جرمن لڑکیاں اور امی جی کا دیا ہوا سرسوں کا تیل


\"\"پہلی مرتبہ جرمنی آتے وقت جہاں امی جی نے سُرمہ، صابن، تولیہ، کنگا، مسواکیں، جرابیں، بنیانیں اور پتہ نہیں کیا کیا دیا، وہاں یہ تاکید بھی کی کہ سرسوں کا تیل لگانا نہ بھولنا۔ امی جی کسی تیلی کی دکان سے خالص سرسوں کا تیل لے کر آئی تھیں۔ مرنڈا کی بوتل میں تیل بند تھا اور اس پر کوئی تین شاپر چڑھے ہوئے تھے۔ میرا سامان پیک کرنے کی تیاریاں جرمنی آنے سے ایک مہینہ پہلے ہی شروع ہو گئیں۔ اس دوران جو ڈرامے ہوئے وہ الگ کہانیاں ہیں۔

مجھے شروع ہی سے شور شرابے سے ڈر لگتا ہے لیکن محلے داری میں جب تک بات کا ڈھول نہ بجے کسی کو سکون نہیں ملتا۔ جس دن آنا تھا میں نے امی اور ابو کو کئی مرتبہ کہا کہ میں سب کو ان گھر جا کر مل آؤں گا لیکن خدارا کوئی گلی میں نہ آئے۔ لاہور ایئر پورٹ سے روانگی کی فلائیٹ رات تین بجے تھی، مجھے ساڑھے بارہ بجے تک وہاں پہنچنا تھا۔ لاہور سے نوشہرہ ورکاں کا راستہ تقریبا دو گھنٹے کا ہے۔ اصولاً مجھے رات دس بجے کے بعد گھر سے نکلنا چاہیے تھا لیکن دوپہر دو بجے ہی میرا سامان پیک ہو چکا تھا، آخر باہر کا پہلا سفر تھا۔

میں نے اپنی طرف سے بہت تاخیر کی لیکن پھر بھی شام چھ بجے سب مجھے سے گلے مِل رہے تھے۔ میں گلی میں آیا تو پورے محلے کے خواتین و حضرات اپنے اپنے دروازے کھول کر چوکٹھوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ اگست دو ہزار چار کی کوئی شام تھی۔ ابا جی کا سر فخر سے بلند تھا کہ ان کا پُتر جرمنی پڑھنے جا رہا ہے۔ مجھے محلے کی ہر چاچی، مامی، تائی نے گلے سے لگایا، میں گوری چٹی لڑکیوں کا سوچ سوچ کر خوش ہو رہا تھا لیکن وہ سبھی دھڑا دھڑ رونے میں مصروف تھے، ہر ماسی یہی کہتی، ’’پتہ نہیں پُتر تیرا منہ ہون اسان کِدوں ویکھنا اے؟ ‘‘

ابا جی مجھے بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ اس باجی سے بھی سلام لے لو، اُس باجی سے بھی سلام لے لو۔ میں محلے کی ہر اس لڑکی کو ’باجی خدا حافظ‘ کہہ رہا تھا، جس کے ساتھ میں دل ہی دل میں شادی کرنے کے ارادے باندھ چکا تھا۔ لیکن ابا جی کے سامنے کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں تھا۔

قصہ مختصر ہم چیک اِن سے کوئی دو گھنٹے پہلے ہی لاہور پہنچ گئے۔ کسٹم کے ایک پولیس اہلکار نے دیکھتے ہی مجھے سائیڈ پر کر لیا، میرا رنگ پہلے ہی اُڑا ہوا تھا۔ اس کا پہلا سوال تھا کہ جرمنی کیا کرنے جا رہے ہو، سر پڑھائی کرنے، کہاں کے ہو، سر نوشہرہ ورکاں سے۔ یہ نہیں ہو سکتا، اس علاقے کے لوگ تو چور اور ڈاکو ہوتے ہیں۔ نہیں سر جی اب ایسا نہیں ہے۔ شکل سے تم شریف ہی لگتے ہو۔ خیر کرتے کراتے میں جہاز تک پہنچ گیا۔ سرسوں کے تیل اور جرمن لڑکیوں کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے لیکن جہاز کا سفر بھی میں لیے کوئی آسان کام نہیں تھا۔

امارات ایئر لائن کا جہاز اڑا تو سبھی لوگوں نے سیٹوں پر لگی ہوئی ٹی وی اسکرینوں پر گانے، فلمیں اور اپنی اپنی مرضی کے پروگرام لگانے شروع کر دیے۔ میرے لیے یہ ساری چیزیں نئی تھیں۔ میں اندر ہی اندر شرمندہ بھی تھا اور کسی سے پوچھنا بھی نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ یہ میرا پہلا سفر ہے اور مجھے کچھ نہیں آتا۔ میں کافی دیر تک آنکھیں بند کر کے سوچتا رہے کہ کیا کروں تاکہ لوگوں کو کچھ پتہ نہ چلے۔ پھر میں نے کنکھیوں سے اپنے ارد گرد دیکھنا شروع کر دیا۔ ساتھ بیٹھے ہوئے کسی یورپی ملک کے بچے فٹا فٹ کارٹونز کے اسٹیشن تبدیل کر رہے تھے، میں کچھ دیر غیر محسوس طریقے سے انہیں دیکھتا رہا، پھر اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے شروع کر دیے۔ اس کے بعد ایئر ہوسٹس کھانا لے کر آئی، اس نے انگلش میں پوچھا جی آپ کیا لیں گے؟ میں نے اپنی طرف سے انتہائی نفیس قسم کی انگلش بولنے کی کوشش کی اور اس نے تین چار مرتبہ کہا، پلیز میں آپ کو سمجھ نہیں پا رہی، خیر میں نے کہا جو بھی ہے پلیز دے دیں۔

اب میں نے زندگی می کبھی چھُری کانٹے سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ ہم گاؤں میں ناشتے میں بھی لسی اور پراٹھے کھانے والے لوگ تھے اور زندگی میں جب بھی پڑھا لکھا ہونے کا مظاہرہ کیا تو سلاد کے ساتھ چاول چمچ سے کھا لیے۔ میرے لیے کانٹے اور چھُری کو پکڑنا ہی جان جوکھوں کا کام تھا۔ مجھے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کھانے کا آغاز کہاں سے کرنا ہے، جو چیز سمجھ آئی وہ پانی تھا، جو میں نے غٹا غٹ پی لیا۔ کچھ دیر بیٹھا رہا۔ لیکن پھر وہی طریقہ میں کنکھیوں سے بچوں کو دیکھتا رہا، وہ کھانا کھاتے رہے اور میرا میرے سامنے پڑا رہا۔ تھوڑی دیر بعد میں بن کو ہاتھ ہی سے توڑا اور کھانا شروع کر دیا، مجھے اس میں سے عجیب سے بو آئی۔ خیر میں وہاں تھوک نہیں سکتا تھا۔ اللہ کا نام لیا اور اوپر سے پانی پی گیا۔

جرمنی اترا تو لاہور کے ایک دوست بابر بھائی کو فون کرنا تھا۔ جرمنی میں فون کے لیے ٹیلی فون بوُتھ استعمال ہوتے ہیں اب میں نے اِن کا استعمال ٹیلی وژن ڈراموں اور انگریزی فلموں میں ہی دیکھا تھا۔ میں پھولوں والی دکان پر گیا، اس جرمن نے کہا کہ ٹیلی فون بوتھ سے کال کرو۔ میں اس کے پاس جا کر تقریباً بیس منٹ کھڑا رہا۔ مجھے یہ ہی نہیں پتہ چل رہا تھا کہ سِکّہ کہاں ڈالنا ہے؟ کوئی سمجھ نہ آئی تو دوبارہ اس کے پاس آ گیا۔ اس نے تنگ آ کر میرے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد میں نے پھول والے سے پوچھا کہ ٹکٹ کہاں سے ملے گی، اس نے ایک لوہے کے بنے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا۔ اب میں وہاں پہنچا تو سب سے مشکل کام اس کا دروازہ ڈھونڈنا تھا۔ میں نے اس کے ارد گرد کوئی سات چکر لگائے، ایڑھیاں اٹھا کر دائیں بائیں، اوپر نیچے دیکھا لیکن نہ تو دروازہ ملا اور نہ ہی اس میں بیٹھا کوئی شخص۔ میری یہ حالت دیکھ کر ایک فقیر نما شرابی میرے پاس آیا۔ اس نے کہا بڑے پریشان لگ رہے ہو، میں نے کہا ٹکٹ والا نہیں مل رہا۔ نشے میں دھت اس شرابی نے کہا کچھ ہوش کرو یہ آٹومیٹک اور ٹچ اسکرین مشین ہے، ٹکٹ خود نکالنی پڑتی ہے۔ میں حیران تھا کہ اس نے نشے میں بھی مجھے سب سے سستی اور ٹھیک ٹکٹ نکال کر دی۔

درمیان والی کہانیاں پھر کبھی سہی۔

میں نے بون شہر کے لینگوئج اسکول میں داخلہ لے لیا۔ پوری کلاس میں کوئی تیس لڑکیاں تھیں اور کوئی چار، پانچ کے قریب لڑکے۔ آپ جہاں بھی بیٹھیں، آپ کو لڑکیوں کی ہی ہمسائیگی نصیب ہوتی تھی۔ اندھے کو کیا چاہیے تھا، دو آنکھیں۔ خیر چند روز بعد میں نے محسوس کیا کہ میں جہاں بھی بیٹھتا ہوں، لڑکیاں آگے پیچھے کِھسک جاتی ہیں۔ کچھ دن بعد مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے بلغاریہ کی ایک لڑکی سے پوچھا کہ تم لوگ میری ساتھ والی سیٹ پر کیوں نہیں بیٹھتے۔ پہلے تو اس نے ایک قہقہ لگایا، پھر سنجیدہ ہو کر بولی۔ امتیاز تم اپنے سر پر روزانہ کیا لگا کر آتے ہو۔ میں نے فوری طور پر اسے امی جی کے اسپیشل گفٹ کی خصوصیات بیان کرنا شروع کر دیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ بولی ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہتے ہو لیکن اس کی بُو بہت آتی ہے۔ تم یہ لگا کر نہ آیا کرو پلیز۔

میں نے گھر جاتے ہی سرسوں کے تیل کی بوتل کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور گٹر میں اُنڈیل دی۔ میں نے آہستہ سے خود سے کہا، ’’ویلکم ان جرمنی پینڈو‘‘ اگلے دن میں نے دیکھا کہ لڑکیوں کا رویہ تبدیل ہو رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔