کشمیری کانگڑی میں نئی جان


\"\"کانگڑی۔ لفظ زبان پرآتے ہی کچھ لوگوں کی بانچھیں کھل جاتی ہیں اورکان کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ پوری بات سن کر طبع کو ہنسی کا موقع فراہم کرسکیں ،اور دوسروں کی حس مزاح کو بھی تقویت مل سکے۔کیوں بھئی ! کس لیے ایسا ہوتا ہے ؟ ایسا تو آپ نے بھی سوچا ہوگا۔تو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔انتہائی نحیف و نزار، جسم میں جان نہیں، تیز ہوا اڑا کر کسی درخت کی ٹہنی پر لٹکا دے لیکن باتیں بڑی بڑی اور اکڑ فوں حد سے زیادہ۔ ہمیشہ طاقتور سے پنگا اور خوب مرمت ہو نے کے بعد زمین سے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھنا اور کہنا ’ہن مار کے وخا‘۔ یعنی ہمت ہے تو اب ہاتھ لگا کر دکھاو۔ہمارے معاشرے میں یہی ہے’کانگڑی اور پہلوان‘ کی ڈیفی نیشن ( معانی)۔ لیکن آج کانگڑی کا ذرا تفصیلی پوسٹ مارٹم ہوجائے، ارے ! خدانخواستہ ہم کسی انسان کی نہیں بلکہ لفظ کانگڑی، اس کے استعمال اور معنوں کی بات کررہے ہیں، یہ لیجئے کانگڑی کا اک اور جھٹکا یا پہلوان کاپٹخا۔ کانگڑی پنجابی دی اک بولی اے جیڑی اتلے پنجاب تے ہماچل پردیش دے ضلع کانگڑہ چ بولی جاندی اے۔ کانگڑی پنجابی کی ایک بولی ہے جو کہ بالائی پنجاب اور ہماچل پردیشے کے ضلع کانگڑہ میں بولی جاتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے قبل پنجاب اک ساتھا سو بول چال کا اثر تو آنا ہی تھا۔ پنجابی کے ذکر پر ایک شعر \"\"یاد آگیا۔
ہوا کشمیر اور پنجاب میں اب تک نہ سمجھوتہ
ادھر یہ کانگڑی مانگے ادھر وہ کانگڑا مانگے
یہاں پراس پنجاب کا ذکر ہے جو بھارت کاحصہ ہے اور کشمیر بھی وہ جس پر بھارت کا تسلط ہے۔ ویسے آزاد کشمیر میں بھی کانگڑی موجود ہے۔ کانگڑی کے لغوی معنی ’مٹی کی انگیٹھی ، بروسی اور آتش دان‘ بھی ہیںجس پر نقش ونگاری کرکے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یوں کہہ لیں، کشمیریوں کی جان اور سردیوں کی شان …. کانگڑی۔
مقبوضہ کشمیر میں کڑاکے کی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے لوگ صدیوں سے کانگڑی کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ وادی کشمیر میں موسم سرما چار مہینوں تک اپنے جلوے دکھاتا ہے اور اس دوران درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے۔
اے میری آرام جاں اے میری دلبر کانگڑی
مہرانور کانگڑی ، ماہ منور کانگڑی
بید مجنون کی لچک دار ٹہنیوں کی خوبصورت بنت میں مٹی کے اک گول پیالے کو اپنے اندر سموئے یہ کانگڑی کشمیری تہذیب وتمدن کا ایک جزو لاینفک بن گیا ہے۔ کانگڑی کشمیریوں کے لیے چلتا پھرتا ہیٹر ہے، سو روپے اور ایک پاﺅ کوئلے سے دن بھر سکون۔ کشمیری اسے اپنے روایتی لباس فیرن کے نیچے ساتھ لیے پھرتے ہیں لیکن اب اس کانگڑی کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ کانگڑی میں ڈالے جانے والے ’کوئلے ‘ کیلئے لکڑی کا \"\"انتظام کیا جاتا ہے اور اس کیلئے جنگلات سکڑ تے چلے جارہے ہیں۔محققین کے مطابق کانگڑی سینکنے سے کئی عارضوں کا خطرہ بھی رہتا ہے۔پیٹ کے ساتھ ، ٹانگوں پر رکھنے اور لگاتار ہیٹ لگنے سے جلد پرچھالے ہوجاتے ہیں، السرکا خطرہ ہوتا ہے۔ کینسر ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے اور اس کے دھوئیں سے سانس کی بیماری بھی لاحق ہوسکتی ہے اور متعدد دانوں کی شکایات بھی سننے کو ملی ہیں ۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔ جموں کشمیر کالج سے بی ٹیک کرنے والے ایک شخص نے شمسی توانائی سے چلنے والی کانگڑی تیار کر لی ہے۔ لال بازار سرینگر کے رہائشی نے اس جدید کانگڑی میں بیٹری، انورٹر سرکٹ اور سولر پینل اٹیچ کیا ہے۔ یہ سولر پینل آسانی سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ درمیانے درجہ کی سورج کی روشنی سے کانگڑی میں نصب بیٹری میں توانائی منتقل ہو جائے گی اور بیٹری چارج ، کانگڑی میں اٹیچ انورٹر سے گرمائی پیدا ہوگی اور اس کے ذریعے تین چار گھنٹے باآسانی ہاتھ پاﺅں گرم کئے جاسکتے ہیں۔اب اسے آپ سائنس کی ترقی کہہ لیں ، یا بندے کی صلاحیتیں ،ایک بات تو طے ہے کہ ذہانت کسی کی میراث نہیں اور جہالت پر کسی کا اجارہ نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ربیعہ کنول مرزا

ربیعہ کنول مرزا نے پنجاب اور پھر کراچی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ صحافت میں کئی برس گزارے۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شعبہ ہے

rabia-kanwal-mirza has 20 posts and counting.See all posts by rabia-kanwal-mirza