آزادی ٹرین پر سفر کی روداد … ڈیرہ نواب صاحب


\"\"وہ شب سمہ سٹہ بسر کرنے کے بعد آزادی ٹرین کا قافلہ علی الصبح 4 بجے ڈیرہ نواب صاحب کے تاریخی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوا اور صبح ساڑھے پانچ بجے ڈیرہ نواب صاحب کے اسٹیشن پر دو گھنٹے کے قیام کے لیے پہنچ گیا ۔اور یوں اس صبح ہم نے طلوح آفتاب کا منظر ریلوے اسٹیشن کے پل سے دیکھا۔ میں اس لمحے سوچ رہا تھا کہ اتنی صبح کون آزادی ٹرین کو دیکھنے کے لیے آئے گا لیکن یقین جانیے کہ تھوڑی ہی دیر میں عوام کا جم غفیر جمع ہو گیا۔ جن میں مرد و خواتین اور خصوصاَ اسکول جانے والے نونہالوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اسکول کی اجلی یونیفارم میں ملبوس ان بچوں کے روشن چہرے بتا رہے تھے کہ پاکستان کا مستقبل بھی روشن ہے۔

ڈیرہ نواب صاحب دراصل احمد پورشرقیہ کے ریلوے اسٹیشن کا نام ہے ۔جو دراصل سابق ریاست بہاول پور کے نواب فرما نرواؤں کی جائے پیدائش تھی۔ اسی مناسبت سے ریلوے اسٹیشن کا نام ڈیرہ نواب صاحب رکھا گیا۔ احمد پور شرقیہ میں نواب صاحب کی وسیع وعریض رہائش گاہ\"\"

صادق گڑھ پیلس کے نام سے مشہور ہے ۔ایک سو سال قدیم اس محل کی آب و ہوا میں وائس رائے ہند سے لیکر مختلف وزرائے اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ایوب خان سے شاہ ایران تک اپنے دور کے تقریباَ سبھی اہم لوگ یہاں کا دورہ کر چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے ریلوے اسٹیشن پر ہی ایک شاہی مہمان خانہ بھی قائم تھا جہاں معزز مہمان کا خصوصی ریلوے سیلون براہ راست ایک علیحدہ ریلوے لائن کے ذریعے پہنچتا اور نواب صاحب مہمان کا استقبال کرتے تھے لیکن افسوس اب شاہی مہمان خانہ بھی گردش زمانہ کی نذر ہو کر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان [email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 22 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz