عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کیسے شروع ہوا


vaw543پہلے تو اس سوال کا جواب لے لیا جائے کہ امتیازی سلوک کہتے کسے ہیں۔ رنگ، نسل، جنس، مذہب، زبان، سیاسی وابستگی، ثقافتی شناخت، سماجی رتبے یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر ایسا فرق جس کے باعث معاشرے میں کسی گروہ یا فرد کو دوسرے گروہوں یا افراد کے مقابلے میں ترقی کے زیادہ مواقع ملیں یا کسی گروہ یا فرد کو دوسرے گروہوں یا افراد کی نسبت ترقی کے کم مواقع ملیں یا کسی گروہ یا فرد کو ترقی کے عمل سے باہر رکھا جائے تو ایسا فرق امتیازی سلوک کہلاتا ہے البتہ ایسا فرق جویکساں مواقع ، کھلے مقابلے اور خالص اہلیت (میرٹ ) کی بنیاد پر قائم ہو اسے امتیازی سلوک نہیں سمجھا جاتا۔

تو اب عورتوں کی خلاف امتیازی سلوک کی تاریخ کریدی جائے۔ یہ کئی ہزار برس پہلے کا قصہ ہے۔ انسان حیاتیاتی ارتقا کے مراحل سے گزرتا ہوا جسمانی خصوصیات کے اعتبار سے تقریباً موجودہ سطح تک پہنچ چکا تھا لیکن ابھی خاندان، قبیلہ، ریاست اور مذہب جیسے سماجی ادارے تشکیل نہیں پائے تھے۔ اس دور میں انسانی جدوجہد کا محور صرف اور صرف انسانی بقا اور تحفظ تھا۔ اُس وقت کے انسان کے لیے عام مظاہرِ فطرت مثلاً بارش، سیلاب، زلزلہ وغیرہ غیر مرئی طاقتوں کا کرشمہ تھے جنھیں نہ سمجھا جا سکتا تھا اور نہ جن پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ اِس دور میں عورت کے بارے میں دو مختلف قسم کے رویے سامنے آئے مگر ان بظاہر دو مختلف رویوں کا عملی نتیجہ ایک ہی برآمد ہوا یعنی عورت کی کمتر حیثیت۔

الف: پیدائش کے عمل کے حوالے سے عورت کو مقدس اور پوتر قرار دے کر معمول کی زندگی سے الگ کر دیا گیا اور عورت کے حوالے سے ایسے رسم و رواج شروع ہوئے جو امتیازی سلوک کی شکل اختیار کر گئے۔

ب : ارتقا ئی عمل کے دوران حیاتیاتی کردار کے حوالے سے مرد اور عورت کی جسمانی ساخت میں کچھ تبدیلیاں پیدا ہوئیں مثلًا نسل در نسل بچوں کی پیدائش کے باعث عورتوں کے پیڑو کی ہڈیاں مردوں سے مختلف ہوگئیں چنانچہ وہ بہت پھرتی کے ساتھ حرکت نہ کر سکتی تھیں اور انھیں شکار یا دشمن سے بچاﺅ میں مشکل پیش آنے لگی ۔ اس زمانے میں انسان کی جسمانی طاقت کا اِنسانی بقا کی جدو جہد میں اہم کردار تھا، لہذا عورت کو قدرے کم بھاگ دوڑ والے کام مثلاً بچے پالنا، بھیڑ بکریوں کی دیکھ بھال اور سبزیاں اُگانے جیسے کام دیے گئے۔ اس طرح معاشرے میں جسمانی طاقت نے انسانوں کے مقام اور کردار کا تعین کرنا شروع کر دیا۔ حیاتیاتی فرق نے سماجی تفریق کا روپ اختیار کر لیا۔ ان تبدیلیوں نے مرد کے شانہ بشانہ زندگی کی بقا کی جنگ لڑنے والی عورت کو مشکلات میں ڈال دیا۔

جسمانی فرق کی بنا پر مرد اور عورت میں سماجی تفریق کا عمل آنے والے زمانوں میں بھی جاری رہا۔ عورتوں کو معاشی سرگرمیوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ اہم فیصلوں میں عورت کا کردار ختم کر دیا گیا اور معاشرے میں عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دیا گیا۔ اس سلوک کے باوجود عورت سماجی اور معاشی حوالوں سے اہم کردار ادا کرتی رہی تاہم اس کے کام کو کبھی تسلیم کیا گیا اور نہ سراہا گیا بلکہ معاشرے میں عورت کا مقام مردوں کی مرضی کے تابع ہو گیا۔ معاشرے میں مردانہ بالادستی قائم ہونے کے بعد مردوں نے طاقت، اقتدار اور روزمرہ رہن سہن کے جو ڈھانچے اور ادارے ترتیب دیے ان میں عورتوں کے مفاد کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ۔

انسانی معاشرہ پتھر کے دور کو عبور کر کے دور غلامی میں داخل ہوا تو عورت ایک بار پھر استحصال کا شکار ہوئی ۔ اس کا کام یہی ٹھہرا کہ وہ جسمانی مشقت کرے اور مردوں کی جنسی آسودگی کا سامان بنے۔

ایک ادارے کے طور پر تمام مذاہب نے اپنے اپنے عہد اور معاشرے کے سیاسی اور معاشی حالات کی عکاسی کی ہے چنانچہ کسی نہ کسی سطح پر عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک جاری رہا۔

معاشرتی ارتقا کے اگلے مرحلے میں ریاست نے قبیلے کی جگہ معاشرے کا انتظام سنبھال لیا۔ اس معاشرے میں بھی عورتوں کو ماتحت درجہ ملا۔ جسمانی طاقت کے حوالے سے عورتیں برس ہا برس پر پھیلی جنگی مہموں میں حصہ لینے سے معذور تھیں۔ نئے نظام میں بھی جسمانی طاقت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی چنانچہ عورت کو ذمہ داری ملی کہ وہ طاقتور اور جنگجو بچے پیدا کرے۔

انسانی تاریخ کے زرعی دور میں ذاتی ملکیت کا تصور زیادہ مضبوط ہو گیا جس کے باعث عورت کی محکومیت میں بھی اضافہ ہو گیا۔ زراعت کے قدیم اوزار عورت کی جسمانی قوت سے زیادہ بھاری تھے اِس لیے وہ اُنھیں اِستعمال کرنے سے قاصر تھی۔ مزید یہ کہ زرعی نظام میں کسان کی خوشحالی کا انحصار بیٹوں کی تعداد پر تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر معاشرے نے فیصلہ کیا کہ عورت گھریلو اشیا کی طرح گھر میں قید ہو کر نئے کاشتکار جنم دے نیز غیر دلچسپ اور غیر نمایاں گھریلو مشقت میں مصروف رہے۔

انسانی معاشرہ زرعی دور سے گزر کر صنعتی دور میں داخل ہوا تو مشینوں کی ایجاد کے باعث مرد اور عورتوں کی جسمانی قوت کا فرق بے معنی ہو گیا۔ اب عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔ اس طرح اٹھارہویں صدی کے آخری حصے میں سوال ابھرا کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان حیاتیاتی فرق کی بنیاد پر روا رکھا جانے والا امتیازی سماجی اور سیاسی سلوک کیسے ختم کیا جائے۔

اس جدوجہد کا واحد مقصد یہ تھا کہ عورت اور مرد دونوں کو فیصلہ سازی میں مساوی حق حاصل ہو۔ اس جدوجہد کے راستے میں دشوار ترین رکاوٹ کچھ طبقات کا یہ خوف ہے کہ ایسی کسی تبدیلی کے نتیجے میں موجودہ سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے بدل جائیں گے اور یہ وہ ڈھانچے ہیں جن میں کچھ افراد یا گروہوں کو انسانوں کی اکثریت کا استحصال کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔ چنانچہ ثقافتی اقدار، مذہبی احکامات، نفسیاتی عوامل اور حیاتیاتی فرق جیسے دلائل کا ذکر کر کے موجودہ صنفی امتیاز قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج تک کسی حکمران طبقے نے رضاکارانہ طور پر ایسی مراعات سے دست بردار ہونے کی کوشش نہیں کی جو اسے محض پیدایش کے حادثے میں ملی ہوں ۔

انسانی معاشرے میں مرد اور عورت کے درمیان پائی جانے والی معاشی اور معاشرتی تفریق کو ختم کرنے کے لیے محض مردوں کی مخالفت سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے دو سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

-1 ایسے متبادل سماجی اور معاشی ڈھانچے ترتیب دیے جائیں جو خواتین کو ایسی بامقصد سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کریں جن سے وہ معاشرے میں اپنا تعمیری اور تخلیقی کردار بھرپور طریقے سے ادا کر سکیں۔

2 ایک ایسی شعوری اور اجتماعی جدوجہد کا آغاز کیا جائے جس کا مقصد انسانی معاشرے سے ہر قسم کے استحصال اور امتیازی سلوک کو ختم کرنا ہو۔ جدوجہد کا اجتماعی ہونا اس لیے ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی موثر سماجی تبدیلی انفرادی کوشش سے نہیں آ سکتی۔ عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنے کی جدوجہد کو بہتر بنانے کے لیے اسے انسانی ترقی سے جوڑنا ہو گا۔اس اصول کو ماننا ہو گا کہ عورت اور مرد جسمانی طور پر مختلف ضرور ہیں مگر صلاحیت ، حقوق اور رتبے میں برابر ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کیسے شروع ہوا

  • 10-02-2016 at 11:22 am
    Permalink

    اب جب کہ ہم صنعتی دور میں رہتے ہیں جہاں مقابلہ جسمانی صلاحیتوں کا کم اور ذہنی صلاحیتوں کا زیادہ ہے جس میں عورت مرد سے کسی بھی طرح کم نہیں – …. اب قدیم ثقافتی اقدار،قدیم مذہبی احکامات، زرعی عہد کے نفسیاتی عوامل اور حیاتیاتی فرق جیسے دلائل بے کار ہو چکے ہیں –

    ایک بہترین تحریر وجاہت صاحب

  • 08-03-2016 at 9:50 am
    Permalink

    ہر دور میں معاشرہ اپنے معروضی حالات کے تحت نظام زندگی کو بہ طریق احسن رواں دواں رکھنے کے لیے کچھ قواعد طے کرتا ہے۔ تاہم کچھ وقت (جو چند دہائیوں سے چند ہزاریوں تک ہو سکتا ہے) گزرنے کے بعد نئی ایجادات اور دوسرے معاشروں سے اختلاط کے نتیجے میں یہ قواعد بدلے ہوئے حالات کا ساتھ دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذات پات کا نظام جو کسی زمانے میں ہندوستانی معاشرے کی اساس تھا، عصر حاضر کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔
    بالکل اسی طرح اس وقت ہمارے معاشرے کی اساس مردانہ بالا دستی پر ہے لیکن جنگ عظیم اول کے دوران مجبوراً عورتوں کے معاشی میدان میں اترنے کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات نے آہستہ آہستہ پوری دنیا کے معاشروں کو تہ و بالا کر دیا، جس کے زیر اثر ہمارا معاشرہ بھی ٹوٹ پھؤٹ کا شکار ہو رہا ہے۔
    ان حالات میں روایتی حلقے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن معاشرتی رویوں کی روایت سے آگہی ہمیں یہی بتلاتی ہے کہ وقت کے دھارے نے ہر قیمت پر آگے بڑھنا ہے۔
    اگر ہمیں بہ حیثیت قوم آنے والے ادوار میں زندہ رہنا ہے تو خود کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالتے ہوئے نیا معاشرتی بیانا ابنانا ہو گا۔ وگرنہ ہمارے چہیتے قواعد و ضوابط اور ہماری پسندیدہ روایات اپنے ساتھ ہمیں بھی ماضی کا حصہ بنا دیں گی۔

  • 08-03-2016 at 11:13 am
    Permalink

    امتیازی سلوک میں رویے بھی آ جاتے ہیں۔ بحیثیت انسان عورت اور مرد کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں میں کوئی فرق نہیں۔ معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے بارے میں فکری تفاوت دور کرنے اور عملی توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کی اس عمدہ تحریر میں پیش کیے گئے آخری دو نکتے اہم ہیں۔

Comments are closed.