یہاں پہ خون کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول


ejaz-awan

لبرل حکومت کے دارالحکومت میں پھول بانٹنے پر پابندی۔

آج تو ہمیں یقین ہو ہی گیا کہ دارالحکومت پر اصل حکمرانی کس کی ہے۔ کسی صاحب علم نے کہا تھا کہ ہر ملک میں ہمیشہ ایک روحانی حکمران بھی ہوتا ہے کہ جس کی حکومت بادشاہوں کی حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

دلی میں ایک بار بدامنی پھیل گئی تھی۔ چوری ڈاکے کا زور ہوا تو عوام میں سے کچھ لوگوں نے ایک صاحب علم سے پوچھا کہ آج کل دلی پر کس کی حکومت ہے تو انہوں نے فرمایا کہ جامع مسجد کے باہر ایک خربوزے بیچنے والے کی حکومت ہے۔ تو لوگ تجسس لئے جامع مسجد چلے گئے ۔ وہاں دیکھا کہ ایک برے حالوں میں ایک بوڑھا خربوزوں کا ڈھیر لئے بیٹھا ہے۔ لوگ خربوزے خرید کرتے ہیں آدھے کھا کر باقی پھینک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو پھیکے نکلے۔ بوڑھا کسی سے پیسے بھی نہیں لیتا اور یوں کاروبار کیا چل رہا ہے بس لوٹ مار ہو رہی ہے ۔ لوگ سمجھ گئے کہ یہی وجہ ہے کہ دلی پر آفتوں کا نزول ھے۔ کچھ دن بعد جب حالات بہتر ھو گئے امن و امان ھو گیا ۔ تو لوگ پھر صاحب علم کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ اب روحانیت کا بادشاہ کون ھے تو انہوں نے فرمایا کہ جاو شہر کے فلاں دروازے کے پاس جا کر دیکھو ۔ وھاں گئے تو دیکھاکہ ڈنڈا ہاتھ میں لئے ایک سخت طبیعت آدمی خربوزے بیچ رہا ہے۔ لوگوں نے حسب عادت خربوزے کھا کر کہا کہ یہ تو پھیکے تھے ۔ اس نے ایک ایک ڈنڈا سب کو رسید کیا اور کہا کہ تمہاری بگڑی عادت ابھی ٹھیک کر دوں گا، اس بڈھے نے تمہیں خراب کر دیا تھا ۔ تو یہ حکایت ہمیں یوں یاد آ گئی کہ ایسی ہی روحانی شخصیت کی حکومت ملک خدا داد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر بھی قائم ہے۔ اور اسلام آباد پر حکومت کا مطلب سارے پاکستان پر حکومت ہے ۔

اور ہم تو حضرت کے مرید ہی ہو گئے۔ ایسی شعلہ فشاں تقاریر جیسی کہ آپ فرماتے ہیں، شاید ہی آج کوئی ایسا پاکستانی ہو کہ اتنی ہمت دکھا پائے ۔ حیران ہیں کہ آپ کو اتنی جرات کس نے بخشی ؟ کیا یہ خدا داد صلاحیت ہے یا کسی انسان کی عطا کی ہوئی بخشش؟ آپ جو چاہے فرما سکتے ہیں ۔ ضرب عضب نے بھی آپ کے پائے استقامت کو زرا سی بھی ضرب نہیں لگنے دی ۔ داخلی معاملات کا ایک طاقتور وزیر آپ کو نہایت معصوم قرار دیتا ہے ۔ ایک پراپرٹی ٹائیکون آپ کو مدرسہ بنانے کے لئے بیش قیمت پلاٹ تحفے میں دیتا ہے اور ساتھ میں چند کروڑ روپے نذرانہ بھی دیتا ھے کہ مدرسہ بنانے میں کوئی مالی دشواری پیش نہ آئے۔

حکومت ہے کہ آپ کے اشاروں پر ناچ رہی ہے اور آپ خوب خوب نچا رہے ہے ۔ اب لبرل حکومت کے موجودہ فیصلے کو ہی دیکھ لیجئے ۔ نواز شریف صاحب جب امریکہ یاترا سے تازہ تازہ واپس تشریف لائے تھے تو اچانک پاکستان کو لبرل پاکستان بنانے کا اعلان کر ڈالا۔ ہم سوچ میں پڑ گئے تھے اور ایک ستم ظریف دوست نے تو یہ بھی کہہ ڈالا تھا کہ نواز شریف کو لبرل کے معنی معلوم ھی نہیں ییں۔ اس کے بعد ہم انتظار میں رہے کہ حکومت اب لبرل پاکستان بنانے کے لئے کیا کیا اقدامات کرتی ہے۔ لیکن ہمارا انتظار انتظار ہی رہا اور سال گزشتہ کی آخری شام آن پہنچی اور ہم نے دیکھا کہ دارالحکومت اسلام آباد اور لاہور کی پولیس ڈنڈوں سے لیس ہو کر نئے سال کی آمد کا جشن منانے والوں پر بے رحمی اور فراخ دلی سے ڈنڈے برسا رہی ہے۔

549d299112970واللہ بہت خوب لبرل ازم تھا یہ بھی ۔ ہمارے ایک دوست نے ہمیں لبرل ازم کا مفہوم یہ بتایا کہ لبرل کا مطلب بے دین اور دھریہ ھونا نہیں ھے۔ اس کا مطلب ھے کہ آپ خود سو فیصد دین پر عمل کر لو، بس اس کو بندوق سے کسی پر مسلط مت کرو، تو آپ لبرل ھو، آپ اپنی شلوار گھٹنوں تک لے جاؤ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں مگر کسی کے ٹخنے تاڑنے چھوڑ دو تو آپ لبرل ھو۔ آپ اپنے ہاتھ سینے پر باندھیں یا ناف کے نیچے یا ناف سے اوپر یا ناف کے دائیں یا بائیں یا پیچھے باندھیں یا بالکل بھی نہ باندھیں، مگر اپنے ہاتھ کسی کی ناف پر باندھنے سے پرھیز فرمائیں تو آپ لبرل ھیں۔ آپ اپنی بیوی کو کالا برقع کرائیں یا براؤن ، شٹل کاک یا بیل باٹم والا، مگر دوسروں کی بیویوں پر اعتراض نہ کریں تو آپ لبرل ھیں۔

مگر کیا کیا جائے ۔ آپریشن ضرب عضب کی شدت تو اتنی زیادہ تھی اور ابھی بھی ھے کہ کہ بہت سے بڑ بولے یا تو مارے گئے یا کہیں پاتال میں جا چھپے، لیکن مولانا صاحب ہیں کہ موجود بھی ہیں اور کچھ نہ کچھ فرماتے بھی رہتے ہیں، چاہے دہشت گرد معصوم بچوں کو شہید کریں، چاہے یونیورسٹیوں پر حملے کر کے طلبا کو مار دیں ۔ مولانا اس جدوجہد کو شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں ایک معمولی اقدام خیال کرتے ہیں۔ ان کے اثر و رسوخ کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے ۔ ان کے ارشادات پر احتجاج کے طور چند گستاخوں نے ان کی پناہ گاہ کے باہر ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی تو پولیس فوراً حرکت میں آ گئی اور ان گستاخوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ واہ واہ، اثر و رسوخ ہو تو ایسا ہو ۔ جوابی طور پر مولانا بھی کرم فرمائی کرتے رہتے ہیں اتنے فیاض نکلے کہ انہوں نے اپنے بقول ہزاروں معصوم بچیوں کو زندہ جلا کر مارنے والے کو ہی معاف کر دیا۔ ریاست بھی نہایت رحیم و کریم نکلی، اس نے بھی ایک کرنیل سمیت کئی فوجی مارنے والے کو ذرہ برابر بھی تنگ نہ کیا۔ بلکہ وزیر داخلہ نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر ہی درج نہیں کی گئی ہے۔

مولانا صاحب نہایت معصومیت سے دریافت فرماتے ہیں اور یہی سوال ہمارا بھی ہے کہ حیران کن بات ہے کہ اسلام کے نفاذ کے لیے ریاست پہلے جہادی تیار کرتی ہے اور جب وہ جہادی ملک میں اسلامی نظام رائج کرنے کی بات کرتے ہیں، تو اسے ملکی سالمیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ کاش کوئی ہمیں اس سوال کا جواب دے پائے ۔ ۔ ۔ اب ستم یہ ہوا ہے خیر سگالی کے طور پر حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد میں پھول بانٹنے پر ہی پابندی لگا دی ۔ کیوں نہ ایسا کیا جاتا ۔۔ آخر مولانا کا بھرم بھی تو قائم و دائم رکھنا ہے نہ۔
ہمیں تو مجید امجد یاد آ گئے ۔ انہوں نے کیا خوب ارشاد فرمایا تھا

یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول

مری نگاہ میں دورِ زماں کی ہر کروٹ
لہو کی لہر، دِلوں کا دھواں، گلاب کے پھول

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول


Comments

FB Login Required - comments