براک حسین اوباما، عظیم امریکی صدر اور ان کی روایت


\"\"سنہ 2008 کے امریکن انتخابات کے بعد کچھ لوگوں کو لگا کہ امریکہ سے نسلی امتیاز کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اب ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، اورکیے لوگ ایسے بھی تھے جو جانتے تھے کہ امریکہ ایسی کسی بات سے کوسوں دور ہے۔ اس ظاہری اور چھپی نسل پرستی کے باوجود ایک نئے دور کے آغاز کا جشن منایا گیا۔ براک اوباما کی صدارتی انتخاب کی جیت نے افریقی امریکیوں کو ذہنی غلامی سے نکالا اور وہ خود اعتمادی دی جس وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، لاکھوں نوجوان لوگوں کو امید کی ایک کرن دکھائی کہ ”ہاں ہم کر سکتے ہیں“۔

صدارت کے آغاز سے ہی صدر اوباما کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا تھا جن میں ڈوبتی معیشت کو بچانا، صحت کے نظام کو بحال کرنا، قومی سلامتی کے معاملات، اسامہ بن لادن کی تلاش، تعلیم، امیگریشن، دہشت گردی اور افغانستان عراق میں جاری جنگیں، تارکین وطن کے مسائل اور گوانتانامو بے بند کرنے کاچیلنج شامل تھے۔

 امیدیں جتنی بڑی ہوں کسوٹی ُاتنی ہی مشکل ہوتی ہے۔ آج آٹھ سالوں کے بعد اوباما کے دور صدارت کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اوباما کہاں کامیاب ہوئے اور کہاں ناکام ہوئے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ:
دہشتگردی کے خلاف جنگ صدر اوباما کو بش انتظامیہ سے وراثت میں ملی۔ 2009 میں جنگ افغانستان، عراق، صومالیہ اور القاعدہ تک محدود تھی۔ مگر آج آٹھ سالوں کے بعد یہ جنگ لیبیا، شام، ترکی اور یورپ تک پھیل گئی ہے۔ صدر اوباما کی سب سے بڑی کامیابی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو ختم کرنا ہے۔

صدر اوباما نے جہاں افغانستان اور عراق میں لڑنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم کیا، وہیں انہوں نے ڈرامائی طور پر ڈرون حملوں اور دنیا بھر میں خصوصی آپریشن فورسز کے استعمال میں خاطر خواہ توسیع کی جو کہ بش انتظامیہ کے دور سے 130فیصد زیادہ ہے۔ 2016 میں امریکی دستے دنیا کے 138 ممالک میں موجود ہیں جو پوری دنیا کا 70 فیصد بنتا ہے۔ گارڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق صرف 2016 میں اوباما انتظامیہ نے کم از کم 26، 171 بم گرائے، یہ گزشتہ سال، ہر دن 72 بم اور ہر گھنٹے تین ڈرون بم بنتے ہیں۔ ان فضائی حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ شام اور عراق میں تھے، امریکی بموں کا شکار افغانستان، لیبیا، یمن، صومالیہ اور پاکستان بھی بنے۔

\"\"

لندن میں قائم تحقیقاتی صحافتی بیورو جو سالوں سے  ڈرون حملوں کے  اعداد و شمار اکٹھے کر رہا ہے کے مطابق ڈروں حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت میں کئی گنا اضافہ ہوا، انتہائی محتاط اندازے کے بعد بھی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔ اس لحاظ سے باراک اوباما کو ڈرون جنگجو صدر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔

دہشت گردی کی خلاف جنگ میں صدر اوباما کے پاس 8 سالوں کے بعد دکھانے کو کچھ خاص نہیں ہے۔ دہشت گردی بجائے ختم ہونے کے اور پھیل گئے، القاعدہ کی کمر تو ٹوٹی مگر داعش اٹھ کھڑی ہوئے۔ جنگ زدہ افغانستان، عراق اور یمن اور تباہی کا شکار ہوئے۔ لیبیا، شام، یوکرین، مالی اور صومالیہ میں تشدد اور افراتفری میں اضافہ ہوا۔

خارجہ پالیسی:
اوباما کی خارجہ پالیسی شروع ہونے سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہو گئی، ان کو صرف نو ماہ کی صدارت کے بعد ہی 44 سال کی عمر میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا جبکہ اس وقت ان کی اہم کامیابیوں میں مشرق وسطی اور جوہری پھیلاؤ کے بارے میں صرف متاثر کن تقاریر تھی۔ اوباما کی آٹھ سالہ خارجہ پالیسی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے تہیہ کر رکھا تھا کے ”پلے اٹ سیف“ اور جارج بش جیسی کوئی حماقت نہیں کرنی۔ یہ رویہ بعد میں کسی حد تک ایک بوجھ بھی ثابت ہوا۔

کیوبا سے تعلقات کا آغاز اور ایران سے ڈیل ایک تاریخی قدم کے طور پر دیکھے جائیں گے۔ شمالی کوریا، لیبیا اور شام میں امریکی کردار یا کسی کردار کا نہ ہونا اوباما کے ماتھے کا کلنک ثابت ہوگا جیسا کے عراق جارج بش کا ثابت ہوا۔

اسی بارے میں: ۔  لاہور میں سموگ، گلوبل وارمنگ کا چیلنج

صدر اوباما کی سب سے بڑی  ناکامی امریکہ کا مڈل ایسٹ سے اپنے اثر اسوخ کا تقریبن خاتمہ ہے جہاں پر اب روس، ایران اور ترکی ایک نئی طاقت کے طور پر نمودار ہوئے ہیں، امریکہ کے خطے میں طویل مدتی اتحادیوں  سعودی عرب اور اسرائیل سے تعلقات نچلی ترین سطح پر پھنچ۔   عمومی طور پر اوباما کے آخری سالوں میں امریکہ کی دنیا پر گرفت کو کمزور ہوتے دیکھا  گیا۔

\"\"

معیشت:
2008 کے عالمی کساد بازاری کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلندی پر ہے، بے روزگاری کی شرح جو اکتوبر 2009 میں10 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ آج 4.6 فیصد ہے۔ اوباما نے 11 ملین لوگوں کا روزگار پیدا کیا۔ رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن اس تمام قابل ستائش کامیابیوں کے باوجود بہت لوگ اب بھی اپنے آپ کو اقتصادی طور پر غیر محفوظ محسوس کر رھے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اچھی معیشت کے ثمرات نہیں پہنچ پائے اور یہ عوام نے ٹرمپ کے تبدیلی اور ”امریکہ کو دوبارہ عظیم“ بنانے کے وعدہ پر ووٹ دے کر ثابت بھی کیا۔

اوباما کیئر:
ہیلتھ کیئر 2008 کی صدارتی مہم میں ایک اہم جزو تھا۔ اس سے پہلے امریکہ میں کوئی سرکاری صحت کی منصوبہ بندی نہیں تھی، انشورنس پالیسی کے بغیر عوام کو دنیا کی سب سے مہنگے صحت کے نظام کے رحم و کرم پر تھے۔ اوباما نے یورپ کی طرح ”یونیورسل ہیلتھ“ انشورنس کی مہم چلائی۔ سستا ہیلتھ کیئر ایکٹ جو اوباما کیئر کے طور پر جانا جاتا ہے، 50 سالوں میں پہلا سوشل سیکورٹی نیٹ ورک تھا۔ اس قانون نے 22 ملین امریکیوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی۔ اس قانون کو اب شدید خطرات لاحق ہیں، اب جبکہ ٹرمپ اور ان کی پارٹی کو کانگریس اور وائٹ ہاؤس پر کنٹرول حاصل ہے اوباما کیئر کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔

 ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change):\"\"
براک اوباما کو امریکہ کا ”پہلا کلائمیٹ چینج صدر“ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن صدر اوباما نے اپنے آخری سالوں میں ہی ماحولیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات پر کم کیا۔ پیرس کلائمیٹ چینج معاہدہ جس میں 196 ممالک نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے  پہلی جامع مسودہ پر دستخط کیے، اس میں ان کے چین، بھارت اور دوسسرے مملکوں کو راضی کرنے کی ذاتی کوششوں کو سراہا گیا۔
مقامی سطح پر اوبامہ نے کوششیں تو بہت کی مگر کاربن کے اخراج کو روکنے میں ناکام رہے،   مگر اپنے کئی ایگزیکٹو آرڈر سے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے قوانین اور گاڑیوں پر ایندھن کے نئے معیارات مقرر کیے۔ آخر میں، مارکیٹ فورسز نے بھی مدد کی۔ شمسی توانائی، ہوا اور گیس کی کم ہوتی لاگت  نے کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں کو روکنے میں مدد کی۔ انہوں نے کرسمس سے پہلے آرکٹک اور بحر اوقیانوس میں امریکی ملکیتی پانی میں نئے تیل اور گیس کی تلاش مستقل طور پر پابندی لگا دی۔ اس طرح انہوں  نے  265 ملین سے زمیں اور پانی کو محفوظ کیا جو کسی بھی دوسرے امریکن کمانڈر ان چیف کی نسبت زیادہ ہے۔

گارڈین اخبار اور کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اوباما انتظامیہ نے مختلف ممالک میں کوئلے، تیل اور گیس کے منصوبوں میں 34 بلین کی سرمایہ کاری کی۔ ان میں سے 70 منصوبے فوسل ایندھن کے بھی تھے۔ یہ کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے انرجی کی مد میں بیرونی ملک سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے۔ ان منصوبوں کا یقینی طور پر مقامی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی بہت برے اثرات نمودار ہوں گے۔ فوسسل ایندھن میں اوباما کی بیرون ملک سرمایہ کاریوں نے ان کے کلائمیٹ چینج کے ریکارڈ کو بری طرح متاثر کیا۔

گن کنٹرول:
دسمبر 2012 میں سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں ہونے والے المناک واقعے ۔ جس میں 20 پہلی کلاس کے بچوں کو  کلاس رومز میں قتل کر دیا تھا۔ سے پہلے اوباما نے گن کنٹرول پرکچھ بھی نہیں کیا۔ اوباما نے اس واقعے کو اپنی صدارت کا بدترین دن کہا، اور گن کنٹرول قوانین کے  پرجوش حامی بن گئے۔ لیکن اوباما کی امریکہ میں گن قوانین میں اہم تبدیلیاں لانے کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ 2013 کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے بندوقوں کے خریداروں کے پس منظر کو  چیک کرنے اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی کے قانون کو رد کرنے کے باوجود بھی جون 2016 میں کی گئی ایک اور کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی۔ اوباما کے آخری دو سالوں میں ماس شوٹنگس اور گن کرائمز حالیہ امریکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باوجود بھی اوباما گن کنٹرول کے حق میں کوئی بڑا اقدام کرنے میں ناکام رہے۔

اسی بارے میں: ۔  نیک دل کفار کے بارے میں ایک وسوسہ

مشیل اوباما وائٹ ہاؤس اور سوشل میڈیا، :\"\"
صدراوباما کا دور مجموعی طور پر کسی بڑے اسکیڈل سے پاک رہا۔ مشیل اوباما صدر اوباما کی بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ صدر اوباما شکاگو میں اپنی آخری تقریر میں مشیل اوباما کے ساتھ اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے  آبدیدہ ہو گئے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ مشیل اوباما، الانور روزویلٹ (1933۔ 1945) کے بعد سب سے متحرک اور فعال ترین خاتوں اول تھی۔ مشیل اوباما نے وائٹ ہاؤس کے پلیٹ فارم کو استعمال کو کرتے ہوئے خواتین اور بچیوں کی تعلیم، صحت اور حقوق کی بھرپور وکالت کی اور وائٹ ہاؤس کے دروازے ہر عمر اور طبقے پر کھول دیے۔ اوباما امریکی تاریخ کے صحیح معنوں میں پہلے ”سوشل میڈیا صدر“ کے طور بھی پر جانے جائیں گے۔ انہوں نے اور خاتون اول مشیل اوباما نے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ  سارے مقبول ٹیلی ویژن شوز میں بھی شرکت کی اور روایتی فرسٹ فیملی اور وائٹ ہاؤس کے کے کردار کو امریکی معاشرے میں نئی بلندیوں تک پہچا دیا۔ اوباما خاندان نے پچھلے آٹھ سالوں میں وہ میراث قائم کی ہے جسے ٹرمپ خاندان کا شاید چھو بھی نہ سکے۔ اوباما انتظامیہ نے خواتین اور ہم جنس پرستوں کے حق میں تاریخی قوانین بنائے۔ جن میں خواتین کے لیے مساوی تنخواہ کا قانون جو نا مکمل ہی سہی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

جو کچھ اوباما نے امریکہ کے لیے حاصل کیا وہ سب کچھ ریورس ہونے کا خطرہ بہرحال ڈونالڈ ٹرمپ کی شکل میں موجود ہے۔ اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آبائی شہر شکاگو میں آخری خطاب میں صدر اوباما نے کہا ”جمہوریت کو آپ کی ضرورت ہے، صرف الیکشن کے دن یا جب آپ کا ذاتی مفاد خطرے میں ہو تب نہیں بلکہ ساری زندگی اس کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔ “ ”اگر آپ کو لگتا ہے کہ کچھ ٹھیک کرنا ہے تو کمر باندھو اور منظم کرنا شروع کر دو، اگر آپ اپنے چنے ہوئے نمائندوں سے مطمین نہیں ہیں تو تو خود الیکشن میں کھڑے ہو جاؤ، کبھی آپ جیتو گے اور کبھی ہارو گے، مگر آپ کا امریکہ اور امریکی پرایمان ضرور مضبوط ہوگا۔ “

یہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے جب اوباما وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے اس وقت امریکہ افغانستان اور عراق میں حالت جنگ میں تھا اور معیشت تاریخی کساد بازاری سے گزر رہی تھی اور 2009 کے صرف ایک مہینے میں 8 لاکھ لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ایسی بدترین صورت حال ابراہم لنکن یا فرینکلن ڈی روزویلٹ کے سامنے بھی نہیں تھی۔ 2009 سے 2016 کے امریکہ میں جو بھی بہتری آئی وہ براک حسین اوبامہ کی ہی مرہوں منت ہے۔ میری نظر میں باراک اوباما امریکہ کے دس عظیم صدور میں شمار ہوں گے اور ان کا موازنہ سو سال پہلے آنے والے 28 ویں امریکی صدر وڈرو ولسن (1913۔ 1921) سے ضرور کیا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔