ظہیرالدین بابر سے بلاول بھٹوزرداری تک


(نذیر احمد خادم )۔\"\"

دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے اس مملکت خدادا دپر قائداعظم کے بعد جن سرمایہ دار طبقے کا قبضہ رہا، ان کے بارے میں قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں، میں نے دنیا بھر کے درجنوں سربراہان مملکت، وزرائے اعظم اور بادشاہوں کو کئی کئی مرتبہ کافی قریب سے دیکھا ہے لیکن میں کسی سے مرعوب نہیں ہوا اور نہ ہی کسی میں مجھے عظمت کا نشان نظر آیا جو مجھے جھنگ شہر میں شہید روڈ کے فٹ پاتھ پر پھٹے پرانے جوتے گانٹھنے والے موچی میں دکھائی دیا تھا۔

تاریخ کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والوں پر یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ قدرت اللہ شہات کی اس بات میں کتنی صداقت ہے، 2008ء کی عام انتخابات کے بعد سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر مغل بادشاہوں کی طرز حکمرانی کا الزام لگا رہے ہیں، 23 دسمبر 2015 کو بلاول بھٹو کی پروٹول کے باعث محمد فیصل کی بیٹی بسمہ کی ہلاکت ہو یا 17 جون 2014 کی رات عوامی تحریک کے نہتے کارکنوں پر پنجاب پولیس کا بد ترین تشدد اور لاٹھی چارج، سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر ترک خاتون اول کا نیکلس خرد برد کرنے کا الزام ہو یا سابقہ چیف جسٹس کا تھانے کروڑوں میں بکنے کا بیان۔ اس کے علاوہ تقسیم کے بعد سینکڑوں ایسے بیانات، سانحات اور واقعات ہیں جس نے راقم کو سلطنت مغلیہ کا موجودہ حکمرانوں سے تقابل کرنے پر مجبور کیا۔

1526 ءسے ظہیرالدین بابر نے سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی اور یہ سلسلہ مغلیہ سلطنت کے آخری چشم چراغ بہادر شاہ ظفر تک چلتارہا۔

ظہیرالدین بابر سے بہادر شاہ ظفرتک کا دورانیہ تقریبا ساڑھے تین سو سال سے زاید عرصے پر محیط ہے، جس طرح مغل بادشاہوں کے بعد اقتدار ان کی اولاد کے سپرد ہوا بلکل اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو سے بینظیر بھٹو اور اب بلاول بھٹو، باچا خان سے ولی خان، ولی خان سے اسفندیار ولی، نوازشریف سے مریم نواز، شہباز شریف سے حمزہ شہباز اور چوہدری پرویز الہی سے مونس الہی کو پارٹیوں کی چیر مین شپ ملی یا مل جائیں گی۔

اب موجودہ حکمرانوں اورسلطنت مغلیہ کے حکمرانوں کی قابلیت کا جائزہ لیتے ہیں، موجودہ حکمرانوں کے بارے میں تو میں دعوے کیساتھ کہہ سکتاہوں کہ ایک عدد NTS پیپر قومی یا صوبائی اسمبلی میں لے جا کر دیکھ لیں اگر 15 فیصد سے ذائد امیدوار کامیاب ہوئے تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ لیکن اتہاس گواہ ہے کہ مغل بادشاہ خصوصا ظہیرالدین بابر سے لے کر اورنگزیب عالمگیر تک سب امام، سپہ سالار، گھوڑ سوار، شاعر، ادیب اور بہترین منتظم تھے، جس کا انداہ بابر کی کتاب تزک بابری اور جہانگیر کی کتاب تزک جہانگیری، جو اپنے دور کی مستند اور جامع کتاب تصورکیے جاتے تھے سے لگایا جاسکتا ہے، مغلیہ دور میں تاریخ، علم، فلسفہ، شعروشاعری اور نثر نگاری نے بھی بہت ترقی کی۔

اب آپ موجودہ حکمرانوں کی تعلیم، قابلیت اور ترجیحات کو دیکھ کر جواب دیں کیا ان کا ایک دوسرے کو طنزیہ لہجے میں مغل بادشاہ کہنا درست ہے؟ کیونکہ وہ لوگ ان کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہترتھے۔ یہاں اب بہت سے قارئین کے دلوں میں مغلیہ سلطنت کے زوال بارے سوالات اٹھ رہے ہوں گے اس لئے قارئین کو صرف اتنا بتاوں گا کہ ان لاتعداد خوبیوں کیساتھ ساتھ آخرمیں شاہی خاندان میں درجنوں خامیاں پیدا ہوگئیں تھیں جو مغلیہ سلطنت کے زوال کا سبب بنیں، جس میں اقتدار کے حصول کے لئے قتل وغارت، سرکاری سرمائے کو بیگمات کے مقبروں ور باغات پر خرچ کرنا، ٹیکس کی مد میں بادشاہوں کے نائبوں کا کسانوں سے ذیادہ لگان وصول کرنااور اکبر کا اپنے خود ساختہ مذہب دین الہی کو پروموٹ کرنا شامل ہیں۔

اکبر کے اس خودساختہ مذہب کے پیچھے ان کے سیاسی مقاصد پوشیدہ تھے۔ اس کے بعد بہادر شاہ ظفر کا زمانہ آگیا جسے بعض مورخین بغاوت، ناانصادفی اور ظلم کا دور کہتے ہیں، اس وقت بادشاہ کے دو شہزادے اقتدار کے لئے دست وگریباں تھے، اور زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث عام آدمی کے دل میں شاہی خاندان کیخلاف نفرت کا لاوا ابل رہا تھا، جو آج پاکستان کی 52 فیصد آبادی جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ان کے دلوں میں بھی موجودہ حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت بھڑک رہی ہے، انگریز شاہی خاندان کے کھرے لوگوں کو قتل کرکے بہادر شاہ ظفر کو کہتے تھے یہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا اور کلین چیٹ لے لیتے تھے، بادشاہ کے گرد خوشامدیوں کا ایک مخصوص ٹولہ ہوتا تھا جو بادشاہ کے سامنے سب ٹھیک ہے سب ٹھیک ہے کا ورد کرتے تھے، جو آج بھی ہر رہنما کے گرد آپ کو نظر آئے گا۔ لیکن بہادر شاہ ظفر کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا اس لئے یہی حالات تھے جیسے آج کل ہمارے ملک میں بنے ہوئے ہیں، ملک میں انصاف ناپید ہوچکا ہے، نجی ادارے آفس بوائے بھی میٹرک کی تعلم سے کم بھرتی نہیں کرتے جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلی میں جانے کےلئے بھی اتنی ہی تعلیم درکار ہوتی ہے، اگر ہماری سول گورنمنٹ نااہل نہ ہوتی اور عوام کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی تو اس کے عوام بھی ترکی کے عوام کی طرح اپنی سول حکومت کو بچانے کے لئے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر ان کی تحفظ کرتے۔ اگر اب بھی ملک کا پڑھا لکھا طبقہ خاموش رہا اور نااہل سیاستدانوں کیخلاف اکٹھا نہ ہوا تو دوبارہ کوئی ایسٹ انڈیا کمپنی وہ کام کر ے گی جو برصغیر کے مسلمانوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔