ظ سے زفر کا خاکہ


\"\"

کچھ لوگوں کے ساتھ پیدائش کا تصور جوڑنا بڑا عجیب و غریب لگتا ہے۔ دماغ یہ ماننے سے قطعی انکار کردیتا ہے کہ وہ بھی کبھی پیدا ہوئے ہوں گے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلا خیال جو پیدائش کے ساتھ ذہن میں آتا ہے، وہ شیر خوارگی اور بچپنا ہے ۔۔۔۔ یعنی بھولپن، سادگی اور معصومیت ۔۔۔ لہذا یہ بات ہی مضحکہ خیز ہے کہ یہ ساب کبھی بچے بھی رہے ہوں گے۔ ان کو تو دیکھ کر لگتا ہے وہ ہمیشہ سے ہی اتنے چست و چالاک، ہشیار اور چرب زبان ہیں اور ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔

پیدائش کا ذکر ہم نے اس لئے کیا کہ کل فیس بک پر انکی سالگرہ کا بڑا چرچا تھا اور ہمارے اور انکے مشترکہ دیرینہ دوست ادریس آزاد ساب نے پر زور فرمائش کی تھی کہ ہم ان کے اعزاز میں ضرور کچھ لکھیں چنانچہ اب ہم قلم تھامے یہ سوچ رہے ہیں کہ ایسا واقعہ جسے اپنی ہیئت میں کسی طور خوشگوار نہیں کہا جاسکتا اس کی یاد میں کیا لکھیں۔ بات انکی ظاہری شخصیت سے شروع کریں یا پہلے انکی عادات معترضہ و مشکوکہ کا زکر کریں ۔۔

اتنا نحیف چھریرا بدن، کہ پہلی بار تو نظر ہی نہیں آتے۔ لامبا قد، قدرے آگے کوجھکے خمیدہ کندھے، گویا گناہوں کے بوجھ سے ہلکان ہوں۔ ۔سنہری چمپئی رنگت، چہرے پہ ازلی وحشت، شب بیداری اور بے خوابی کے سرخ ڈوروں سے مزین بڑی بڑی گھورتی آنکھیں۔ ستواں ناک باریک تراشیدہ سیاہی مائل سرخ ہونٹ۔ اونٹ کی گردن سے تقریبا نصف گردن (بشرطیکہ اونٹ بیٹھا ہوا ہو) اور اس میں ہڈی کا ابھار۔۔۔۔ سر پرنفاست سے بکھرےہوئے ریشمی بال ۔۔۔ بس یوں سمجھئے قدیم دیومالائی کہانیوں کی مکار چڑچڑی جادوگرنیوں سے مشابہہ ہیں۔

یہ الگ بات ہے مزاجاً بہت شگفتہ اور مرنجان مرنج ( اسکا جو بھی مطلب ہوتا ہے ) شخصیت کے مالک ہیں ۔۔ جس میں دل پھینک ہونے کا عنصر خوب نمایاں ہے ۔۔۔ صرف نبض چلنے کی شرط رکھ کر ہر خاتون پر عاشق ہوجاتے ہیں۔ مجبوری یہ بتاتے ہیں کہ کبھی قصداً یہ خطا کیا کرتا تھا اب تو عادت سی ہوگئی ہے ۔۔ خود مجھے بھی پتا نہیں چلتا کہ کب عاشق ہوگیا ہوں ۔۔۔

بارہا اپنی یک زوجگی کا افسوس کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ملک میں مکمل اسلامی قانون کے نفاذ کے شدید خواہشمند ہیں تاکہ مردوں کو نہ صرف چار شادیوں کی اجازت مل جائے بلکہ ساتھ ہی تحفظ شوہراں کا بل بھی پاس ہوجائے ۔۔۔
ویسے موجودہ حکومت کے اقدامات پر نہ صرف مطمئن و مسرور رہتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً توصیفی بیانات بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی حکومت گزیدہ شکوہ کرے تو بے دھڑک اسے ملک کی سیاسی تاریخ کے مطالعے کا مشورہ دیتے ہیں اورساتھ اسی حکومت کے چند پچھلے تجربات کو دھرا کر فرماتے ہیں ، آپ شاید کندھے ہلانا بھول گئے ۔۔

ہماری دوست ڈاکٹر ناہید کو گمان ہے کہ جب آپ اپنا غصہ بیگم پر اتارنے میں ناکام رہتے ہیں تو تبھی بوٹوں والی سرکار کے اعزاز میں تجزئے چھاپتے ہیں ۔ ورنہ انہیں فوج سے کوئی خاص شکایت نہیں۔۔۔یاد رہے آپکی بیگم کا تعلق بھی فوج سے ہے ۔۔۔
رائٹسٹ انہیں لیفٹسٹ اور لیفٹسٹ انہیں راٹیٹسٹ سمجھتے ہیں جبکہ یہ دونوں کو کچھ نہیں سمجھتے یعنی دونوں کی نہیں سمجھتے ۔۔۔۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے ہمیں تو یہ وہ مولوی لگتے ہیں جسکی داڑھی پیٹ کے اندر ہو ۔۔

قلم کا بویا اور الفاظ کا کاٹا کھاتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری اور ڈرامہ بازی دونوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں ۔۔۔ اگر مبالغہ آرائی اور چرب زبانی ( خصوصا خواتین کے سامنے ) قابل دست اندازی پولیس قرار پائیں تو ہمیں یقین ہے کہ موصوف کے شب روز تا عمر جیل میں بسر ہوں گے۔ طبعیت کے فساد کا اندازہ اسی بات سے کرلیجئے کہ جناب فرصت کے لمحات، فیس بک وال کو حلوائی کی دیوار سمجھ کر، شیرہ لگانے میں صرف کرتے ہیں ( امید ہے قارئین نے شیطان کی دیوار پر شیرہ لگانے والی حکایت ضرور سن رکھی ہوگی)

ظفر کو زفر اور بخیر کو بہ خیر لکھنے کے شوقین ہیں۔ اپنے تئیں اردو کی محبت میں مبتلاہیں اور اپنے سوا سب کو اس کا دشمن جانتے ہیں ۔۔
۔ دوسروں کے املا اور تلفظ میں علی الاعلان غلطیاں نکالتے ہوئے گروپ بدر یا بلاک ہونے کو جہادی شان سمجھتے ہیں ۔۔
ایسا نہیں کہ ہمیشہ ہی دھتکارے جاتے ہوں کئی لوگ انکی بے وجہ قابلیت سے متاثر ہوکے انہیں گرو کا درجہ بھی دے چکے ہیں ۔۔ ابتدا میں ہمارا شمار بھی ایسے ہی متاثرین میں ہوتا تھا مگر جب پہلی بار ان سے فون پہ بات کرنے کا اتفاق ہوا تو پہلے حیرت اور پھر ایک کمینی سی فرحت محسوس ہوئی کہ موصوف بھی ہماری طرح غلط تلفظ کے ساتھ اردو بولنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔۔
پھر کیا تھا ۔۔۔ نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
دوستی دشمنوں کی طرح کرتے ہیں اور دشمنی دوستوں کی طرح ۔۔۔ قول کے پکے ہیں جس کام کو ایک ہفتے میں کردینے کا وعدہ کریں اسے اسی سال ضرور مکمل کردیتے ہیں ۔۔۔۔ یقین نہ آئے تو شرلی اور ابرار ساب سے پوچھ لیجیے ۔۔

آخر میں یہی کہوں گی کہ مجھے مزید کچھ اور نہیں کہنا ۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ جو کچھ بھی کہا گیا ہے یہ اسی مشترکہ دوست کی شرارت ہے۔.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔