میاں صاحب کے راج کی لاہوری برکات


\"\"

اینکر: ناظرین، آج ہمارے سٹوڈیو میں ہمارے مہمان لاہور کی ایک ہردل عزیز شخصیت اور ن لیگ کے اہم مقامی لیڈر اچھو بٹ صاحب ہیں۔ سلام علیکم بٹ صاحب۔

بٹ: سامالیکم۔

اینکر: جناب، سب سے پہلے تو آپ کو ن لیگ کا ٹکٹ ملنے پر بہت بہت مبارک باد۔ حالانکہ ن لیگ کی امکانی جیت کو دیکھتے ہوئے اس ٹکٹ کو پانے کے لیے مقابلہ بہت سخت تھا۔

بٹ: ہاں جی۔ مقابلہ تو واقعی سخت تھا۔ میاں صاحب کا خاندان بھی تو بہت پھیل گیا ہے۔ بال بچوں بھائی بھتیجوں سسرالیوں سمدھیوں کا بہت زور تھا۔ میاں صاحب مروت کے مارے کسی کو انکار نہ کر سکے۔ ہر گھر میں ایک دو ٹکٹ تو دے ہی دیے۔ میری باری تھوڑی اڑی کر رہے تھے لیکن پھپھی صغراں نے جب میاں صاحب کے گھر جا کر کہا کہ ’ نواجے، میرے پتر کو ٹکٹ نہ ملا تو پھر ہمارے گھر ناشتہ کرنے نہ آئیو‘ تو میاں صاحب وہیں ڈھیر ہو گئے۔ پھپھی صغراں جیسے سری پائے پورے لہور میں کوئی نہیں بنا سکتا۔

اینکر:اوہ۔ یہ تو بہت دلچسپ بات بتائی آپ نے۔ بہرحال، لاہور میں آپ کی جماعت کی پوزیشن کیسی ہے؟

بٹ: بہترین پوزیشن ہے جی۔ میاں صاحب نے ملتان روڈ کا منصوبہ بڑا بہترین بنایا ہے۔

اینکر: ملتان روڈ سے تو پوری آبادی کافی مشکل کا شکار ہو گئی ہے۔ شروع میں نہ تو سڑک پار کرنے کا کوئی طریقہ تھا، اور درمیان میں نالہ بھی بنا دیا گیا تھا۔ اور اس کے علاوہ گاڑیوں کو بھی سڑک پار کرنے کے لیے کئی کلومیٹر کا چکر کاٹنا پڑتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا یہ گاڑیاں ون وے کے خلاف چلنے لگیں۔ اور بچے بوڑھے جوان سب نالے کے دونوں طرف کی دیواریں ٹپ کر اچانک تیز چلنے والے ٹریفک کے سامنے آنے لگے۔

بٹ: بادشاہو، اسی سے اندازہ لگاؤ کہ میاں صاحب کو لوگوں کی صحت کا کتنا خیال ہے۔ صبح سویرے لوگ گھر سے نکلتے ہیں تو ورزش کا بہترین بندوبست تیار ملتا ہے۔ شام کو گھر پہنچتے ہیں تو مریضوں کی طرح نہیں ہوتے۔ پہلے کود پھاند کر ورزش کرتے ہیں۔ لدھڑ سے لدھڑ بندہ بھی اچانک کسی تیز چلتی گاڑی کے سامنے آجائے تو گاڑی سے بچنے کے لیے اس کی دوڑ اس ورلڈ چیمپین کالے یاسین بٹ سے بھی تیز ہو جاتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے، پہلے ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ افریقہ میں بھی بٹ ہوتے ہیں۔ یہ میاں صاحب نے پورے لہور میں کیبل لگوائی ہے تو پتہ چلا ہے کہ بٹ افریقہ میں بھی بڑا نام پیدا کر رہے ہیں۔ پر موسم بڑا ظالم لگتا ہے وہاں کا۔ اس یاسین بٹ کا رنگ تو گرمی سے سڑ کر کاں سے بھی کالا ہوگیا ہے۔ لیکن بندہ بڑا گنی ہے۔ نیڑے (نزدیک) نہیں لگنے دیتا کسی کو۔ منڈا اصیل بٹ ہے۔

اینکر: بٹ صاحب، اس کا نام یاسین بٹ نہیں ہے۔ یوسین بولٹ ہے۔ جمیکا کا رنر ہے۔ بٹ شٹ نہیں ہے۔ وہیں کا مقامی کالا ہے۔

بٹ: چلو ہن اے دن وی ویکھنا سی۔ پہلے ہر مراثی مصلی دو پیسے کما کے سید یا پٹھان بندا سی، ہن بٹاں نوں وی بدنام کرنا شروع ہو گئے نیں۔ (چلو یہ دن بھی دیکھنا باقی تھا، پہلے ہر میراثی اور مصلی دو پیسے کما کر سید اور پٹھان بنتا تھا، اب بٹوں کو بھی بدنام کرنا شروع ہو گئے ہیں)

اینکر: اچھا یہ جو ملتان روڈ پر ٹریفک ون وے کی خلاف ورزی کرتی ہوئی چلتی ہے، اور اس کی وجہ سے اتنی اموات ہوتی ہیں، اس کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ اربوں روپے کی سڑک بنانے کا کیا فائدہ اگر اس پر قاعدہ قانون نہ ہو اور بندے مرنے لگیں تو؟

بٹ: بادشاہو، جس کی جہاں لکھی ہے وہیں آنی ہے۔ خواہ گاڑی قنون (قانون) پر چل کر اسے آگے سے ٹکر مارے یا قنون توڑ کر پیچھے سے، مرنا تو اس نے وہیں ہے۔ میاں صاحب اب کسی کی تقدیر تو نہیں بدل سکتے نہ۔ تقدیر کو بندہ جتنا مرضی روکے، ہزار پلسیے (پولیس والے) لگا دے، موت لکھی ہے تو مرے گا تو وہیں۔ تو فیر ہزار پلسیے لگانے کا فیدہ؟ میاں صاحب قوم کا پیسہ بچا رہے ہیں۔

اینکر: میاں صاحب کی فیمیلی کی حفاظت کے لیے بھی تو تقریباً ہزار پولیس والے متعین ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

بٹ: جلنے والے بہت ہیں جی ملک میں۔ کامیاب لوگوں سے جلتے ہیں۔ پاکستان کے بھی بہت دشمن ہیں۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی خاطر ہم ہزار کیا، ضرورت پڑی تو لاکھ پلسیے بھی لگا دیں گے۔ مقدر اپنی جگہ، بندہ تدبیر تو پوری کرے۔

اینکر: اچھا یہ ایک منصوبہ بنا کر اسے پھر توڑ کر نئے سرے سے کیوں بنایا جاتا ہے؟ اور بار بار بنایا جاتا ہے۔ ملتان روڈ پر ایسا ہی ہوا ہے۔

بٹ: میاں صاحب ملک کی بہتری چاہتے ہیں۔ تعمیر کے لیے پہلے موقع کو توڑنا تو پڑتا ہے۔ پھر چیز بن جائے تو بندے کو کئی دفعہ پسند نہیں بھی آتی۔ پھر توڑ کر بنا دیتے ہیں۔ ترقی تو دینی ہے جی۔ چاہے لاکھ دفعہ تعمیر کرنا پڑے۔

اینکر: آپ کی اس بات سے مجھے کلمہ چوک یاد آگیا ہے۔ کلمہ چوک کو میاں صاحب نے پچھلے پانچ سال میں کوئی تین دفعہ تو مکمل طور پر لمبی توڑ پھوڑ کر کے تعمیر کیا ہے۔ کیا لاہور میں کوئی اور چوک نہیں ہے؟

بٹ: وہ ایسا ہے جی کہ میاں صاحب صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں تو ان کے دماغ پر قوم کی تعمیر و ترقی چھائی ہوتی ہے۔ سامنے پہلا چوک نظر آتا ہے تو اسی کی تعمیر کا حکم دے دیتے ہیں۔ جب تک سیکرٹری حکم لکھتا ہے، ان کا دفتر آجاتا ہے۔ وہاں وہ باقی قوم کی ترقی کی فکر کرتے ہیں۔ اسی لیے زیادہ زور کلمہ چوک پر ہی لگا ہے۔ لیکن آپ یہ دیکھیں کہ میاں صاحب نے کیا چیز بنا دی ہے۔ پیرس میں بھی ایسا چوک نہیں ملے گا آپ کو۔

اینکر: پیرس کے ذکر سے یاد آیا، ن لیگ سن اسی کی دہائی سے لاہور کو پیرس بنانے کے دعوے کرتی آرہی ہے۔ لیکن پیرس کیا بننا ہے، لاہور، لاہور بھی نہیں رہا۔ ہر برسات میں ہر سڑک کی ندی بن جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ لاہور شہر نہیں ہے بلکہ وینس ہے۔

بٹ: اچھا ہوا آپ نے خود ہی ذکر کر دیا۔ میاں صاحب نے لاہور کو محض پیرس بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس سے بڑھ کر وینس بنا دیا۔ کیا بات ہے جی وینس کی۔ پیرس تو کچھ بھی نہیں ہے وینس کے سامنے۔ دنیا بھر کا ٹورسٹ دوڑا جاتا ہے وینس۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ میاں صاحب جو وعدہ کرتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر پورا کرتے ہیں۔ اور پھر یہ دیکھیں کہ دوسرے صوبوں کے نوجوان روتے ہیں کہ ہمیں سوئمنگ پول وغیرہ نہیں ملتے۔ میاں صاحب کی مہربانی سے ہر بچے بوڑھے جوان کو گھر کے آگے ہی تیرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بلکہ جن علاقوں پر میاں صاحب خاص مہربان ہیں، وہاں تو ان کو گھر کے اندر بھی تیرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ میاں صاحب نے ایسی زبردست پلاننگ کی ہے کہ تھوڑی سی بھی بارش ہو تو بھی پورے شہر میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور مہینے تک نہیں نکلتا۔ کیا بات ہے میاں صاحب کی ذہانت کی۔

اینکر: اور جناب، یہ جو آپ نے میٹرو بس چلائی ہے، اس پر مخالفین بہت شور مچا رہے ہیں کہ سارے پنجاب کے منصوبوں کا بجٹ اس پر لگا دیا ہے۔ جنگلہ لگا کر شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ کیا یہاں ٹرین بہتر نہیں رہتی؟ اس پر آپ کیا کہیں گے؟

بٹ: جلنے والے کا منہ کالا۔ ان کا بھی اسی یاسین بٹ جیسا رنگ ہو جائے گا جل جل کر۔ میاں صاحب کا کارنامہ دیکھیں۔ لوگ تو شہر میں ایک دو ٹرین ہی چلا کر شور مچا دیتے ہیں۔ یہاں میاں صاحب نے پچاس بسیں چلا دی ہیں۔ اور جنگلے پر اعتراض کرنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے صنعت کو کتنی ترقی ہوئی ہے اور کتنے لوگوں کو مزدوری ملی ہے۔ فیکٹری مالکان دھڑا دھڑ نئی فیکٹریاں لگا رہے ہیں۔ بلکہ اب تو میاں صاحب کی مہربانی سے بزنس اتنا ہوگیا ہے کہ وہ دبئی اور بنگلہ دیش میں بھی فیکٹریاں لگا رہے ہیں۔ اور جہاں تک یہ جنگلہ لگا کر شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بات ہے، یہ بھی میاں صاحب کی دانش مندی ہے۔ اب کوئی مجرم پلس سے بچ کر بھاگنے کی کوشش کرے گا تو اس جنگلے میں پھنس جائے گا۔ سیلاب وغیرہ بھی آگیا تو جنگلا بند کا کام کرے گا۔ بہت فیدے ہیں جی اس کے۔

اینکر: بہت بہت مہربانی بٹ صاحب۔ میاں صاحب کی دانش مندی کو سات سلام۔

بٹ: آٹھواں سلام میرا بھی جی۔ اللہ بیلی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar