گیان کی شکتی اور شکتی کا گیان


\"\"

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں چار دوست ہوا کرتے تھے۔ تین دوست نہایت پڑھے لکھے تھے۔ ایک جین مت کا گیانی تھا۔ دوسرا بدھ جوگی تھا۔ تیسرا ہندو اچاریہ تھا۔ تینوں پنڈتوں نے اپنے مذہب کی کتابوں، جاپوں اور منتروں میں کمال پایا تھا۔ اشلوک پڑھ کر کچھ کا کچھ کر دیتے تھے۔ لیکن دنیاوی معاملات میں ذرا بھگوان لوک تھے۔ چوتھا دوست نرا جاہل تھا۔ لیکن بدھی مان تھا۔ عقل سلیم خوب رکھتا تھا۔ تو ہوا یہ کہ تینوں نے ایک دن یہ فیصلہ کیا کہ یہاں ہماری تو کوئی قدر کرتا نہیں ہے۔ ایسے علم کا کیا فائدہ جس سے مال دولت نہ ملے۔ ایسا کرتے ہیں کہ کسی بڑے شہر چلتے ہیں۔ وہاں راجے مہاراجے ہمیں ملیں گے تو ہمارا علم دیکھ کر دربار میں ہمیں اونچی جگہ دیں گے۔ جو کچھ ملے گا وہ آپس میں برابر تقسیم کر لیں گے۔ وہ سامان باندھ کر چلنے کو تیار ہوئے تو چوتھے نے کہا کہ میں بھی چلتا ہوں۔ یہاں تو میرا کچھ نہیں بنتا، بڑے شہر جا کر شاید میرا بھی کچھ بن جائے۔ دو ٹکڑے روٹی کے مل جائیں گے۔

ابھی کچھ دور ہی چلے تھے ہندو پنڈت کہنے لگا کہ یہ چوتھا بندہ تو نرا جاہل ہے۔ پڑھنا لکھنا تک تو یہ جانتا نہیں ہے۔ معمولی سی عقل سلیم کے علاوہ اس کے پلے کیا ہے۔ اس کامن سینس کا ہم نے اچار ڈالنا ہے۔ اس جاہل کے ساتھ کم از کم میں تو اپنی دولت نہیں بانٹوں گا۔ اسے واپس گھر بھیج دو۔

دوسرے پنڈت نے بھی پہلے پنڈت کی تائید میں منڈی ہلا دی۔ لیکن تیسرا پنڈت ذرا دید لحاظ والا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ مہاشو، یہ ہے تو نرا جاہل ہی۔ لیکن بچپن سے ہمارے ساتھ کھیلا کودا ہے۔ اسی کا خیال کر کے اسے ساتھ لے چلتے ہیں اور جو ہمارے نصیب میں ہے، وہ اس سے بھی مل بانٹ لیں گے۔ ویسے بھی بڑے بوڑھے کہہ گذرے ہیں کہ جو تنگ ذہن والا ہوتا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ یہ چیز میری ہے اور وہ چیز اس کی ہے۔ لیکن بڑے دل والا منش سارے سنسار کو اپنا خاندان سمجھتا ہے۔

آخر کار کچھ چخ چخ کے بعد پہلے دو پنڈت تیسرے کی بات مان گئے اور چوتھے کو ساتھ لے کا جانے پر تیار ہو گئے۔

\"\"

چلتے چلتے وہ ایک جنگل میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک جگہ ان کو ہڈیوں کا ایک ڈھیر پڑا نظر آیا۔ جینی پنڈت بولا کہ دیکھو راجہ کے پاس پہنچنے سے پہلے ذرا اپنے اپنے علم کی کچھ مشق کر لیں۔ یہ کسی جانور کی ہڈیاں پڑی ہیں۔ ان بے ترتیب ہڈیوں کو میں ڈھانچے کی شکل دے دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک منتر پڑھا اور بے ترتیب ہڈیاں ایک ڈھانچے کی شکل اختیار کر گئیں۔ اس نے فاتحانہ انداز میں باقی دونوں پنڈتوں کی طرف دیکھا۔

بدھ جوگی نے آگے بڑھ کر زمین سے مٹی اٹھائی، اور کچھ اشلوک پڑھ کر ڈھانچے پر پھینک دی۔ دھول اڑی اور جب بیٹھی تو ڈھانچے پر گوشت پوست چڑھ چکا تھا۔ جوگی نے دوسروں کی طرف ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ ہوتا ہے کمال۔

ہندو پنڈت آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ مترو، یہ سب تم نے بہت اچھا کیا۔ لیکن میں اسے زندہ کر کے تمہیں دکھاتا ہوں کہ ودیا کیا ہوتی ہے۔

چوتھا دوست جو کہ کوئی علم نہیں رکھتا تھا اور محض کامن سینس کا مالک تھا، کانپنے لگا۔ کہنے لگا کہ پنڈتو، تم بہت ودوان ہو۔ چمتکار کر دیا ہے۔ لیکن یہ تو دیکھو کہ یہ جانور شیر ہے۔ زندہ ہوتے ہی ہمیں کھا جائے گا۔ بھگوان کا نام لو۔ اسے زندہ مت کرو۔

ہندو پنڈت بولا کہ تم جاہل کیا جانو کہ ودیا کیا کیا چمتکار دکھا سکتی ہے۔ میں ایک منتر پڑھ کر اسے زندہ کر سکتا ہوں تو دوسرا پڑھ کر اسے مار بھی سکتا ہوں۔ بس پانچ منٹ کی بات ہے۔ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کر دینا میرا ہی کمال ہے۔ تم نے کچھ پڑھا لکھا ہوتا تو تم بھی کچھ کرنے کے قابل ہوتے۔

چوتھا دوست بولا پانچ منٹ لگیں گے؟ زندہ کرنے میں بھی پانچ منٹ اور مارنے میں بھی پانچ منٹ؟

پنڈت بولا کہ اور کیا، پانچ منٹ بھی میرا ہی کمال ہے۔ ورنہ اچھے اچھے ودوان بھی پندرہ منٹ لیتے ہیں۔

\"\"چوتھا دوست بولا اچھا پنڈت جی آپ اسے زندہ کریں۔ میں ان پانچ منٹ میں اپنا کچھ بندوبست کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے دوڑ لگائی اور ایک اونچے درخت پر چڑھ گیا۔

تینوں گیانی پنڈت خوب ہنسے اور پھر ہندو پنڈت نے شیر کو زندہ کرنے کے لیے اپنا جاپ شروع کر دیا۔ ٹھیک پانچ منٹ میں شیر زندہ ہو گیا اور اس نے ایک منٹ میں تینوں ودوان پنڈت مار ڈالے اور جاہل کامن سینس والا دوست بے ہوش ہو گیا۔ اگلے دن اسے گاؤں والے اٹھا کر لے گئے۔ وہ ہوش میں آیا تو سب نے اس سے پوچھا کہ ہوا کیا تھا؟ اتنے گیانی پنڈت کیسے مارے گئے؟

وہ بولا کہ ایسی طاقت جس کا توڑ نہ ہو، جو شکتی اپنی شکتی سے زیادہ ہو، جب بھی وہ ایجاد کرو گے تو ناش کرے گی۔ گیان کی شکتی ضروری ہے، لیکن شکتی کا گیان اس سے زیادہ ضروری ہے۔

قدیم پنچ تنتر کی جدید حکایت

نوٹ: اس قدیم حکایت کا سٹریٹیجک ڈیپتھ عرف تزویراتی گہرائی وغیرہ وغیرہ سے ہرگز بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 667 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar