شاہ رخ کی ’رئیس ‘ ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر


\"\"بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان اور ان کی فلم ”رئیس“ کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی ہے اور اداکار کو غدار قرار دے دیا۔
شاہ رخ خان کو ہندو انتہا پسندوں اور بی جے پی کو بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اورعدم برداشت پر آئینہ دکھانا خاصا مہنگا ثابت ہورہا ہے اسی لیے ہندو انتہا پسندوں نے شاہ رخ کی فلموں”دل والے“ اور ”فین“ کو ناکام بنانے کے باوجود اب بھی متعصبانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔
بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی شاہ رخ خان کی نئی آنے والی فلم”رئیس“ کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی ہے اورپارٹی کے جنرل سیکرٹری کیلاش وجے ورگیا نے ٹوئٹر پر کنگ خان کو ملک کا غدار قرار دیتے ہوئے ان کی فلم ”رئیس“ کا بائیکاٹ اور ہریتک روشن کی فلم ”کابل“ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں بی جے پی کے جنرل سیکرٹری کیلاش وجے کا کہنا تھا کہ جو”رئیس“ ملک کا نہیں وہ کسی کام کا نہیں اور ایک ”کابل“محب وطن کا ساتھ تو ہم سب کو دینا ہی چاہیے۔
دوسری جانب بی جے پی کے رہنما کی ٹوئٹ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ فلم ”رئیس“میں شاہ رخ کے مد مقابل پاکستانی بیوٹی کوئین ماہرہ خان نے مرکزی کردارادا کیا ہے اور فلم 25 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی جب کہ اسی روز ہریتک روشن کی فلم ”کابل“ بھی ریلیز ہوگی جس کے باعث دونوں فلموں کے مابین باکس آفس پر اچھے مقابلے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔