ٹرمپ کی صدارت کا دھچکوں بھرا آغاز


\"\" دنیا کے لگ بھگ چھ سو شہروں میں لاکھوں لوگوں نے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر احتجاج کیا ہے۔ امریکہ میں اس احتجاج کا اہتمام خواتین کے ایک اتحادنے کیا ہے۔ امریکہ کے تین سو شہروں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ریلیاں نکل رہی ہیں اور مقررین نے ان کے غیر متوازن اور متعصبانہ خیالات کو نشانہ بنایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین امریکہ کے نئے صدر پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں اور ان کی طرف سے انسانیت اور عدم مساوات کے خلاف اقدامات کی سخت مزاحمت کی جائے گی۔ اس دوران ٹرمپ نے کل صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھرپور دن گزارا اور پہلے ہی دن دو احکامات پر دستخط کئے ہیں۔ ان میں ایک حکم نامہ ہیلتھ انشورنس کی متنازعہ اسکیم اوباما کیئر کو محدود کرنے کے بارے میں ہے جبکہ دوسرے میں انشورنس کمپنیوں کے گاہکوں کو ملنے والی مراعات کو واپس لیا گیا ہے۔

امریکہ کے نئے صدر کے خلاف مظاہرے امریکہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ہورہے ہیں ۔ اس کے علاوہ یورپ کے تمام دارالحکومتوں میں بھی نئے امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے اور قوم پرستانہ متعصب رویہ کے خلاف ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حسب عادت ٹوئٹ پیغام کے ذریعے مظاہرین پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ مظاہرے پیشہ ور لوگ میڈیا کے اکسانے پر منظم کررہے ہیں ۔ ٹرمپ کے حوالے سے سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہی سمجھی جاتی ہے کہ وہ مخالفانہ رائے سننے اور خود کو غلط سمجھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ کل صدر کا حلف اٹھانے کے بعد بھی انہوں نے جو تقریر کی تھی ، اس نے پوری دنیا کو حیران کیا ہے۔ عام طور سے اس موقع پر کی جانے والی تقریر میں نیا صدر حامیوں کے علاوہ مخالفین کو بھی ساتھ ملانے اور اختلافات بھلا کر مل جل کر کام کرنے کی بات کرتا ہے۔ لیکن اس تقریر میں انہوں نے ایک طرف امریکی قوم پرستی کا راگ الاپا تو دوسری طرف تمام سیاسی قیادت اور سابقہ امریکی حکومتوں کو نااہل اور امریکہ مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حقیقی معنوں میں اقتدار عوام کو منتقل ہؤا ہے۔ ماضی میں امریکہ دوسروں کے مفادات کے لئے کام کرتا رہا ہے۔ اب امریکہ امریکیوں کے لئے کام کرے گا اور اس ملک کو عظیم بنایا جائے گا۔

امریکہ کے بڑے اخباروں نے اس دعوے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ امریکہ تو پہلے ہی ایک عظیم ملک ہے ۔ جب ٹرمپ اسے مسائل کا گڑھ اور ناقص معاشرہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ خود کو ناقابل اعتبار ثابت کرتے ہیں۔ اس رویہ کے لیڈر سے ملک کی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مؤقف پر اصرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف وہی امریکہ کو موجودہ مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں۔ تاہم امریکہ کے عوام کی طرح پوری دنیا بھی اس بات کا انتظار کرے گی کہ وہ کس طرح اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے امریکہ میں غربت، بیروزگاری، جرائم، مار دھاڑ اور عدم اطمینان کا خاتمہ کرسکیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو سب سے زیادہ اپنے متعصبانہ اور عدم یک جہتی کے خیالات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کل اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ ملک کے ہر رنگ کے لوگ یکساں محب وطن ہیں اور ان کے درمیان رنگ کی بنیاد پر تقسیم نہیں کی جا سکتی کیوں کہ سب کی رگوں میں بہنے والے خون کا رنگ سرخ ہے۔ لیکن مبصرین نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ تقریر کے مختصر حصے میں یہ بات کہنے کے باوجود ٹرمپ اپنی تقریر میں ہمہ گیریت اور سب کے صدر ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنے سوا سب کو نااہل اور مفاد پرست قرار دیا اور یوں ظاہر کیا جیسے امریکہ تباہ کے کنارے پر کھڑا ہے اور اب وہ اس کی نیا پار لگانے کے لئے اقدامات کا آغاز کریں گے۔

ٹرمپ امریکہ کے متوسط سفید فام طبقے کی بھرپور حمایت کی وجہ سے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن یہ حمایت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے باقی سب اقلیتوں کو سخت ناراض کیا ہے۔ امریکہ کے سیاہ فام باشندے ، لاطینی آبادی اور مسلمان ٹرمپ کی کامیابی سے یکساں طور سے ہراساں ہیں۔ آج اس خوف کا اظہار سینکڑوں امریکی شہروں میں لاکھوں افراد نے مظاہرہ کے ذریعے کیا ہے۔ دنیا ان کے امریکہ کی قومیت پرستی کے نعروں اور عالمی دفاع اور ماحولیات کے حوالے سے غیر واضح لیکن مخالفانہ اعلانات کی وجہ سے پریشان ہے۔ وہائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آتے ہی صدارتی ویب سائٹ سے اقلیتی گروہوں کے ساتھ یکجہتی اور عالمی ماحولیات کی بہتری کے معاہدے کے حوالے سے معلومات حذف کرلی گئی ہیں۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ کرہ ارض پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو محدود کرنے کے لئے طے پانے والے معاہدہ سے امریکہ کو نکال لیں گے۔ اس فیصلہ کے دنیا میں موسمی تبدیلیوں کے خلاف جد و جہد کو شدید دھچکہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 647 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali