ڈونلڈ ٹرمپ: جوئے خانے سے صدارتی جوئے تک


\"\"

سچ تو یہ ہے کہ ملک میں انسانوں کی سی زندگی گذارے جانے کی خاطر سہولتوں کی شدید کمی، لوگوں کی اکثریت کی بہت سی ضرورتوں کی تکمیل سے متعلق اشیاء تک عدم رسائی، عدم برداشت اور تکفیر کی مہرزدنی وغیرہ وغیرہ سے متعلق لکھنے اور پڑھنے والوں کی اکثریت کے ان کے بارے میں بے نیاز رہنے نے کسی حد تک اکتا دیا ہے۔

ایسا نہیں کہ میں اور مجھ ایسے بہت سے ایسی باتیں لوگوں کے گوش گزار کرنے سے یکسر باز آ جائیں گے مگر کبھی کبھار وہ باتیں بھی کر لینی چاہییں جو دور یا نزدیک کے ہمسایہ ملکوں سے متعلق ہوں اور جن کا ہمارے ملک کے ایک، کئی یا بہت سے پہلووں پر اثر پڑتا ہو۔

ہم ویسے تو نعرہ زن لوگ ہیں، نہ صرف نعرہ زنی سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ نعرہ زنی کرنے کا حظ بھی اٹھاتے ہیں اور نعروں کی گونج کو حقیقت کا پرتو بھی خیال کر لیتے ہیں۔ رات ہی ایک ڈاکٹر صاحب بیٹھے تھے جو چاہ بہار کی بندرگاہ کو بنیاد بنا کر امریکہ، ہندوستان اور ایران کا ایک بلاک تشکیل دیے جانے پر یقین کیے بیٹھے تھے۔ ان کے اس تیقن کی طنابیں ان کے مطابق پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا پر ہونے والی بحثوں سے بندھی تھیں۔ جی ہاں میڈیا اور آج کے دور میں خاص طور پر الیکٹرونک میڈیا رائے ساز ثابت ہوتے ہیں۔

میڈیا کے ذریعے رائے سازی کی خاطر بہت سے طریقے برتے جاتے ہیں حتی کہ کہے جانے کی غرض سے کہنے والوں کے منہ میں باتیں اس طرح ڈالی جاتی ہیں کہ کہنے والے کو بھی کہیں بعد میں جا کر احساس ہوتا ہے کہ جو بات اس نے کہہ دی وہ کہے جانے کی نہیں تھی۔ جس بات کو پھیلانا ہو اسے ” سپن“ دے کر ایسا بنا دیا جاتا ہے کہ وہ زبان زد عام ہو جاتی ہے اور لوگ اس آدھے سچ یا مکمل جھوٹ کو پورا سچ سمجھنے لگتے ہیں۔

امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق میڈیا تب سے مثبت نہیں رہا جب سے انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ خود بھی میڈیا بزنس میں ہیں چنانچہ مسابقت کو مقاربت میں ڈھلتے دیر نہیں لگا کرتی۔ اس کے علاوہ دوسری وجہ ان کا غیر سیاسی شخصیت ہونا ہے۔ ان کا جائیداد کی لین لین دین کا کاروبار تھا اور ہے، ان کے جوئے خانے ہیں خاص طور پر ریاست نیوجرسی کے شہر اٹلانٹک سٹی میں تاج محل کے نام سے ان کی ملکیت جواخانہ ہونے کے علاوہ ایک سیر گاہ ہے۔ عالمی ملکہ حسن کے انتخاب کا ” پیجنٹ“ کئی سال ان کے پاس رہا جس دوران انہوں نے بہت سی ایسی حرکات سرعام کیں جو مغربی ملکوں کے کاروباری کرتے رہتے ہیں کیونکہ کاروباری شخص پبلک فیگر نہیں ہوتا۔ وہ پبلک فیگر بننے کو ہوئے تو ایسے سلوٹس ان کے خلاف استعمال کیے گئے۔

اسی بارے میں: ۔  انور مسعود کے کوفتے اور جہادی طالبان

اب جب وہ صدر بن گئے ہیں تو انہوں نے ان بہت سی باتوں کا اعادہ کیا جو ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور پلورل (کثیر الجہتی) سوسائٹی کے پرچارکوں کے خلاف تھیں۔ یاد رہے ان دونوں اداروں اور تنظیموں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا ایک خاص مذہب ہے جس کی وفاداری مشرق وسطی کے ایک متنازعہ ملک کے ساتھ ہے۔ شاید مذہب معاملہ نہ ہو لیکن ان کی ایک گہری مذہبی بنت کا دنیا کے بہت سے معاملات کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مفاد وابستہ ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی اس سفید فام اکثریت کو اپیل کی تھی جو نچلے درمیانے طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور جن کی زندگیاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں صنعتوں کو سستی مزدوری والے ملکوں میں منتقل کیے جانے کے سبب امریکہ میں صنعتوں کے اعدام کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہیں مثال کے طور پر امریکہ کا شہر ڈیٹرائٹ جو ایک زمانے میں گاڑیاں تیار کیے جانے کا گڑھ تھا اب بالکل ویران شہر ہے۔ امریکہ سے صنعتیں دوسرے ملکوں میں منتقل ہو چکی ہے اور وہاں امریکہ کی بجائے چین، ہندوستان، انڈونیشیا، تائیوان اور دوسرے ملکوں کا ساختہ سامان ملتا ہے۔

دوسرے اوبامہ کے آٹھ برسوں پر محیط دور صدارت میں خود ریپبلیکنوں نے پرچار کیا تھا کہ سیاہ فام صدر نے اپنے ہم رنگ لوگوں کے لیے ملازمت کے حصول کے مواقع کھول دیے ہیں۔ اس پرچار کے باعث بھی سفید فام لوگوں کی اکثریت ان کے حق میں بات کرنے والے ریپبلیکن امیدوار کے حق میں ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں: ۔  ہدایت نامہ برائے روزہ داران

تیسرے امریکیوں کو آپ جتنا بھی آزاد خیال اور آزاد منش لوگ خیال کریں ان کی معتد بہ اکثریت عورت کو بہر طور عورت خیال کرتی ہے، یہی وجہ تھی کہ ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار ہیلیری کلنٹن کو ووٹ کم ملے تھے۔

اب جب ٹرمپ امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھال چکے ہیں تو میڈیا نے ان کے خلاف مہم تیز کر دی ہے اور تیز تر ہوگی لیکن جونہی ایک دو سالوں میں ٹرمپ اپنے کیے گئے وعدے نبھانے لگیں گے یہی مخالف میڈیا نصف نصف میں بٹ جائے گا کیونکہ میڈیا کاروبار ہے جس میں ریٹنگ اور مالی منفعت سیاسی مقاصد سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مستقبل میں کارکردگی سے متعلق کچھ کہنا اس وقت قبل از وقت ہوگا تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے اس پینتالیسویں صدر نے اپنے زندہ اور کچھ مر چکے پیشرو صدور کے مقابلے میں پہلی بار مختصر اور عوامی پہلی صدارتی تقریر کی تھی جس کی اہمیت کو اب کم کیا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے اندرونی معاملات کو سنوارنے میں فعال ہونے کی خاطر بیرونی سیاسی اعمال کو کم اہمیت دیں گے اور بہت سے معاملات میں مصالحتی رویے کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ کے علاوہ باقی ملکوں کو بھی امریکہ نوازی کی بجائے اپنے حالات کی جانب توجہ دینے کا موقع ملے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔