ پرانی خبر کو پھر سے خبر بنایا گیا ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی دوست احباب پوچھنے لگے کہ ماجرا کیا ہے۔ پوچھنے والوں کا بنیادی سوال یہ تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسلحے کا انبار لگا ہو وہاں چار کلاشنکوف، دو شارٹ گن اور ایک سیون ایم ایم کی بندوق سے سی پیک کو کیسے ناکام بنایا جا سکتا ہے جس کی حفاظت پاکستان کی افواج کر رہی ہوں؟ سی پیک تو قراقرم ہائی وے سے گزر کر جنوب مغرب کی طرف جارہا ہے جب کہ یاسین کا علاقہ جہاں سے یہ اسلحہ برآمد ہوا ہے شمال کی جانب پامیر کی سرحد پر واقع ہے، کیسے سی پیک کے منصوبے کو ناکام بنا نے میں موثر ہو سکتا ہے؟ سب سے نمایاں جو سوال تھا کہ بالاورستان نیشنل فرنٹ تو اسی کی دہائی سے کام کر رہی ہے جبکہ سی پیک تو ابھی شروع ہوا ہے تو کیسے ایک تنظیم نے بیس سال پہلے اس کے خلاف سازش کی؟

میں بذات خود کبھی تنگ نظر قوم پرستوں کا حامی نہیں رہا، مذہبی عصبیت سے دور ہوں اور کسی انقلاب کے نام پر جذباتیت کا شکار بھی نہیں رہا ہوں لیکن قوم پرستی، مذہبی عصبیت اور انقلابی نظریات رکھنے والوں کو غدار اور ملک دشمن بنا کر پیش کرنے کا بھی حامی نہیں ہوں اور اس کو بھی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سمجھتا ہوں کہ کسی کو صفائی کا موقع دیے بغیر اس کے خلاف بہتان تراشی کی جائے۔ سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والے اگر اپنی ذاتی خوہشات کی تکمیل اور اپنے من پسند افراد کو نوازنے کے لئے عوام کی انکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کریں تو اس سے ریاست اور شہریوں کے درمیان دوری ہوگی اور ملک کا دفاع کمزور ہوگا۔ میں پاکستان کی سول سروس کو ابھی تک دنیا کی بہترین سروسز میں سے ایک سمجھتا ہوں میرے نزدیک جو لوگ مقابلے کا امتحان پاس کرکے آتے ہیں وہ کم از کم ترقیاں پا کر آنے والوں اور سفارشی بھرتی ہونے والے افسران سے زیادہ لائق فائق ہی نہیں ہوتے بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور انتظامی امور کے معیار کو برقرار رکھنے میں بھی مشاق ہوتے ہیں۔ ایسے کسی افسر سے اس طرح کی پریس کانفرنس کی توقع نہیں کی جاسکتی جس میں دو مہینے پرانی ایسی بات پھر دھرائی جائے جس (واقعہ) میں گرفتار لوگ ضمانت پر رہا بھی ہو چکے ہوں اور کچھ گرفتار ہی نہ ہوئے ہوں۔ اگر ایسی پریس کانفرنس کچھ مقامی بہی خواہوں کی خوشنودی کے لئے نہیں کی گئی ہے تو اس کے مقاصد سے بھی آگاہ کیا جائے کہ ایک ہی واقعہ کی تشہیر کے لئے دو بار پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

غذر کے ضلع میں مشرف کے حکم پر پورے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ ہتھیار مقامی تھانوں میں جمع کروا دیا گیا تھا جو اس بات کا مظہر ہے کہ یہاں کے لوگ کتنے پرامن شہری ہیں۔ آئی جی صاحب اگر دیکھنا چاہیں تو معلوم ہوگا کہ ان اضلاع کے جہاں سے سی پیک نے گزرنا ہے، ایک ایک گھر میں اس سے کہیں زیادہ اسلحہ ہر وقت موجود ہوتا ہے جس کو وہ پریس کانفرنس میں دکھا کر اس عظیم منصوبے کے لئے خطرناک قرار دے رہے تھے۔ آئی جی صاحب کو شایدیہ بھی معلوم ہوگا کہ بعض علاقے ایسے بھی جہاں جانے پہچانے دہشت گرد اور مفرور رہتے ہیں مگر وہاں پولیس نہیں جا سکتی۔ آئی جی صاحب کو تو معلوم ہی ہوگا بالاورستان کے سربراہ نے پیسے کن میں تقسیم کیے ہیں۔ تو جناب پیسے لینے والوں کی پوری لسٹ کیوں نہیں شائع کر دی جاتی ہے؟ میں کسی ایسے شخص کی حمایت نہیں کر سکتا جس نے اپنے دوستوں اور رشتے داروں میں ہندوستان یا بیلجیم سے لاکر پیسے تقسیم کیے ہوں اور اس کی قیمت غریب عوم چکائیں اس لئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے نام شائع کیے جائیں جو ان کی کرم نوازی سے مستفید ہوئے ہوں۔

میں بذات خود جنگ سے نفرت کرتا ہوں لیکن چونکہ پاکستان اور ہندوستان کی مخاصمت میں ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقے کے عوام کو غدار قرار دیا جارہا ہے تو پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی معلومات کے اضافے کے لئے یہ بھی بتانا شاید مفید ہو کہ کارگل کے معرکے میں سب سے زیادہ بیٹے قربان کرکے اس ضلع نے وادی شہدا ء کا خطاب پایا اور گلگت سے چترال جانے والی سڑک پر لہلاتے پرچم اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ کارگل میں اپنی جان کا نذرانہ دینے والوں میں گلگت بلتستان کا پہلا نشان حیدر پانے والےشہید حولدار لالک جان کا تعلق بھی اس یاسین کے علاقے سے ہے جس کے بارے میں بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ وہاں دہشت گرد پائے جاتے ہیں۔ آج بھی اس وادی کے بیٹے پاکستان کی فوج میں شامل ہوکر قبائلی علاقوں اور دیگر محازوں میں اپنے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ شاید یہ خبریں بقیہ پاکستان میں رہنے والوں تک نہیں پہنچتی ہوں کہ ایک علاقہ ایسابھی ہے جہان جب شہید ہونے والوں کی لاشیں آتی ہیں تو مائیں روتی نہیں اور بہنیں فخر سے کہتی ہیں کہ میں ایک شہید کی بہن ہوں، بھائی اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ ملکر بینڈ باجے پر شہید ہونے والے اپنے بھائی کو سلامی دیتے ہیں اس کے بوڑھے ماں باپ شہید کی لاش پر انسو بہانا گناہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ علاقہ گلگت بلتستان میں ضلع غذر ہے۔

میڈیا پر اس خبر کو دیکھانے کے لئے حکومت پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران کا بار بار کانفرنس کرکے لوگوں کااعتبار خبر کی سچائی پر سے ختم کروا دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔ پاکستان کے دیگر شہروں میں رہنے والے تو شاید اس خبر پر اعتبار کرلیں لیکن مقامی لوگ جہاں اس واقعہ کا ہونا بیان کیا جاتا ہے بخوبی جانتے ہیں کہ پرانی خبر کی بار بار تشہیر کی جارہی ہے ۔ کیا حکومتی عہدیداروں کے ریاستی امور میں اس طرح کی باتیں پھیلانے سے شہریوں اور ریاست کے بیچ اعتماد کے فقدان کا باعث نہیں ہوگا؟ کہیں ہم انجانے میں اس سازش کا شکار تو نہیں ہورہے ہیں جس کا مقصد عوام اور ریاست کے درمیان خلا پیدا کرنا ہے؟ کہیں ہم اس سازش کا حصہ تو نہیں بن رہے ہیں جس کا مقصد عوام کے بیچ تعصب پھیلانا ہے؟ غور ضرور کیجئے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “سی پیک کے خلاف سازش یا عوام کے خلاف؟

  • 19-01-2017 at 9:51 pm
    Permalink

    اس تحریر سے تم نے پرانے داغ دھو دئیے علی احمد جان۔ حقائق جاننے کے باوجود اتنا لکھنے کی ہمت گلگت بلتستان میں صحافت کے نام پر گند پھیلانے والے منحوس النسل کبھی بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ ایک فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف کاروائی سے درجنوں پریس کلب بنا کر پی آئی ڈی اور پی ڈبلیو ڈی سے پیسے کھانے والوں کے اندر موجود فرقہ پرست کیڑے کو خوراک مل جاتا ہے۔

  • 20-01-2017 at 9:55 am
    Permalink

    Nice Ali bhai

  • 20-01-2017 at 11:39 am
    Permalink

    شرارتی لڑکا اور شیر کی کہانی
    Jan 10, 2017 پامیر ٹائمز کالمز 0

    شرارتی لڑکا اور شیر کی کہانی
    Bio
    Latest Posts

    My Twitter profileMy Facebook profileMy LinkedIn profile
    By Israruddin Israr
    ہمیں بچپن کا وہ قصہ یا د ہے جس میں بتایا جاتا تھا کہ ” ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شرارتی لڑکا رہتا تھا۔ وہ روز اپنی بکریاں چرانے کے لئے قریبی پہاڑی پر لے جاتا تھا۔ ایک دن پہاڑی پر بیٹھے بیٹھے ان کو ایک شرارت سوجھی۔شرارتی لڑکا اپنے پورے زور سے چلانے لگا۔ شیر آیا شیر آیا شیر آیا! ان کی آواز گاؤں والوں تک پہنچنے کی دیر تھی ۔اتنے میں گاؤں کے مرد و زن ، جوان اور بڑھے سب ، جس کے ہاتھ جو لگا اٹھا کر پہاڑی کی طرف لپکے۔ کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا تو کسی کے ہاتھ میں کلہاڑی ،سب کے سب ہانپتے کانپتے پہاڑی کے اوپر پہنچ گئے تاکہ شیر کا مقابلہ کیا جاسکے اور لڑکے کو شیر کے چنگل سے چھڑایا جاسکے۔پہاڑی کے اوپر پہنچ کر کیا دیکھتے ہیں،شرارتی لڑا کا ایک پتھر پر بیٹھ کر گاؤں والوں کی بیوقوفی پر ہنس رہا ہے ۔گاؤں والے سمجھ گئے کہ یہ لڑکے کی شرارت تھی ۔ گاؤں کے بزرگ ، خواتین ، بچے اور جوان سب اس کو برا بھلا کہتے ہوئے واپس گاؤں کی طرف لوٹ آئے۔
    اس واقعے کو کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ ایک دن پھر اس شرارتی لڑکے نے زور زور سے چلانا شروع کیا ۔ شیر آیا شیر آیا شیر آیا! چونکہ گاؤں والوں کوپچھلا واقع یاد تھا اس لئے وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ الٹا انہوں نے شرارتی لڑکے کو برا بھلا کہا اور اپنے معمول کے کام میں مشغول ہوگئے۔ اس دفعہ شرارت نہیں تھی بلکہ حقیقت میں شیر پہاڑی کے اوپر آچکا تھا ۔ شرارتی لڑکے کو بچانے کے لئے گاؤ ں سے کوئی نہیں آیا تھا اس لئے شیر نے اطیمنان سے اپنا کام کیا اور شرارتی لڑکے کو چیر پھاڑ کر کھا گیا اور ڈکار لیکر چلا گیا۔ اسی شام شرارتی لڑکا گاؤں واپس نہیں آیا ۔ رات کو جب لوگ روشنیاں ہاتھوں میں اٹھا کر پہاڑی پر پہنچ کر دیکھا تو خون میں لت پت شرارتی لڑکے کے کپڑوں کے علاوہ ان کو کچھ نہیں ملا۔ ” اس کہانی کا اصل سبق اس زمانے کے استاد ہمیں یہ بتاتے تھے کہ شرارت کا انجام برا ہوتا ہے۔
    ہمیں یہ واقع اس وقت یاد آیا جب گذشتہ دنوں گلگت بلتستان کی سرکار نے غذر کے عوام کو یہ اطلا ع دی کہ فیضان نامی دھشت گرد نے غذر کی عبادت گاہوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے لہذا اپنا بندوبست کیا جائے۔ اس خبر کے بعد غذر کے عوامی نمائندوں نے اخبارات میں دھواں دار بیانات بھی دئیے ۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیر سیاحت فدا خان نے تو عوام سے اپیل کر ڈالی کہ وہ اپنا جائز اسلحہ تیار رکھیں۔ فدا خان کو شاید یاد نہیں کہ عوام نے مشرف کے دور میں جائز اسلحہ جمع کرانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور گلگت بلتستان میں غذر وہ واحد ضلع تھاجہاں جائز اسلحہ ریکارڑ حد تک جمع ہوا تھا۔ بعد ازاں یاسین کے عوام نے کسی عوامی ایشو پر ہنگامہ آرائی کے دوران تھانہ سے اپنا کچھ اسلحہ زبردستی اٹھا لیا تھا جس پر ان کے خلاف مقدمات بھی درج کئے گئے تھے۔ کیونکہ عوام کا خیال تھا کہ ہمارا جائز اسلحہ بھی اٹھا کر ہمیں نہتا کیا جاتا ہے اور جب عوام کی حفاظت کی بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اپنا بندوبست خود کیا جائے۔
    امن اور قانون کی پاسداری کے حوالے سے غذر کو مثالی قرار دیا جاتا رہا ہے ۔ مگر حکومت کی طرف سے اس خوبی کاصلہ عوام کو اس طرح دیا جاتا ہے کہ شیر آیا ! کے مصداق ان کو ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غذر میں دھشت گرد ی کی کارروائی کی اطلاع پہلی دفعہ نہیں دی گئی ہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب عوامی سطح پر ایسی اطلاعات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا ہے۔یہ بات ذہین میں رہے کہ دشمن ملک کے خلاف محاذ جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ضلع غذر کی ہیں جس کی وجہ سے نشان حیدر جیسا اعزاز بھی اس ضلع کو حاصل ہوا ہے ۔ ایسے میں اس ضلع کے لوگ ایسی اطلاعات سے خوف زدہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ محاذ جنگ میں نہیں ڈرنے والے لوگ اپنے ہی گھر میں محض دھشت گردی کی ایک اطلاع پر خوف زدہ کیسے ہوسکتے ہیں؟
    ایسے میں ایسی اطلاعات بلا آخر شرارتی بچے کی طرح خود حکومت کو مشکل میں ڈال سکتی ہیں کیونکہ عوام کو جب اندازہ ہوگا کہ ایسی اطلاعات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ آئندہ واقعی کوئی مشکل وقت بھی آجائے تو حکومت کی مدد کو تیار نہیں ہونگے۔ کیونکہ حکومتیں اور ریاستیں عوام سے مدد اس وقت طلب کرتی ہیں جب ملک حالت جنگ میں ہوں۔
    غذر کی جغرافیائی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا ۔پامیرکے راستے چین ، یاسین اور بروغل کے راستے افغانستان اور کئی وسطی ایشیائی ریاستوں اور چترال کے راستے افغانستان ، سوات اور قبائلی علاقوں کے ساتھ غذر کی سر حدات ملتی ہیں۔ایسے میں اس علاقے کو مذاق نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اس کی حفاظت کے لئے بہتر منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔
    عوامی نمائندوں اور تنظیم اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان کے سربراہ مولانا قاضی نثار صاحب کی طرف سے یہ کہنا کہ” مقامی سنی اور اسماعیلی آپس میں گہری رشتداریوں میں منسلک ہیں ۔ عوام میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اداروں کو ا پنے معاملات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے”۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومتی سطح پر غذر میں سیکورٹی صورتحال کا از سر نو جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
    سوال یہ ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر پلنے والی حکومت اور اس کے اداروں کا کام عوام کو دھشت گردی کی اطلا ع دے کر ڈرانا ہے یا عوام کی حفاظت کا بندو بست کرنا ہے؟ اگر حکومت ایک اطلاع دیکر خود کو بری الزمہ قرار دیتی ہے تو یہ اس کی نااہلی کا بین ثبوت ہے۔ وگرنہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دھشت گردی سے متعلق خفیہ اطلاعات ملتے ہی حکومت حرکت میں آجائے اور دھشت گردوں اور ان کے سہولت کارروں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔غذر، کراچی یا شنگائی کی طرح گنجان آباد شہروں پر مشتمل کوئی ضلع نہیں ہے جہاں کوئی دھشت گرد چھپ جائے تو اس کو ڈھونڈنا مشکل ہوگا۔عام دہی آبادی میں لوگوں کو ایک دوسروں کے گھر وں میں شام کو کیا کھانا پکتا ہے اس کی بھی معلومات ہوتی ہیں۔ایسے میں دھشت گردوں کو پکڑنے کے بجائے دھشت گردی کی اطلاعات دیکر لوگوں کو ڈرانے کی کوشش ایک سنگین مذاق کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

Comments are closed.