جمعے کو چھٹی نہ ہونے سے قوم پر عذاب کا اعلان


\"\"

جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ نے بدھ کو قومی اسمبلی میں قرار پیش کی ہے کہ ملک میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو مقرر کی جائے۔ جماعت اسلامی کی خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ سید نے انکشاف کیا کہ ملک میں صرف کاروباری طبقہ جمعہ کی چھٹی کامخالف ہے جبکہ جمعہ کی چھٹی نہ ہونے سے ملک میں آفات نازل ہورہی ہیں۔

بخدا اس بات پر تو آپ سب کو ہماری طرح ہی یقین ہو گا کہ اسلام کو جماعت اسلامی سے بہتر سمجھنے کا دعویدار کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اب اگر وہ بتا رہے ہیں کہ جمعے کو چھٹی نہ کی جائے تو خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے تو ان کی بات پر توجہ دینی پڑے گی۔

ہمیں بھی کچھ کچھ یاد پڑتا ہے کہ جب پاکستان میں بھی 1977 سے 1999 تک جمعے کی چھٹی ہوا کرتی تھی تو یہاں کبھی کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ مرد حق جنرل ضیا الحق جیسی بہت بڑی نعمتِ خداوندی کا نزول ہی ہوا تھا جن کے بابرکت دور کے ثمرات قوم آج بھی سمیٹ رہی ہے۔

لیکن یہ جو سعودی عرب میں مسجدوں میں بم دھماکے ہو رہے ہیں اور عراق میں خانہ جنگی کا سماں ہے اور لوگ ملک چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، تو کہیں انہوں نے جمعے کی سرکاری چھٹی کی بجائے خفیہ طور پر اتوار کو چھٹی تو نہیں کر لی؟ ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ معاملے کا ایک نیا پہلو سامنے آیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے جماعت اسلامی کے اراکین کو قرآن پاک یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی نماز چھٹی کے بغیر بھی پڑھی جاسکتی ہے، اسلام میں چھٹی کا حکم نہیں ہے، اس کے برعکس قرآن میں جمعہ کی نماز کے بعد اللہ کے فضل کی تلاش کرنے کا حکم ہے۔

ہم نے سوچا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اہل جماعت کی نگاہ سے قرآن کی یہ آیت مبارکہ نہ گزری ہو۔ اس لئے خود اس کی تحقیق کی کہ اس کی تفسیر کیا ہے۔ سورہ جمعہ میں یہ آیت مبارکہ موجود ہے کہ

پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو

اور تفسیر ابن کثیر میں اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ

’عراک بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے (ترجمہ) یعنی اے اللہ میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما تو سب سے بہتر روزی رساں ہے (ابن ابی حاتم) اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا‘۔

یعنی تفسیر ابن کثیر کے مطابق تو جمعے کے دن تو تجارت اور کاروبار کرنے کا اجر دوسرے دنوں سے کہیں زیادہ بیان کیا گیا ہے اور ہمارے کاروباری حضرات ٹھیک اصرار کر رہے ہیں کہ جمعے کو چھٹی نہ کی جائے۔ جبکہ جماعت اسلامی والے اس دن کام سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی مسئلہ ہے۔

ہم ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ سورہ اعراف میں بیان کیے گئے سمندر کے کنارے آباد بعض یہودیوں کے ایک قصے پر نظر پڑی۔ یہودیوں کے لئے ہفتے کا روز سبت مقرر کیا گیا تھا۔ یعنی یہودی اس دن چھٹی کریں اور کوئی کام کاج نہ کریں۔ ساتھ ان کی آزمائش یہ کر دی گئی کہ باقی چھے دن تو مچھلیاں ادھر ادھر چھپی رہتیں مگر ہفتے کے دن خوب اچھلتی کودتی دکھائی دیتیں۔ یہودیوں کا دل للچایا مگر یوم سبت کو کام کرنا تو منع تھا۔ قصص القرآن کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے عیاری کی کہ ساحل پر چھوٹی چھوٹی نالیاں بنادیں اور ان نالیوں کو ایک تالاب میں گرا دیا۔ اب ہفتے کو جب مچھلی زیادہ تعداد میں نمودار ہوتیں تو ان نالیوں میں پھنس کر تالاب میں گرجاتیں ۔ پھر لوگ انہیں اتوار کی صبح پکڑ لیتے تھے۔ دوسری روایت کے مطابق وہ یہودی یہ کہتے تھے کہ ہفتے کو مچھلی پکڑ کر کھانا منع ہے، تو ہم پکڑ ہفتے کو لیتے ہیں اور کھا اتوار کو لیں گے۔ خدا کے حکم کی اس چالاکی سے نافرمانی کرنے پر ان یہودیوں پر عذاب نازل کیا گیا اور ان کو بندر بنا دیا گیا۔

غالباً جماعت والے خوفزدہ ہیں کہ جمعے کے دن کام کر کے کہیں ہم پاکستانیوں پر بھی یہ آفت نازل نہ ہو جائے۔

ہماری رائے میں تو پاکستان میں یہودیوں کے یوم سبت کے احکامات نافذ کرنے کی بجائے قرآنی احکامات کو اولیت دی جانی چاہیے اور جماعت اطمینان رکھے کہ یوم سبت پر کام کرنے پر یہودیوں پر عذاب نازل ہوتا ہے، مسلمانوں میں یوم مقدس پر کام کرنے کا زیادہ اجر بیان کیا گیا۔

غالباً کسی غلط فہمی کی وجہ سے بعض جماعتیں یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ پاکستان ایک یہودی اکثریتی ملک ہے۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 834 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “جمعے کو چھٹی نہ ہونے سے قوم پر عذاب کا اعلان

  • 22/01/2017 at 8:41 am
    Permalink

    کاکڑ صاحب بہت اعلیٰ۔ بات سیدھی ہے مگرکچھ لوگ اسے اپنی کج فہمی سے پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
    ١۔ قرآن میں کہا گیا ”مومنوں جب جمعے کے دن نماز کے لۓ آذان دی جا ۓ تو اللہ کی یاد (نماز) کے لۓ جلدی کرو اور خرید و فروخت ترک کردو۔ یہ تمھارے لۓ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔“
    اس آیت سے معلوم ہوا مسلمان جمعےکو کام اور خرید و فروخت کرتےہیں نہ کہ چھٹی تبھی تو انہیں ہدایت کی گئی کہ کام چھوڑ کرنماز کے لۓ آٶ۔
    ٢، قرآن میں اسی مقام اور سلسلے میں آگےارشادباری تعالیٰ ہے ” اور جب نماز پوری ہو چکے تو زمیں میں پھیل جاٶ ، اللہ کا فضل (رزق )ڈھونڈواور (رزق کی تلاش میں) اللہ کوکثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم کامیاب ہو“۔
    اس آیت میں بھی فرمایا کہ نماز کے بعد کام اور رزق کی تلاش کے لۓ زمین میں پھیل جاٶ۔
    اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعے کے دن کاروبار کرنا منع نہیں بلکہ کاروبار کرنا برکت کا باعث ہے۔

    اس آیت سے ان لوگوں کی غلطی بھی واضح ہوئی جو جمعے کے دن کاروبار سے نحوست وابستہ کرتے اور اس دن چھٹی کرنےکی دلیلیں دیتے ہیں۔

Comments are closed.