مولانا سلیم اللہ خان ۔ایک درویش استاد کاداغِ فراق


\"\"عمر بھر دیے سے دیے جلاتے رہے اور زندگی میں انبیاء کے وارث ہونے کا کماحقہ ثبوت دے دیاکہ ’یوں‘۔ بے شک قابل رحم لوگوں کے بیچ قابل رشک زندگی گزار نے کے بعد اگلے جہاں رخصت ہو کر حضرت مولانا سلیم اللہ خان نوراللہ مرقد ہمیشہ کیلئے امرہوگئے ،اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے ارتحال سے ہم خیرالقرون کی ایک عظیم اور مجسم یادگار سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوئے جس کی بظاہرتلافی ہونے کا اس پرفتن دور میں دور دور تک امکان نہیں۔ حقیقی معنوں میں درویش بنے اور ہرکسی کو درویشانہ زندگی اپنانے کی تلقین کرتے رہے ۔ علوم ربانیہ کے بیش بہا ذخیرے سے سینے کو معمور کرکے تشنگانِ علم کو سیراب کرنے کے ساتھ  ساتھ روح کو صحت مند بنانا ان کا خاص اور بنیادی مشن رہا ۔خوش نصیبی کی انتہا دیکھ لیجیے کہ قرآن کریم کوسالوں کی محنت کی بجائے ستائیس دن ، صرف ستائیس دن ہی میں اپنے سینے میں محفوظ کر لیا جو کسی معجزے سے کم نہیں، اور یہ بھی کیا کم خوش قسمتی ہے کہ’ شیخ المشائخ مولانا حسین احمد مدنی‘جیسی بلند قامت شخصیت کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل کرکے کئی سال تک ان کی مصاحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشند خدا ئے بخشندہ
اُسی وقت کے متحدہ ہندوستان کا ضلع مظفر نگر مولانا مرحوم کی جائے تولد ہے جہاں 25 دسمبر 1926ء میں انہوں نے ایک معزز آفریدی خاندان (جو بہت پہلے یہاں کے خیبرایجنسی کے تیراہ سے ہجرت فرماچکے تھے) میں آنکھ کھولی۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے مشہور خلیفہ مولانا مسیح اللہ خان کے ہاں ابتدائی علوم کی تحصیل کے بعد انیس سوبیالیس میں انہیں برصغیر کے ممتاز دینی ادارے (ام المدارس) دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت گنگوہی ؒ کے قائم کردہ اس ادارے کی آغوش میں تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ اور دیگر علوم سے اپنے سینے کو منور کرتے رہے جہاں سے 1947ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ سند فراغت حاصل کی۔ مولانا مرحوم کو شیخ المشائخ علامہ حسین احمد مدنی کے شاگرد رہنے اوران سے ایک تعلق کے علاوہ وقت کے اُن جلیل القدر علما کے حلقوں میں نشست وبرخاست کے بھی کثیر مواقع ملے جوسرمایہ امت تھے۔ دارلعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد تدریس کیلئے اپنے ہی علاقے حسن پور لوہاری میں مولانا مسیح اللہ خان کے مدرسے کا انتخاب کیا جہاں تقریباً مسلسل آٹھ سال تک علوم دینیہ کی روشنیاں بانٹنے کا فریضہ سرانجام دیا۔ پاکستان کی طرف ہجرت فرمانے کے بعد سندھ کے ٹنڈوالہ یار کے ایک مدرسے میں درس وتدریس سے منسلک رہے اور پھر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے قائم کردہ عظیم دینی ادارے دارالعلوم کراچی میں دس سال مختلف علوم پڑھائے۔ مولانا مرحوم اپنے بے پناہ دینی جذبے اور علامہ محمد یوسف بنوری کے اصرار پر فارغ اوقات میں جامعہ بنوری ٹاﺅن ( موجودہ نیوٹاﺅن ) میں بھی مختلف اسباق پڑھانے کیلئے وقت نکالا \"\"کرتے تھے، بعد میں ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں شاہ فیصل کالونی کے علاقے میں ’جامعہ فاروقیہ ‘ کے نام سے ایک الگ ادارہ قائم کرنے کا اہتمام کیا۔ مولانا ہی کی شب و روز مسلسل محنت اور خلوص کا نتیجہ تھا کہ جامعہ فاروقیہ کا شمار اس وقت ملک کی چوٹی کی چند اہم جامعات میں ہوتا ہے۔ یہ جامعہ قرآنی علوم، احادیث نبوی، فقہ، اصول فقہ اور دیگر علوم کے ساتھ ساتھ  طلبا کیلئے عصری علوم کے تقاضے بھی پورے کررہی ہے ۔تخصص فی الفقہ Specialisation in Fiqaa، تخصص فی الحدیث ، دارالافتاء اور کمپیوٹر کورسز، کے علاوہ تصانیف کا شعبہ بھی یہاں پر قائم ہے جہاں سے چار زبانوں میں ’ الفاروق ‘ کے نام سے ماہانہ جریدہ بھی نکلتا ہے۔جامعہ فاروقیہ میں سینتالیس سال پڑھانے کے باوجود بھی مولانا مرحوم کی زندہ دلی کا یہ عالم تھا کہ زندگی کے آخری برسوں میں بھی احادیث پڑھانے کا ذوق برقرار رہا۔ دل کے امراض کے علاوہ کئی اور بیماریوں نے انہیں گھیر رکھا تھا لیکن اس کے باوجود وہ صبح سویرے لڑکھڑاتے مسند حدیث پر تشریف فرما ہوتے اور قال اللہ اور قال رسول ﷺ کیلئے بسم اللہ کرتے۔ مفتی نظام الدین شامزی شہید، ڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہید، مفتی اعظم پاکستان مولانا محمدرفیع عثمانی اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی جیسی عظیم شخصیات کے مربی واستاد رہنے کے علاوہ ہزاروں شاگرد پیدا کیے۔ مجھ جیسے گناہ گار کو بھی ان کے تلمیذ رہنے کا شرف حاصل رہا جو میرے لئے ایک بڑی سعادت سے کم نہیں۔جامعہ فاروقیہ جیسے عظیم علمی مرکز میں قیام کے دوران حضرت مرحوم کی نشست وبرخاست کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ منکسرالمزاجی ان کا طرہ امتیاز تھا ۔ تکلفات سے جس طرح اپنے آپ کو کوسوں دور رکھا ، اسی طرح اپنی روحانی اولاد کو بھی بے جا تکلفات سے منع فرماتے۔ اکثر دینی مدارس میں عموماً ختم بخاری کی تقریب کے وقت فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کے والدین ، اقارب اور دوست بہت دور سے آتے ہیں جنہیں مفت میں ہمہ وقت گوناگوں مشکلات سے پالا پڑتا ہے۔ لیکن مولانا کو طلبا کی یہ دعوتیں اور والدین کو بلانے کا یہ عمل سخت ناگوار ہوتا تھا ، جس کی وجہ سے وہ ہرسال مذکورہ تقریب کے دن کی تاریخ صیغہ راز میں رکھتے تاکہ اس دن کے لیے دعوت ناموں ،کارڈز یا اشتہاری بینرز کی نوبت نہ آئے اور نہ ہی اپنے والدین اور اعزہ کو آنے کا موقع مل سکے۔ختم بخاری کی سالانہ تقریب سے کچھ دن پیشتر انہوں نے ہمیں ایک دن مخاطب کرکے فرمایا’ کچھ دنوں بعد آپ لوگوں میں سے ہرایک نے اپنے اپنے علاقوں میں جانا ہے جن حضرات کو دینی اداروں میں پڑھانے کا موقع ملا، وہ اسی سے شعبے سے پیوستہ رہیں اور جنہیں درس وتدریس کے مواقع میسرنہ ہو ں وہ سال کیلئے دین کی تبلیغ وترسیل کیلئے نکل جائے وگرنہ اپنے گھرہی پر والدین کی خدمت اور روزگار کو اپنا لیں۔ لیکن خبردار ! ایک بات سن لیں ،آج کل ایک بڑی تعداد میں دین اسلام کے مقدس نام پر مسلح تنظیمیں وقتاً فوقتاً برآمد ہو رہی ہیں، ان کے ہتھے چڑھنے سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا‘۔
آج بھی مولاناکی اسی پیش گوئی کے الفاظ یاد آتے ہیں جو حالات حاضرہ پرحرف بحرف صادق آتے ہے کہ یہ ہرکارے کن کن مقاصد کیلئے دین محمدیﷺ کے تحفظ کی آڑ میں کیا کیا کریں گے ؟۔ 1989ء میں وفاق المدارس کے صدر منتخب ہوئے اور تادم مرگ اس ادارے کے صدر کے طور پر ادارے کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آپ ہی کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ سالانہ دولاکھ سے زیادہ طلبا وطالبات وفاق المدارس بورڈ کے تحت امتحان دے رہے ہیں۔ دینی مدارس کو عصر حاضر میں درپیش چیلنجز سے نکالنا اور مختلف مکاتب فکر کے دینی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی الفت پیدا کرکے اسے اتحاد المدارس کے پلیٹ فارم پرجمع کر دیا۔ سینتالیس سال تک مختلف درسی کتب بالخصوص صحیح بخاری پڑھانے کے علاوہ حضر ت نے تالیف و تصنیف کا مشکل کام بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا۔ ان کی مشہور تصانیف میں صحیح بخاری کی چوبیس جلدوں پرمشتمل ضخیم شرح ’ کشف الباری ‘ کے علاوہ مشکوٰة المصابیح پرپانچ جلدوں پر مشتمل شرح ’ نفحات التنقیح‘ کے نام سے شائع ہوکرچند سال پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ اس کے علاوہ عربی زبان میں امام بخاری کی احادیث نبویﷺ کی خدمات پر ایک جامع مقالہ اور اردو اداریوں ومضامین کا مجموعہ ’ صدائے حق‘ لکھنے کا سہرا بھی حضرت علیہ الرحمتہ کے سرہے۔احادیث نبویﷺ کے استاد کامل ، سلوک ومعرفت کی معراج سے حد درجہ واقف اور روشنیوں کی طرف پیہم دعوت دینے والا یہ روشن ستارہ چھیانوے سال کی عمر میں جنوری کی پندرہ تاریخ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوا، اللہ تعالیٰ انہیں علیین میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، آمین
فلک تیری لحد پر شبنم افشانی کردے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مولانا سلیم اللہ خان ۔ایک درویش استاد کاداغِ فراق

  • 22-01-2017 at 9:34 am
    Permalink

    bohat acha informative intro likha,, Allah Marhom ko Jannat main aala muqam ata farmain aur huamain un ki taqleed krne ki tofeeq. Ameen

Comments are closed.