امریکہ کے پینتالسویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملیے


\"\" آج نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک شاندار تقریب میں حلف وفاداری اٹھا کر امریکہ کے پینتالسویں صدر بن گئے۔چیف جسٹس جان روبرٹس نے سے ان سے حلف لیا۔سابق امریکی صدور جمی کارٹر، جارج بش، بل کلنٹن، اور بارک حسین اباما اپنی بیگمات کے ساتھ حلف وفاداری کی اس تقریب میں شریک ہوئے۔سینئر بش اور ان کی بیگم بیمار اور ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے اس تقریب میں شرکت نہ کر سکے۔خیال رہے ہیلری کلنٹن ڈونالڈ ٹرمپ کی حریف تھیں۔انہیں عام انتخابات میں ڈونالڈ کے مقابلے میں تیس لاکھ ووٹ زیادہ ملے۔لیکن صدر کا چناؤ انتخابی کالج کے منتخب ارکان کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔انتخابی کالج میں ڈونالڈ ٹرمپ کو 304 اور ہیلری کلنٹن کو صرف 228 ووٹ ملے۔امریکی صدر منتخب ہونے کے لئے 280 ووٹ کافی ہوتے ہیں۔

کانگریس کے بہت سے ڈیموکریٹ ارکان احتجاجا~ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف وفاداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

ہیلری کلنٹن کے بقول وہ جمہوریت اور اس کی انمول اور انمٹ اقدار کے احترام اور ملک اور اس کے مستقبل پر پختہ ایمان کی وجہ سے حلف وفاداری کی تقریب میں شریک ہوئیں۔\"\"

ڈونالڈ ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں۔پہلی بیوی ایوانہ 1977 سے 1992 تک ان کی شریک حیات رہی۔اس سے ان کے دو بیٹے ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر اور ارک ٹرمپ، اور ایک بیٹی ایوانکہ ٹرمپ ہے۔ایوانہ سے طلاق کی وجہ ڈونالڈ کا مارلا میپلز سے عشق تھا۔مارلا 1993 سے 1999 تک چھ سال ان کی بیوی رہی اور اس سے ڈونالڈ کی ایک بیٹی ٹیفونی ٹرمپ ہے۔ڈونالڈ نے تیسری شادی سلووینیا کی ایک ماڈل میلانیہ سے 2005 میں کی۔اس سے ڈونالڈ کا ایک بیٹا بیرن ٹرمپ ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ کی سابقہ بیویاں بھی حلف وفاداری کی تقریب میں شریک تھیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے اور بیٹی ایوانکہ اس کی انتظامیہ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ایوانکہ تو وائٹ ہاؤس میں وہی آفس استعمال کرے گی جو سابق خاتون اول مشعل کے زیر استعمال تھا۔اس وجہ سے کچھ لوگوں نے ایوانکہ کو خاتون اول کہنا شروع کر دیا۔ایوانکہ کو وضاحتی بیان \"\"جاری کرنا پڑا کہ وہ خاتون اول نہیں، ان کی سوتیلی ماں میلانیہ ٹرمپ خاتون اول ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکہ اور ہیلری کلنٹن کی بیٹی چیلسی گہری سہیلیاں ہیں۔دونوں خاندانوں کی انتخابی رقابت کے باوجود ان کی دوستی میں کوئی دراڑ نہیں پڑی۔انتخابات کے بعد دونوں نے یہی بیان دیا کہ ان کی دوستی سیاست اور انتخابات سے پہلے شروع ہوئی اور بعد میں بھی جاری رہے گی.

حلف وفاداری کی تقریب کے بعد نئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ارکان کانگریس کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ پھر وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک جلوس کی شکل میں کیپٹل ہل سے وائٹ ہاؤس گئے۔ ٹرمپ کے مخالفوں نے جلوس کے راستے میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مظاہرین کو جلوس کے راستے سے دور بازاروں میں روک لیا۔ ان مظاہرین میں سیاہ جھنڈے اٹھائے اور منہ پر سیاہ نقاب ڈالے کچھ شرپسند بھی گھس گئے اور انہوں نے دکانوں اور عمارتوں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے کوئی سو کے قریب شرپسندوں کو گرفتار کر لیا۔\"\"

ڈونالڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے ارب پتی صدر ہیں۔ انہوں نے صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد جو تقریر کی اس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔

آج اقتدار ایک صدر سے دوسرے صدر یا ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو نہیں بلکہ واشنگٹن سے امریکی عوام کو منتقل ہوا ہے۔ اب امریکی عوام کی اپنے ملک پر حکمرانی بحال ہو گئی ہے۔

آج کے بعد ہمیں ایسے سیاستدان قبول نہیں جو بس بولتے ہیں لیکن عمل نہیں کرنے۔ شکایتیں کرتے ہیں لیکن ان شکایتوں یا مسائل کو حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ باتوں کا وقت گزر چکا۔ اب کام کرنے کا وقت ہے۔

آج سے ہماری ویژن سب سے پہلے امریکہ ہو گی۔ میں وہی فیصلے کروں گا جو امریکہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہوں۔ ہماری تجارت، ٹیکس، امیگریشن، اور خارجہ پالیسی سب امریکی مفادات کے تابع ہوں گی اور ان سے امریکی ورکروں اور خاندانوں کو فائدہ ہو گا۔

ہم دو سادہ اصولوں پر عمل کریں گے۔وہ ہیں امریکہ کی بنی ہوئی مصنوعات خریدنا اور امریکیوں کو ملازمت دینا۔\"\"

ہم اپنی نوکریاں، سرحدیں، دولت، اور خواب واپس لائیں گے۔

آج سے قومی دولت پر ایک مراعات یافتہ گروہ کی اجارہ داری ختم ہے۔قومی دولت پوری قوم کے لئے ہے۔

ہم پرانے اتحادوں کو مظبوط کریں گے اور نئے اتحاد بنائیں گے تاکہ مہذب دنیا متحد ہو کر ریڈیکل اسلامی دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔ ہم اسلامی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

نئے امریکی صدر یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ صدر بنتے ہی وہ مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے۔

کانگریس سے درخواست کریں گے کہ وہ اباما صحت پلان کو کالعدم کرکے نیا صحت پلان بنائے۔\"\"

امیگریشن یا مہاجرین سے متعلق اباما کے جاری کردہ تمام احکامات منسوخ کر دیں گے.

امریکہ کی جنوبی سرحد پر ناقابل عبور دیوار کی تعمیر۔ اس کے اخراجات میکسیکو کو ادا کرنا ہوں گے۔

جو غیرقانونی تارکین وطن جرائم میں ملوث ہوں گے انھیں فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “امریکہ کے پینتالسویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملیے

  • 22-01-2017 at 9:40 am
    Permalink

    don’t we all knew this?? whats point of publishing this???

Comments are closed.