مجھے شریک حیات میں سانجھ قبول نہیں


\"\"انسان پر اُتنی ہی آزمائش ہوتی ہے جتنی اُس میں ہمت ہوتی ہے مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ہمت ہار جاتا ہے۔ ہمت نا بھی ہارے تو اُسے سب کچھ بکھرتا ضرور محسوس ہوتا ہے۔ اپنے پیاروں کو اگر وہ نا بھی بتا سکے اندر ہی اندر بہت سے طوفان اُٹھ رہے ہوتے ہیں۔ دوستوں کو دلاسا اور چاہنے والوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہیں نا کہیں اسے خود بھی بہت طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ طاقت جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوتی ہے اور ٹوٹتے دل کو سمیٹنے کے لیئے اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ہے۔

بہت سہل انداز میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور عورت کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ یہ سب کُھلے دل سے قبول کر کے ہی زندگی سکون سے گزر سکتی ہے۔انتہائی ادب کے ساتھ میرا اس بات سے اختلاف بہت شدید ہے۔ جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے حسین خواب دیکھے ہوں، اُسے جیون ساتھی مان کر اپنے سُکھ دُکھ میں شریک کیا ہو، صرف جسم ہی نہیں بلکہ اُسے روح تک رسائی دی ہو تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ خوشی خوشی اُس شخص کی محبت کی بارش کسی اور پر برسانے کے لیئے خود کو آمادہ کر لیں؟ جو لمحہ اُس کی سنگت میں آپ بِتانا چاہتے ہیں وہی لمحہ آپ کا محبوب کسی اور کی بانہوں میں گزار رہا ہو اس بات کا غم کتنا گہرا ہوسکتا ہے یہ کیوں نہیں سوچا جاتا؟

 مجھے یہ مثال مت دیجیئے گا کہ انسانی تاریخ میں تعدد ازدواج کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے۔ اور یہ کہ ہمارے بزرگوں میں تعدد ازدواج کی مثالیں ملتی ہیں۔ ایک طرف ہماری زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ ہم اپنے آبا و اجداد کی جوتیوں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ اور پھر ہم بزرگوں کی آڑ میں اپنے لئے ان جیسے حقوق پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟ ہم عورتوں سے یہ توقع کیوں کرتے ہیں کہ وہ اپنی حق تلفی اور ناانصافی کو مردانہ بالادستی کے نام پر قبول کر لیں گی۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر صفدر محمود کی ایک حیرت انگیز اور ولولہ آفریں تحقیق

جب آپ خود یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ دل پر آپ کے نام کی مُہر لگائی خاتون کو کوئی دیکھے بھی تو خود ہر عورت کا آنکھوں سے ایکسرے کرنا فرض کیوں سمجھتے ہیں؟ کبھی سوچیں کہ اُس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔۔۔ پھر اتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ عورت تھوڑی عقل والی کمزور مخلوق ہوتی ہے۔۔۔

ذرا وقت نکال کر سوچیں اتنے بےحس اور ظالم کیسے ہوجاتے ہیں آپ؟

ہمیں ان معاملات پر کھلے دل سے غور کرنا چاہیے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

11 thoughts on “مجھے شریک حیات میں سانجھ قبول نہیں

  • 24-01-2017 at 4:05 pm
    Permalink

    جس کی اجازت دین نے دی ہے تو اس میں ضرور انسان کا ہی فائدہ ہوتا ہے، اور اسلام نے غیرضروری شادیوں کا حکم نہیں دیا بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کی اجازت دی ہے۔ سب سے پہلے تو دین میں لڑکے لڑکی یا میاں بیوی کے عشق اور دیوانگی والی محبت کا کوئی سبق نہیں ملتا، یہ محبت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اس میں کوئی شریک نہیں، انسان خدا سے محبت کرتا ہے لیکن خدا ہر کسی سے محبت کرتا ہے اس میں کون سے بری بات ہے، باقی رہی شادی کی بات تو اس کا دین میں مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے نسل کو آگے پڑھانا، اور بچوں کی پرورش بہتر طریق پر کر کے انہیں معاشرے کے لئے مفید انسان بنانا۔ اس کے علاوہ باقی سب چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، شادی کے پہلے سال محبت کچھ اور ہوتی ہے اور ۱۰ سال کچھ اور، اور پھر ۲۰ سال تو محبت ڈھونڈے سے نہیں ملتی بلکہ بات لڑائی جھگڑوں تک پہچ چکی ہوتی ہے، جس مرد سے آپ محبت کرتی ہیں جب وہ مر جاتا ہے تو دوسرے سے وہی محبت شروع ہو جاتی ہے اور وقت پہلی محبت کو مٹا دیتاہے، عرب ممالک کی عورتوں نے ثابت کیا ہے کہ دو یا تین ازواج ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے، لیکن پاکستان میں ہندوانہ معاشرتی نظام نے اسے قبول نہیں کیا۔

  • 24-01-2017 at 4:58 pm
    Permalink

    لائبہ صاحبہ ! بھلا یہ کیا منطق ہوئی ؟ ایک تو ویسے ہی ہمارے معاشرے میں بے شمار بن بیاہی عمر رسیدہ یابیوہ بہنیں گھروں میں بیٹھی ہیں اور اپنی کفالت کے قابل نہیں اور اگر ان میں سےکوئی ایک آدھ خاتون ہماری فرسودہ معاشرتی روایات کے برخلاف کسی کی دوسری بیوی بننےکو تیار بھی ہوجاۓ تو آپ اپنی ان بہنوں کو ان کےاس جائزشرعی حق سےبھی محروم کردینا چاہتی ہیں؟

  • 24-01-2017 at 4:59 pm
    Permalink

    اپنےآپ کو زیادہ عقل مند اور دانشور سمجھنا انسان کی فطرت ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو اصول دیئے ہیں انسانیت کی فلاح کے لئے فقط وہی کارآمد ہیں

  • 24-01-2017 at 5:18 pm
    Permalink

    نہ وہ بے آسرا خواتین ان کی بہنیں ہیں نا ہی شہوت زدہ مرد میرا بھائی۔ زیادہ دوسری شادیاں دولت،جائیداد، خاندان، مردانہ شہوت یا پھر ان سب کی ملی جلی وجوہات کی خاطر کی جاتی ہیں۔ بے آسرا عورتوں کے لیے دیندار لوگ کوئی ادارہ کیوں نہیں بنادیتے؟

  • 25-01-2017 at 12:03 am
    Permalink

    قلم بہت حرمت والی شے ہے، جو بھی لکھیے سوچ سمجھ کر لکھیے۔ عشق محبت بلا بلا بس ہارمونز کا رولہ ہے اور کچھ نہیں۔
    دونوں جوابات بھر پور ہیں۔

  • 25-01-2017 at 9:53 am
    Permalink

    بلا شبہ “فقط” کیونکہ سوال اٹھانا موت کو دعوت دینا ہے۔
    یہ کفار کیسے فلاحی ریاستیں بنانے میں کامیاب و کامران ہوئے؟ لعینوں نے ہم ایسے دیدہ وروں کو کوئی گھاس نہیں ڈالی اور عورتوں بچوں مرد بوڑھوں دہشت گرد پناہگزینوں کے لیے تقریبا بلاتفریق فلاح خوشی روزگار صحت تعلیم اور شخصی آزادی کے تاریخی بہترین مواقع پیدا کئے۔
    اب تو اے خداوند عزوجل ان فلاح پسندوں کو ایمان اور عقل دے دے۔ تاکہ یہ بھی ہم جیسے ہوجاویں۔

  • 25-01-2017 at 2:12 pm
    Permalink

    Pata nahi auratain haqeeqat pasand kyn nahi hoti . Wo mard jo apka shohar 60 bachoon ka baap honay k bawajood bhi borha nahi hita us ki jismani aur roohani donu tarah ki khwahishaat jawan rahain gi. Jab k app 2bachoon k baad har tarah k romancesay farigh ho chuki hoongi. Tu wohi shaksh jis ki muhabbat ki duhaiyan day rahi hain apnay jazbaat aur khushion ka qatal karta rahay ga jis ki ijazat usay har tarah hai. Wo ap say muhabbat ki itni bari qeemat kyn day. Apki muhabbat usko uska sukoon hasil karnay say kesay rook sakti hai.

  • 26-01-2017 at 5:22 pm
    Permalink

    Sir I am very humble to say your reply is logic less. Human psychology is completely missing here. Did you every talked to any Arab lady how happily they are more marriages their husbands.if you are talking of special circumstances for more then in current Arab world why they need more and rest of do not .

  • 28-01-2017 at 2:19 pm
    Permalink

    I think, we don’t comment on this writing, because she just put her own thinking without any research , even she negate the factual and religious aspects, therefore I request to Ms. Liaba, kindly do some research with all aspects , then write about anything. Secondly, I shared recent column published one blogger at Express news, please read that.
    Read the link please:
    https://www.express.pk/story/632500

  • 29-01-2017 at 5:01 pm
    Permalink

    بات دلیل سے ہٹ کر پھر دیندار لوگوں پر تنز کی طرف آ گئی ہے تو میں معذرت کے ساتھ ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ بالفرض دیندار لوگ ایسا کوئی ادارہ بنا بھی لیں تو کیا عورت کو صرف کفالت کی ہی ضرورت ہوتی ہے اس کی کوئی خواہشات نہیں ہیں؟ ان خواہشات کو کوئی دیندار ایک ادارہ بنا کر وہاں پر کفالت تو شائد کر لے لیکن وہ ان کی خواہشات پوری کرنے کیلئے کیا کرسکتا ہے ۔ لہذا میری بہن یہ ادارہ گھر سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا جہاں پر ایک مرد ایک یا ایک سے زیادہ عورتوں کی کفالت بھی کرسکتا ہے اور اس کی کچھ خواہشات بھی پوری کرسکتا ہے اور یہ ہی اسلام کہتا ہے۔ آپ ایک مرد کی اکیلی مالک بننا چاہتی ہے لیکں جس کو ایک مرد ہی نہ ملے وہ؟
    کھلے دماغ سے سوچیے

  • 29-01-2017 at 5:15 pm
    Permalink

    آج کل میڈیا میں اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ مغرب سے متاثر کچھ لکھاری عورتوں کو برابری کا مقام دلانے پر بضد ہیں میرے خیال سے یہ بلکل غلط ہے۔ عورت کبھی مرد کے برابر نہیں ہو سکتی ۔ اگر میں اسلام کا حوالہ دوں گا تو یہاں پر اسلام کے خلاف بات شروع ہو جائے کی لہذا میں آپ لوگوں کی توجہ اس صنف کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتا ہوں کہ سائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔
    نر اور مادہ کا تعلق صرف انسانوں میں نہیں ہے بلکہ جانوروں میں بھی ہے۔ آپ کسی بھی جانور کا مشاہدہ کر کے دیکھیں ایک چیز آپ کو مشترک نظر آئے گی۔ وہ یہ ہر جگہ معاشرتی تحفط کی زمہ داری نر کے ذمہ ہوتی ہے مادہ اس معاملے میں آپ کو کمزور نظر آئے گی اس مقصد کیلئے اللہ تعالی نے نر کو جسمانی طور پر بہت مضبوط بنایا ہے اور بچوں کے حوالے سے مادہ آپ کو طاقت ور نظر آئے گی۔ اور اسی طرح جسمانی طور پر اللہ تعالی نے مادہ کو نازک اندام بنایا ہے۔
    اللہ تعالی نے دنیا میں تمام مخلوقات کو بنایا اور انسان کو ان سب میں اشرف المخلوق اور اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اللہ نے انسان کو بااختیار بناکر عقل سلیم عطا کی ہے۔
    جس کی بدولت وہ اس دنیا کو مسخر کرنے پر تلا ہے۔ وہیں پر کچھ انسان فطرت کے خلاف بات کرنا آزادی کے نام پر اپنا حق سمجھتے ہیں۔
    دنیا میں جب کوئی پروڈکٹ آتی ہے تو اس کا بنانے والا اس کے ساتھ ایک بک لٹ مہیا کرتا ہے اس کتا بچہ میں وہ اس کے استعمال کا طریقہ تقصان سے بچنے کیلئے حفاظتی تدابیر وغیرہ وغیرہ لکھ کر دے دیتا ہے اگر تو ہم اسے ان ہدایات کے مطابق استعمال کریں تو اس کی کارکردگی ٹھیک رہتی ہے اگر نہیں تو وہ چیز خراب ہو جاتی ہے ۔ بلکل اسی طرح اللہ نے انسان کو تخلیق کیا تو اس کے ساتھ ہمیں کچھ کتابیں بھیجیں جن میں اس کو چلانے کا طریقہ بتیا یا گیا ہے اوراس سے کی ساتھ ساتھ ہمیں کچھ انبیاء اور مزید کچھ رہنماؤں کو بھی بھیجا کہ جو کچھ انسانوں کو ان کتابوں مین لکھا ہونے کے باوجود بھی سمجھ میں نہ آ ئے تو وہ رہنما انہیں یہ سب سمجھا دیں۔
    لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ایک دنیاوی پروڈکٹ کے بنانے والے نے جو بنا دی ان میں آپ کوئی تبدیلی نہی کر سکتے جیسے کہ اس کے کچھ بنیادی فیچرز وغیرہ بلکل اسی طرح جیسا کہ یہ تفریق اللہ نے نر اور مادہ کے درمیان رکھ دی ہے۔
    مثال کے طور پر اگر کوئی مرد چاہے کہ صرف عورتیں ہی کیوں بچہ پیداکر سکتی ہیں میں کیوں نہیں تو کیا وہ ایسا کر سکتا ہے؟ بلکل نہیں۔ تو کی اہم اسے یہ کہ سکتے ہیں کہ اس سے مردوں کے حقوق مجروح ہوئے ہیں۔ یقیننا نہیں۔ کون کہ یہ خدا کی طرف سے ایس سسٹم بنا دیا گیا ہے اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔
    لہذا جو کوئی اس دیئے گیے سسٹم سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا وہ تقصان اٹھائے گا۔ جیسا کہ آج عورت ہو رہی ہے۔
    میرے خیال مغرب کی عورتوں کو نام نہاد آزادی انہیں مزید پابندیوں میں دھکیل رہی ہے جو عورت پہلے چند مردوں کو تابع تھی اب اسے اس آزادی نے پتہ نہیں کتنے مردوں کے تابع بننے پر مجبور کر دیا ہے۔
    جو مرد اس کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا اب وہی اس کا شکاری بن چکا ہے۔ جس عورت کو صرف ایک مرد(شوہر)کیئے مسکرانے اور بننے سنورنے کا کہا گیا تھا وہ اب کتنے مردوں کیلئے مسکرانے اور بننے سنورنے کی ذمہ دار بن گئی ہے؟ جس عورت کو صرف اپنے میاں اور بچوں کی خدمت کی زمہ داری دی گئی تھی وہ پتہ کتنے لوگوں کی ذمہ دار بنا دی گئی ہے؟
    مجھے تو کہں بھی نہیں لگتا کہ یہ عورت کو آزاد یا بااختیار بنایا جا رہا ہے بلکہ میرا خیال تو الٹ ہے۔

    میرا خیال ہے کہ عورت کو عورت ہی رہنے دو تو اچھا ہے جو حقوق اللہ نے اور اسلام نے عورت کو دیئے ہیں وہ حقوق لینے میں عورت کی مدد کی جائے تاکہ اس تحفظ حاسل ہو سکے نہ کہ اسے مزید مسائل کا شکار کر دیں۔

Comments are closed.