ہیرو بننا ہے تو کیا ریپ کرنا ہو گا


\"\"29 دسمبر 2016ء کی بات ہے ، میرا ایک بلاگ ’ہم سب‘ پر چھپا تو مجھے شائستہ خان کی کال آ گئی ۔ شائستہ سے میرا رسمی تعلق ہے وہ اسلام آباد میں صحافیوں کو صحافتی آداب سکھانے والی ایک سماجی تنظیم سے منسلک ہیں۔ شائستہ نے کال کرنے کا مقصد بتایا اور کہا کہ تم اس موضوع پر کیوں نہیں لکھ رہی کہ آج کل ہمارے انٹرٹینمنٹ چینلز کیسے ڈرامے دکھا رہے ہیں۔ شائستہ نے ان ڈراموں کے نام بتا کرنشان دہی بھی کی اور کہا کہ ان ڈراموں کی کہانی میں مماثلت ہے وہ یہ کہ ڈرامے کا مرکزی کردار ادا کرنے والی لڑکی کا ڈرامے میں ریپ ہوتا ہے ، پھر وہ لڑکی اسی شخص کی محبت میں گرفتار دکھائی جاتی ہے یا ریپ کرنے والا شخص ہی وہی ہوتا ہے جو اس لڑکی سے محبت کرتا ہے اور اسی محبت میں ریپ کر دیتا ہے۔ ڈرامے کا اختتام یوں ہوتا ہے کہ لڑکی کے والدین مجبور ہو کر اپنی بیٹی کی شادی اسی ریپسٹ کے ساتھ کر دیتے ہیں۔ گویا ریپسٹ کو سزا میں وہی لڑکی مل جاتی ہے یقینا اتنا بلند حوصلہ اسی ریپسٹ کا ہو سکتا ہے جو شادی کر کے اس لڑکی کو اپناتا ہے جسے کوئی اپنانے کو تیار نہیں۔ شائستہ نے مجھے اس موضوع پر لکھنے کا مشورہ دیا تو مجھے ایک ای میل بھی بھیجا جن میں ان ڈراموں کے لنکس موجود تھے۔ پھر میں نے موقع ملنے پر ان لنکس کو بھی دیکھا۔ میں شائستہ کی بات سن کر یہ فیصلہ تو کر چکی تھی کہ اس موضوع پر لکھنا چاہیے لیکن موضوع خاصا حساس ہے اس پر ایسا کیا لکھوں جس پر ڈرامہ رائٹرز زیادہ برا نہ منائیں۔ آخر وہ بھی تو کئی روز تک مشقت کر کے ریپسٹ کو ہیرو بنانے کے سکرپٹ کا پلاٹ تیار کرتے ہیں۔ چلیں، یوں کرتے ہیں کہ میں ایسے ڈرامہ رائٹرز کا تعارف دو ہروئنز اور دو ہیروز سے کرواتی ہوں۔ یہ جانتے ہوئے کہ زیادتی کا شکار، متاثرہ لڑکیوں اور والدین کا نام پتہ دینا صحافتی اقدار میں شامل نہیں، تاہم میں ایسا دونوں خاندانوں کی اجازت سے کر رہی ہوں، کیونکہ جو رسم و رواج سے انحراف کرنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ اپنا نام ظاہر کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔\"\"
13 سالہ طاہرہ، ضلع راجن پور کے ایک موضع میں آباد ہے، وہ جہاں رہتی ہے اس ضلع کو پاکستان کا پسماندہ ترین ضلع شمار کیا جاتا ہے، تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ابھی وہاں کے رہائشیوں کو راجن پور کے جاگیردار اب تک ہونے نہیں دے رہے، اپنی مرضی کے مطابق سانس لینا اس علاقے کے باسیوں کے لئے اتنا آسان نہیں۔ ایسے ماحول اور کم وسائل کے باعث طاہرہ صرف چار جماعتیں پاس ہے۔ علاقے کے رواج کے مطابق طاہرہ کے گھر والوں نے اسے دینی تعلیم تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اب طاہرہ میجی کے گھر دن میں دو بار قرآن پاک پڑھنے جانے لگی۔ ’میجی‘ اس علاقہ میں قرآن پاک پڑھانے والی خاتون کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ’ماں جی‘ سے ماخذ ہے، میجی ایک دن گھر سے باہر گئی تو موقع پا کر ان کا بیٹا کاشف طاہرہ کے پاس آیا اور پسٹل دکھا کر، اس نے طاہرہ سے جنسی تسکین حاصل کر لی۔ طاہرہ خوف سے یہ بات گھر نہ بتا پائی۔ اس واقعہ کے بعد کاشف نے یہی عمل مزید ایک دو بار دہرایا۔ طاہرہ کے گھر والوں کو یہ بات تب پتہ چلی جب انہوں نے اس کی جسمانی ساخت میں ہوتی تبدیلی کو محسوس کیا۔ تب وہ 5 ماہ کی حاملہ تھی۔ عموماً ایسے واقعات میں یہی دیکھا گیا ہے کہ بطور سزا لڑکی کا قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر راز داری سے ایسے بچے کی سانسیں بند کر دی جاتی ہیں جس کا نام اس معاشرے میں بس ایک گالی سے ہی منسوب ہے۔ لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ طاہرہ کے والد نے 11 جولائی 2016ءکو دفعہ 376 کے تحت تھانہ محمد پور میں کاشف کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ۔ نور محمد عدالتی نظام سے قدرے واقف تھا وہ یہ جانتا تھا کہ عدالت اس سے اس کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کے عینی شاہدین اور گواہان مانگے گی جو وہ شاید نہ دے سکے تو کاشف بے قصور ٹھہرے گا۔ اسی سوچ پر نور محمد نے یہ فیصلہ کیا
کہ اس کی بیٹی اس بچے کو پیدا کرے گی۔ 17 نومبر 2016ء کو طاہرہ نے اس بچے کو جنم دیا۔ یہ کیس اس وقت راجن پور کی تحصیل جام پور کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ نور محمد نے اپنے وکیل کی مدد سے عدالت کو نومولود اور کاشف کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے حکم کی درخواست دے رکھی ہے جس پر ابھی عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ قانونی تقاضوں میں ڈی این اے رپورٹ کو بطور واقعاتی شہادت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جرم ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ گواہ اور مزید ثبوت بھی پیش کئے جائیں۔ ڈی این اے کو حتمی شہادت نہیں سمجھا جاتا لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آنے پر عدالت ملزم پر جرم عائد کر سکتی ہے۔ نور محمد سے جب میں ملی تو اس سے پوچھا کہ آپ نے اس قدر باہمت فیصلہ کیسے کیا۔ یقینا یہ آپ کے لئے بہت مشکل مرحلہ ہو گا۔ نور محمد نے بتایا کہ اس کی بیٹی بے قصور ہے۔ وہ خوف زدہ تھی۔ اسے دھمکایا جاتا رہا ، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوئی۔ میری بیٹی پہلے ہی جسمانی اذیت سے گزری ہے ، میں بطور والد ، اسے مزید تکلیف نہیں دے سکتا تھا ، نہ تو میں نے اس پر تشدد کیا اور نہ ہی اسے کبھی مارنے کا خیال دل میں آیا۔ میں اگر ایسا کرتا تو اس کے لئے باپ اور زیادتی کرنے والے شخص میں کوئی فرق باقی نہ رہتا ۔ میری بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ میں ملزم کو مجرم ثابت کروں ۔ یہی میرا انتقام ہے اور مجرم کی سزا۔ نور محمد نے بتایا کہ بچہ پیدا کرنے کے فیصلہ پر اس کی برادری نے اس سے سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ کاشف کی جانب سے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں تاہم مجھے یقین ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کاشف کو سزا دلوانے میں کارآمد ہو گی۔
\"\"
دوسری کہانی مظفر گڑھ کے ایک دیہات کی 20 سالہ بشریٰ کی ہے، جس کی والدہ کو 5 سال پہلے رشتہ داروں نے قتل کر دیا تھا۔ بیوی کی موت نے والد کو نشے کی عادت میں مبتلا کیا۔ بشریٰ بڑی ہوئی تو شادی شدہ بہن اسے اپنے گھر اس لئے ساتھ لائی کہ والد تو نشہ کرتا ہے بہن کی حفاظت میں خود کروں گی ۔ بشریٰ اپنے ہی بہنوئی کی زیادتی کا شکار ہوتی رہی ۔ کچھ عرصہ ساجد اکیلا اس فعل میں ملوث رہا ،بعد میں اس نے اپنے دو دوستوں کی سانجھے داری بھی شامل کی ۔یوں بشریٰ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بھی بنی۔ اس کے ساتھ زیادتی یہ کہہ کر کی گئی کہ اگر منہ کھولا تو وہ بھی اپنی ماں کی طرح قتل کر دی جائے گی ۔ تاہم بشری ٰاپنی زبان کھولنے پر تب مجبور ہوئی ، جب وہ اڑھائی ماہ کی حاملہ تھی۔ تب بشریٰ کو اس کے خالہ زاد بھائی رمضان نے سنبھالا ۔ ساجد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف 23 مئی 2016ء کو تھانہ خان گڑھ میں رپورٹ درج کروائی گئی اور تینوں ملزموں کو پکڑوایا بھی۔ اس کیس کے ملزموں کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی 6 ماہ قبل ہو چکا ہے لیکن اب تک ڈی این اے رپورٹ لاہور سے عدالت کو موصول نہیں ہوئی۔ رمضان نے الزام لگایا ہے کہ اس کیس پر ملزموں کی سربراہی مظفر گڑھ کے صوبائی حلقہ 256 سے منتخب پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایم پی اے عمران قریشی کر رہے ہیں اور ڈی این اے رپورٹ میں تاخیر کی وجہ بھی ان کا اثر و رسوخ ہے۔ بشریٰ 3 نومبر 2016ء کو ایک بچی کی ماں بنی۔ اس کے خالہ زاد بھائی رمضان کی 8 بیٹیاں ہیں۔ رمضان سمجھتا ہے کہ اللہ اس کی بیٹیوں کا رزق دے رہا ہے ، وہیں سے بشریٰ کی بچی کا بھی رزق آئے گا۔ خود پر بیتے دنوں کے غم میں پہلے تو بشریٰ کئی روز پریشان رہی اور بچی کو بھی سنبھال نہ پائی لیکن اب وہ پہلے سے بہتر ہے اور بچی کو ماں بن کر پال رہی ہے۔ بشریٰ نے اس کا نام بھی خود تجویز کر کے \"\"’رمشا‘ رکھا ہے۔ بشریٰ نے کیونکہ اپنی ماں کا قتل آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا تھا اور اس کرب کا اندازہ اسے ہے اس لئے وہ اپنے بچے کا قتل نہیں کر سکتی تھی۔ وہ جانتی ہے بیٹی کے لئے ماں کے رشتے کا ساتھ ہونا کتنا ضروری ہے ۔ طاہرہ اور بشریٰ نے ، ان بچوں کو اس لئے جنم دیا ہے تا کہ وہ زیادتی کے ملزموں کو سزا دلانے میں کامیاب ہو سکیں۔ یہ وہ سادہ اور باہمت لڑکیاں ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف بغیر کسی سہارے کے کھڑی ہیں ،نہ کے منہ چھپا کر زندگی سے سمجھوتہ کرتے ہوئے ساجد اور کاشف کے عشق میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ بلاشبہ نور محمد اور رمضان نے بھی ان فرسودہ اقدار کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنی بیٹی اور خالہ زاد کا ساتھ دے کر معاشرے کے اصل ہیرو ہونے کا کردار ادا کیا جنہیں ٹیلی ویژن سکرین پر دکھا کر لوگوں کو یہ بتایا جا سکتا ہے کہ زیادتی کے بعد قتل ، خودکشی یا پھر زنا کرنے والے کو ہیرو بنانا ضروری نہیں بلکہ کمزور اور سست رفتار قانون پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسے کرداروں کو دکھانے پر مفتیان فتویٰ صادر نہیں کرتے تاہم ریپ کے قانون میں ترمیم یا پھر ایسے بچوں کی زندگی بچانے پر ان کے بیانات اور فتوے ضرور موجود ہیں۔ تو ذرا اٹھائیے قلم ، دکھائیں وہ حقیقی کردار بھی ، جو روایات سے ہٹ کر ہیں، لکھیں ان بچوں کے لئے جو زنا بالجبر کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں ، ان کا قتل حرام ہے نہ کہ وہ خود۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میمونہ سعید

میمونہ سعید جیو نیوز سے وابستہ ہیں۔ وہ ملتان میں صحافت کے فرائص سرانجام دیتی ہیں ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلوہوما کی فیلو بھی رہ چکی ہیں ۔

maimoona-saeed has 8 posts and counting.See all posts by maimoona-saeed

2 thoughts on “ہیرو بننا ہے تو کیا ریپ کرنا ہو گا

  • 22-01-2017 at 9:50 pm
    Permalink

    محترمہ، ان دو بے نظیر لوگوں کا ذکر کرکے آپ نے ہم سب کو ممنون کیا ہے۔ جو جنگ یہ دو مرد اور وہ دو معصوم لڑکیاں لڑ رہی ہیں وہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ظاہر ہے کہ عام اخبار انکا ذکر نہ کریں گے اور نہ کوئی ٹی وی چینل ان پر ڈاکومنٹری دکھائےگا۔ خدا کرے آپکے مضمون کا کچھ اثر ہو۔

  • 23-01-2017 at 1:29 pm
    Permalink

    No doubt you have raised your voice on a very serious issue. Both father and cousin of the victims of rape are great that they had the courage to stand against the socity. I salute them and I also salute both of the victims. Our shameless judiciary is playing a vital role in increasing these type of bad acts in the socity.

Comments are closed.