ریڈ کراس کا انعامی مقابلہ اور ہم سب


\"\"

آئی سی آر سی بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کا مختصر نام ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی ہیومینٹیرین قوانین کی دیکھ بھال فروغ اور عملدرآمد کے لئے کام کرتی ہے۔ یہ تنظیم پاکستان میں بھی بہت سرگرم ہے۔

دنیا نے آئی سی آر سی کے اس کردار کو تسلیم کیا ہے کہ یہ جنگ زدہ علاقوں میں کام کرے۔ جنگ سے متاثرہ جنگجووں خاص طور پر جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال کرے۔ ان کے حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں ہر ممکن امداد بہم پہنچائے۔

گو انتانومو بے میں موجود قیدیوں تک آئی سی آر سی نے رسائی حاصل کی۔ ان قیدیوں کی فیملیوں سے ان کا رابطہ کرانے کے لئے سرگرم کردار ادا کیا۔ ان قیدیوں سے لواحقین کے ٹیلی فون پر روابط کرانے ان کے خطوط ان کے خاندانوں تک پہنچانے کے لئے یہ تنظیم بہت سرگرم رہی۔ افغانستان اور پاکستان میں موجود شدت پسند جنگجؤں کو ادویات فراہمی میں بھی اس تنظیم کا کردار بہت اہم رہا ہے۔

ملا عبدالسلام ضعیف پاکستان میں طالبان کے سفیر رہے۔ سفارتی تحفظات ختم ہونے کے بعد وہ گرفتار ہوئے۔ بعد میں انہیں گو انتانومو بے میں قید بھی رکھا گیا۔ ملا ضعیف نے آئی سی آر سی کی جنگی قیدیوں کے لئے خدمات کا اعتراف اپنی کتاب میں کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ طالبان اپنے دور حکومت میں آئی سی آر سی کو افغانستان میں کام کرنے سے روکنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے تھے۔

آئی سی آر سی پاکستان اپنے کام سے متعلق مختلف اہم موضوعات پر ہر سال مقابلہ مضامین کا انعقاد بھی کراتی ہے۔ سال دو ہزار سولہ میں طبی عملے پر بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے مقابلے کا اعلان کیا گیا۔ پہلی بار اس مقابلے کے لئے انگریزی کے علاوہ اردو زبان میں بھی لکھاریوں کو حصہ لینے کی دعوت دی گئی۔

\"\"اس مقابلے کے انعقاد کے لئے ہم سب نے آئی سی آر سی کے ساتھ تعاون کیا۔ \”ہم سب\” اردو بلاگرز کی اہم ترین ویب سائٹ ہے۔ \”ہم سب\” کے علاوہ انگریزی زبان کی ویب سائٹ نیوز ٹرائب نے اس تحریری مقابلے کی اپنی ویب سائٹ پر تشہیر کی۔

سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ اس مقابلے کی پروموشن اور لوگوں کے بھرپور ردعمل سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ آئی سی آر سی کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پہلی بار ان سے ایک ہزار سے زائد افراد نے رابطہ کیا جو مقابلے میں حصہ لینے کے متمنی تھے۔ یہ تعداد پچھلے برسوں میں حصہ لینے والوں سے دس گنا زیادہ تھی۔

اکیس جنوری کو تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔ ہم سب کے لئے یہ بات مزید خوشی کا باعث تھی کہ ہم سب کے نمایاں لکھاری علی احمد جان نے اردو میں دوسرا انعام حاصل کیا۔ واضح رہے کہ ہم سب اور نیوز ٹرائب کا کام صرف اس مقابلے کی تشہیر کرنا تھا اور مضامین کی خفیہ طریقے سے جانچ پڑتال اور درجہ بندی کا فیصلہ ریڈ کراس نے اپنے متعینہ طریقہ کار کے مطابق کیا اور یہ دو ویب سائٹس ان مضامین کی درجہ بندی میں شامل نہیں تھیں۔

ٹیم ہم سب انسانیت کے ناتے انسانوں کے لئے بہتری کے کام کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

\"\"


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 243 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “ریڈ کراس کا انعامی مقابلہ اور ہم سب

  • 23-01-2017 at 11:47 pm
    Permalink

    میرے جیسے لوگوں کی خاطر اگر تصویر کے نیچے تمام کے نام بھی ترتیب سے درج کردیں تو بڑا اچھا ہوگا۔ ایک یادگار مکمل ہوجائےگی۔

Comments are closed.