ایلومیناٹی کی حتمی فتح کو کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔۔


\"\"جناب محترم عدنان خان کاکڑ صاحب، میں آپ کے مبارک قلم سے ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے پس پردہ حقائق کے یوں بے باک انکشاف پر بے حد خوش ہوں۔ محترم جناب اوریا مقبول جان کے بعد آپ ہی کے قلم کو یہ شرف حاصل ہوا کہ دشمنان دین و دل کی سازشوں سے پردہ اٹھائیں۔ قوم آپ کے اس احسان پر دل و جان سے سراپا تشکر ہے۔ تاہم درویش یہ نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے بارے میں آپ کی معلومات ادھوری ہیں۔ از رہ کرم اپنی تحقیقتی نوٹ بک میں ذیل کے حقائق بھی شامل کریں۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ایلومیناٹی کے سرگرم رکن تھے۔ لیاقت علی نے ایلومیناٹی کی مجلس اکابر کے اشارے پر قائد اعظم کے علاج میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ جن کے باعث مملکت خدا داد کا بانی صرف تیرہ ماہ کے عرصے میں خالق حقیقی سے جا ملا۔
بھارت کو جلسہ عام میں مکا دکھانے پر ایلومیناٹی کی مجلس عاملہ کے متعدد ارکان لیاقت علی خان سے ناراض ہو گئے۔ اس وقت تک وزیر خزانہ غلام محمد کو ایلومیناٹی میں شولڈر پروموشن مل چکی تھی۔ چنانچہ غلام محمد نے چند قوم فروشوں کے ساتھ مل کر لیاقت علی خان کو شہید کروا دیا۔
ایلومیناٹی میں باقاعدہ ترقی پانے کے بعد غلام محمد نے سیٹو اور سینٹو نامی تنظیموں میں شرکت کے ذریعے دنیا بھر میں ایلومیناٹی کے \"\"مفادات کو آگے بڑھایا۔ تاہم خواجہ ناظم الدین نام کا ایک بنگالی وزیراعظم غلام محمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا تھا۔ ایلومیناٹی روز اول سے مغربی پاکستان کے ساتھ تھی۔ ایلومیناٹی کے اکابرین کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ چاول اور پٹ سن اگانے والے بنگالی قدرتی طور پر اشتراکیت کے حلیف ہیں۔ چنانچہ انہیں پاکستان کے اقتدار سے دور رکھنا چاہیے۔ اس بیانیے کی روشنی میں ایلومیناٹی کے قومی ترجمان غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت توڑ ڈالی اور پہلی دفعہ واشنگٹن سے ایک وزیراعظم بوگرہ درآمد کیا ۔
اگرچہ غلام محمد کی یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے لیے خدمات بے پناہ تھیں لیکن غلام محمد میں ایک بڑا نقص یہ تھا کہ فالج اور لقوے جیسے امراض کا شکار ہونے کے باعث عسکری معاملات میں پوری دلجمعی سے دلچسپی لینے سے قاصر تھا۔ پاکستان کی فوج جنرل ایوب خان کے سپرد تھی جو یہودی تنظیم ایلومیناٹی کے باعتماد رکن تھے۔ تاہم محلاتی سازشوں میں اسکندر مرزا کا مقام بہت بلند تھا۔ ایلومیناٹی نے فیصلہ کیا کہ کوہ ہندوکش سے لے کر چٹاگانگ تک پھیلی ہوئی تابع فرمان مملکت اسلامی پاکستان کو اسکندر مرزا کے سپرد کر دیا جائے۔ اسکندر مرزا کے اب و جد اٹھارہویں صدی میں پلاسی کے مقام پر ایلومیناٹی کے \"\"نوآبادیاتی عزائم کی تشکیل میں اساسی کردار آدا کر چکے تھے۔ اسکندر مرزا اپنی جبلی صلاحیت کی مدد سے گورنر جنرل غلام محمد کو ایک بورے میں بند کر کے اسی طرح گورنر جنرل ہائوس سے باہر چھوڑ آئے جس طرح اردو ادب میں ایلومیناٹی کے اعزازی رکن ساقی فاروقی نے اپنی ایک نظم میں بلے کو بوری میں بند کر کے گلو خلاصی کروائی تھی۔ ایلومیناٹی کے دو ارکان قدرت اللہ شہاب عرف دودھ پتی اور روتھ بورل عرف نائٹی نے پیچ دار غلام گردشوں میں غلام محمد کو قابو کرنے میں سکندر مرزا کا ہاتھ بٹایا۔
گورنر جنرل بننے کے بعد اسکندر مرزا نے ون یونٹ، اصول پیرٹی اور ری پبلکن پارٹی کی تشکیل جیسے کئی کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ یہودی تنظیم ایلومیناٹی کو یقین تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت جلد ہی گھٹنے ٹیک کر کلی طور پر ایلومیناٹی کے زیر سایہ آ جائے گی۔ صدر اسکندر مرزا کا بیٹا پاکستان میں امریکی سفیر کی صاحبزادی سے قریبی تعلقات قائم کرنا چاہتا تھا۔ فریقین پوری طرح اگاہ تھے کہ وسیع تر ایلومیناٹی مفاد کی راہیں زیر لحاف یکجائی ہی سے استوار ہوتی ہیں ۔ ایلومیناٹی کی طویل مدتی حکمت عملی میں پاکستان کی بہادر افواج کو ہند چینی، بحیرہ اسود اور جزیرہ نمائے عرب کے کچھ حصوں میں آباد قابل اعتراض مسالک کے پیروکاروں کے خلاف بروئے کار لانا تھا۔ تاہم اس موقع پر اسکندر مرزا اپنی دوسری اہلیہ ناہید مرزا کے زیر اثر آ گیا اور اس سے پے در پے غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اسکندر مرزا پاکستان کے پہلے دستور کی منظوری روکنے میں ناکام رہا۔ سویز بحران کے دوران وزیر اعظم سہروردی کھلے عام عربوں کا ساتھ دیتا رہا جب کہ اسکندر مرزا بیگم ناہید اور اس کے مشکوک احباب کے ہمراہ برج کھیلتا رہا۔ اسی طرح فیروز خان نون نامی ایک بے نامی وزیر اعظم ستمبر 1958 میں ملک عمان سے گوادر نامی بندرگاہ خریدنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ امر روز بروز واضح ہو رہا تھا کہ اسکندر مرزا کی فوجی ریاضت بھنگ  ہو چکی تھی۔ ایوان صدر میں خوبصورت خواتین کی صحبت بلافصل سے ایلومیناٹی کے اس جری جوان کے قوائے ذہنی متاثر ہو رہے \"\"تھے۔ اس موقع پر ایلومیناٹی کی کتاب ہائے پروٹوکال میں یہ اصول شامل کیا گیا کہ کسی بھی نوآزاد ملک میں ایلومیناٹی کے مفادات کی بہترین حفاظت صرف کوئی شیر دل اور پنجہ فولاد سے متصف عسکری سالار ہی کر سکے گا۔ ملک پر فروری 1959 میں انتخابات کی افتاد ٹوٹنے والی تھی۔ ہنگامی  طور پر ایلومیناٹی کے عسکری ونگ کے نمائندے جنرل ایوب کی سرگرم معاونت اسکندر مرزا کو فراہم کی گئی۔ آئین توڑ دیا گیا۔ مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ انتخابات کی ممکنہ وبائی تباہ کاریوں کا سدباب کر لیا گیا۔ اس موقع پر ایلومیناٹی کی قومی کمیٹی نے قائد اعظم محمد علی جناح کے قول زریں کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے یونٹی یعنی اقتدار کی یکجائی کا فیصلہ کیا۔ تین جنرل رات گئے اسکندر مرزا کے پاس پہنچے اور اسے ایلومیناٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ صدر مرزا نے ایلومیناٹی کے مسلح ارکان سے زیادہ ردوکد نہیں کی اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایران اور پھر انگلستان کی راہ لی۔
جنرل ایوب ایلومیناٹی کے مرغ دست آموز تھے۔ گندھارا نامی ادارہ وسط ایشیا تک ایلومیناٹی مفادات کی ترویج کا ذریعہ بن رہا تھا۔ مشرقی بنگال کے فتنہ پرور باشندوں کو اقتدار کے کھیل سے مکمل بے دخل کر دیا تھا۔ ایلومیناٹی کی رکن سازی مہم میں لائسنس اور پرمٹ نام کے دو درجے متعارف کروائے گئے۔ ایلومیناٹی کے مخالفین کو ایبڈو نامی شکنجے میں کسا گیا۔ ایلومیناٹی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والوں کو بنیادی جمہوریتوں میں نمائندگی کی امید دلائی گئی۔ قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو ایلومیناٹی کی تجلی سے چندھیا دیا گیا۔ بھاشانی، کوثر\"\" نیازی اور دوسرے ہونہار کارکنوں کو مزید تربیت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ تاہم کچھ فتنہ پرور مشیروں کے جھانسے میں آ کر جنرل ایوب نے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کر لیا۔ ایلومیناٹی کے رہنماؤں کو یقین تھا کہ چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر جھگڑا بالآخر ایلومیناٹی کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔ اسی طرح آپریشن جبرالٹر ایک بہترین منصوبہ تھا لیکن جنرل ایوب اور اس کے نااہل ساتھی اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکے۔ ایلومیناٹی میں یہ تاثر عام تھا کہ ایوب خان بوڑھا ہو چکا ہے نیز یہ کہ اس کی رگ حمیت کچھ خاص مواقع پر ایلومیناٹی کے وسیع تر مفاد کے منافی پھڑکتی ہے۔ جنرل موسیٰ خان کے بعد فوج کی کمان سنبھالنے والا جنرل یحییٰ خان ایک پارسا اور اصول ضابطے کا پابند انسان تھا۔ اس کی راہبانہ طبیعت کا ایک ادنیٰ نمونہ یہ تھا کہ وہ کھانے پینے کے جملہ لوازمات ایلومیناٹی کینٹین ہی سے طلب کرتا تھا۔ قدرت نے اسے ایسا فیضان نظر بخشا تھا کہ کسی ترانے پر ایک نظر ڈال کر اسے قومی ترانے میں بدل ڈالتا تھا۔ چھوٹے سے مسئلے کو بحران میں بدل ڈالتا تھا۔ ایک قوم کے مختلف حصوں میں اتنا فاصلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا کہ اقلیت اور اکثریت ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے برگشتہ ہوجائیں۔ یحییٰ خان کی اسی صلاحیت کو کام میں لاتے ہوئے ایلومیناٹی نے چین امریکا تعلقات کی بحالی کو ممکن بنایا۔ یہ وہ وقت تھا جب یحییٰ کا اپنا وطن خانہ جنگی میں مبتلا تھا لیکن ایلومیناٹی کا یہ فرزند اپنی مادر تنظیم کی حنا بندی میں مصروف تھا۔ بالاخر ایلومیناٹی کی کوششوں سے بنگلا دیش نامی ملک وجود میں آیا۔
ایلومیناٹی کے اپنے حلقوں میں بھی یہ بات بہت چنیدہ سطح پر معلوم تھی کہ ایلومیناٹی نے آئندہ برسوں کے لئے بہترین افراد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ ان میں سے بریگیڈئر ضیاالحق اردن میں فلسطینی کیمپوں کے خلاف کارروائی میں اپنا لوہا منوا رہے تھے۔ توپ خانے کے افسر اختر عبدالرحمن نے حسینی والا سیکٹر میں شاندار خدمات انجام دیں۔ سٹاف کی سطح پر بریگیڈیئر غلام جیلانی کی تخلیقی صلاحیت اپنے عروج پر تھی۔ ایلومیناٹی نے 1973 کی سالانہ رپورٹ کے صفحہ 419-421 پر لکھا کہ جنوب ایشیا میں ایلومیناٹی کا مستقبل روشن ہے۔\"\"
ذوالفقار علی بھٹو نامی شخص جنرل پیرزادہ، جنرل گل حسن اور جنرل یحییٰ خان کے معاون کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا تاہم 1971 کے واقعات کے بعد حکمت عملی میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت پیش آئی۔ قائم مقام بندوبست کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کو تسلیم کر لیا گیا۔ قومیانے کی پالیسی، بلوچستان ابھار، لسانی فسادات، صحافت پر پابندیوں وغیرہ کے ذریعے ذوالفقار بھٹو نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ تاہم اس میں کہیں کہیں جناح کی روح حلول کر جاتی تھی۔ وہ ایک ناقابل اصلاح قوم پرست تھا۔ اس نے پاکستان کا دستور منظور کروا کے ایلومیناٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس نے ایٹمی پروگرام کی مدد سے ایلومیناٹی کی عالمی اجارہ داری مین خلل ڈالنے کی جسارت کی۔ ذوالفقار علی کبھی کبھی مشرق وسطیٰ مین ایلومیناٹی کے مقامی اہل کاروں کو خودمختاری کا سبق پڑھاتا تھا۔ چناچہ ایلومیناٹی کے ازمودہ اثاثے جنرل ضیاالحق کی مدد سے ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ جنرل ضیاالحق نے ڈونلڈ ریگن، مارگریٹ تھیچر، چارلی ولسن اور کرنل امام جیسے نابغہ روزگار ایلومیناٹی رہنماؤں کی مدد سے سوویت یونین کو پاش پاش کر دیا۔ اس موقع پر مارشل ایلومیناٹی یعنی جنرل ضیا کے ارادے بلند تھے اور افواہ  تھی کہ وہ ایلومیناٹی کی مرکزی قیادت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ جنرل ضیا کو کچھ مقامی اور چند عالمی اثاثوں کی مدد سے فضا میں ملیامیٹ کر دیا گیا۔ امید تھی کہ ایلومیناٹی کے پیر مرد غلام اسحاق ، روئیداد خان اور اجلال زیدی وغیرہ کی مدد سے بے نظیر نامی سیاست \"\"دان کو ایلومیناٹی کے انگوٹھے تلے رکھا جا سکے گا۔ اس ضمن مین نواز شریف نامی ایک تاجر کی خدمات ھاصل کی گئیں۔ تاہم جلد ہی واضح ہو گیا کہ بے نظیر ایلومیناٹی کے لئے مناسب صلاحیت سے محروم تھی۔ چنانچہ ایک چھوٹی سی کارروائی کے ذریعے ایلومیناٹی کے کارندوں نے بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضی کو قتل کر کے الزام بے نظیر پر لگا دیا۔ تاجر نواز نے بدنام زمانہ ایٹمی صلاحیت نیز علاقائی تعاون کے ذریعے ایلومیناٹی کی صنعت اسلحہ سازی کو نقصان پہنچانا چاہا تو اسے ایلومیناٹی کے خلیجی مرکز پہنچا دیا گیا۔ بے نظیر اور نواز کی غیر موجودگی مین ایلومیناٹی کی طاقت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھی۔ اچانک انکشاف ہوا کہ پرویز مشرف نامی اثاثہ بھارت کے ساتھ دیرینہ مسائل حل کرنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر ایلومیناٹی کے اسلحہ خانے کا ایسا ہتھیار استعمال کیا گیا جس کی شبیہ امریکی ڈالر کی پشت پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یک چشمہ حیوان نامی اس ہتھیار سے سارا منظر درہم برہم ہو گیا۔ ایلومیناٹی کی مقامی تنظیم نے بے نظیر کو مار ڈالا جب کہ بین الاقوامی تنظیم نے پرویز مشرف کا کانٹا نکال پھینکا۔
اب جب کہ ایلومیناٹی کی کامیابی چہار دانگ عالم میں پھیل چکی ہے ، ایلومیناٹی کے اکابرین مطمئن ہیں کہ جاوید چوہدری، اوریا مقبول جان، ہارون رشید، اسداللہ غالب، شاہین صہبائی، زید حامد، طاہرالقادری، شاہد مسعود، طاہر اشرفی، پیر افضل قادری، عامر لیاقت حسین ، چوہدری غلام حسین، عارف حمید بھٹی، منصور آفاق اور ڈاکٹر دانش جیسے دیانتدار مگر کمزور مخالفوں کی موجودگی میں ایلومیناٹی کو جامع فتوحات سے کوئی نہیں روک سکتا۔ عدنان کاکڑ اور اس کے مٹھی بھر رفقا بھی ممولے کو شہباز سے لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ عقل، ہنر ہے نہ باہم اتفاق۔۔۔۔ ایلومیناٹی کی کامیابیوں کی داستان میں ان قلم فروشوں، ضمیر فروشوں، قوم فروشوں اور دین فروشوں کا کہیں نام بھی نہیں ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ایلومیناٹی کی حتمی فتح کو کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔۔

  • 21-01-2017 at 2:25 pm
    Permalink

    عدنان کاکڑ اور ہم نوا خود کو کوئ توپ چیز سمجھتے ہیں جو آئے روز لوگوں پر پھبتیاں اور سستے فقرے کستے رہتے ہیں۔۔۔۔ کھسکے ہوئے ذہنی مریض قسم کے لوگ ہیں سب۔۔۔۔

Comments are closed.