ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی مسلم دشمنی اور دیگر سازشیں – ۱


\"\"

اس سلسلے کے پہلے مضمون میں ہم نے بیسویں اور اکیسویں صدی میں ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی چند سازشوں کا نام لیا تھا۔ آئیے ان کے بارے میں مختصراً بات کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نہایت عیار ہے اور اپنے پیچھے بظاہر کوئی سراغ نہیں چھوڑتی ہے مگر اردو اخبارات میں لکھنے والے دانشمند کالم نویس جو ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی پر گہری نظر رکھتے ہیں، اس بھیانک مسلم دشمن تنظیم کی سازشوں کو ایک لمحے میں پہچان لیتے ہیں اور قوم کو بروقت خبردار کر دیتے ہیں۔

بیسویں صدی کے اہم واقعات جن میں ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی سازش کا ہاتھ دیکھا جا سکتا ہے وہ پہلی جنگ عظیم، برطانوی بادشاہ ایڈورڈ ہشتم کو امریکی مطلقہ مسز والس سمپسن سے شادی کے ذریعے تخت سے ہٹانا، دوسری جنگ عظیم، پرل ہاربر پر جاپانی حملہ، اسرائیل کا قیام، امریکی صدر کینیڈی کا قتل، ایرانی انقلاب اور ایران عراق جنگ، جنرل ضیا الحق کا قتل، نائن الیون، مشرق وسطی کی موجودہ جنگیں، اور مشہور قوال امجد صابری کا قتل شامل ہیں۔

پہلی جنگ عظیم

\"\"

28 جون 1914 کو بوسنیا کے شہر سراجیوو میں گاوریلو پرنسپ نے آسٹرو ہنگری سلطنت کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرڈیننڈ اور اس کی بیگم شہزادی صوفیہ کو قتل کر دیا جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی۔ بظاہر گاوریلو کا مقصد یہ تھا کہ آسٹر ہنگری سلطنت سے یوگوسلاویہ کو آزادی دلا دے۔ مگر ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی سازش تو کچھ اور ہی تھی۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے گاوریلو کو یوگوسلاویہ کی آزادی کے نام پر استعمال کیا تھا مگر اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ خلافت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔

اس جنگ کے نتیجے میں ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کو دو اہداف حاصل ہوئے۔ پہلا تو سلطنت اسرائیل کا قیام تھا، اور دوسرا تیل پر قبضہ کرنا تھا۔ اس زمانے میں تیل کا استعمال ابھی اس بڑے پیمانے پر شروع نہیں ہوا تھا جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ تیل کے ذخائر امریکہ کے کچھ علاقوں کے علاوہ مشرق وسطی کے عثمانی صوبوں میں ہی تھے جو کہ آج کل سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے عثمانی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اور ان علاقوں پر اپنے پسندیدہ افراد کو حکمران بنا کر اس علاقے کے تیل پر خود قابض ہو گئے۔ اگر سلطنت عثمانیہ نہ ٹوٹی اور دنیا کا بیشتر تیل مسلمانوں کے خلیفہ کے قبضے میں ہوتا تو کفار بشمول ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی آج اس کے غلام ہوتے اور امریکہ روس چین وغیرہ کو کوئی گھاس تک نہ ڈالتا۔

برطانوی شہنشاہ ایڈورڈ ہشتم کی تخت سے علیحدگی

\"\"

شہنشاہ جارج پنجم کی وفات کے بعد چالیس سالہ ولی عہد پرنس آف ویلز ایڈورڈ البرٹ کرسچن جارج اینڈریو پیٹرک ڈیوڈ نے شاہی اختیار ملتے ہیں سب سے پہلے اتنا لمبا نام ترک کرتے ہوئے ایڈورڈ ہشتم کے نام سے تخت برطانیہ سنبھالا۔ اس وقت برطانیہ دنیا کی سپر پاور تھا اور اس کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔

ایڈورڈ ہشتم نے پہلی جنگ عظیم میں ہونے والی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ اس دوران جدید ترین جنگی ہتھیار ٹینک اور ہوائی جہاز بھی یورپی فوجوں کا حصہ بن چکے تھے اور ایک مدبر حکمران کے طور پر ایڈورڈ ہشتم کسی اگلی عالمی جنگ کے امکان سے بھی خوفزدہ تھا۔ مزید یہ کہ وہ اس حق میں نہیں تھا کہ مشرق وسطی میں یہودیوں کا الگ وطن اسرائیل بنایا جائے۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی اسلحے کی تجارت سے پیسے بنانے کی خواہاں تھی اور اب تک وہ اس صنعت پر کافی سرمایہ کاری کر چکی تھی جسے آج ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے نام سے امریکہ کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی برطانیہ کو ہٹا کر اپنے غلام ملک امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بھی بنانا چاہتی تھی۔

اس مقصد کے لئے ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے امریکہ سے اپنی ایک چالیس سالہ خوبصورت اور خطرناک ایجنٹ کو برطانیہ بھیجا۔ مسز والس سمپسن پہلے ایک شوہر سے طلاق لے کر ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے ایجنٹ ارنسٹ سمپسن کے ساتھ برطانیہ آ گئی اور شہزادے ایڈورڈ کو اپنے ناز و ادا سے گھائل کر لیا۔ جب ایڈورڈ ہشتم شہنشاہ برطانیہ بنا تو مسز والس سمپسن نے ارنسٹ سمپسن سے طلاق لی اور ایڈورڈ ہشتم سے شادی کر لی۔ برطانوی پارلیمنٹ نے شرط لگائی کہ اگر ایڈورڈ ہشتم یہ شادی کرتا ہے تو اسے تخت چھوڑنا پڑے گا۔ والس سمپسن کی دلفریب اداؤں سے گھائل ہو کر امن پسند اور دوراندیشن ایڈورڈ ہشتم نے تخت چھوڑ دیا اور یوں اس کا بھائی جارج ششم شہنشاہ بن گیا جو کہ جنگ جویانہ مزاج رکھتا تھا۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے اسے نہایت آسانی سے اپنے دام میں پھنسا لیا اور برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم میں دھکیل دیا۔

دوسری جنگ عظیم\"\"

ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی راہ میں برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے طاقت ور ملک بڑی رکاوٹیں تھے۔ ان کو تباہ کرنے کی خاطر ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے دوسری جنگ عظیم کا منصوبہ بنایا اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہٹلر کو قائل کیا کہ وہ پولینڈ پر حملہ کر دے۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے جھانسے میں آ کر یکم ستمبر 1939 کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔

ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے ہٹلر کو یقین دلایا تھا کہ وہ دوسرے یورپی ممالک کو عدم مداخلت پر مجبور کر دے گی مگر یہ دھوکہ تھا اور برطانیہ، فرانس اور روس جنگ میں کود پڑے۔

پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملہ

\"\"

امریکہ میں قانون ساز اسمبلی کانگریس کے بیشتر اراکین جنگ عظیم میں شامل ہونے سے انکاری تھے اور ان کی شدید مزاحمت کے باعث امریکی صدر جنگ میں نہ کود سکا۔ یاد رہے کہ امریکہ میں کانگریس کو ہی جنگ چھیڑنے کا اختیار حاصل ہے اور یہ اختیار صدر کے پاس نہیں ہے۔ جنگ چھڑے ہوئے دو برس بیت چکے تھے لیکن کانگریس امریکہ کو جنگ میں شامل کرنے سے انکاری تھی جس کی وجہ سے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کا بے تحاشا منافع حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو پا رہا تھا۔ کانگریس کو قائل کرنے کی خاطر ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے ایک منصوبہ بنایا اور امریکہ میں آباد نہایت غریب اور ان پڑھ جاپانی باشندوں کو امریکی فوج میں بھرتی کرنے کا جھانسہ دے کر بحر ہند کے دور دراز جزیروں میں لے گئے۔ وہاں ان کو امریکی فوج کی وردی کا بتا کر جاپانی فوج کی وردی پہنائی گئی۔ بلیک مارکیٹ سے جاپانی بمبار اور لڑاکا جہاز خریدے گئے اور ان پائلٹوں کے ذریعے امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر بمباری کرا دی گئی۔ ان پڑھ جاپانی پائلٹوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ یہ جزیرہ اصل میں جرمنی کا ملک ہے جس پر وہ امریکہ کی طرف سے حملہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھولپنے میں امریکہ کا بحرالکاہل کا بحری بیڑا مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ جو حملہ آور ہوائی جہاز امریکہ نے گرائے تھے ان کے ملبے پر لگے نشانات اور ان میں مرے ہوئے پائلٹوں کی شکلیں دکھا کر ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے اپنے دجالی میڈیا کے ذریعے مشہور کر دیا کہ یہ حملہ جاپان نے کیا ہے۔ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے دجالی میڈیا نے اتنا شور مچایا کہ امریکی کانگریس کو اعلان جنگ کرنا پڑا۔ یوں 1939 میں جنگ عظیم چھڑنے کے دو سال بعد 7 دسمبر 1941 کو امریکہ جنگ میں شامل ہو گیا۔

اسرائیل کا قیام

\"\"

دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی شرکت اور مکمل تباہی کے بعد برطانیہ کو اپنے مقبوضہ جات کو چھوڑنا پڑا اور اسرائیل کے قیام پر رضامند ہونا پڑا۔ یوں امریکہ دنیا کی سپر پاور بن گیا۔ امریکہ میں ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے قیام کے وقت یعنی 1776 سے ہی ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے اراکین حکومت میں تھے۔ اب وہ سپر پاور بنا تو ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے اسلحے کی تجارت کی خاطر دنیا بھر میں مختلف ممالک کی جنگیں کرائیں اور ان کو اپنا اسلحہ بیچا۔

اسرائیل کا ہوّا کھڑا کرنے کے بعد ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے مشرق وسطی کے تیل اور حکمرانوں پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ مشرق وسطی کی بادشاہتیں اور امارتیں اب اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی خاطر امریکی اسلحے، فوجوں اور حمایت کی محتاج بن چکی تھیں۔ اب مسلمان ممالک کے خلاف سازشوں کا ایک نیا دور شروع ہو چکا تھا۔

ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی مسلم دشمنی اور دیگر سازشیں – ۲

ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی مسلم دشمنی اور دیگر سازشیں – ۱

ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی مسلم دشمنی اور دیگر سازشیں – ۲

ایلومیناٹی۔ خوفناک سازشی باطنی تنظیم کی کہانی

ایلومیناٹی کے دس نشان

پاکستان کے خلاف ایلومیناٹی کی بھیانک عالمی سازش کا انکشاف

پرویز ہود بھائی کی یونیورسٹی میں روحانی تعلیم کی بے جا مخالفت

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 633 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کی مسلم دشمنی اور دیگر سازشیں – ۱

Comments are closed.