ہواؤں کی ملکہ شیلا کی کہانی


\"\"

مغادیشو سے آداب عرض ہے جہاں یہ خادم ان دنوں اقوام متحدہ کی جانب سے پڑوسی ممالک سے صومالیہ لوٹنے والے مہاجرین کی آباد کاری میں ہاتھ بٹانے پر مامور ہے۔ قارئین کو علم ہوگا کہ یہ ملک سن اکانوے سے جاری خانہ جنگی کے سبب ناکام ریاستوں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ چند برس پہلے یہاں عالمی برادری کے تعاون سے ریاست کی بحالی کے کچھ آثار پیدا ہوے ہیں مگر اب بھی ملک کے بہت سے حصوں میں القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم ”الشباب“ کا نفوذ پایا جاتا ہے۔ ریاستی اداروں کی تباہی اور بد امنی کے سبب ملک کا نظام رسل و رسائل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور امن و امان کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے، جن کے سبب ماضی میں ”افریقی سوئٹزر لینڈ“ کہلانے والا یہ ملک دنیا کے پسماندہ ترین اور خطرناک ترین ممالک میں گنا جاتا ہے۔ امدادی ادارے افریقی اتحاد کی افواج اور ان کے غیر ملکی تربیت کاروں کی حفاظت میں قلعہ بند بستیوں میں رہتے ہیں جو آے روز الشباب کے مارٹر حملوں اور خود کش دھماکوں کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ خیر یہ تفصیلات تو دل چسپی رکھنے والے دوست خود بھی انٹر نیٹ اور کتابوں میں تلاش کر سکتے ہیں، باعث تحریر اس ہفتے پیش آنے والا ایک دل چسپ اتفاق بنا۔

\"\"

سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور بد امنی کے پیش نظر ہماری تمام تر نقل و حمل چھوٹے بڑے طیاروں میں ہوتی ہے۔ امدادی اداروں کی پناہ گاہیں تمام تر ہوائی اڈوں کے قریب واقع ہیں تاکہ بلا ضرورت خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر متعلقہ شہروں میں کہیں جانا ہو تو بلٹ پروف گاڑیوں میں زرہ بکتر پہن کر جانا ہوتا ہے چونکہ ماضی میں بہت سے امدادی کارکن دہشت گردوں کے ہاتھوں جان گنوا چکے ہیں۔ ہمیں چند روز قبل مغادیشو سے کچھ فاصلے پر واقع شہروں ”بیدووا“ اور ”کسمایو“ جانا تھا۔ بیدووا تو ہم عام پرواز سے گئے تھے مگر واپسی کے اوقات میں عام پرواز نہ مل سکتی تھی چنانچہ ہمارے لیے خصوصی جہاز کا بندوبست کیا گیا تھا۔ اپنا کام ختم کر کے رن وے پر پہنچے تو ایک دھان پان سی جواں سال افریقی بی بی نے ہمارے ننھے منے سیسنا جہاز کی سمت ہماری رہنمائی کی۔ ہمیں گمان گذرا کہ کسی انتظامی عہدے پر مامور ہوں گی۔ حیرت کا جھٹکا تب لگا جب اس بی بی نے ہمیں بٹھا کر دروازہ بند کیا اور پائلٹ کی نشست سنبھال کر جہاز کے انجن کو حرکت دی۔ پرواز تقریبا گھنٹے بھر کی تھی اور ایک نہایت آرام دہ لینڈنگ کے بعد ہم نے بڑھ کر ان کا شکریہ ادا کیا تو تعارف ہوا۔ یہ نوجوان خاتون کینیا سے تعلق رکھتی ہیں، نام شیلا ہے اور پتا چلا کہ مغادیشو میں ہمارے ہی محلے میں قیام پذیر ہیں۔ اگلے روز کسمایو کا دورہ بھی انہی کی رفاقت میں ہوا۔ واپسی کی شام کو طعام گاہ میں نظر آئیں تو ہم نے انہیں بٹھا کر پوچھا کہ بی بی، اس بالی عمریا میں کوئی ڈھنگ کا کام کرنے کے بجاے جنگ زدہ علاقوں میں جہاز اڑانے کی تمہیں کیا سوجھی؟

اسی بارے میں: ۔  جانے انجانے میں پی آئی اے کا سفر

\"\"

شیلا نے بتایا کہ اس نے دسویں جماعت ہی میں طے کر لیا تھا کہ اسے پائلٹ بننا ہے۔ ظاہر ہے اہل خانہ کا اس پر وہی رد عمل تھا جو کسی بھی روایتی معاشرے میں ایسے انکشاف کے بعد ہوتا ہے، یعنی اسے جوانی دیوانی کا ابال سمجھا گی۔ مگر شیلا بی بی بھی دھن کی پکی نکلیں اور بالآخر اہل خانہ کو ان کے عزم کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ ابتدائی تربیت کینیا سے اور اعلی تر تربیت جنوبی افریقہ سے حاصل کی اور لائسنس ملنے کے بعد ایک ایسی کمپنی میں شمولیت اختیار کر کے اپنے آس پاس کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا، جو آفت زدہ علاقوں میں راحت کاری کا کام کرتی ہے۔ سو اب کوئی چھ سال سے افریقہ کے طول و عرض میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ اور ان کے مطابق اس کام سے، خطرات کے باوجود جڑے رہنے کا سبب اسرگرمیوں میں حاصل ہونے والا اطمینان قلب ہے۔ ان کا پسندیدہ جہاز ایک انجن والا دس نشستہ سیسنا ہی ہے جس میں یہ ہمیں لے گئی تھیں۔ اس پسندیدگی کی وجہ یہ بتائی کہ یہ بہت قابل اعتبار، محفوظ اور سادہ جہاز ہے جو بالکل بنیادی سہولتیں رکھنے والی جگہوں پر بھی اتر سکتا ہے چنانچہ اس کی خدمات کا دائرہ وسیع تر ہے۔

شیلا نے بتایا کہ اب بھی افریقی معاشرہ خواتین کی روایتی ”مردانہ“ شعبوں میں شمولیت کو ٹھیک سے ہضم کرنے کو تیار نہیں ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب اس میدان میں بھی خواتین اس غیر مرئی چھت میں دراڑیں ڈال رہی ہیں جس نے رسم و رواج کے نام پر انہیں محبوس کر رکھا تھا۔ دوسری میز پر بیٹھی ایک اور طرحدار نوجوان کینیائی خاتون کے بارے میں بتایا کہ ان کا نام سٹیلا ہے اور وہ بھی ہوا باز ہیں۔ ہمارے پوچھنے پر کہ وہ اپنی کارکردگی کو مردوں کے مقابلے میں کیسا سمجھتی ہیں، شیلا بی بی نے ہنس کر بتایا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب ہوائی جہاز اڑانے میں جسمانی قوت کا کوئی کردار نہیں رہا اور یہ اس قدر سہل ہو چکا ہے کہ مناسب تربیت کے بعد کوئی بچہ بھی اسے اڑا سکتا ہے۔ واحد شرط حاضر دماغی ہے، سو اس میں کسی قسم کے صنفی فرق کی کوئی شہادت موجود نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ٹرمپ کے دیس میں

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔