مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (2)


ادارہ ہم سب مولانا ابوالکلام آزاد کی اس تاریخی تقریر کا مستند متن عنایت کرنے پر پروفیسر سی ایم نعیم کا از حد شکر گزار ہے

\"\" میرےعزیزو۔ آپ جانتےہیں کہ وہ کون سی زنجیر ہےجو مجھےیہاں لے آئی ہے۔ میرے لئے شاہجہاں کی اس یادگار مسجد میں یہ اجتماع نیا نہیں۔ میں نے اُس زمانہ میں بھی، کہ اُس پر لیل و نہار کی بہت سی گردشیں بیت چکی ہیں، تمہیں خطاب کیا تھا، جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائےاطمینان تھا اور تمہارے دِلوں میں شک کی بجائےاعتماد۔ آج تمہارے چہروں کا اضطراب اور دِلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے بےاختیار پچھلےچند سالوں کی بھولی بسری کہانیاں یاد آجاتی ہیں۔ تمہیں یاد ہے؟ میں نے تمہیں پکارا اور تم نےمیری زبان کاٹ لی۔ میں نےقلم اُٹھایا اور تم نےمیرے ہاتھ قلم کر دیے۔ میں نےچلنا چاہا تو تم نے میرے پاؤں کاٹ دیے۔ میں نےکروٹ لینی چاہی تو تم نےمیری کمر توڑ دی۔ حتیّ کہ پچھلےسات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغِ جدائی دے گئی ہے اُس کے عہدِ شباب میں بھی میں نےتمہیں خطرے کی ہر شاہراہ پر جھنجھوڑا، لیکن تم نےمیری صدا سے نہ صرف اعراض کیا بلکہ غفلت و انکار کی ساری سنّتیں تازہ کر دیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج اُنھی خطروں نے تمھیں گھیر لیا ہے جن کا اندیشہ تمھیں صراطِ مستقیم سے دور لےگیا تھا۔

سچ پوچھو تو اب میں ایک جمود ہوں یا ایک دُوراُفتادہ صدا، جس نےوطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گذاری ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جو مقام میں نے پہلے دِن اپنے لئے چُن لیا تھا، وہاں میرے بال و پر کاٹ لئے گئے یا میرے آشیانے کے لئے جگہ نہیں رہی۔ بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے دامن کو تمہاری دست درازیوں سے گِلہ ہے۔ میرا احساس زخمی ہے اور میرے دِل کو صدمہ ہے۔ سوچو تو سہی تم نے کون سی راہ اختیار کی؟ کہاں پہنچےاور اب کہاں کھڑے ہو؟ کیا یہ خوف کی زندگی نہیں، اور کیا تمہارے حواس میں اختلال نہیں آگیا۔ یہ خوف تم نے خود فراہم کیا ہے۔

ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں بیتا جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ دو قوموں کا نظریہ حیاتِ معنوی کے لئےمرض الموت کا درجہ رکھتا ہے۔ اُس کو \"\"چھوڑدو، کہ یہ ستون جن پر تم نے بھروسہ کیا ہوا ہے نہایت تیزی سےٹوٹ رہےہیں لیکن تم نےسُنی ان سُنی برابر کر دی اور یہ نہ سوچا کہ وقت اور اُس کی رفتار تمہارے لئے اپنا ضابطہ تبدیل نہیں کرسکتے۔ وقت کی رَفتار تھمی نہیں۔ تم دیکھ رہےہو کہ جن سہاروں پر تمہارا بھروسہ تھا وہ تمہیں لاوارِث سمجھ کر تقدیر کے حوالے کر گئے ہیں، وہ تقدیر جو تمہاری دماغی لغت میں مشیّت کی منشا سےمختلف مفہوم رکھتی ہے، یعنی تمہارےنزدیک فقدانِ ہمّت کا نام تقدیر ہے۔

انگریز کی بساط تمہاری خواہش کے برخلاف اُلٹ دی گئی اور راہ نمائی کے وہ بت جو تم نےوضع کیے تھےوہ بھی دغا دے گئے، حالانکہ تم نےسمجھا تھا کہ یہ بساط ہمیشہ کے لئےبچھائی گئی ہے، اور انھی بتوں کی پوجا میں تمہاری زندگی ہے۔ میں تمہارے زخموں کو کریدنا نہیں چاہتا اور تمہارے اضطراب میں مزید اِضافہ میری خواہش نہیں، لیکن اگر کچھ دُور ماضی کی طرف پلٹ جاؤ تو تمہارے لئے بہت سی گرہیں کھُل سکتی ہیں۔

ایک وقت تھا کہ میں نےہندوستان کی آزادی کے حصول کا احساس دِلاتے ہوئے تمہیں پکارا تھا، اور کہا تھا کہ جو ہونےوالا ہے اُس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیں سکتی۔ ہندوستان کی تقدیر میں بھی سیاسی انقلاب لکھا جا چکا ہے اور اس کی غلامانہ زنجیریں بیسویں صدی کی ہوائےحُرِّیت سےکٹ کر گِرنےوالی ہیں۔ اگر تم نےوقت کے پہلو بہ پہلو قدم اُٹھانے سے پہلوتہی کی اور تعطل کی موجودہ زندگی کو اپنا شعار بنائےرکھا تو مستقبل کا مورّخ لکھےگا کہ تمہارے گروہ نےجو سات کروڑ انسانوں کا ایک غول تھا، ملک کی آزادی کے بارے میں وہ روَیّہ اختیار کیا جو صفحۂ ہستی سےمحو ہوجانےوالی قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ آج ہندوستان آزاد ہے، اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہےہو کہ وہ سامنےلال قلعہ کی دیوار پر آزاد ہندوستان کا جھنڈا اپنے پورے شکوہ سے لہرا رہا ہے۔ یہ وہی جھنڈا ہےجس کی اُڑانوں سے حاکمانہ غرور کے دِل آزار قہقہے تمسخر کیا کرتے تھے۔

یہ ٹھیک ہےکہ وقت نےتمہاری خواہشوں کے مطابق انگڑائی نہیں لی بلکہ اُس نےایک قوم کے پیدائشی حق کے احترام میں کروٹ بدلی ہے، \"\"اور یہی وہ انقلاب ہے جس کی ایک کروٹ نےتمہیں بہت حد تک خوف زدہ کردیا ہے۔ تم خیال کرتےہو کہ تم سےکوئی اچھی شے چھِن گئی ہےاور اُسکی جگہ کوئی بُری شےآ گئی ہے۔ یہ واقعہ نہیں واہمہ ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ بُری شےچلی گئی اور اچھی شےآ گئی۔ ہاں تمہاری بےقراری اِس لئے ہے کہ تم نےاپنےتئیں اچھی شےکے لئےتیار نہیں کیا تھا، اور بُری شےکو ہی ملجاوماویٰ سمجھ رکھا تھا۔ میری مراد غیرملکی غلامی سے ہے جس کے ہاتھ میں تم نےمدّتوں حاکمانہ طمع کا کھلونا بن کر زندگی بسر کی ہے۔ ایک دن تھا جب تم کسی جنگ کے آغاز کی فکر میں تھےاور آج اس جنگ کے انجام سے مضطرِب ہو۔ آخر تمہاری اِس عجلت پر کیا کہوں کہ اِدھر ابھی سفرکی جستجو ختم نہیں ہوئی اور اُدھر گمراہی کا خطرہ بھی درپیش آ گیا۔

میرے بھائی، میں نےہمیشہ سیاسیات کو ذاتیات سےالگ رکھنے کی کوشش کی ہےاور کبھی اس پُر خار وادی میں قدم نہیں رکھا۔ یہی وجہ ہےکہ میری بہت سی باتیں کنایوں کا پہلو لیےہوتی ہیں، لیکن مجھے آج جو کہنا ہےمیں اُسے بے روک ہوکر کہنا چاہتا ہوں۔ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اُس کا لازمی نتیجہ یہی آثار و مظاہر تھے جو ہم نےاپنی آنکھوں سے دیکھے، اور بدقسمتی سے بعض مقامات پر آج بھی دیکھ رہے ہیں۔

پچھلے سات برس کی روئیداد دہرانے سےکوئی خاص فائدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ البتہ ہندوستان کے مسلمانوں پر مصیبتوں کا جو ریلا آیا ہے وہ یقیناً مُسلم لیگ کی غلط قیادت کی فاش غلطیوں کا بدیہی نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ مُسلم لیگ کے لئےموجبِ حیرت ہوسکتا ہے لیکن میرے لئے اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ میں پہلے دن ہی سے اِن نتائج پر نظر رکھتا تھا۔\"\"

اب ہندوستان کی سیاست کا رُخ بدل چکا ہے۔ مُسلم لیگ کے لئےیہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب یہ ہمارےاپنے دماغوں پر منحصر ہےکہ ہم کسی اچھےاندازِ فکر میں سوچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ اِس خیال سے میں نے نومبر کے دوسرےہفتہ میں ہندوستان کے مُسلمان رہنماؤں کو دہلی بلانے کا قصد کیا ہے۔ دعوت نامے بھیج دئیے گئےہیں۔ ہراس کا یہ موسم عارضی ہے۔ میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سِوا کوئی زیر نہیں کر سکتا۔

میں نےتمھیں ہمیشہ کہا اور آج پھر کہتا ہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑدو۔ شک سےہاتھ اُٹھا لو، اور بےعملی کو ترک کر دو۔ یہ تین دھار کا انوکھا خنجر لوہےکی اس دودھاری تلوار سےزیادہ کاری ہےجس کے گھاؤ کی کہانیاں میں نے تمہارے نوجوانوں کی زبانی سنی ہیں۔ یہ فرار کی زندگی جو تم نےہجرت کے مقدّس نام پر اختیار کی ہے، اس پر غور کرو۔ تمہیں محسوس ہو گا کہ یہ غلط ہے۔ اپنے دِلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنےدماغوں کو سوچنےکی عادت ڈالو، اور پھر دیکھو کہ تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جارہے ہو اور کیوں جا رہےہو؟ یہ دیکھو مسجد کے مینار تم سےاُچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نےاپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گُم کر دیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہےکہ یہیں جمنا کے کنارےتمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا، اور آج تم ہو کہ تمھیں یہاں رہتےہوئےخوف محسوس ہوتا ہےحالانکہ دہلی تمہارےخون کی سینچی ہوئی ہے۔

عزیزو، اپنےاندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔ جس طرح آج سےکچھ عرصہ پہلےتمہارا جوش و خروش بےجا تھا اُسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بےجا ہے۔ مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ سچےمسلمان کو نہ تو کوئی طمع ہِلا سکتی ہےاور نہ کوئی خوف ڈرا سکتا ہے۔ چند انسانی چہروں کے غائب از نظر ہو جانے سے ڈرو نہیں۔ اُنہوں نے تمہیں جانےکے لئے ہی اکٹھا کیا تھا۔ آج اُنہوں نےتمہارے ہاتھ میں سےاپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے تو یہ تعجب کی بات نہیں۔ یہ دیکھو کہ تمہارے دِل تو اُن کے ساتھ ہی رخصت نہیں ہوگئے۔ اگر دِل ابھی تک تمہارے پاس ہیں تو اُن کو اپنےاُس خدا کی جلوہ گاہ بناؤ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلےعرب کے ایک اُمّی کی معرفت فرمایا تھا: إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُواْ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ ] جو خدا پر ایمان لائے اور اُس پر جم گئے تو اُن کے لئے نہ تو کسی طرح کا ڈر ہے اور نہ کوئی غم ۔[ ہوائیں آتی ہیں اور گُزر جاتی ہیں۔ یہ صرصر سہی لیکن اِس کی عمر کچھ زیادہ نہیں۔ ابھی دیکھتی آنکھوں ابتلا کا یہ موسم گزرنے والا ہے۔ یوں بدل جاؤ جیسےتم پہلےکبھی اِس حالت میں نہ تھے۔\"\"

میں کلام میں تکرار کا عادی نہیں لیکن مجھےتمہاری تغافل پیشگی کے پیشِ نظر باربار کہنا پڑتا ہےکہ تیسری طاقت اپنے گھمنڈ کا پشتارہ اُٹھا کر رخصت ہوچکی ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا ہے۔ سیاسی ذہنیت اپنا پچھلا سانچہ توڑچکی، اور اب نیا سانچہ ڈھل رہا ہے۔ اگر اب بھی تمہارے دِلوں کا معاملہ بدلا نہیں اور دماغوں کی چبھن ختم نہیں ہوئی تو پھر حالت دوسری ہے۔ لیکن اگر واقعی تمہارے اندر سچی تبدیلی کی خواہش پیدا ہوگئی ہے تو پھر اِس طرح بدلو جس طرح تاریخ نےاپنے تئیں بدل لیا ہے۔ آج بھی کہ ہم ایک دورِانقلاب کو پورا کرچکے ، ہمارےملک کی تاریخ میں کچھ صفحےخالی ہیں اور ہم ان صفحوں میں زیبِ عنوان بن سکتےہیں، مگرشرط یہ ہےکہ ہم اس کے لئے تیار بھی ہوں۔

عزیزو، تبدیلیوں کے ساتھ چلو۔ یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیّر کے لئے تیار نہ تھےبلکہ اب تیار ہوجاوٴ۔ ستارے ٹوٹ گئےلیکن سورج تو چمک رہا ہے۔ اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالےکی سخت ضرورت ہے۔

میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسےسے وفاداری کا سرٹیفکٹ حاصل کرو، اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیرملکی حاکموں کے عہد میں تمھارا شِعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظرآرہےہیں وہ تمھارا ہی قافلہ لایا تھا۔ انھیں بھلاوٴ نہیں ۔ انھیں چھوڑو نہیں۔ انکے وارث بن کر رہو، اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لئےتیار نہیں تو پھر کوئی طاقت تمھیں نہیں بھگاسکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اِسی کے لئے ہیں اور اِس کی تقدیر کے بنیادی فیصلےہماری آواز کے بغیر ادھورےہی رہیں گے۔

آج زلزلوں سے ڈرتے ہو؟ کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو؟ کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود خود ایک اُجالا تھا؟ یہ \"\"بادلوں کے پانی کی سیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھا لئے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھےجو سمندروں میں اُتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں کڑکیں تو اُن پر مسکرا دیے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اُٹھی تو رُخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو اُن سے کہہ دیا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں۔ یہ ایمان کی جانکنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے ہی گریبان کے تار بیچ رہے ہیں، اور خدا سے اِس درجہ غافل ہو گئےہیں کہ جیسےاُس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔

عزیزو! میرے پاس تمہارے لئے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے، وہی پرانا چودہ سو برس پہلےکا نسخہ ہے۔ وہ نسخہ جس کو کائناتِ انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔ اور وہ نسخہ ہے قرآن کا یہ اعلان: وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ [بد دل نہ ہونا ، اور نہ غم کرنا۔ اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔]

آج کی صحبت ختم ہوئی۔ مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ اختصار کے ساتھ کہہ چکا۔ لیکن پھر کہتا ہوں اور باربار کہتا ہوں: اپنے حواس پر قابو رکھو۔ اپنےگردوپیش اپنی زندگی خود فراہم کرو۔ یہ منڈی کی چیز نہیں کہ تمھیں خرید کر لادوں۔ یہ تو دل کی دکان ہی میں سےاعمال صالحہ کی نقدی سے دستیاب ہوسکتی ہے۔

والسلام علیکم و رحمةالله و برکاتہ۔

جامع مسجد، دہلی۔ بعد نماز عیدالاضحیٰ (اکتوبر 1947)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تاریخی تقریر (2)

  • 24-01-2017 at 10:24 am
    Permalink

    محترم سلمان یونس صاحب کی خدمت میں چند باتیں عرض کرونگا۔ میں نے یہ مضمون ناصر صلاح الدین صاحب کی پیش کردہ تحریر کی رد میں نہیں لکھا تھا۔ نہ مجھے ان پر کسی نوعیت کا اعتراض ہے۔ انھوں نے وجاہت مسعود صاحب کا مضمون پڑھا اور فوراً تقریر بھی مہیا کردی۔ انکا یہ فعل ہر طرح قابل تعریف ہے۔ جیسا کہ میں نے اپنے تعارفی نوٹ میں واضح کیا ہے یہ رد تھا تو .یو ٹیوب. پر موجود تقریروں کا تھا۔ یقین جانئے میں نے یہ مضمون مسعود صاحب کے مضمون سے کئی ہفتے پہلے شروع کیا تھااور اسکی تیاری میں ایک مہینہ سے زیادہ لگا، کیونکہ میں زیادہ سے زیادہ متون کا جائزہ لیکر ایک “اصل” متن متعین کرنا چاہتا تھا۔ یہ بھی کوشش تھی کہ “مدینہ” یا “الجمعیة” کی پرانی فائلوں میں اسکی شائع شدہ شکل مل جائے، کیونکہ جن پانچ یا چھ کتابوں تک میری دسترس ہوئی جن میں یہ تقریر شامل ہے ان میں سے کسی کے مرتب نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اسے اسکا متن کہاں سے ملا۔ تعارفی نوٹ کے ساتھ ہی متن اس لئے نہیں شائع ہوسکا کہ InPage کی فائل کسی وجہ سے نہیں کھل سکی اور مجھے بالآخر دوبارہ تیار کرنا پڑا۔ اگر آپ کے خیال میں .ہم سب۔ کو اسے فاضل قرار دے کر نہ شائع کرنا چاہئے تھا، تو ظاہر ہے یہ خطا انکی ہے۔ میں نے جو محنت کی تھی اسے احباب کے سامنے پیش کردیا۔

Comments are closed.