سندھ اسمبلی یا بینظیر بھٹو کی دانش کا قبرستان


\"\"

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کے کردار، باقی وزیروں، مشیروں، صلاح کاروں اور ممبران اسمبلی کی موت جیسی خاموشی کے بعد اب یہ بات ماننا پڑے گی کہ وہ پیپلز پارٹی تو ستائیس دسمبر2007 ءکو گڑھی خدابخش میں دفن ہو چکی، جس کی سربراہ بینظیر بھٹو تھیں اور اس خاتون چیئرپرسن نے دنیا بھر کی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ساری زندگی جدوجہد کی۔ پیپلز پارٹی تو اس سندھ اسمبلی کی روایات کی پامالی پر اتر آئی ہے جسے اس مملکت خداد کی خالق اسمبلی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آصف علی زرداری برانڈ پیپلز پارٹی اپنے اندر ایسے کئی کرداروں کو پناہ دیے ہوئے ہے جو آئے دن ملک کی آدھی آبادی کو ایسے ہی نازیبا جملوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جیسے گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی سندھ کے ایک صوبائی وزیر نے ایک خاتون ممبر کے لئے اسمبلی فلور پر استعمال کیے ہیں۔

اب کی پیپلز پارٹی خواتین کے بارے میں کیا سوچ رہی ہے، یہ اندازہ صرف ایک وزیر کی بدکلامی سے نہیں لگایا جا رہا لیکن سندھ اسمبلی کے مقدس فلور پر اس وزیر کی ہمت افزائی کرنے، سب ممبروں کا گونگا بہرا بن جانے، خاموش تماشائی بن جانے اور نازیبا جملوں پر لبوں کو سی کر ایک وزیر کی خاموش حمایت کرنے کے عملی مظاہرے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

آج کی پیپلز پارٹی میں سندھ کے بھوتاروں، سرداروں، میروں اور پیروں کے سیکڑوں کی تعداد میں ’وات گاڑھے‘چھچھورے چھوکرے بھرتی ہوئے ہیں، جو خواتین کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ اس لیے ان کی جاگیروں میں قائم دیہات اور گوٹھوں میں جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ سندھ اسمبلی میں جا کر اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کرپشن کو اپنا حق سمجھنے والے کل کے چھوکرے کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں ایک خاتون ممبر پر ایک سے زیادہ زبان درازوں کے حملے سے پتا لگ جاتا ہے کہ خواتیں کے حقوق کی علمبردار کہلانے والی پیپلز پارٹی اس وقت صرف اپنا نظریہ ہی نہیں لیکن اخلاقی قدریں بھی گنوا چکی ہے، اور اپنی تاریخ ان کل کے چھوکروں کے ساتھ ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہے جن کو اپنی ماں کی عمر کی خواتین ممبران سے بات کرنے کی تمیز تک نہیں۔

بیس جنوری کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت محترمہ شہلا رضا کر رہی تھیں، اسمبلی کے ایوان میں پیپلز پارٹی کے منتخب وزیراعلیٰ سائیں مراد علی شاہ، سینئر رہنما، وزیر، مشیر اور ایم پی ایز اپنی اپنی نشستوں پر براجمان تھے، وزیراعلیٰ سندھ کے عین عقب کی نشست پر اہم وزارت سروسز اینڈ ورکس کے صوبائی وزیر امداد علی پتافی بھی براجمان تھے، ان کے ایک طرف سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو جب کہ دوسری طرف کئی نئے پرانے چہرے اپنی اپنی نشستیں سنبھالے ہوئے تھے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات جاری تھا، حزب اختلاف کے ایک ممبر کی طرف سے اٹھائے گئے سوال پر سروسز اینڈ ورکس وزارت نے انگریزی زبان میں جوابات لکھ کر دیے تھے جو کہ اس کتابچے کی شکل میں تمام ممبران کی نشستوں پر رکھے ہوئے تھے۔

سڑکوں پر ٹریفک سگنلز کے بارے میں ایک سوال کی وضاحت جاننے کے لیے حزب اختلاف کی ایک جماعت فنکشنل لیگ (جو کہ اب نان فنکشنل ہوتی جا رہی ہے) کی سرگرم اور بولڈ ممبر نصرت سحر عباسی اٹھ کھڑی ہوئیں اور متعلقہ صوبائی وزیر جناب امداد علی پتافی سے سوال کیا کہ’ آپ کی وزارت کی طرف سے دیا جانے والا جواب سمجھ نہیں آ رہا، آپ وزیر ہیں، اس لیے وضاحت کردیجیے‘۔ انگریزی زبان میں سوال کا جواب پڑھنا وزیر محترم کی علمی قابلیت کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، اس لیے وزیر صاحب نے چونکہ چنانچہ، یہ وہ، ہاں، نہیں، فلاں، فلاں، اور، اور سے کام چلانا شروع کردیا۔ جب وضاحت کا مطالبہ زور پکڑ چکا تو وزیر صاحب نے فرمایا کہ’ یہ جوابات کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ آپ سمجھ نہیں پا رہی ہیں‘۔

خاتون ممبر کا مطالبہ قانونی، جائز اور اسمبلی قواعد کے عین مطابق تھا۔ سندھ کے وزیر ایوان کے اندر خود کو جوابدہ اگر نہیں سمجھتے پھر بھی وہ اسمبلی قواعد کے مطابق اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دینے کے پابند ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ زبان غیر کا تھا، وزیر موصوف انگریزی زبان سے اپنی جان چھڑوانے کے لئے کسی کرشمے کے منتظر تھے ساتھ ہی وہ مختلف راستے دیکھ رہے تھے، لیکن اس گھڑی تمام راستے تنگ ہی ہو رہے تھے، ایوان میں حزب اختلاف کی نشستوں سے جواب دینے کا پھر سے مطالبہ ہوا تو وزیر صاحب نے نصرت سحر کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ’ آپ میری ٹیوٹر نہیں کہ میں آپ کے کہنے پر انگزیزی پڑھوں‘۔ لیکن اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا اور بوجہ مجبوری وزیر محترم کو انگریزی کے دریا میں چھلانگ لگانا ہی پڑ گئی۔ وزیر محترم کی زبان سے ادا شدہ وہ دو جملے سو میلوں کے فاصلے کے برابر تھے، اس ایک منٹ کی ادائیگی میں وزیر محترم کے پسینے چھوٹ گئے۔ کہاں انگریزی زبان اور کہاں پتافی برادری کا یہ سردار۔ وزیر جناب منہ کو ٹیڑھا کر کے انگریزی کا دریا تو عبور کر گئے لیکن اس انداز ادائیگی پر تنقید ہوئی تو وزیرکو ناگوار گذری۔ جھٹ سے اس نے شرم و حیا کا دامن ہی چھوڑ دیا اور خاتوں ممبر کو چیمبر میں آنے کی صلح ماردی۔ صوبائی وزیر نے نصرت سحر عباسی کو مخاطب ہوکر کہا کہ’ پھر آپ میرے چیمبر میں آجائیے میں آپ کو انگریزی سکھا دوں گا‘۔

امداد پتافی ٹنڈوالٰہ یار سے منتخب ممبر اسمبلی ہیں، وزیر محترم کا اس کے سوا کوئی سیاسی پس منظر نہیں کہ وہ ایک بھوتار وڈیرے کا لاڈلا اور سر چڑھا بیٹا ہے۔ جسے اسمبلی فلور پر کسی خاتون ممبر سے بات کرنے کی تمیز نہ ہو اس سے جمہوری نظام کی بہتری کی امید کیا رکھی جا سکتی ہے۔ ایسے کئی امداد پتافی آج کی پیپلز پارٹی کے کونے کونے میں موجود ہیں اور ان میں سے کئی اسمبلیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ یہ وزیر تو آج کی پیپلز پارٹی کی صف اول کی قیادت کے من پسند وزیروں میں سے ہیں۔ انعام شرجیل میمن نے سندھ کی جو خدمت کی اسی خدمت میں یہ وزیر بھی لگے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں کراچی سے ٹھٹھہ جانے والی سڑک سندھ ہائی وے پر ایک جعلی ٹول پلازہ کا سراغ لگایا گیا، جس سے روزانہ لاکھوں روپے بٹورے جا رہے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وہ غیر قانونی ناکہ چنگی گرانے کا حکم تودیا، لیکن جو کروڑوں روپے ہضم ہوئے ان کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ بس ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ غیر قانونی چنگی ناکہ سروسز اینڈ ورکس کے اس محترم وزیر کی ہدایات پر قائم کیا گیا تھا۔

سندھ اسمبلی کی تمام کارروائی کے دوران اس وزیر محترم کو ان کے اپنے تمام ساتھی ممبران کی طرف سے ملی اس حمایت کو خاموش حمایت بھی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ جس وقت وہ ایسی نازیبا زبان استعمال کر رہے تھے تو پورے ایوان کی پیپلز پارٹی نے فاتحانہ انداز میں قہقہے لگا کر پتافی وزیر کی حمایت کا اعلان کردیا، اور دوسری طرف نصرت سحر خود کو وحشی بھیڑیوں میں سہمی سی ایک لڑکی محسوس کر رہی تھی، لیکن ہمت انہوں نے بھی نہیں ہاری اسی وزیر کو منہ پر کہہ دیا کہ چیمبر میں اپنی ماں بہن کو بلاکر دیکھو اور اگر اجلاس کرنا ہے تو وہ بھی چیمبر میں کرو۔

اس اجلاس کے آدھے ممبران تو دل ہی دل میں حزب اختلاف کی خاتون ممبر کو کھرا جواب ملنے پر خوش تھے، ان ممبران میں سے ایک ممبر جو وزیر محترم کو دل و جان سے حمایت کے ساتھ کھلے عام آشیرباد دے رہے تھے وہ کوئی اور نہیں بلکہ سندھ میں چار مارچ تحریک عرف ون یونٹ مخالف تحریک کے ہیرو کہلانے والے اور پیپلز پارٹی کے سنجیدہ رہنما نواب یوسف تالپور کے بیٹے تیمور خان تالپور تھے۔ وہ خود بھی اسی اجلاس کے دوران خاتون ممبر کو ہاتھوں سے اشارے بھی کرتے رہے اور مائیک بند ہونے کے باوجود اچھل کود کر ذو معنی جملوں کے تیر چھوڑ رہے تھے۔

میں سندھ اسمبلی کی اس کارروائی کو دیکھ کر محترمہ بینظیر بھٹوکی خواتین کی مالیاتی خودمختاری اور حقوق کے تحفظ کے اس فلسفے پر سوچ رہا تھا جس کو ایک دن سینٹر اعتزاز احسن نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ ’انکم سپورٹ پروگرام شروع کرنے کے پس منظر میں پسماندہ علاقوں میں بسنے والی ان خواتیں کی مالیاتی خودمختاری کا فلسفہ سمایا ہوا ہے جو ڈھلتی عمر کے ساتھ بے سہارا بن جاتی ہیں، یہ محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاسی دانش تھی، وہ چاہتی تھیں کہ مظلوم طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے پاس پورے گھرانے کا مالیاتی نظام اور کنٹرول موجود ہو تاکہ پورے خاندان میں عورت کو ہی مرکزی حیثیت حاصل رہے‘۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے تو خواتین حقوق کی پاسداری کے لیے ایک فوجی آمر کی آئینی ترمیم کی ان شقوں کو بھی قبول کرلیا تھا جس کے تحت پارلیمنٹ میں خواتین کی نشستوں کو بڑھایا گیا تھا۔

یہ کسی ایک خاتوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہی سہی لیکن اس میں وہ پیپلز پارٹی ملوث ہے جس کے ہاتھ میں خواتین کی سربلندی کا جھنڈا ہونے کاسرٹیفکیٹ ہے۔ مجھے تو پیپلز پارٹی کا ایک مکروہ چہرہ نظر آیا، ایسی پارٹی جو خواتین کے حقوق تو کیا ان کو عزت دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اب تو اس جماعت کے وزیر اور مشیر ایوانوں تک پہنچنے والی خواتین کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ یہ پیپلز پارٹی تو ارباب غلام رحیم کے دور حکومت کی یاد دلا رہی ہے۔ ایک سیٹ رکھنے والے اسمبلی ممبر ارباب رحیم کو جب سندھ کی حکمرانی سونپی گئی تو وہ آئے دن اپنے اندر کے ’ملا‘ کو اسمبلی کے بیچ چوراہے پر کھڑا کرکے کبھی ان کے میک اپ پر گناہ گار ہونے کا فتویٰ صادر کرتے تھے تو کبھی کسی اور بہانے سے خواتین ممبران کو ہراساں کرتے تھے۔ اس زہر آلودہ زبان کا نشانہ سسی پلیجو سے لے کر کئی خواتیں ممبر بنیں۔ اسی مشرفی و الطافی دور میں ممبر قومی اسمبلی محترمہ شازیہ مری کو ایک حکومتی ممبر نے پریم پتر لکھا تو مراد علی شاہ اور نواز چانڈیو نے بھری اسمبلی میں اس ممبر کی درگت بنادی تھی۔ لیکن آج کی پیپلز پارٹی نے ارباب رحیم کی بدکلامی کو ہی مات نہیں دی اس کے ساتھ سندھ کی عظیم روایات، رواداری، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی یہ کہہ دے کہ پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کی میراث ہے اورموجودہ قیادت بینظیربھٹو کے نقش قدم پرچل رہی ہے توپھراس سے بڑی بدگمانی کوئی نہیں ہو سکتی۔ مجھے توسندھ اسمبلی ایسا قبرستان لگی جس میں بینظیر بھٹو کی چھوڑی ہوئی میراث، رواداری اور اخلاقی اقدار کوآج کے جیالے وزرانے دفن کردیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 34 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar

2 thoughts on “سندھ اسمبلی یا بینظیر بھٹو کی دانش کا قبرستان

  • 21-01-2017 at 11:29 pm
    Permalink

    aap ke aik aik lafz se itefaq hai,,

  • 23-01-2017 at 3:30 pm
    Permalink

    اب کیا خیال ہے برادر۔
    کیا واقعی پی پی پی کی دانش دفن ہو گئی ہے۔ یا پی پی پی کی دانش پر تبری کا موقع تلاش کرنے والے دفن ہو گئے ہیں

Comments are closed.