مغربی ممالک کی سی پیک میں دلچسپی



\"\" پاک چین معاشی راہداری کی گونج اب مغربی ممالک میں بھی سنائی دی رہی ہے۔ یورپی یونین کے کئی ایک ممالک خاص کر برطانیہ سی پیک میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ عمومی طور پر برطانیہ پاکستان کی تعلیم اور سماجی شعبے میں مدد کرتا ہے لیکن اب پہلی مرتبہ وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر میں دلچسپی ہی نہیں لے رہا بلکہ کچھ منصوبوں کی تعمیر کے لیے خطیر رقم بھی فراہم کر رہا ہے۔

مغرب کی یہ خوبی ہے کہ وہ اقتصادی مفادات کو سیاسی تنازعات یا اختلافات کا شکار نہیں ہونے دیتے۔ وہ تنازعات اور سیاسی محاذ آرائی کے بیچ سے بھی اپنے عوام اور ریاست کی خوشحالی کی راہیں نکال لیتے ہیں۔ روس، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی سی پیک میں دلچسپی نے اسے غیر معمولی اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ ہر کوئی اس مختصر روٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اپنی منصوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جرمنی کے اسلام آباد میں سفیر باخبر شہریوں سے ملاقاتوں میں استفسار کرتے رہے ہیں کہ ان کا ملک کس طرح سی پیک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اقتصادی راہداری کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ کر کئی ایک ممالک کو احساس ہوا کہ وہ اس کا حصہ بن جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اقتصادی ثمرات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ محض سڑکوں کا کوئی منصوبہ نہیں بلکہ کئی بڑے اقتصادی منصوبے اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ریلوے، پائپ لائنیں، بجلی گھر اور بڑے اقتصادی زون۔ اگلے چند سالوں میں ہونے والی اس سرمایہ کاری سے پاکستان میں ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔ بیرون ممالک سے کئی ایک سرمایہ دار اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب ہو رہی ہیں۔ ابھی سے مسابقت کا ایک ماحول نظر آنا شروع ہوگیا۔

علاوہ ازیں ملک میں امن وامان کی صورت حال میں آنے والی بہتری سے بھی کاروبار اور روزگار کے بے شمار مواقع نکلتے نظر آرہے ہیں۔ بازاروں میں غیر ملکیوں اور خاص کر چینی شہریوں کی بڑی تعداد گھومتی پھرتی نظر آتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں چینی زبان پڑھائی جانا شروع ہوچکی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے بھی چینی زبان کے چھوٹے چھوٹے کورسز کرا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو چینی کمپینوں کے دفاتر اور فیلڈ میں کام میسر آسکے۔

افراد اور اداروں کی طرح ملکوں نے بھی ایک سنگ میل عبور کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد غربت کا خاتمہ کوئی دیوانے کی بڑ نہیں رہتی۔ سرمایہ سرمائے کو کھینچتا ہے اور ڈوبتے ہوئے ادارے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ چین پاکستان میں پچاس بلین ڈالر سے زائد کی رقم مختلف تعمیراتی منصوبوں میں صرف کرنے جا رہا ہے تو دوسرے ممالک اور عالمی اداروں کا دلچسپی لینا ایک فطری امر ہے۔

اسی بارے میں: ۔  انتخابی موسم میں نئے کاروباری امکانات

اور تو اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھی تجویز پیش کی ہے کہ کشمیر کے ذریعے بھارت پاک چین اقتصادی راہداری سے مربوط ہوسکتا ہے۔ اس طرح اسے قدیم اور تاریخی سلک روٹ سے منسلک ہونے کا موقع ملے گا اور یہ خطہ ترقی کرے گا۔ انہوں نے پہلے سے جاری انٹرا کشمیر ٹریڈ کی مثال دی جس کے معاہدے میں معمولی سی تبدیلیوں سے کشمیر کو بھی سی پیک کے ثمرات سے مستفید کیا جاسکتا ہے۔ چند دن قبل بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا نے سینئر بھارتی شہریوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر کے دورے کے بعد ایک رپورٹ حکومت کو پیش کی جس میں کہا گیا کہ کشمیر میں پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ جڑنے کے لیے کافی اشتیاق پایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے کورکمانڈر لیفٹینٹ جنرل عامر ریاض نے بھی بھارت کو دعوت دی ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہ داری کے اقتصادی ثمرات کو سمیٹنے کے لیے اس کا حصہ بن جائے اور اس کی مخالفت ترک کر دے۔ فی الحال تو بھارت اس طرح کا کوئی فیصلہ کرنے کے موڈ میں نہیں بلکہ وہ ہمسایہ ممالک کے اشتراک سے متبادل روٹ اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔

امریکہ نے ابھی تک کھل کر پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالفت نہیں کی لیکن وہ خوش بھی نظر نہیں آتا۔ چین کے ساتھ اس کی قتصادی مسابقت ہی نہیں بلکہ وہ اس کے مسلسل فروغ پذیر عالمی کردار سے بھی خائف ہے۔ ساوتھ چائنا سمندر میں امریکہ اور جاپان مشترکہ طور پرچین کے خلاف مورچہ قائم کرچکے ہیں۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کہ وہ چین کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کریں گے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ واشنگٹن کی موجودہ اسٹیبلشمنٹ چین اور روس کے سخت خلاف ہے۔ اگر ٹرمپ نے کوئی لچک دار پالیسی اختیار نہ کی تو خطے میں امریکہ اور بھارت کے مفادات یکساں ہوجائیں گے۔ وہ دونوں جاپان کے ساتھ مل کر چین کے خلاف اقدامات کریں گے۔ چونکہ پاکستان بھی چین کا گہرا حلیف ہے لہٰذا اسے بھی مشکلات کا شکار کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر افغانستان میں اس کا کردار اور بھارت مخالف جہادی گروہوں کی پاکستان میں موجودگی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ میں پاکستان مخالف لابی کے محبوب اور آزموجودہ ہتھیار ہیں۔ وہ کئی عشروں سے یہ کوڑا پاکستان کی بیٹھ پر برسا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دور بھی کوئی زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  ڈرون، ملا منصور اور ہماری خارجہ پالیسی

اگر خوش قسمتی سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں ٹھہراؤ آگیا تو پھر امکانات کے نئے دروازے وا ہوسکتے ہیں۔ خاص کر افغانستان میں قیام امن کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کرسکتے ہیں۔ امریکہ بھارت کو جب کہ چین پاکستان کو افغانستان میں سیاسی اور معاشی استحکام پیدا کرنے کی طرف راغب کرسکتا ہے۔ امریکہ اور چین مل کر پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے بھی کام کرسکتے ہیں۔

اگلے چند ماہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے خطوط اور مستبقل کا نقشہ سامنے آئے گا۔ فی الحال صرف قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان کو جہاں داخلی سلامتی کی فکر کرنا ہوگی وہاں ان غیر ریاستی عناصر کی بھی سختی سے سرکوبی کرنا ہوگی جو پاکستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرتے ہیں یا پھر اس کے جھوٹے اعلانات کرتے ہیں۔

یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ کب تک چین جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر کر کے دہشت گرد قرار دلوانے سے بچاتا رہے گا۔ پاکستان نے ان عناصر کو غیر موثر کرنے کے لیے بے پناہ کام کیا ہے۔ اسے اس سلسلے میں کافی کامیابیاں بھی ملی ہیں لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ ترقی کا سفر اور مغربی ممالک کی مخالفت بالخصوص امریکہ سے محاذ آرائی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ کہتے ہیں نا کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ فی الحال دنیا کے مالیاتی، سماجی اور ابلاغی اداروں پر امریکی گرفت مضبوط اور گہری ہے۔ ایسے مواقع پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے جہاں بھارت اور امریکہ مشترکہ طور پر پاکستان کے خلاف بروئے کار آسکیں۔

_______


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 35 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood