ایلومیناٹی انٹرنیشنل کانفرنس کی اندرون خانہ روداد


\"\" جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اور معروف محقق عدنان خان کاکڑ نے متعدد دقیق تحریروں کی مدد سے واضح کیا ہے کہ یہود، نصاریٰ، ہنود، سیکولرسٹ، لبرل، سامراجی، پرولتاری، منگول قبائل، افریقی نیشنل کانگریس اور عرب لیگ کی مشترکہ تنظیم ایلومیناٹی 1596ء سے کرہ ارض پر قائم ہے۔ اس مختصر عرصے میں تحریک نے متعدد اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں 1776 میں آزاد امریکی ریاست کا قیام، ڈارون کے نظریہ ارتقا کا اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جانا، مزدور انٹرنیشنل کا قیام، انجمن ترقی اردو (ہند) کے لئے دہلی میں مرکزی دفتر کی تعمیر، تلہ گنگ میں بیواؤں کے لئے سلائی سکول کا قیام اور سوشل میڈیا میں مضبوط پلیٹ فارم بنانا شامل ہیں۔

حالیہ عرصے میں ایلومیناٹی نے بھارت میں مودی سرکار قائم کی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم منظم کی ہے۔ زنانہ ملبوسات کی متعدد زیر زمین دکانیں فعال ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں وائرس پھیلانے کا کام روز افزوں ہے۔ اس وقت تنظیم کی ترجیحات میں ٹانگا نیکا میں فور سٹروک رکشے کی صنعت کو فروغ دینا، چین میں خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا اور پاکستان میں جمہوری اقدار کو مقبول بنانا سرفہرست ہیں۔

اس ضمن میں تنظیم کا ایک انتہائی خفیہ اجلاس 21 جنوری 2017 کی شام دارالخلافہ اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں منعقد ہوا۔ اس خفیہ اجلاس کی داخلی قائمہ کمیٹی میں ہم سب کے خصوصی نامہ نگار شامل ہوئے۔ واضح رہے کہ ایلومیناٹی جیسی فعال تنظیم کے کارندے اس اجلاس میں ہم سب کے نمائندے کی موجودگی سے قطعی طور پر بے خبر رہے۔ اس طرح ہم سب نے تحقیقاتی صحافت میں نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔

نمائندہ خصوصی نے سیٹلائٹ پر خفیہ اجلاس کی تفصیالات براہ راست نشر کرتے ہوئے ذیل کی رپورٹ ارسال کی ہے

\”یوم سبت تھا۔ ایلومیناٹی کے مرکزی اور مقامی رہنما دور و نزدیک سے بارہ کہو اور چک شہزاد کے راستے اسلام آباد میں داخل ہوئے۔

اس موقع پر باہم مشورے کئے گئے۔ جتھے بندیاں مرتب کی گئیں۔ تنظیم کے ارکان میں زیادہ موثر رابطے کے لئے دو ذیلی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ \"\"کمیٹی \”حشر نشر\” میں حاشر ارشاد اور لینہ حاشر نامی دو مقامی نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔ فیض آباد، گوجر خان اور سوہاوہ میں ریٹائرڈ بزرگوں کی تعلیم بالغاں کے لئے لف و نشر کمیٹی بنائی گئی جس کے لئے عمار مسعود اور شنیلہ اسکندر نامی سرگرم ارکان کو ذمہ داری سونپی گئی۔

باوثوق ذرائع کے مطابق اس موقع پر حاضرین نے کھلے عام بدیسی سیگرٹوں کا دھواں اڑایا۔ صاف ستھرے برتنوں میں افریقی چائے پیش کی گئی۔ کسی قسم کی افراتفری دیکھنے میں نہیں آئی۔ ذیابیطس کے مریضوں کو امرتسر کی برفی پیش کی گئی۔ السر کے دائمی مریض فیض آباد کے سموسوں پر ٹوٹ پڑے۔ ایک معروف سامراجی تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدے دار کو ہاتھی دانت سے بنی یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔ بیرونی طاقتوں کی طرف سے تیسرے ہاتھ کی پیش کش کو غور و فکر کے بعد مسترد کر دیا گیا۔ درون خانہ ایجنٹوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

نمائندہ خصوصی کے مطابق اس موقع پر ہاتھ سے خوش خط لکھی ہوئی ایک تفصیلی قرار داد منطور کی گئی جس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل تھے:

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان مملکت پاکستان کے وفاردار رہیں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کا پرچم اٹھائیں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان اپنے ضمیر کی روشنی میں بلاگ  لکھیں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان دنیا بھر میں، خصوصاً جنوبی ایشیا میں امن کا پرچار کریں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان تمام مذاہب میں بالخصوص اسلام کے مختلف فرقوں میں رواداری کو فروغ دیں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان سیاسی مباحث میں معیشت کی منطق کے مطابق فیصلے کریں گے۔

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان کھلی منڈی کی معیشت کو انصاف سے ہم آہنگ کرنے کی جد وجہد کریں گے

ایلومیناٹی انٹرنیشنل کے ارکان نے ایک جامع بین الاقوامی سازش کی تیاری پر اصولی اتفاق کیا۔

اس سازش کو بنی نوع انسان کے احترام کی عالمی ایلومیناٹی سازش کا نام دیا گیا

ایلومیناٹی پاکستان کے ارکان نے مقامی سطح پر اس سازش کے لئے \”پاکستان کی ترقی\” کو ایک اہم ہدف قرار دیا۔ اس ہدف کے حصول کے لئے اعلیٰ تعلیم، جمہوری سیاست اور جدید معیشت کی حکمت عملی طے کی گئی۔

ایلومیناٹی پاکستان کے ارکان نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لئے دامے، درمے سخنے کام کریں گے۔ حاشر ارشاد نے اس سہ نکاتی منصوبے کے پہلے حصے کے طور پر بین الضلاعی کانفرنس میں خور و نوش کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔

کانفرنس کی تمام کارروائی نیم تاریکی میں منعقد کی گئی۔

کانفرنس کے بعد تمام ارکان آپس میں گھل مل گئے اور ایک دوسرے کی دھندلی تصاویر اتاری گئیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔