ہم سب مل کر چلیں گے….


salim javedمولانا وحید الدین خاں نے سیکولرزم کی تعریف یوں کی ہے کہ فردی عقائد کو اجتماعی معاشرے کے امنِ عام اور بقائے باہمی میں مانع نہیں ہونا چاہئے۔ خاکسار کا موقف ہے کہ یہی روحِ تصوف ہے-
محترم وجاہت مسعود صاحب نے ایک جملے میں سیکولرزم یا تصوف کا خلاصہ بیان کردیا ہے، اوروہ جملہ یہ ہے کہ ’ ہم سب مل کر چلیں گے‘-
یوں تو سوشلسٹ، سیکولر اور ڈیموکریٹ ہونا انسانی کردارکی بنیادی خوبیاں ہیں، مگر چونکہ انگریزی اصطلاحات ہیں تو احباب نے خواہ مخواہ انہیں غیروں کی جھولی میں ڈال رکھا ہے۔ دیانت کاتقاضاہے کہ یہ عام انسانی صفات جن لوگوں نے اپنے طبقے کےلئے مختص کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی غلط فہمی دور کی جائے۔ بھلا ایک سچے مسلمان سے زیادہ، ہیومن رایٹس ایکٹوسٹ کون ہوسکتا ہے کہ دردِدل کے واسطے پیدا کیا انسان کو؟
خاکسار اپنی اس رائے پہ قائم ہے کہ جس طرح اشتراکیت کا جامع تصور، کارل مارکس نے نہیں، بلکہ شاہ ولی اللہ نے دیا تھا، ایسے ہی سیکولرازم کا پہلا داعی’دین اسلام ‘ ہے جس نے ’لا اکراہ فی الدین ‘ اور ’لکم دینکم ولی دین‘سے اس کی بنیاد رکھی-
عرض کرتا ہوں کہ جن اچھے علوم اور فلسفوں سے لوگ ان کے انگریزی ناموں کی وجہ سے مرعوب یا متنفرہیں، اگر ان کی جڑ تلاش کریں تو اسلام ہی میں ملے گی-صوفیا کے ’مراقبہ اور تصور شیخ‘ میں اور ’ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی‘ میں کیا فرق ہے؟ مگر بات یہ ہے کہ جس معاشرے میں ایک درزی، خود کو ٹیلر ماسٹر کہلوا کرہی خوش ہوتا ہو، وہاں حافظ ابن قیم کا نہیں، سگمنڈ فرائیڈ کا حوالہ معتبر ٹھہرتا ہے-
سوشلزم،ڈیموکریسی اور سیکولرزم سے عوام کیا مراد لیتے ہیں؟ ہم اسکے پابند نہیں بلکہ ہم عوام کو اس کے درست مفاہیم دینے کے پابند ہیں۔ اوریہ صرف مغربی اصطلاحات کاہی قضیہ نہیں۔ دینی اصطلاحات میں بھی، مثلاً ، پہلے ایک شرعی اصطلاح، ’جہاد‘ کو ’قتال‘ کے معنوں میں لیا گیا اورعوامی نعرہ بنا کہ ’کافروں کا ایک علاج، الجہاد، الجہاد‘۔ جب تبلیغ والوں نے’ جہاد‘ کے اصل معنی عوام کے سامنے پیش کئے تو بڑے بڑے علما بجائے حقیقت سمجھنے کے، تبلیغ والوں کو’ قتال‘ کے منکر قرار دینے لگے(خدا بھلا کرے حضرت بش کا کہ اس کے ڈنڈے نے وہابی مولویوں کو بھی جہاد اور قتال کا فرق سمجھا دیا)-
دلیل اور برداشت کا نام ہی سیکولرزم ہے جسکی پہلی ترجیح ’امن‘ہے-یہ غلط تاثر ہے کہ سیکولرزم کسی مذہب کی تبلیغ کے خلاف ہے۔ مکالمہ شوق سے کرو پر دلائل سے، نہ کہ دھونس سے۔ یہی تو اسلام کا حسن تھا-آج مذہبی تو کیا لبرل انتہاپسندوں سے بھی توقع نہیں کہ اختلافی بات سن سکیں اور ادھر دیکھئے کہ نجران سے عیسائی پادریوں کا ایک وفد، نبی سے مناظرہ کرنے مدینہ آتا ہے، نبی کو مباہلہ کرنے کے لئے بیٹی اور نواسے بلانے پڑتے ہیں مگر وہ صحابہ، جن کے سامنے ان کے نبی کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا ، وہ خاموش ہیں۔ یہ ہے برداشت اور دلیل، یہ ہوتا ہے سیکولرازم۔
جہاں ایک طرف، جدید تعلیم یافتہ طبقہ، اسلام کی روح سے ناواقف ہونے کی بنا پر، اسے متشدد دین سمجھتا ہے وہاں، مولویوں کا ایک ٹولہ،انگریزی سے کم علمی کی بنا پر، سیکولر اور سوشلسٹ کے نام سے بھڑک اٹھتا ہے-(لیکن ان کو ڈیموکریٹ کا لفظ برا نہیں لگتاحالانکہ وہ بھی انگریزی اصطلاح ہے کیونکہ اس سے اسلام آباد کی منزل آسان ہوتی ہے)-
سوشلزم، جمہوریت اور سیکولرزم، کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آپ نے سوسائٹی میں امن چاہنا ہے تو جمہوریت کا احترام کرنا پڑے گا-آپ دلیل کی طاقت سے اکثریت کو ہمنوا بنا لیں، وہ نہیں مانتے، آپ صبر کریں اور اگر پھر بھی آپ کا گذارا نہیں ہوسکتا تو کنارہ کش ہو جائیں، ہجرت کر جائیں، لیکن تشدد سے اپنی رائے ٹھونسنے کی اجازت نہیں- بلکہ آپ کو اقتدار مل بھی جائے تب بھی ،جزیاتی فیصلوں میں جمہور کا لحاظ کرنا چاہیئے تاوقتیکہ وہ آپکا موقف سمجھ جا ئیں کیونکہ عوام چھوٹے بچوں کی طرح ہوتے ہیں- نبی ﷺنے حضرت عائشہؓ سے فتح مکہ کے بعد فرمایا کہ تیری قوم نے کعبہ کی اصل حدود میں تبدیلی کی ہوئی ہے۔ اماں جان نے پوچھا کہ پھر آپ ٹھیک کیوں نہیں کر دیتے؟ فرمایا (جس کا مفہوم ہے) کہ ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں،اس سے کہیں فتنہ نہ پھیل جائے۔
مسلمان حکمران کو ذاتی زندگی میں، تقوی اختیار کرنے پر، خدا کی غیبی امداد کی بشارت دی گئی لیکن اجتماعی زندگی میں، زمینی حقائق کے مطابق امور طے کرنا سکھایا-ملکی ایڈمنسٹریشن کےلئے،ہر حکمران تھنک ٹینک تشکیل دیتا ہے-اس میں علماء ہونے چاہیں، بلکہ ضرور ہوں لیکن فتوو¿ں پر ریاستی ادارے یرغمال نہیں بنائے جا سکتے- یہی سیکولرازم ہے اور یہی اسلام ہے۔ مناصب کی تقسیم، عقیدہ و تقویٰ نہیں، تعلیم و تجربہ کی بنیاد پر ہو گی- لشکر کا جرنیل، خالد بن ولید جیسے نئے صحابی کی جگہ، سلمان فارسی جیسے بزرگ کو نہیں بنایا جاسکتا-امن قائم رکھنے کے لئے ابن ابی جیسے رئیس المنافقین کو برداشت کیا جا سکتا ہے اور ابوذر جیسے مخلص کو مدینہ بدر کیا جا سکتا ہے-
اہل فکرکی نذر ایک اور نکتہ! صحیح حدیث میں ہے کہ مشرکین کوحرمین میں داخلہ کی اجازت نہیں۔ ادھر، عمر فاروق کے دور میں 22 لاکھ مربع میل پر پھیلی مملکت کے حسابات تھے-کہا گیا اکاو¿نٹ کا کام سیکھنے ،چند جید صحابہ کو مصر کے یہودی ایکسپرٹس کے پاس بھیجا جائے۔ عمر کو ان کا جانا قبول نہ تھا کہ وہی توان کا مشاورتی بورڈ تھا- لہٰذا اس یہودی اکاونٹنٹ کو مدینہ بلاکر، ٹیوشن لی گئی۔ اپنے جہادی لشکروں میں داڑھی منڈے برداشت نہ کرنے والوں کو بتاو¿ں کہ قادسیہ کی فیصلہ کن لڑائی میں سعد ابن وقاص کی فوج کا ایک دستہ، عیسائیوں اور یہودیوں پہ مشتمل تھا۔
بہرحال، خاکسار کا موقف ہے کہ فی زمانہ، سچا سیکولر سسٹم، اسلام کے لئے خصوصی نعمت ہے کہ جس سوسائٹی میں مستند علمائے کرام، دلیل کی پونجی رکھتے ہوں وہاں کسی اور کی دکان کب تک چل سکتی ہے؟ سوچئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج، اسلامی ممالک میں دہرئیے اور سیکولر ممالک میں مسلمان پیدا ہو رہے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ہم سب مل کر چلیں گے….

  • 11-01-2016 at 11:50 pm
    Permalink

    One of the best article

    • 12-01-2016 at 5:30 pm
      Permalink

      Thank you Sir

  • 22-01-2016 at 4:39 pm
    Permalink

    Islamic tradition is very powerful and progressive, but Muslims are weak and regressive.Muslims have become superfluous and emotional. The cognitive approach of golden age is gone. There is no will to properly understand our tradition, what to speak of reviving it under changed circumstances and new challenges.

Comments are closed.