کاہلی صد ہزار نعمت ہے


\"\"میں بچپن سے کھیلنے کودنے کا شوقین نہیں تھا۔ بہت چھوٹا تھا تب بھی کتابوں کاپیوں میں گھرا رہتا تھا۔ بہت بڑا ہوا تب بھی یہی معاملہ رہا۔ کھانا بھی لیٹ کر کھاتا تھا۔ ہر وہ کھیل جس میں ہلنا نہ پڑے وہ شدید ترین پسند تھا۔ لوڈو، کیرم، شطرنج، کاٹا زیرو اور جہان بھر کے وہ کھیل جو بیٹھ کر کھیلے جاتے ہوں، وہ سب اپنے کھیل تھے۔ کرکٹ بھی ہم لوگ سکول میں کتابوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔ ایک کتاب لی، کہیں سے بھی کھولی، الٹے ہاتھ والے صفحے پر جو بھی صفحہ نمبر ہوتا تھا اس کا آخری ہندسہ سکور کہلاتا تھا۔ مثلاً صفحہ نمبر 122 ہے تو سکور 2 ہوتا ہے۔ اگر آخر میں چار، چھ یا آٹھ آ رہا ہے تو بالترتیب چوکا، چھکا یا اٹھا لکھ لیا جاتا۔ صفر آنے پر وہ کھلاڑی آؤٹ ہو جاتا اور اگلے پوستی کی باری آ جاتی۔ تو زندگی ایسے ہی رواں دواں چل رہی تھی جب اس بیچ وہ دن آئے جنہیں مرادوں کے دن کہا جاتا ہے۔

ان دنوں ٹرمینیٹر ٹو کو آئے ہوئے چار پانچ برس ہو چکے تھے۔ انڈین فلموں میں بھی ہیرو کا تصور تبدیل ہو رہا تھا۔ ڈائیلاگ بولنا بے شک نہ آتا ہو، ڈانس میں مہارت بھی ضروری نہیں تھی، تراشا ہوا، بنایا ہوا، ورزشی جسم لازم تھا۔ تو ہر طرف باڈی بلڈنگ کے کارخانے کھل چکے تھے۔ لڑکے بالے کرکٹ ہاکی چھوڑ کر صبح شام جم کا رخ کرتے۔ زبردست طریقے سے ویٹ لفٹنگ ہوتی، ورزشیں ہوتیں، اس کے بعد پھر چھ چھ انڈے زردی کے بغیر دودھ میں ملا کر پیے جاتے، ابلا ہوا گوشت یا قیمہ زہر مار کیا جاتا، کسی بھی طریقے سے جلد از جلد کسرتی جسم بنانا لازم ٹھہرا تھا۔

اب ایسے آدمی کو سوچیں کہ جو کبھی بھول کر دوستوں کے ساتھ کرکٹ میں شریک ہو بھی جاتا تو اسے فیلڈنگ ہی ملتی اور وہ بھی ایسی جگہ کھڑا کیا جاتا جہاں گیند آنے کا چانس کوئی نہ ہو۔ دونوں ٹیمیں ٹاس کرتیں، جو ٹیم ہار جاتی اسے حسنین جمال کو کھلانا پڑتا۔ جسے یہ تک نہیں معلوم تھا کہ ٹیسٹ میچ کتنے دن کا ہوتا ہے، اننگز کیا ہوتی ہے، ہاکی میں کل کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں، فٹ بال کے اصول کیا ہیں، بیڈمنٹن اور ٹینس میں کیا فرق ہے اور سکوائش کی گیند وہ خاص قسم کی کیوں ہوتی ہے۔ تو وہ آدمی بھی ان دنوں باڈی بلڈنگ کی ہوا سے متاثر ہوا اور سوچنے لگا کہ ورزش شروع کی جائے۔\"\"

میٹرک کے دن تھے یا اس کے فوراً بعد کا موسم تھا۔ جم جانا شروع کر دیا۔ وہاں ہر طرح کے درشنی پہلوان پائے جاتے تھے۔ کچھ واقعی میں بہت خوبصورت جسم کما چکے تھے لیکن وہ سب ان میں تھے جنہیں کم از کم پانچ برس لگے تھے یہ سب کچھ کرنے میں۔ منٹو بھائی، خرم بھائی، سہیل بھائی، عدنان بھائی، خرم بروس لی، پتہ نہیں کون کون تھا لیکن یہ سب سینیر لوگ تھے۔ مجھ سمیت جو بھی جم جوائن کرتا شروع کے ایک دو ہفتے تو بس انہیں لوگوں کو دیکھتا رہتا۔ پھر جب تھوڑی دوستی ہوتی تو سوال جواب شروع ہو جاتے، بھائی کب سے ورزش کر رہے ہیں؟ کھاتے کیا ہیں؟ کون سی مشین جسم کے کس حصے کو جلدی بہتر بناتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ ان میں سب سے شفیق منٹو بھائی تھے، بل کلنٹن کا گندمی ورژن تھے اور ہر جونیر کو آرام سے ایک ایک بات سمجھاتے تھے۔ تو جم چالو تھا!

حسب توفیق پروٹین والی خوراک کھانے کی کوشش ہوتی۔ روزانہ شام کو دو گھنٹے جم کے لیے وقف ہوتے، باقی پورا دن بستر توڑا جاتا یا دوستوں یاروں کے ساتھ گزر جاتا۔ کافی عرصہ گزر گیا لیکن جسم کوئی خاص شکل میں نہیں آ رہا تھا۔ ایک دن جوش چڑھا، شدید گرمیاں تھیں، فل پسینہ آیا ہوا تھا، وزن روٹین سے زیادہ لگایا اور مشین پر ورزش شروع کر دی۔ ایک دم کمر میں درد کی لہر سی اٹھی اور بس پھر وہ لہر آج تک بیٹھ نہیں سکی۔ یہ کاہلی چھوڑ کر ورزش شروع کرنے اور توبہ تلا کر کے واپس بھاگنے کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ ڈیڑھ دو برس نکال دئیے جائیں تو راوی بہت عرصے تک سکون لکھتا رہا۔

کافی عرصہ گزر گیا، شادی ہو گئی، شادی کو بھی چھ سات برس گزرے تو ایک دن اچانک اندازہ ہوا کہ یار جوتے کے تسمے باندھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ پیروں کے ناخن کاٹنے کے لیے بھی اوما سے مدد لینی پڑتی۔ دو تین گھنٹے کہیں بیٹھ کر اٹھنا پڑتا تو پسلیوں کے نیچے کچھ درد سا ہوتا تھا۔ یہ سب چیزیں چل رہی تھیں لیکن فقیر ایک دم چست تھا، ضروری کام سبھی بہترین ہوتے تھے، سٹیمنا بھی اچھا تھا، بس ایک دم جوش چڑھا کہ وزن کم کرنا ہے۔ اتنا کم کرنا ہے کہ شادی والے سوٹ میں واپس پہنچا جا سکے۔ یہ دریا کوزے میں سمیٹنے والی بات تھی۔ لیکن بس سنک تھی، طاری ہو گئی۔

حیدر بھائی کے ساتھ شام کو روزانہ ایک گھنٹہ ماڈل ٹاؤن پارک میں واک شروع کر دی۔ دو چکر ٹریک کے لگائے جاتے۔ وہاں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا جم چلے جاتے۔ کچھ ورزش کرتے اس کے بعد پھر ٹریڈمل پر سوار ہو جاتے۔ آدھے پونے گھنٹے کی بھاگ دوڑ دوبارہ کی جاتی۔ اس بار جسم بنانے سے زیادہ وزن گھٹانے کی فکر تھی۔ فاقے کیے، جان ماری، چار مہینوں میں کمر اٹھتیس سے اکتیس انچ کے گھیر میں آ گئی۔ یعنی وہی شادی کے دن والے سوٹ میں سمانا ممکن ہو گیا۔ اب لیکن ایک اور مسئلہ تھا۔ جس سے بھی ملاقات ہوتی وہ یہی پوچھتا، کیا ہوا بھائی کوئی بیماری لگ گئی ہے؟ طبیعت ٹھیک ہے؟ ایک دو احباب نے تو باقاعدہ چرس پینے کا الزام دھرا کہ ایسی شکل اسی کے بعد ممکن ہوتی ہے۔ بڑے بھی باقاعدہ تشویش میں مبتلا ہو گئے کہ اچھے بھلے آدمی کو ہوا کیا ہے۔ کوئی نہیں سنتا تھا کہ بھئی سخت محنت ہے، اور کچھ نہیں ہے۔ لیکن یہ سب ہونے کے ٹھیک دو ماہ بعد ایک دن واقعی میں طبیعت کچھ خراب ہوئی۔ گردن میں شدید درد ہوا، کچھ دیگر معاملات ہوئے اور مکمل ہوش آنے کے بعد اگلے چار پانچ برس اینزائٹی، یا کہہ لیجیے بے سکونی میں گزرے، اس کے بعد لکھنا شروع کر دیا۔ کاہلی کو ترک کرنے اور ورزش شروع کرنے کا یہ دوسرا انعام تھا۔

اب پھر بہت عرصہ گزر چکا تھا۔ کمر دوبارہ کچھ بڑھ چکی تھی۔ مرادنہ پیٹ باتوں سے اندر لے جانا ممکن نہیں ہوتا۔ بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔ \"\"سوچا کمر باندھی جائے۔ بہت مشکل کام تھا، پہلے باقاعدہ ایک ایسا آلہ خریدا جسے کانوں میں لگا کر کچھ تیز میوزک سنا جاتا۔ دوران خون تھوڑا رواں ہوتا، ٹانگیں ساتھ ساتھ ہلنا شروع ہوتیں تو اسی ہلے میں اٹھ کر باہر نکل جاتا اور واک شروع کر دیتا۔ سردیوں کے دن تھے، سردی فن کاروں کی ویسے ہی دشمن ہوتی ہے۔ خوب گرم سی ٹوپی والی جیکٹ چڑھائی جاتی، گرم ٹراوزر، جوگرز، سب کچھ پہن کر بلکہ سرائیکی میں کہیے تو \”کج نوٹ\” کر باہر نکلا جاتا۔ تیز تیز چلتے ہوئے آدھا پونا گھنٹہ واک کی جاتی۔ ایک دو مہینے اس طرح نکلے پھر وہ سردیاں آ گئیں جن میں دھند بھی ہوتی ہے۔ دھند کو نہیں معلوم تھا کہ فقیر کے پھیپھڑے نازک ہیں۔ سرد ہوا اندر گئی اور گھر کر گئی۔ اب کے نکلنا جو ہوا تو نمونیا کروا کے لٹال گیا۔ شباب کے بدلے موت آنا کیا ہوتا ہے وہ اس دفعہ سمجھ میں آیا۔

وہ آخری بار تھی بھئی۔ اس دن کے بعد ہر قسم کی ورزش پر چار حرف بھیج کر دو تین ماہ گیارہ بارہ قسم کی دواؤں کے پچ رنگے کورس کیے۔ جان میں جان آئی تو جانا کہ میاں ایک دنیا اس آئیڈیل دنیا کے متوازی بھی چلتی ہے، اور وہ دنیا تم جیسے کاہلوں کی ہے۔ پنجابی میں کہتے ہیں \”کم جوان دی موت اے، یا، جتھے کم اوتھے ساڈا کی کم؟\” تو کم از کم ورزش یا واک وغیرہ میں اسے پلے باندھ لو۔ ایسی خطرناک چیزوں سے دوتین گز کا فاصلہ رکھو۔ مناسب اور سادہ خوراک کھاؤ، یا نہ ہی کھاؤ، نوکری میں جتنا پیدل چلنا پڑتا ہے بس اس پر گزارا کرو اور باقی وقت پڑھو، لکھو، نوابیاں کرو۔ فقر، درویشی اور سستی کا ملاپ بہترین راستہ ہے، اس پر چلو اور تاج سردارا پہن لو۔

فقیر اس دن سے نواب بے ریاست ہے۔ صحت بھی ٹھیک ہے۔ کمر بھی اوقات میں ہے۔ خدا ایسا ہی رکھے، اب دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتا ہے کہ زیادہ ہلنے جلنے سے پرہیز کریں۔ بھاری پتھر اپنی جگہ پر پڑا اچھا لگتا ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 298 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “کاہلی صد ہزار نعمت ہے

  • 22-01-2017 at 4:57 pm
    Permalink

    Kamal likha hay janab

Comments are closed.