پاکستان کی درست تاریخ رقم کرنے کا منصوبہ… 100 ماہرین درکار


\"\"ہمارا ملک 45 برس قبل ٹوٹ گیا۔ کیوں ٹوٹا؟ کیسے ٹوٹا؟ کچھ پتا نہیں۔ الگ الگ تجزئے اور کتابیں ہیں لیکن انہیں اگر ایک گروہ سچ مانتا ہے تو دوسرا جھوٹ کہتا ہے۔ کوئی مشترکہ طور پر قبول شدہ ورژن موجود نہیں جو صرف سچ اور مکمل سچ پر مبنی ہو اور ان بنیادی سوالوں کے جواب دیتا ہو۔ ایسا معتبر ورژن جسے پاکستانیوں کی ایک بھاری اکثریت کی تائید حاصل ہو اور جو ہم اپنے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھا سکیں۔ جس کو ہم ٹھیک مانتے ہوئے اس پر مستقبل کی پالیسیاں بنا سکیں تاکہ کہیں کوئی ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو جائے۔ ملک کےدو جغرافیائی حصوں میں جو غلط فہمی یا دشمنی اس وقت پیدا ہو گئی تھی وہ کہیں دوبارہ ملک کے باقی ماندہ حصوں کے درمیان پیدا نہ ہو جائے۔ پینتالیس سال بیت گئے اس الم ناک واقعہ کو اور اس کی سرکاری رپورٹ، حمودالرحمن رپورٹ، ہی ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی۔ رپورٹ بیشک سامنے نہ آئے مگر پاکستان میں بہت سارے لوگ حقائق سے بخوبی واقف ہیں۔ ان حقائق کو ایسے پیرائے میں لکھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد جعلی حب الوطنی پر نہیں، سچ پر ہو۔ کیونکہ کسی بھی مثبت جذبے کو جھوٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہم نے کتنی جنگیں لڑیں؟ یہ جنگیں ہمیں کیوں لڑنا پڑیں؟ ان کے نتائج کیا تھے؟ ابھی تک تو ان بنیادی سوالوں کے جوابات کہیں نہیں ہیں۔ ہم کسی چیز کو بھی جھوٹ کہہ سکتے ہیں اور کسی کو بھی سچ مان سکتے ہیں۔ اس کا درست ریکارڈ بہت ضروری ہے۔ ورنہ ہم مستقبل میں بھی جنگ اور اس کے بے جا خوف میں مبتلا رہیں گے۔

ہم مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ رواداری ناپید ہے اور تشدد بے پناہ۔ ہم اس سٹیج پر کیسے پہنچے؟ اس اہم سوال کا جواب کہیں نہیں ہے۔ پچھلے چالیس سال کے واقعات کا درست ریکارڈ اس سلسلے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ اصل میں تو اس ریکارڈ کو درست طور پر لکھنا اور ساری قوم تک پہنچانا دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہونا چاہیئے۔ حکومت اگر نہیں کر رہی تو \”ہم سب\” کو ضرور کرنا چاہیئے۔

اسی بارے میں: ۔  شخصی تصور اقدار کا نظام ( Subjective Value system )

کشمیر کا مسئلہ ہے کیا؟ اسے حل یا خراب کرنے میں ہماری پالیسیوں کا کتنا ہاتھ ہے؟ آگے کی پالیسی کیا ہونی ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم شاید کشمیریوں کی جدوجہد میں حقیقی مدد کر سکیں گے۔

اب تک ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسیاں کیا رہی ہیں اور ان کے کیا نتائج نکلے ہیں۔ ہمسایہ ممالک انڈیا اور افغانستان کے سلسلے میں ہماری پالیسی کیا ہے اور اس سے ہمیں کیا ملا ہے۔ ہمارا آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے؟ علاقے کے امن اور ترقی میں ہمارے راستہ اس بات سے متعین ہو پائے گا۔

افغان جنگ میں ہمارا کردار پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ ہم نے کیا کیا، کیسے کیا اور اس سے ہمیں کیا ملا؟ ہم نے افغانستان کو کیا دیا؟ یہ سب سوال بہت اہم ہیں اور ان کے جوابات پر کسی قسم کا کوئی اتفاق نہیں ہے۔ حقائق پر مبنی ایک ریکارڈ ضروری ہے تاکہ ہم آئندہ کسی دوسرے کا آلہ کار بن کر اپنے ملک کو برباد نہ کر دیں۔

ایسے ہی بہت سے اہم سوالوں کے درست جوابات کو تلاش کرنے اور انہیں ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانیوں کی اکثریت ان پر اعتبار کر سکے۔ اگر پاکستان کی مختصر سی تاریخ کو ایسے لکھا جائے جیسی وہ وقوع پزیر ہوئی ہے تو لوگ اس پر اعتبار بھی کریں گے۔مزید یہ کہ لکھنے والے اگر100 (یا اس سے بھی زیادہ) معتبر نام ہوں جو اپنے اپنے شعبوں کےماہر ہوں۔ ایک سو معتبر لوگ مفاد سے بالا تر ہو کر اتفاق رائے سے اگر کچھ لکھیں گے تو لوگ اس پر خود بخود اعتبار کریں گے۔

پاکستان کی ایسی تاریخ لکھنے کا کام کیسے ہو سکتا ہے؟ اس پر آپ کی تجاویز کی ضرورت ہے۔ تجاویز کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی بتائیں کہ اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے آپ کیا کر سکتے۔ نمونے کے طور پر ایک تجویز پیش خدمت ہے، آپ اس پر بھی اپنا تبصرہ کر سکتے ہیں۔ اس کو بہتر کرنے کی تجاویز دیں یا پھر مکمل طور پر مسترد کر کے بالکل نئی تجاویز بھی دے سکتے ہیں۔ ہماری تجویز یہ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا بیرونی ایجنٹوں پر ہی گزارا رہے گا؟

سو ایسے رضاکاروں کا گروپ بنایا جائے جو اس منصوبے پر کام کریں۔ یہ رضاکارانہ کام ہے اس میں کسی قسم کی کوئی فنڈنگ نہیں ہے۔ کوئی معاشی معاوضہ نہیں ہے۔ سارے رضاکار گوگل گروپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو ملیں گے۔ تفصیلی TORs تمام رضا کار مل کر طے کریں گے۔ کوئی ایک شخص یا ایک چھوٹا گروپ اس سارے کام کی کوآرڈینیشن کی ذمہ داری لے گا اور یہ کام بھی رضاکارانہ ہی ہو گا۔

رضاکار کون ہو سکتا ہے۔ پروفیسر، صحافی، تاریخ دان، سول اور فوجی افسران، عالم دین اور کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے خواتین و حضرات اس کام میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اگر آپ رضا کار بننا چاہتے ہیں تو اس بلاگ کے نیچے اپنا ایمیل ایڈریس یا رابطہ نمبر چھوڑیں۔ مختلف واقعات کے ماہرین مل کر کام کرنے کے لئے ذیلی گروپس بنا سکیں گے۔ یہ تمام چیزیں مل کر طے کی جائیں گی۔

کسی بھی واقعہ کی تاریخ کا ڈرافٹ ایک رضاکار ماہر یا ماہرین کا گروپ مل کر تیار کرے گا اور پھر اس ڈرافٹ کو بحث کے لئے سارے گروپ میں شیئر کیا جائے گا۔ کوئی بھی ڈرافت بہت ساری بحث مباحثے کے بعد ہی فائنل کیا جائے گا اور اس میں ہر طبقے/گروپ کی رائے نقطہ نظر کو پیش کیا جائے گا۔

اس کام پر اندازاً دو سال لگ سکتے ہیں۔ کوئی پانچ سے دس ہزار صفحات پر مشتمل ہماری تاریخ رقم ہو گی۔

مجھے اس موضوع پر سب پڑھنے والوں کی آراء کا انتظار رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 135 posts and counting.See all posts by salim-malik

2 thoughts on “پاکستان کی درست تاریخ رقم کرنے کا منصوبہ… 100 ماہرین درکار

  • 22-01-2017 at 5:28 pm
    Permalink

    وکیپیڈیا کی طرح کا سسٹم بنا لیں- پانچ سات بندے اڈمن ہوں باقی لوگ خود ہی ایڈٹ کر لیں گے- یہ پروجیکٹ وکیپیڈیا کی طرح ہمیشہ جاری رہ سکتا ہے-

  • 22-01-2017 at 9:29 pm
    Permalink

    برادرم، خیال بہت عمدہ ہے اور انتہائی اہم۔ خدا آپ کو کامیاب کرے۔ دو باتیں عرض کرونگا۔ (۱) اس تحقیق کی ابتدا ۱۹۴۷ یعنی آزادی اور تقسیم سے نہیں بلکہ ۱۸۵۷ سے ہو تو بہتر ہو۔ پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں سوچنا ممکن ہی نہیں تاوقتیکہ برٹش انڈیا اور مقامی ریاستوں کے تمام مسلمانوں کے بارے میں بھی نہ سوچا جائے۔ (۲) دوسری بات جو اتنی ہی اہم ہے وہ یہ ہے کہ کسی رائے کو حتمی بنا کر نہ پیش کیا جائے، نہ کسی سوال کو ناواجب قرار دیا جائے۔ سیاہ اور سفید کے درمیان جو سرمئی لکیر بنے اسے نہ مٹایا جائے۔

Comments are closed.