جنرل ضیا کی جعلی تلاوت اور بے نظیر بھٹو کی سادگی


ممتازسیاست دان اعتزاز احسن کسی زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اس ملک میں دو فوجی ٹرکوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ ہوجاتا ہے۔ ایک ٹرک وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوتا ہے، دوسرا پی ٹی وی کا رخ کرتا ہے اورملک میں مارشل لا لگ جاتا ہے۔ اس بیان سے ماضی میں پی ٹی وی کوحاصل سیاسی اہمیت کا پتا چلتا ہے ۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی گئی اس میں حکمرانوں کا ذکر ضرور آئے گا، جنھیں ہمیشہ یہاں مرکزی حیثیت حاصل رہی اورجنہوں نے سرکاری ٹی وی کو سب اچھا رپورٹ کرنے پر مجبور کئے رکھا، جس کے باعث ان زمانوں میں بھی جب پی ٹی وی کے تفریحی وعلمی پروگراموں کا ڈنکا بجتا تھا، پی ٹی وی خبرنامہ کی ساکھ صفر تھی۔ ضیا دورمیں معروف نیوزکاسٹر ابصار عبدالعلی کو ریگل چوک لاہور میں نوجوانوں نے روک کر احتجاج کیا کہ آپ کیوں جھوٹی خبریں سناتے ہیں۔

پی ٹی وی پر حکومتی اقدامات کی صرف تحسین ہی ہو سکتی ہے، اس بات کودیہات میں رہنے والی سادہ لوح خاتون بھی جانتی تھی ،جیسا کہ ’’ہم بھی وہیں موجود تھے‘‘ کے مصنف اختروقارعظیم نے لکھا ہے کہ ایک بار وہ سیلاب کی کوریج کے لیے گئے تو اس آفت سے متاثرہ خاتون پلنگ نما لکڑی کے تخت پربیٹھی پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ بہتی کنارے پر پہنچی توانھوں نے اس کی فلم بنائی۔ خیال ہوا کہ اس سے کچھ رائے لی جائے۔ بوڑھی خاتون فوراً بات چیت پر آمادہ ہو گئی۔ ریکارڈنگ شروع ہونے سے قبل اختروقارعظیم نے پوچھا کہ اماں کیا بات کریں گی؟ بوڑھی خاتون مسکرائی اورجواب دیا: ’’پی ٹی وی ہے نا بیٹا، مجھے پتا ہے، سب اچھا ہی کہنا ہے۔ ‘‘

اختروقارعظیم پی ٹی وی میں کلیدی عہدوں پر رہے۔ جمہوریت پرشب خون مار کر میرے عزیز ہم وطنو! کہتے ہوئے قوم کومخاطب کرنے والوں کو قریب سے دیکھا۔ سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹرکا کروفر بھی ملاحظہ کیا۔ فوجی حکمران کی چھترچھاؤں میں وزیراعظم رہنے والوں کو بھگتا۔ منتخب وزرائے اعظم کا عہد دیکھا۔ یہ سب حاکم پی ٹی وی خطاب کے لیے آتے توحکام کی دوڑیں لگ جاتیں۔ پی ٹی وی کی عمارت میں ان کے ورود نے بہت سی دلچسپ کہانیوں کوجنم دیا، جن میں سے کچھ  کواختروقارعظیم نے سیدھے سادھے اندازمیں بیان کر دیا۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ آدمی چھوٹے چھوٹے معاملات میں اپنے عمل اورردعمل سے پہنچانا جاتا ہے، بڑے معاملات میں اسے خودکو بنا سنوار کر پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے اوروہ شخصیت پرملمع چڑھا لیتا ہے۔ اختر وقار عظیم کی کتاب میں ایسے بہت سے واقعات درج ہیں، جن سے حکمرانوں کے نفسیاتی مطالعے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایک دفعہ ذوالفقارعلی بھٹو پی ٹی وی آئے، تقریرشروع کی توکیمرے میں براہ راست دیکھنے کے بجائے، اس ٹی وی سیٹ کی طرف دیکھ کربولنے لگے،جس میں ان کی تصویر نظر آ رہی تھی۔ یوسف بچ (وزیر اعظم کے مشیر اطلاعات) سے درخواست کی گئی کہ وزیراعظم صاحب سے کہیں کہ وہ کیمرے میں دیکھیں۔ یوسف بچ نے حنیف رامے کی طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے بال گورنرعاشق قریشی کی طرف لڑھکا دی، جنھوں نے کندھے جھٹک کرلاتعلقی کا اظہارکر دیا۔ یعنی بھٹوصاحب کے وہاں پرموجود حواری اپنے لیڈرسے اس قدرخوف زدہ تھے کہ ایک چھوٹی سی جائز بات ان سے کہنے سے ڈر رہے تھے۔ بھٹو دور میں مسعود نبی نور پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر بنے توانھوں نے فوراً ہی فرمان صادرکیا کہ ٹی وی پر قائد عوام کو قائد اعظم جتنی اہمیت دی جائے۔

ذوالفقارعلی بھٹوسے متعلق بات ہوئی ہے تو اب تھوڑا بینظیر بھٹو کا ذکر ہو جائے، جنھوں نے ایک باراختروقارعظیم سے ایسی فرمائش کردی کہ وہ حیران رہ گئے۔ لکھتے ہیں: ’’کراچی ٹی وی سینٹرجب ایک بارآئیں توناہید خان نے ان سے کہا کہ جی ایم صاحب! آپ سے وزیراعظم کچھ کہنا چاہ رہی ہیں۔ ‘‘ ان کا خیال تھا کہ وہریکارڈنگ کے بارے میں کچھ پوچھ تاچھ کریں گی یا پھر کسی پروگرام پر رائے زنی، لیکن ان کا اندازہ غلط نکلا۔ وزیراعظم بینظیر نے ان سے کہا، ’’ابھی میں نے ٹی وی سینٹرکی طرف آتے ہوئے ویگن کے اڈے پرایک بھٹے والا بیٹھا دیکھا ہے، اس سے دوبھٹے تو منگوا دیں۔ بھٹے آ گئے، اوراس دن وزیراعظم نے چائے کے بجائے ایک بھٹا ہی کھایا۔ چائے وہ بغیر چینی کے پیتی تھیں، کبھی کبھاراس میں ایک چمچہ شہد ڈال لیتی تھیں، جس کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا۔ ‘‘ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ بھٹو دور میں بینظیر ’’انکاؤنٹر‘‘ کے نام سے پروگرام بھی کرتی رہیں، جس میں مختلف میدانوں کے نوجوانوں کو مدعوکیا جاتا۔

اختروقارعظیم کا بیان ہے کہ وہ پروگرام کے سلسلے میں بڑی محنت کرتیں، ان کی مصروفیات آڑے آگئیں، اوریہ پروگرام چھ قسطوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ضیاء الحق کا دور پی ٹی وی پربڑا بھاری گزرا۔ ملازمین معمولی معمولی باتوں پرمعطل ہوتے۔ ہروقت ان کی جان سولی پر ٹنگی رہتی۔ اختروقارعظیم بھی کشتہ ستم بنے۔ ایک روز دفتر پہنچنے پرمعلوم ہوا کہ وہ معطل ہیں۔ ان دنوں اسپورٹس کا شعبہ دیکھ رہے تھے، اس لیے حیرت ہوئی کہ ان پروگراموں میں قابل اعتراض مواد کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے، نہ جانے کیا گناہ سرزد ہو گیا۔ معلوم کیا تویہ جانا: ’’اسی دوران ایک دوست نے ادھرادھرمعلوم کرکے بتایا کہ ایک شام قبل دکھائے جانے والے کشتی کے مقابلے میں ایک پہلوان نے دوسرے کی پٹائی اس حد تک کر دی تھی کہ اس کے چہرے سے خون بہنے لگا، جو صدر صاحب کی صاحبزادی کی طبیعت پرگراں گزرا۔ ان کی شکایت پرمعطلی کا حکم جاری کر دیا۔ ‘‘

ضیاء الحق کی خواہش ہوتی کہ ان کی ہر تقریرکے بعد نیا نغمہ نشر ہو۔ ایک بار تقریر میں یہ شعر پڑھا:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہوجس کوخیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

تقریر کے بعد حکم دیا کہ مسدس حالی میں سے یہ شعراور آگے پیچھے کے کچھ شعر لے کرکسی گلوکارکی آواز میں تقریرختم ہونے پر نشرکر دیے جائیں۔ ٹی وی کے ایم ڈی معروف شاعرضیاء جالندھری تھے، جن کے بارے میں اقبال کا یہ شعرتھوڑی سے تحریف سے اس زمانے میں بہت چلا:

خوش آ گئی ہے ضیا کو جالندھری تیری

وگرنہ شعرترا کیا ہے شاعری کیا ہے

ضیاء جالندھری نے صدرکا پیغام نیچے پہنچایا۔ مسدس میں ضیاء الحق کا تجویزکردہ شعرتلاش کرتے کرتے پی ٹی وی والوں کی مت ماری گئی، لیکن یہ شعرمسدس میں تھا ہی نہیں۔ وہ توخیریت گزری کہ صدرموصوف نے مسدس کا نام لے دیا، جوضخیم نہیں، اس لیے جلد جان چھوٹ گئی، اگروہ اقبال کا شعر بتاتے تو پھر ان کی چاروں اردو کتابوں کوکھنگالنا پڑتا۔ جب یہ پتا چل گیا کہ شعرظفرعلی خان کا ہے، توپھرایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ اس کے آگے پیچھے کے شعرموقع کی مناسبت سے غیرموزوں تھے۔ اس کا حل قتیل شفائی نے نکالا۔ کہا کہ میں نیا نغمہ لکھے دیتا ہوں، بس آپ یہ کریں کہ شعرکو دوہے کے اندازمیں پڑھ کرمیرا نغمہ جوڑدیں، بات بن جائے گی۔ قتیل شفائی کی تجویز کے عین مین ہوا۔ مصنف کے بقول ’’صدرصاحب نے اس نغمے کومسدس حالی کا ایک بند سمجھ کرسنا یا نہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا البتہ یہ ضرورہوا کہ صبح صبح پاکستان ٹیلی ویژن کے ایم ڈی کوان کی طرف سے پیغام ملا اتنی جلدی اتنا خوبصورت نغمہ تیارکرنے پر مبارکباد۔‘‘

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں