کٹاس راج مندر اور ہمارا جلتا ہوا گھر


\"\"سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔ میں سوچتی ہوں اقبال نے جب بڑے مان سے یہ ترانہ لکھا ہوگا تب انھیں اپنی دھرتی پہ کیسا ناز ہوگا۔ وہ دھرتی جس نے بڑے فخر سے اپنی مامتا سی شفیق بانہوں میں کئی تہذیبوں کی پرورش کی تھی۔ تب اقبال نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ جب یہ دھرتی کئی ٹکڑوں میں منقسم ہو گی تب تہذیبوں کو محض دھرم اور مذہب کی شناختی بنیادوں پر قبول یا رد کیا جائے گا۔ دھرتی کو ماں سمان ماننے والے عقیدت مند خود اپنے ہی تہذیبی اثاثوں کو مذہبی تعصب سے پرکھتے ہوئے، مسمار کرنے کو چڑھ دوڑیں گے۔ یہی نہیں بلکہ صدیوں سے اس دھرتی پہ رہنے والوں کا قومی تشخص مذہب کے نام پر قائم کرتے ہوئے اُن کو ان کے اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنا دیا جائے گا۔

\"\"

تاریخی مندر ’’کٹاس راج‘‘ کی بحالی اور قومی تشخص کے مؤقف پر سربراہِ ریاست کے عمدہ ونادر الفاظ نے حال ہی کی چند یادیں تازہ کر دیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں یہی کوئی ڈھائی تین ماہ قبل جب عدنان خان کاکڑ نے کٹاس راج جیسے قدیم مندروں کی تصویر کے دیدار کا شرف بخشا تو اس کا حسن مبہوت کر دینے کو کافی تھا۔ حیرت اور صدمے کا ایک ملا جلا تاثر اپنی لاعلمی پہ ہوا کہ اپنی دھرتی کے ایسے قیمتی اثاثوں سے اب تک ہماری واقفیت کیوں کرنہ ہو پائی۔ دل نے آہستہ آہستہ دلائل سے یہ باور کرانا چاہا کہ یہ لاعلمی محض ہماری اپنی غفلت کے سبب ہر گزنہ تھی، اس تغافل کے شعوری شراکت دار اور بھی کئی تھے۔ سو اس مقدمے کی سماعت کو اگلی تاریخوں پہ ملتوی کرتے ہوئے ہم نے وطنِ عزیز میں قبل از سرما ہونے والی برائے نام سرما کی تعطیلات کو غنیمت جانا اورکٹاس راج کے درشن کیے۔ اگرچہ کلر کہار سے کٹاس راج تک راستے میں کسی سائن بورڈ نے ہمیں قطعاً یہ بتانے کی زحمت نہ کی کہ اس سر زمین کا یہ قدیم تاریخی و تہذیبی سرمایہ اب ہم سے کتنے کوس پر واقع ہے۔ تاہم پھر بھی ان قدیم تاریخی مندروں کی کشش ہمیں وہاں تک کھینچ لائی۔ مندر کیا تھے ایک جہان ِ حیرت تھا۔ وقت اور تاریخ کی شکست و بود سے مزین یہ سنسان اور ویران مندر اپنے اندر کتنے زمانوں کے بھید لیے ہوئے تھے۔

\"\"

اپنے پر شکوہ ماضی پہ نوحہ کناں ان مندروں کی دیواروں پر دھیرے دھیرے سے ہاتھ پھیریں تو یہ ہزاروں سال پرانے کھنڈر آپ کو جیتے جاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یکا یک مندر کی محرابوں سے کئی چراغ جل اٹھے ہوں اور آن کی آن میں کئی تہذیبیں زندہ و روشن، ماضی سے عود کر آپ کے سامنے کھڑی ہو گئی ہوں اور آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ویرانی کا سبب پوچھ رہی ہوں۔ پھر جب آپ نظریں چرائے قدم کسی اور سمت بڑھاتے ہیں تو گائیڈ کے الفاظ آپ کو بہت کچھ باور کرانے پر تیار دکھائی دیتے ہیں، وہ الفاظ جو وہ روانی میں شاید دن میں کئی بار ادا کرتا ہے:

’’یہ دیکھئے۔ آئیے آئیے۔ اندر سے دیکھئے۔ کیسے تنگ و تاریک مندر ہیں۔ ہندو چونکہ تنگ نظر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے مندر۔ ان کی عمارتیں بھی ان ہی کی طرح۔ ‘‘ اس سے آگے آپ کچھ سن نہیں پاتے۔ کہ یہ تو وہی سنے سنائے، رٹے رٹائے جملے ہیں کہ جن سے آپ کی سماعتیں اور بصارتیں کسی درسی کتاب کی صورت میں بہت پہلے ہی آشنا ہو چکی ہیں۔ اس آگہی پہ تکلیف کہاں ہوتی ہے آپ چاہ کر بھی بیان نہیں کر پاتے۔

\"\"

ایسے کئی صبر آزما سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہوئے جب آخر میں آپ تھکے ہارے اپنی اس اجڑی، مٹتی تہذیب اور خشک ہوتے قدرتی چشمے کو خالی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے، گائیڈ سے ان ویران مندروں کی مورتیوں کی بابت استفسار کرتے ہیں تو آپ پر یہ بات بھی روشن کر دی جاتی ہے کہ:

’’مورتیاں تو ہندو اپنے خاص موقعوں پر پوجا کے لیے ساتھ لاتے ہیں اور احتیاط سے ساتھ ہی لے جاتے ہیں۔ ان خاص موقعوں پریہاں ان کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ ‘‘یہ آخری جملہ گائیڈ کسی قدر فخرسے بتاتا ہے کہ آپ کو لگتا ہے جیسے وہ انتظام نہیں احسان کہنا چاہتا ہے۔

\"\"

آپ بے بسی سے خود سے الجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جناح کے پاکستان میں، اپنی ہی عبادت گاہوں میں اقلیتیں اتنے عدم تحفظ کا شکارآخر کیوں؟ وہ اقلیتوں کے حقوق کا نعرہ لگانے والے کیا ہوئے؟ ایسا عدم اعتماد کہ ان کی قدیم تاریخی اور مذہبی عبادت گاہوں میں آپ کونہ تو کوئی ہندو دکھائی دے اور نہ ہی مندر میں کوئی مورتی۔ تب کوئی اندر سے آئینہ دکھاتا ہے کہ اپنی عبادت گاہوں میں خدشات میں گھری سہمی ہوئی اقلیتیں، ہم سے کوئی بھی سوال پوچھنے کی متحمل کہاں ہو سکتی ہیں؟ کیونکہ اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اپنے حسنِ سلوک سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اُن کے عدم تحفظ اور عدم اعتماد کی بنیاداُن کی آنکھوں میں منجمد وہ خوف ہے، جو جانتا ہے کہ نہ جانے کب ہم پر ہمارا مذہبی جنون اس شدت سے طاری ہو کہ ہم اپنی مذہبی برتری میں پھٹ کر اُن کے مذہب کی ناموس ہوا میں چیتھڑوں کی مانند بکھیر کر رکھ دیں۔ کب راہ چلتے کسی غیر مسلم پر ہمیں پیار آجائے اور ہم اس کی عاقبت سنوارنے اور اُسے اپنا ہم مذہب بنانے کی نیکی میں ہر حد سے گزرنے اور گزارنے پر تیار ہو جائیں۔ کب ہماری خود پسندی تعصب کی آخری حدوں کو چھونے لگے اور اقلیت ہونے کا جرم اُن کی جان لے بیٹھے۔ کیونکہ ہم تو وہ پارسا ہیں جو اپنے ہی ہم مذہب، ہم عقیدہ لوگوں پر کفر کے فتوے لگاتے نہیں تھکتے، تو پھر ان قدیم تاریخی تہذیبوں کا تقدس و تحفظ تو ہمارے ضبط کا کڑا امتحان ٹھہرا۔

بڑی عجیب سی بات ہے کہ اپنے مذہب کوبہ بانگِ دہل امن و آشتی قرار دینے والے جب دوسروں کے مذہب کو آتشی رویوں کی بھینٹ چڑھا تے ہیں تو یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نفرت کی اس آگ میں مذہب کوئی بھی ہو، گھر اپنا ہی جلتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “کٹاس راج مندر اور ہمارا جلتا ہوا گھر

  • 22-01-2017 at 9:39 pm
    Permalink

    بہت خوب۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔ ہماری تہذیب ایسی نہ تھی اور انشاٴالله ایسی نہ رہیگی۔

Comments are closed.