کیا ٹی وی بھی آلہِ قتل ہے؟


\"\"

کسی کو یاد ہے کہ بائیس برس پہلے روانڈا کے دارالحکومت کگالی کے قریب ایک طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا؟ اس طیارے میں روانڈا کے ہوتو صدر ہبرے مانا بھی سوار تھے۔ آج تک معلوم نہیں ہو پایا کہ یہ حادثہ تھا یا طیارہ کسی میزائیل کا نشانہ بنا۔ مگر اس واقعے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر اقلیتی تتسی قبیلے کا قتلِ عام شروع ہوگیا۔ کیونکہ سرکاری ریڈیو اور ایف ایم چینلز پر ہوتوؤں کی غیرت کو للکارا گیا کہ آج تتسیوں نے تمہارے صدر کو مار دیا ہے۔ خبردار کوئی تتسی زن و مرد و بچہ زندہ نہ بچے اور پھر غول کے غول بھالے، تلواریں اور بندوقیں لے کر نکل پڑے۔ تین ماہ میں آٹھ لاکھ تتسی مار دیے گئے۔

روانڈا کی نسل کشی نے بتایا کہ نشریاتی الفاظ بھی آلہِ قتل ہو سکتے ہیں۔ مگر یہی الفاظ قتلِ عام رکوا بھی سکتے تھے اگر ریڈیو پر تواتر سے اعلان کیا جاتا کہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ طیارے کی تباہی کی وجوہات کا کھوج لگایا جائے گا اور جو بھی ملوث پایا گیا اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ سلمان تاثیر کو توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس میں تبدیلی و ترمیم کے بیان نے قتل کروایا یا پھر قتل سے چند روز پہلے اس ٹی وی انٹرویو نے مروایا جس میں سلمان تاثیر سے بہ تکرار پوچھا گیا کہ کیا وہ توہینِ مذہب کے قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں؟ اور جب سلمان تاثیر نے اس کا بلاواسطہ جواب دینے کی کوشش کی تو ان کے منہ میں زبردستی الفاظ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مگر تاثیر نے یہی کہا کہ وہ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔ جو کچھ بھی ہوا لیکن تاثیر کے قتل کے بعد ٹی وی چینل نے اینکر سے لاتعلقی اختیار کر لی۔

ہو سکتا ہے میرپور خاص اور نواب شاہ میں اگلے اڑتالیس گھنٹے میں چار احمدی یوں قتل ہوئے کہ ایک دن پہلے ایک نیشنل چینل پر ایک اینکر نے پروگرام میں شریک علما سے بااصرار تواتر سے سوال کیا کہ کیا احمدی واجب القتل ہیں؟ ایک عالم نے پس و پیش سے کام لیا مگر اینکر خود بھی کہتا رہا کہ واجب القتل ہیں اور سوالیہ تکرار کے نتیجے میں عالم کے منہ سے یہ الفاظ نکلوانے میں کامیاب ہو گیا کہ ہاں واجب القتل ہیں۔ ممکن ہے قاتل نے وہ ٹی وی پروگرام نہ دیکھا ہو اور ازخود ہی کسی فیصلے پر پہنچ گیا ہو۔ مگر ان وارداتوں کے بعد اس اینکر سے چینل نے کچھ عرصے کے لیے بس پروگرام واپس لے لیا۔

اس مہینے کے شروع میں چار بلاگرز اور انسانی حقوق کے ایکٹوسٹ لاپتہ ہوگئے۔ لاپتہ ہونے کے چند دن بعد اچانک سوشل میڈیا اور کچھ ٹی وی چینلز پر کھلم کھلا نام لے کر کہا جانے لگا کہ ان بلاگرز نے توہینِ مدہب کی ہے۔ ان میں سے دو ایکٹوسٹس کے اہلِ خانہ نے اس تاثر کو رد کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس بھی کی اور ایک مفتی صاحب کو بھی اس پریس کانفرنس میں مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلا تحقیق سنی سنائی بات آگے بڑھانا کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی پروپیگنڈہ مہم کی مذمت کی۔ سینیٹ میں بھی شور مچا۔
مگر آج بھی نشریاتی مہم جاری ہے اور اب اس مہم کا رخ ایک چینل کے توسط سے شدت پسندی کے خلاف مہم چلانے والے ایک نوجوان لکھاری اور ایکٹوسٹ جبران ناصر کی طرف بھی ہے۔ جبران کا نام پہلے پہل دو سال قبل اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی جانب سے آرمی پبلک اسکول پشاور کے قتلِ عام کی مذمت کرنے سے انکار کے بعد لال مسجد کے باہر ایک مظاہرہ منظم کرنے کی کوشش کی۔

تازہ نشریاتی مہم کا ایک فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ اصل مسئلے یعنی جبری گمشدگی کی جانب سے لوگوں کی توجہ بٹ گئی ہے اور چینلز پر کوئی بھی یہ کہنے سے خوفزدہ ہے کہ اگر یہ بلاگرز یا ایکٹوسٹ مجرم ہیں تو انہیں سامنے لا کر قانونی کارروائی کی جائے۔ فوکس الٹا اس جرم کی جانب ہو گیا ہے جو ان ایکٹوسٹس کی گمشدگی سے پہلے سامنے نہیں آ سکا حالانکہ ان کی ویب سائٹس اور ویب پیج تب بھی موجود تھے۔ شاید منظم نشریاتی مہم کے ذریعے یہ بات یقینی بنائی جا رہی ہے کہ اگر کل کلاں چاروں منظرِ عام پر آ بھی جائیں تو قانوناً بھلے ان کا جرم ثابت نہ ہو سکے لیکن کوئی بھی جوشیلا بطورِ ثواب ان کی جان کے درپے ہو جائے یا ان کا ملک میں رہنا اور یہاں رھ کر اپنا اظہار تقریباً ناممکن ہو جائے۔

میڈیا کی طاقت کے منفی استعمال کو بندر کے ہاتھ میں استرا بننے سے روکنے کے لیے پاکستان میں بظاہر پیمرا کا ادارہ بھی قائم ہے۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ نشریات کے ضمن میں ماضیِ قریب میں کئی چینلوں اور ان کے اینکرز کے خلاف متعدد تادیبی کارروائیاں بھی کی ہیں۔ مگر موجودہ مہم کے تناظر میں پیمرا نے سینکڑوں تحریری اور آن لائن شکائیتوں کے باوجود ایک پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے یا پھر پیمرا کو ’دیکھو اور انتظار کرو‘ پر لگا دیا گیا ہے۔ شاید اس بار بھی تادیبی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کو کسی سانحے کا انتظار ہو تاکہ اسے جواز بنا کر ایکشن لیا جا سکے۔
تو کیا آلاتِ قتل کی تعریف میں تیز دھار خنجر، آتشیں و غیر آتشیں آٹومیٹک و سیمی آٹو میٹک اسلحے کے ساتھ ساتھ آگ اگلتی ٹی وی اسکرینز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “کیا ٹی وی بھی آلہِ قتل ہے؟

  • 22-01-2017 at 9:32 pm
    Permalink

    Nothing can be more urgent. So many innocents have already lost their lives.

  • 22-01-2017 at 10:45 pm
    Permalink

    it is happening with me. i will inbox you some screenshorts.

  • 22-01-2017 at 10:48 pm
    Permalink

    my fault was only that i raised my voice for salman taseer and salman haider. and an organised campaign has been launched in social media against me, alleging therein that im a blasphemous.
    i also recieved murderous threts.
    i decided to avoid litigation, ,
    salman taseer fate can be repeated

Comments are closed.