وہ جو لوحِ ازل میں لکھا ہے! (یگانہ نجمی)۔


\"\"

یوں تو احمد ندیم قاسمی مختلف اصناف ادب کی تحقیق اور تخلیق میں مصروف رہے تاہم ادب کی ایک آدھ صنف ہی ایسی ہوتی ہے جس میں صاحبِ تحریر اپنے تخلیقی یا نفسیاتی پس منظر کے حوالوں سے اظہار کی مناسب سہولت محسوس کرتا ہے۔ لیکن نثری ادب میں افسانہ وہ واحد صنف ہے جس میں ندیم کا قلم جولانیءطبع کے امکانات روشن کرتا ہے۔

احمد ندیم قاسمی کے دیہاتی زندگی خصوصاً پنجاب کی دیہی زندگی کے پس منظر میں لکھے گئے افسانے ہمارے دیہاتی ماحول، وہاں کے رہن سہن اور طبقاتی نظام کو بہت خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔ دراصل جس زندگی سے افسانہ نگار کی واقفیت درست اور براہ راست ہو اسے اپنے تخیل میں خام مواد کے طور پر استعمال کرنا سونے پر سہاگہ کے مترادف ہوتا ہے۔ اسی لیے احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانہ میں جاگیردارانہ نظام کے مظالم اور اس کے نتیجے میں ان مزاروں اور کمی کمینوں کی بے بسی کو پیش کیا۔ پچھلے دنوں کچھ ویڈیوز جو میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ جن کا تعلق براہ راست جاگیرداروں کے استبداد اور مظالم سے ہے۔ انھیں دیکھنے کے بعد مجھے احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’جوتا‘‘ کا خیال آیا جس پر دورانِ تدریس ان طلباء سے جن کا تعلق جاگیرداروں کی فیملی سے تھا۔ اور وہ اس افسانے میں پیش کیے گئے ماحول کو غلط قرار دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاگیردار یا وڈیرے ایسے نہیں ہوتے جیسا کہ اس میں تحریر کی گیا ہے۔ تاہم جب یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو یہ حقیقت انھوں نے بھی مانی اور تسلیم کیا کہ واقعی یہ سب اس معاشرے کا حصہ ہے۔

چونکہ احمد ندیم قاسمی کو منظر کشی پر کمال حاصل ہے اور انھوں نے یہاں بھی اپنے فن کی مہارت دکھائی ہے۔ مگر یہاں انھوں نے صرف فنِی مہارت سے کام نہیں لیا بلکہ سچ کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا ہے۔ افسانے میں احمد ندیم قاسمی نے ایک جاگیردار اور اس کے مزارے کے درمیان طبقاتی کشمکش کو تحریر کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  احمد نورانی پر ایک اور حملہ: اس مرتبہ کردار نشانہ

میراثی باوجود میراثی ہونے کے اپنی اولاد کو تعلیم دلوا رہا ہے، اور اس جرم کی پاداش میں جاگیردار وقتاً فوقتاً میراثی کے جوتے لگواتا رہتا ہے اس افسانے کا اہم پہلو یہ ہے۔

جب اس نے تینوں بچوں کو اسکول میں داخل کرایا تھا تو سارا گائوں جیسے سناٹے میں آگیا تھا۔ لوگ کہتے تھے، حضرت آدم کے آسمان سے زمین پر اترنے سے لے کر اب تک کے زمانے کا یہ پہلا میراثی ہے جسے اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی سوجھی ہے۔ چودھری نے اسے دارے پر بلوایا اور ڈانٹا، شرم کرو کرموں، میراثی ہو کر اپنے بچوں کو پڑھاتے ہو؟

کیا شادیوں میں ان سے لوگ ڈھول شہنائی کی بجائے کتابیں سنیں گے؟ کیوں بگاڑتے ہوا نہیں؟ کیوں ناس مارتے ہو اپنے نسلی پیشے کا؟ میراثی یہ سب سنتا رہا اور چپکا رہا۔ البتہ مسکراتا رہا۔ چودھری کی ڈانٹ پر کہ اب کچھ بکو بھی، اس نے کچھ کہا تو بس اتنا کہ۔ ’’اقبال قائم“۔

عمر بھر دال، ساگ کھانے والے کا بھی ایک آدھ بار مرغ، بٹیرے کا سالن چکھنے کو جی چاہتا ہی ہے۔

پھر ایک روز کرموں گلی میں بیٹھا لوگوں سے گپ ہانک رہا تھا۔ باتوں باتوں میں کہنے لگا۔ ’’میں میراثی ہوں پر تین بابوں لوگوں کا باپ بھی ہوں اس لیے جی چاہتا ہے، یہاں بیٹھنے کی بجائے ایک پکی بیٹھک بنوالوں۔ اس میں پلنگ اور مونڈھے بچھا دوں اور تم سب کے ساتھ بیٹھ کر دنیا جہاں کی اچھی اچھی، پیاری پیاری اورمیٹھی میٹھی باتیں کروں۔ بیٹھنے کے لیے چودھری کا دارا تو ہے مگر میں وہاں بیٹھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے سر کے بل کھڑا ہوں۔ “

اسی بارے میں: ۔  جنگ کا دھواں یا دھوئیں کی جنگ ؟

یہ بات کر کے وہ اپنے گھر گیا۔ حقہ تازہ کیا۔ چلم پر آگ سجائی اور کش لگانے کے لیے چار پائی پر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ چودھری کی طرف سے بلوایا گیا۔ اس نے دارے پر قدم رکھا ہی تھا کہ تین چار مسٹنڈوں نے اسے دبوچ کر گرا دیا اور چودھری کا پلا ہوا منشی اس کی پیٹھ پر جوتے برسانے لگا ساتھ ساتھ چودھری اسے گالیاں بھی دیتا رہا اور کہتا رہا۔ ’’بیٹھک بنائے گا کمینہ؟ دارا لگائے گا میری طرح چار پیسے کیا آگئے کہ اپنی اوقات ہی بھول گیا۔ رذیل۔ لگاؤ۔ اورلگاؤ۔ ‘‘

کرموں کو اتنے جوتے لگے کہ کسی اور کو لگتے تو وہ گنتی بھول جاتا، مگر کرموں گنتا رہا۔ ’’میں تو گنتا رہا۔ ‘‘ اس نے اپنے ملنے والوں کو بتایا۔ میں گنتا رہا تاکہ قیامت کے دن خدا کے سامنے جوتوں کا حساب چکانے میں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ باسٹھ لگے تھے۔ باسٹھ پورے کروں گا خدا کے حضور انشا ­اللہ۔ ایک کے ستر نہ سہی۔ چودھری کے لیے تو میرا ایک ہی جوتا بہت ہے سارے جہاں کی مخلوق کے سامنے۔ ’’جہاں میں بھی ہوں گی اور آپ بھی‘‘!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔