چور، چوکیدار اور استثنیٰ


\"\"یہ اس زمانے کی بات ہے جب نواز شریف سیاست میں نہیں آئے تھے۔ایک رات ماڈل ٹائون لاہور والے ان کے گھر میں چور گھس آیا۔نواز شریف اور شہباز شریف دونوں نے چور کو دیکھ لیا اور چوکیدار کو آواز دی۔چوکیدار نے چور کو پکڑ لیا اور فیصلہ ہوا کہ اسے پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔نواز شریف نے کہا کہ ذرا ٹھہرو، پہلے اس کو کھانا کھلائو کیونکہ یہ بڑی دیر سے یہاں چھپا ہوا تھا بھوکا ہو گا اسے کھانا کھلا کر پولیس کے حوالے کرنا۔ پھر اس کو کھانا کھلایا گیا تو نواز شریف نے کہا کہ بے چارہ غریب ہے اس کو کچھ پیسے دیکر چھوڑ دو اور اسے تاکید کی کہ آئندہ چوری چکاری نہ کرنا۔ چوری کیلئے آنے والے کو نا صرف چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کا تین ہزار ماہانہ وظیفہ بھی لگا دیا گیا۔یہ واقعہ ہمارے عزیز دوست اور ساتھی جناب سہیل وڑائچ کی کتاب ’’غدار کون ؟‘‘ میں درج ہے۔یہ کتاب دراصل نواز شریف کی زبانی ان کی اپنی کہانی ہے۔ اس کتا ب میں نواز شریف کے علاوہ شہباز شریف، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن صفدر کے انٹرویوز شامل ہیں۔سہیل وڑائچ صاحب نے نواز شریف کے زمانہ جلاوطنی میں جدہ اور لندن میں ان کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ان کے انٹرویوز ریکارڈ کئے پھر ان انٹرویوز کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب میں نواز شریف کی شخصیت کے بہت سے چھپے ہوئے گوشے سامنے آئے۔یہ کتاب پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں کچھ سینئر فوجی افسران کے ساتھ نواز شریف کا اختلاف کیوں شروع ہوا۔ کچھ واقعات نواز شریف صاحب بڑی تفصیل کے ساتھ ہمیں سنا چکے ہیں لیکن بہت حساس نوعیت کے یہ واقعات اس کتاب میں شامل نہیں تاہم جو واقعات کتاب میں شامل ہیں وہ نواز شریف کی اجازت اور کلیئرنس سے شائع ہوئے۔یہاں تک کہ اشاعت سے قبل اس کتاب کا مسودہ بیگم کلثوم نواز اور حسین نواز نے بھی دیکھا۔ اس کتاب میں ایک حیران کن واقعہ درج ہے۔نواز شریف صاحب بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سینئر جنرل نے ان سے کہا کہ ملک کی معاشی حالت سنوارنے کیلئے منشیات برآمد کی جائیں تو ہماری تقدیر بدل جائے گی۔وزیر اعظم نے یہ سن کر کہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تو جنرل صاحب نے کہا کہ یہ صرف ایک تجویز ہے اس پر دوسرے جنرل صاحب بولے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک نے بلیک منی سے ہی ترقی کی ہے برطانیہ ہویاسوئٹزرلینڈ سب بلیک منی سے امیر ہوئے لیکن وزیراعظم نے یہ تجویز مسترد کر دی۔لگتا ہے کہ اس واقعہ کی کچھ تفصیلات اور کچھ کرداروں کے نام شائع کرنے سے احتراز کیا گیا حالانکہ نواز شریف یہ واقعہ کچھ سال پہلے اسلام آباد میں ہمیں سنا چکے ہیں۔جن صاحب نے منشیات برآمد کرنے کی تجویز نواز شریف کو دی تھی ان کے الجزیرہ ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو پر فوجی ترجمان کو وضاحتی بیان بھی جاری کرنا پڑا۔کتاب میں درج واقعات کچھ افراد کے بارے میں ہیں ضروری نہیں کہ یہ افراد پورے ادارے کی پالیسی کی ترجمانی کریں۔مثلاً کتاب میں ایک جگہ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ’’فوج کا چیف آف دی آرمی اسٹاف عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے آپ کو بادشاہ یا سپر پرائم منسٹر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس قدر طاقتور سمجھتے ہیں کہ عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم کو سلیوٹ مارنا بھی گوارا نہیں کرتے۔میں جنرل آصف نواز کے دور میں جی ایچ کیو گیا تو انہوں نے اپنی کیپ اندر ہی اتار دی تاکہ سلیوٹ نہ مارنا پڑے البتہ وحید کاکڑ کے دور میں جی ایچ کیو گیا تو انہوں نے مجھے سلیوٹ مارا ‘‘۔
آگے چل کر نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ آئی ایس آئی کا سیاسی کردار کیسے ختم کیا جائے تو جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے چارٹر میں تبدیلی کی ضرورت ہے آئی ایس آئی میں کوئی باوردی فوجی افسر نہیں ہونا چاہئے۔آئی ایس آئی کو مکمل طور پر سول حکومت کے ماتحت ہونا چاہئے۔واضح رہے کہ نواز شریف نے یہ باتیں جلاوطنی کے زمانے میں کیں۔ یہ کتاب 2007ء میں شائع ہوئی اور اس کتاب کا نواز شریف کے کئی ناقدین حوالہ بھی دیتے رہتے ہیں لیکن نواز شریف نے کبھی تردید نہیں کی۔نوازشریف سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا احتساب کا طریقہ کار ٹھیک تھا؟ جواب میں نواز شریف نے کہا کہ احتساب کا طریقہ کار غلط تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دبائو تھا۔ جان بوجھ کر ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانوں کا اعتبار ختم ہو جائے۔
نواز شریف کی زبانی ان کی کہانی پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نےآصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات کسی اور کے دبائو پر قائم کئے تھے لیکن 2012ء میں جب زرداری صدر تھے اور سپریم کورٹ انہی مقدمات کو دوبارہ کھولنے کیلئے حکومت کو حکم دے رہی تھی کہ سوئٹزر لینڈکو خط لکھا جائے تو زرداری صاحب کے وکلاء نے آئین میں صدر کیلئے استثنیٰ کا ذکر کیا۔اس ذکر پر نواز شریف بھڑک اٹھے اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ استثنیٰ کس بلا کا نام ہے۔پھر میموگیٹ اسکینڈل آیا تو نواز شریف درخواست گزار بن کر سپریم کورٹ چلے گئے۔ایک سیاست دان نے دوسرے سیاست دان کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔نجانے یہ سب کس کے دبائو پر ہو رہا تھا لیکن کچھ ہی عرصے میں جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انہوں نے آئین سے غداری کے مقدمے میں پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے آصف زرداری سے رابطہ کیا تو موصوف بھی تیار ہوگئے اور فرمایا کہ بلے کو دودھ پی کر بھاگنے نہیں دیں گے۔ اپریل 2014ء کے شروع میں زرداری اسلام آباد آئے اور نواز شریف سے ملاقات کی۔ بہت کچھ طے پا گیا لیکن پھر نواز شریف کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان ہو گیا۔زرداری نے اپنا وعدہ نبھایا اور نوازشریف مشکل سے نکل گئے۔مشکل سے نکلنے کے بعد چیئرمین سینیٹ کا الیکشن آیا۔زرداری اپنا چیئرمین لانے میں کامیاب رہے اور یہیں سے نواز شریف اور زرداری میں وہ لڑائی شروع ہوئی جسے ابھی تک کچھ لوگ ڈرامہ سمجھتے ہیں۔یہ ڈرامہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اور یہ حقیقت اس قوم کی بدقسمتی ہے۔ آنے والے دنوں میں آپ کو سیاست میں تلخیاں بڑھتی نظر آئیں گی۔سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر اپنا اعتبار خود ختم کریں گے۔زرداری نے جو کھونا تھا کھو چکے۔اب نواز شریف بھی بہت کچھ کھو رہے ہیں اور عمران خان کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے عمران خان کو ایک خوش خبری تو مل جائے گی لیکن اس کے بعد اوپر نیچے ان کیلئے کچھ بری خبریں آ سکتی ہیں۔قدرت کے سامنے کسی کو استثنیٰ نہیں ملتا۔غلطی جو بھی کرے اسے غلطی تسلیم کرکے توبہ کرنی چاہئے ورنہ کبھی نہ کبھی تو سزا ملتی ہے۔ یاد رکھیں کہ بھوکے چور کو کھانا کھلا کر چھوڑ دینا انسان دوستی کی بڑی اچھی مثال ہے لیکن اگر آپ چور کو ماہانہ وظیفہ دینا شروع کر دیں تو چوکیدار سوچے گا کہ میں نے چور کو پکڑ کر اچھا کیا یا بُرا؟ہو سکتا ہے آئندہ سے چوکیدار چوروں کے ساتھ مل جائے اور گھر میں چوریاں کرانے لگے لہٰذا چور کا وظیفہ لگانا مناسب نہیں اور چوکیدار کے کردار کی اہمیت ختم کرنا بھی غلط ہے۔چوکیدار کا کام چور پکڑنا ہے آپ کا کام چور کو قانون سے سزا دلوانا ہے سب کچھ قانون کے مطابق ہو گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں