مطالعہ پاکستان کے سوال کا انوکھا جواب !


\"\"ان دنوں کالج میں امتحانات ہو رہے ہیں۔ ڈگری کی سطح کے ان امتحانات میں مطالعہ پاکستان کے پرچے میں ایک سوال تھا کہ پاکستان بنانے کے ا غراض و مقاصد کیا تھے اور ہم انہیں حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہوئے ؟ ایک طالبہ نے اس نوٹ کے ساتھ کتاب سے بے پروا ہو کر جواب دیا کہ سنا ہے کہ اچھا استاد کبھی نا انصافی نہیں کرتا ، اس لیے میں کتاب سے ’ ذرا ہٹ کے‘ جھوٹ کے بجائے سچ جواب دے رہی ہوں ، آپ بھی ذرا روایت سے ہٹ کر اس کے نمبر دیں۔ طالبہ کو ہمارے صحافی ہونے کا بھی علم ہے اس لیے اس نے یاسر پیرزادہ صاحب سے خصوصی مارکنگ کا ’ مطالبہ‘کیا ہے۔ طالبہ ان کے کالم کی قاری لگتی ہے۔ اس لیے قارئین سے عمومی اور یاسر صاحب سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ اس کی فرمائش پر ضرور غور کریں۔ طالبہ کے جواب کو ضروری ایڈیٹنگ کے بعد یہاں درج کیا جا رہا ہے :
٭ مجھے یہ لگنے لگا ہے کہ پاکستان اسلام کے لیے نہیں ، اسلام کا نام استعمال کرنے کے لیے قیام میں لایا گیا۔اسی لیے تو یہاں اسلام نہیں آیا البتہ اسلام کا نام خوب استعمال کیا گیا۔ مثال کے طور پراربوں روپے چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے کی بجائے کچھ ارب روپے دے کر باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔
٭ قیام پاکستان کا مطالبہ ایک پاک صاف معاشرہ قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، لیکن یہاں نہ پاک صاف پینے کی چیز ملتی ہے نہ کھانے کی اور نہ دوائیں! لگتا یہی ہے کہ پاک صاف ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اپنے تمام مخالف فرقوں کو کافر قرار دے کر ان سے اسلام کو ’پاک صاف‘ کردیا جائے۔
٭ قائد اعظم سے ایک بیان بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ پاکستان بنا کر اصل میں اسلام کی ایسی تجربہ گاہ بنانا مقصود تھی جہاں اسلام کے نظریات کے حوالے سے مختلف تجربات کیے جائیں۔ لیکن یہاں تو کوئی اجتہادی بات کرنا گمراہی سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اس تجربہ گاہ میں ایسے ایسے ہتھیار بنا کر ان کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے کہ’ اسلامی جہاد‘ کی ساری دنیا پر دہشت بیٹھ گئی ہے۔ مثلاًخود کش بم دھماکا کی ایجاد ، پریشر ککر بم کی ایجاد ،سردی سے بچاو کے بجائے دھماکا کرنے والی جیکٹ کی ایجاد، بازاروں میں شاپنگ کے بجائے قتل و غارت گری، پارکوں میں کھیل کود اور تفریح کے بجائے خون بہا نے کاروایت شکن اجتہاد ، عبادت گاہوں میں عبادت کی بجائے انسانی اعضا کے قطع و برید کا کارنامہ،مسلمانوں کو گستاخ رسول قرار دینے کا محیر العقول اجتہاد۔
٭ پاکستان کو بنا کر یہاں کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔ چنانچہ انہیں دوسروں کو کافر قرار دینے ، عقیدے کی ناپسندیدگی پر قتل کرنے کا حق، اختلاف کرنے پرگالی گلوچ اور بے عزت کرنے کا حق، سیاست دانوں کو کرپشن کرنے کا حق، تاجروں کو ملاوٹ ، من مانی منافع خوری اور سرکاری ملازموں کو رشوت لینے کا حق ، طاقتور کا کمزور کو دبانے کا حق، بغیر کام کے تنخواہ لینے کا حق، ہم طالب علموں کو نقل کرنے کا حق، چار فوجی ڈکٹیٹروں کو اپنا ہی ملک فتح کرنے جیسے حقوق وافر مقدار میں دیے گئے۔
٭ پاکستان اس لیے بھی بنایا گیا کہ عالم اسلام کے تمام دکھ درد اور مصائب کا مداوا کیا جائے ، چنانچہ ہم نے اپنے معاشرے کے تمام دکھ درد بھلا کر افغانستان، ایران، فلسطین، چیچنیا، برما وغیرہ کے مظلومین کے لیے آواز اٹھائی، ان کے دشمنوں کا قلع قمع کرنے کے لیے جہادی پیدا کیے اور پاکستان کے ’اسلامی قلعہ‘ میں ایسے ان تمام جہادیوں کو جمع کرکے ان کی روحانی، جسمانی اور اخلاقی تربیت کا موثر بندوبست کیا، اگرچہ ہمارے اپنے دکھ بہت تھے ، لیکن اپنے تمام دکھ درد بھلا کر ہم نے اپنی توجہ ’عالم اسلام‘ پر مرکوز رکھی۔ (طالبہ غالباً یہ کہنا بھول گئی کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے کمانڈر انچیف ریٹائر ہو کر اسی لیے پورے عالم اسلام کے سپہ سا لار بننے والے ہیں۔ )
٭ ہم نے کیونکہ اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے یہ وطن حاصل کیا تھا، اس لیے فنون لطیفہ میں شامل مصوری ، موسیقی ، رقص جیسی تمام ’کافرانہ‘ اور فسق و فجور سے آلودہ چیزوں کو پنپنے نہیں دیا۔ چنانچہ فلم انڈسٹری کا خاتمہ کیا، ایک منٹو کے بعد دوسرے کو پیدا نہیں ہونے دیا۔ جس کسی نے آزادی وغیرہ کے ’منحوس‘ الفاظ بولنے کی کوشش کی ، وہ اس انداز سے غائب ہو گئے کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں آسمان کھا گیا یا زمین۔ دنیا نے فیس بک ، ٹوئٹر، وٹس اپ وغیرہ جیسی متعدد چیزیں بنائیں لیکن اس پر بھی ’اسلامی اقدار‘ والے بھائیوں نے یوں قبضہ رچایا کہ ’کفریہ نظریات‘ رکھنے والوں کی بولتی بند ہو گئی !
٭ اگرچہ جمہوریت کا فروغ پاکستان کا بنیادی مقصد ٹھہرا تھا اور ووٹ ہی کے ذریعے سے پاکستان بننے کی راہ ہموار ہوئی تھی لیکن ہم نے جمہوریت کی ایک نئی قسم متعارف کرائی ، یہ جمہوریت فوج کی چھتری تلے پروان چڑھتی ہے۔اس لیے نالائق یعنی باغی سیاست دانوں کو پھانسی دینے ، جلا وطن کرنے اور گولی مارنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔
آخر میں دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ میرا نعرہ قبول فرمائیں : اسلام زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔