سیکولر کم علم ہوسکتا ہے لیکن منافق نہیں


salim javedلبرل اور سیکولر میں بڑا فرق ہے۔ لبرل، کہتا ہے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی گذارنے میں آزاد ہیں۔ مجھے آپ سے اور آپ کو مجھ سے کوئ غرض نہیں ہونا چاہئے۔ کھالے، پی لے، موج اڑا لے۔ بابر بہ عیش کوش۔

سیکولر کہتا ہے، آؤ، ایک مہذب معاشرے کو وجود میں لانے کےلئے، ہم مکالمہ کریں۔ اگر ایک دوسرے کی دلیل سے مطمئن نہ ہوسکے تب بھی ایسا پرامن راستہ نکالیں گے جس میں بقائےباہمی سے زندگی گذار سکیں۔

ایک سیکولر آدمی، امن کا داعی ہوتا ہے، پس اپنی سوسائٹی سے بے گانہ نہیں رہ سکتا۔ سیکولرزم اور جمہوریت آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔

تجزئیے، کسی وقوعے سے جنم لیتے ہیں۔ ایک سیکولر، کسی وقوعے پر اپنے تاثرات دینے سے پہلے، مقدوربھر، ہر زاویئے سے اس کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تحقیق میں، کم علمی یا بھول چوک تو ہوسکتی ہے مگر منافقت نہیں۔ اس لئے کہ سیکولر آدمی، معاشرے کے کسی طبقے سے تعصب رکھتا ہے نہ کسی سے نانصافی برداشت کرتا ہے۔

مگر، پختونخواہ کے اسکولوں میں بچوں کے قتل عام کے ضمن میں سیکولرزم کے داعی چند  لکھاریوں نے، خود ہی جج بن کر، پہلے قاتل نامزد کئے، پھر اس بنیاد پر پر ملّاؤں کی مذمت میں مرصع بیانئے لکھ کر، ملفوف انداز میں اسلام کو خونخواری کی علت قرار دینے کی کوشش کی۔

ملاّ، برہمن ہیں یا شودر، تعداد میں کم ہیں یا زیادہ۔ مگر ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ ضرور ہے۔ اپنی ذاتی رائے رکھنا اور بات ہے مگر کسی طبقہ کی تذلیل کرنا، چاہے وہ احمدی ہی کیوں نہ ہوں، کم از کم میرے سیکولرزم سے تو بعید ہے۔

ایک سیکولر کو کیسے تجزیہ کرنا چاہیئے؟ اس پر اپنا موقف واضح کرنے میں آرمی  سکول پشاورکے سانحے کی مثال لیتا ہوں۔

تجزیہ کرنے اور نتیجہ نکالنے سے پہلے دوبنیادی معلومات اکٹھی کریں۔ قاتلوں کی شناخت اور بربریت کی وجوہات۔

جب قاتل و مقتول دنیا میں نہ رہے، اور فوج نے فوراً چند سہولت کار پکڑ لئے جنہوں نے اعتراف کیا کہ یہ ٹی ٹی پی کی کارروائ ہے، تو کوئ وجہ نہیں بنتی کہ فوج کی  اس خبر  پہ اعتبار نہ کیا جائے۔

مہذب ملکوں میں سرکاری، بالخصوص فوجی ایجنسیاں ہی تو بتاتی ہیں کہ قاتل کون تھے؟ شومئ قسمت کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت، اپنی ایجنسی کی اطلاع کو قابل اعتماد نہیں سمجھتی۔ اس لئے کہ اس محکمہ کا ٹریک ریکارڈ مشکوک ہے۔ ماضی یہ ہے کہ بنگال میں 90 ہزار فوج ہتھیار ڈال رہی تھی اور یہ محکمہ، ہماری فتح کی رلیز جاری کر رہا تھا۔ حال یہ ہے کہ بیان حلفی تھا ” پاکستانی ائرپورٹ، امیریکیوں کو نہیں دئے گئے” اور بعد میں پتہ چلا، بغیر کسی لکھے معاہدے کے، زبانی ہی حوالے کر دئے گئے تھے۔

لوگ اس پہ یقین نہیں کرتے کہ نظریاتی سہولت کار، ڈاکٹر عاصم جیسوں  سے بھی کمزور دل ہوں گے۔ ڈاکٹر عاصم کو چھ ماہ تحویل میں رکھ کر ایجنسیاں کچھ نہ اگلوا سکیں، مگر سہولت کار، دوسرے روز ہی سب راز اگل دیتے ہیں۔

لہذا، جنرل باجوہ کے انکشافات کو ایک طرف رکھیں اور اور ممکنہ قاتلوں کی دلائل کے ساتھ ایک فہرست بنائیں۔

پہلا نام تو دشمن ملک کی ایجنسی کا ہوگا جسکے اسباب ظاہر ہیں۔

دوسرا نام، ٹی ٹی پی کا ہے۔ پاکستانی طالبان، کوئ خیالی وجود نہیں ہے بلکہ ان کی دہشت وبربریت کی تفصیلی داستانیں، ابھی اہل پاکستان کو پوری طرح معلوم  نہیں ہیں۔ بحرین پولیس میں محسود قبائل کافی تعداد میں بھرتی ہیں۔ 2007 میں خاکسار وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں طالبان کا چندہ (یا بھتہ) جمع کیا جاتا ہے اور ایک آدمی نے لیت و لعل سے کام لیا تو اس کے اہل خانہ کو بیت اللہ محسود نے اٹھوا لیا اور پھر اس نے وہاں جاکر معافی تلافی کی۔ مہمند ایجنسی میں ولی خان نامی سفاک طالبان لیڈر کے قصے سنیں تو آپ کو آرمی سکول کا سانحہ بھول جائے۔ مگر ایک بہت افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قبائلی، جب طالبان کی درندگی کی باتیں سناتے ہیں تو دبے لفظوں میں آرمی اور طالبان کے گٹھ جوڑ کے بھی کئ واقعات سناتے ہیں۔

ممکنہ قاتلوں میں تیسرا نام، ایم کیو ایم بھی ہوسکتا ہے کہ بربریت، ان کی پہچان بن چکی ہے۔ کبھی فوجی ایجنسیوں نے ہی ہمیں بتایا تھا کہ ایم کیو ایم کے لوگ بوری بند لاشوں میں ملوث ہیں اور ان کے عقوبت خانوں میں مخالفین کے بدن میں ڈرل سے سوراخ کئے جاتے ہیں۔ صولت مرزا جیسوں کی گواہی کےبعد، ان وحشیوں کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا تو کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے ایجنسیوں کو عوامی دباؤ میں لانے کو یہ حرکت کی ہو؟

ایک نام پیپلز پارٹی کا بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی تاریخ بھی ایسے کاموں سے مبرا نہیں۔ انہوں نے پی آئ کا جہازاغوا کرکے اور معصوم مسافر کو قتل کرکے، اس ملک میں پہلی دہشت گردی کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ زرداری ٹولے کی طالبان سے رسم و راہ تھی۔ خود زردای کی فوج کو دھمکی بھی ریکارڈ پر ہے۔ افواہ تو یہ بھی ہے  کہ بےنظیر کو مروانے میں اس کا ہاتھ ہے۔ عزیر بلوچ، پیلپز پارٹی کا سرکردہ رہنما ہے۔ بھتہ نہ دینے پر، 400 معصوم لوگوں کی جان لینے کا اقرار کرچکا ہے اور اس خونخواری میں، بقول اس کے، ” انسانیت نواز” پیپلز پارٹی کے بڑوں کی آشیر باد حاصل رہی۔ آج عزیربلوچ  کی وجہ سے، ان کے گرد گھیرا تنگ ہورہا تو وہ لوگ جو مال بنانے کے لئے، معصوموں کی جان لینا کھیل سمجھتے تھے، کہیں انہوں نے تو ایجنسیوں کو گمراہ کرنے، یہ قتل عام نہیں کیا؟ ۔

پھر اپنی فہرست میں، فوج کو بھی مشتبہ کے طور پر رکھنا ہوگا کہ بربریت میں خود فوج کا ماضی بھی داغدار ہے۔ جنرل ٹکا خان نے بنگال میں قتلِ عام سمے  کہا تھا کہ مجھے بنگال کی زمین چاہیئے، بنگالی نہیں۔ ممکن تو یہ بھی ہے کہ کسی نے یہ جملہ دہرایا ہو کہ ہمیں پختونخواہ کی زمین چاہیئے، پختون نہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی اور لال مسجد کے طلباء کو قتل کرنے والا ادارہ، کیونکر مشکوک نہیں ہوسکتا؟۔

آپ  خود کو سیکولر سمجھتے ہیں تو آپکو سب مشکوک کرداروں پر نگاہ رکھنی ہوگی۔ اگر وقوعہ کے ذمہ داران کی فہرست میں آپکو طالبان کے علاوہ کوئ نہیں سوجھتا  تو یا آپ  متعصب اور منافق ہیں یا پھر آپکا  ذہن کمزور ہے۔ ہر دو صورت میں ۔ صرف اردودانی اور لفاظی کے زور پر، آپ کو تجزئے جیسا سنجیدہ کام نہیں کرنا چاہیئے۔

میں نے مندرجہ بالا زاویوں سے جائزہ لینے کے بعد یہ رائے بنائ ہے کہ یہ دہشت گردی، ٹی ٹی پی نے کی ہے۔ ہوسکتا ہے میرا تجزیہ غلط ہو مگر میں نے ممکنہ قاتلوں کی ساری فہرست آپکے سامنے رکھ دی ہے۔ میرا خیال ہے ایک سیکولر کا یہی انداز ہونا چاہئے۔ خیر، آگے چلیں، اب نام پتہ چل گیا تو ان کی حقیقت معلوم کی جائے۔ اس کے بعد سوال ہوگا کہ انہوں نے کیوں یہ کام کیا؟

صورتحال یہ ہے کہ ٹی ٹی پی والوں  کو بھی صرف جنرل باجوہ صاحب جانتے ہیں کیونکہ یہ پاکستانی طالبان، ہر کارروائ کے بعد، جنرل صاحب کو ہی فون کرکے اس کی ذمہ داری قبولتے ہیں۔ ہم بیچارے تو ابھی تک یہ نہیں جان پائے کہ کرنل تارڑ کو کرنل امام کیوں کہتے تھے؟

خیر، کرنل امام کو تو ہم نے نہیں دیکھا لیکن مشرف دور میں، لاپتہ افراد کے حق میں مظاہرے کرنے والا سفید ریش، خواجہ خالد تو سب کو یاد ہوگا۔ ہم نے ٹی وی پر، اس نیک بزرگ کو، پولیس کی لاٹھیاں کھاتے دیکھا۔ پھر پتہ چلا کہ کرنل امام کے ساتھ خواجہ خالد بھی وزیرستان میں مارے گئے اور دونوں حضرات، ہماری ایجنسیوں کے ملازم تھے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دس سال بعد ہمیں پتہ چلے کہ مولوی برقعہ پوش، در اصل میجر عبدالعزیزصاحب تھے؟اب  آپ یہ نہ کہیں کہ وہ مدت دراز سے جمعہ کے خطبے دیتا ہے۔ لارنس آف عریبیا، انگریز ہوکر، عربوں کی امامت کرسکتا ہے تو ہماری ایجنسیاں بھی اتنی گئ گذری نہیں۔ خیر سے فلموں میں اداکاری سے لیکر، گائیکی و نغمہ نگاری تک، نامور پروفشنلز کو مات دیتے ہیں۔

جب ریاست حقائق چھپاتی ہے تو پھر عوامی ذہن سازی میں، سینہ گزٹ خبریں دخیل ہوا کرتی ہے۔ افواہ تو یہ بھی ہے کہ جب  افغان مجاہد راہنماؤں کا اسلام آباد آنا ضروری ہوگیا تو لال مسجد کے پہلو میں یتیم لڑکیوں کا باپردہ مدرسہ بنایا گیا جس کے زیر زمین راستے، آبپارہ میں نکلتے تھے۔ شنید یہ بھی ہے کہ خود بیت اللہ محسود، آپریشن سے دو ماہ پہلے اسلام آباد آیا تھا اور لال مسجد کے مولوی کے ہجرے سے ہوکر، آبپارہ سے لنڈے کے کپڑے خریدنے گیا تھا۔ خیر، جب اس مدرسے کی ضرورت نہ رہی تو اس کے انہدام کو دنیا کے میڈیا سے چھپانے کےلئے، “کثیر المقاصد” اہداف پہ مشتمل ایک حساس آپریشن کیا گیا۔

بہرکیف، مجھے  سیکولر ہونے کا دعوی ہے تو اس طرح سنی سنائ باتوں پہ اپنے بیانئے تشکیل نہیں دیا کرتا۔ لیکن فرض کریں، واقعی مولویوں کا ایک گروپ اس خونریزی  میں ملوث ہو، تب بھی پوری ایک کمیونٹی کو رگیدنا، کونسا سیکولرازم ہے؟

حیرت ہے کہ  جنرل ضیاء کو گالیاں دیتے ہوئے، اس کے ادارے کو گالی نہیں دی جاتی حالان کہ پورا ادارہ اس کی پشت پہ کھڑا تھا (اور اب بھی ہے) مگر لال مسجد یا سانحہ پشاورکے جنونی کو بنیاد بناکر، ہرمولوی کو گالی دی جاتی ہے۔ اگر آپ سیکولر ہیں توکسی طبقے پر تبصرہ کرتے وقت، گھوڑے، گدھے کا فرق کیوں نہیں روا رکھتے؟ کیا اس کا سبب، فقط لاعلمی ہے یا منافقت ہے؟

میں نہیں کہتا کہ مذہبی لوگوں کو ایسی خونریزی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ پورے طبقہ کو اس سے کیونکر جوڑتے ہیں؟ اگر آپ یہ بہانہ بناتے ہیں کہ مذہبی طبقہ، دہشتگردی کی کارروائیوں کی مذمت نہیں کرتا تو معاف کیجئے، آپ پھر منافق یا لاعلم ہی ہوسکتے ہیں۔

اگر مولوی عبدالعزیز جیسے لوگوں نے، اسلام کے نام پر بچوں کو مروایا تو مشرف نے بھی کارگل میں ہزاروں جوانوں کو، وطن کے نام پر، بلا وجہ  قتل کروایا۔ مولوی عبدالعزیز سے علماء کی اکثریت نے  براءت کا اعلان  کیا جبکہ مشرف کے ایڈونچر سے بھی 99 فیصد فوج لاعلم تھی۔ (مشرف سے اختلاف کرنے والے افسروں کی کتابیں مارکیٹ میں ہیں)۔ فرق یہ ہے کہ سنجیدہ علماء، مولوی برقعہ پوش سے اس کے ایڈونچر کے دوران ہی برات کا اعلان کرتے تھے جنکہ مشرف کے دوست، اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد، اس سے اپنا اختلاف بیان کرتے ہیں۔

برسبیل تذکرہ، ملّاؤں کے خلاف لکھے متعصبانہ تجزیوں میں، گھوم گھام کے بات ملّا عمر پہ ضرور لائ جاتی ہے۔ اس خاکسار کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہوا کا رخ دیکھ کر نہیں لکھتا۔ چنانچہ، ملّا عمر کے عروج میں ان کا نقاد تھا تو اب ان کا حمایتی ہوں۔

وہ طالبان جن سے ساری دنیا بخوبی واقف ہے، وہ افغانستان نامی ہمارے پڑوسی ملک  میں ملّا عمرکے زیرامارت حکومت کیا کرتے تھے۔ (یاد رہے کہ افغانستان، ایک خود مختار ملک ہے، ہماری باجگذار ریاست نہیں)۔ افغانستان کے علاوہ، ایران بھی ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ مہذب دنیا، ہم کو اجازت نہیں دیتی کہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں دخل دیں اورپھر یہ تو ہمارے پڑوسی ممالک تھے۔ لیکن اگر دوسرے ملک پہ تبصرہ کرنا ضروری ہے تو صرف ایک پر کیوں؟ ایران اور افغانستان دونوں پر کیوں نہیں؟

ہمیں افغانستان میں، ملاّ عمر کی  سوچ اور طرز حکومت سے اختلاف تھا۔ اسی طرح، ہمیں ایران میں، امام خمینی کی سوچ اور طرز حکومت سے بھی اختلاف تھا۔ طالبان ووٹ کے ذریعے برسراقتدار نہیں آئے تھے اور نہ ہی خمینی صاحب۔

طالبان اپنے تئیں، پوری دنیا کے کفارکے دشمن تھے لیکن انہوں نے کبھی کسی کو نام لیکر گالی نہیں دی۔ امام خمینی نے تہران کے چوک پر ایک بڑا بل بورڈ لگوایا تھا، جس پر جنرل ضیاء، صدام اور ملک فہد کی تصاویر لگی تھیں اور نیچے “سگانِ امریکہ” یعنی امریکہ کے کتے لکھا تھا۔ آپ کبھی اس رویئے کوبھی زیرِ بحث لائے؟ نہیں تو کیوں؟

امام خیمنی کے برسراقتدار آتے ہی، پاکستان میں مفتی جعفر حسین کی قیادت میں” تحریک نفاذ فقہ جعفریہ” رجسٹر کی گئ۔ کیا طالبان نے، پاکستان میں کبھی” تحریک نفاذ فقہ طالبانی” بنائ؟ تسلیم کہ  طالبانی فقہ والے یہاں پہلے سے موجود تھے تو خمینی صاحب  کے فقہ والے بھی روز اول سے یہاں موجود تھے اور بمشکل 10 فیصد ہونے کے باجود، ہر سال، پورا ملک، دو دن کےلئے ان کا یرغمال بنا دیا جاتا تھا (اور ہے)۔ اگر میں  سیکولرہوں تو مجھے کسی کے فردی عقائد سے کام  نہیں مگر سوسائٹی کو ڈسٹرب کرنے والے افعال کو زیر بحث لانا، میری ذمہ داری ہے۔

موازنے ہی کے لئے سہی، کبھی اس پہلو کو بھی آپ نے موضوع بنایا ہے؟ نہیں تو کیوں؟

اگر آپ کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان میں طالبانی سوچ کے حامل افراد پائے جاتے ہیں، تو اس میں کونسی انہونی ہے؟ روس، نہ ہمارا ہمسایہ ہے، نہ اس سے مذہبی یا نسلی تعلق ہے۔ مگر کیا روس کے نظریاتی حمایتی، جن کو “سرخے” کہا جاتا تھا، ہمارے ملک میں ایک معتدبہ تعداد میں موجود نہ تھے؟

 بات نظریاتی ہم اہنگی کی نہیں ہے مگر اولیت اس ملک کے امن کو ہونی چاہئے۔

بجا کہ پاکستان میں  کچھ لوگوں نے بزور، ایرانی یا افغانی نظریات نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگرایسی ہی کوشش، روسی نظریات کی خاطر، چند نامور لوگ بھی تو کرچکے ہیں۔ ہمارے فوجی ذرائع نے ہمیں ” پنڈی سازش کیس” کی کہانی سنائ تھی جس کے مطابق، فیض احمد فیض جیسے لوگ بھی اپنے نظریات کی خاطر پاکستان میں بغاوت کرانا چاہتے تھے۔ آج فوج کے نامزد غداروں کو گالیاں دینے والوں کو چاہیئے کہ اسی کلئے کے تحت، فیض صاحب کو بھی اس سعادت سے محروم نہ رکھیں۔

سیکولرزم کے علمبرداروں سے درخواست ہے کہ باچہ خان اور مودودی، یا طالبان اورجمہوریت کا بیانیہ لکھنے سے پہلے خود سیکولرازم کا بیانیہ واضح کیجئے کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے؟ اس کے کیا اصول و ضوابط ہیں؟

جاتے جاتے، ایک بات عرض کرتا جاؤں۔ آپ عوام میں “طالبانی ذہن” مضبوط ہونے سے شاکی ہیں تو اس کا بڑا سبب خود پاکستان کے نام نہاد سیکولرز کا ہاتھ ہے۔

عافیہ صدیقی، امریکی شہری ہے مگر گرفتار آپ کے ملک سے ہوئ ہے۔ ممکن ہے کہ عافیہ صدیقی نے کوئ بہت بڑا جرم کیا ہو، مگر عدالت میں بہرحال، اس پہ یہ چارج شیٹ پیش کی گئ کہ اس نے ایک امیریکی میرین پررائفل تانی تھی۔

اس رائفل تاننے کے جرم پر، امریکی عدالت نے اس کو 80 سال قید کی سزا دی۔ (وہ لوگ متوجہ ہوں جن کواسلام میں  وحشیانہ سزائیں نظر آتی ہیں)۔

اب، پاکستان کے مشہور مولوی بھی معلوم ہیں جیسے مولانا فضل رحمان اور مشہور سیکولر بھی معلوم ہیں جیسے حسن نثار۔ پاکستان کی معتدل عوام، مولانا کو تو دہشت گردی کی ببانگِ دہل  مذمت کرتے دیکھتے ہیں پر حسن نثارصاحب کو عافیہ کی سزا کی مذمت کرتے نہیں دیکھتے۔ اسی رویئے کی بنا پر، عوام، میڈیا  کو متعصب جان کر، سینہ گزٹ خبروں اور تجزیوں کا شکار بنتے ہیں اور بقول آپ کے طالبانی ذہنیت کا شکار ہوتے ہیں۔

آپ کو گلہ ہے کہ مولوی، دہشت گردی کی مذمت تو کرتے ہیں مگر” چونکہ چنانچہ” بھی ساتھ لگاتے ہیں۔ آپ طالبان مخالفین سے پوچھئے کہ عافیہ صدیقی کی سزا کے بارے میں آپ کا کیا رد عمل ہے؟۔ یقین کیجئے کہ وہ بھی اگر مذمت کریں گے تو “اگر مگر” ضرور لگا ئیں گے۔ پس، کوئ آدمی اپنا پورا موقف بیان کرنا چاہے تو اسے “اگر مگر” کی پالیسی نہیں کہا جاتا۔

برسبیل تذکرہ، حسن نثار صاحب اکثر ایک تجزیہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام، مولویوں کو گھاس بھی نہیں ڈالتے۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ عوام ان کو ووٹ نہیں دیتے۔ یہ ان کا ایک اور غلط تجزیہ ہے۔ عوام کا علماء سے بڑا گہرا رشتہ ہے۔ ووٹ وہ اس لئے نہیں دیتے کہ وہ علماء کوحکومت چلانے کا اہل نہیں سمجھتے۔ کوئ آدمی، اپنے بیٹے کو سست یا ناتجربہ کار سمجھتا ہے اوراس بنا پر، اپنی دکان حوالے نہیں کرتا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا رشتہ ختم ہوگیا۔

عرض یہ کرنا تھا کہ مولوی، اس ملک کا بہت بڑا طبقہ ہے جو عوام پہ ڈایئرکٹ اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک سیکولر ہونے کی حیثیت سے آپ لوگوں کی رائے پر تنقید کریں مگر اس کا مضحکہ نہ اڑائیں، پھر اس تنقید میں امن عامہ خراب نہیں ہونا چاہیئے اور بلادلیل کسی طبقے کی تذلیل نہیں ہونا چاہیئے۔

چونکہ ہم نئے نئے سیکولر بنے ہیں تو ہم کو یہی سیکولرازم سمجھ میں آیا ہے۔ سیکولرازم کے علاّموں اور مقتداؤں سے درخواست ہے کہ اگریہ غلط  ہے تو آپ سمجھا دیں کہ اصل سیکولرازم کیا ہوتا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “سیکولر کم علم ہوسکتا ہے لیکن منافق نہیں

  • 10-02-2016 at 2:53 pm
    Permalink

    aap nein baja farmaya sewaye aafia sadiqqi ki saza ke, afia sadiqqi ko amrika mein eik bohat bari yahoodi organization ki kanooni madad bhee hasil thee( pakistani hakoomat ke saath) uun ke trial mein maujood kuch dostoun ke mutabiq, afia nein apney liaye yeh saza khud tajveez ki kaanooni mahireen se tawen nahin kia.

  • 11-02-2016 at 3:44 am
    Permalink

    Lets hear the response of our so called seculars on this

  • 11-02-2016 at 4:16 am
    Permalink

    مولانا سلیم جاوید صاحب، آپ بڑے دلچسپ سیکولر ہیں۔ آپ کے “میرے سیکولرازم” سے کیا بعید ہے، کیا نہیں، آپ کی تحریر کی طوالت نے کافی کچھ منکشف کر دیا ہے۔ ایران وافغانستان، محسود و مُلّا عمر، فضل الرحمٰن و حسن نثار، ایک مُلّا اور پوری مولوی کمیونٹی اور ایک جہاز اور پوری پیپلزپارٹی، عافیہ صدیقی کے اسّی سال اور اسلامی سزائیں، روسی نظریاتی سرخے بشمول فیض اور آج کے نامزد غدّار؛ اِن سب تذکروں، موازنوں اور مقابلوں کا مخصوص ڈیزائن اور مخفی مقاصد دیکھ کر آپ کا “نئے نئے سیکولر” ہو کر ایک طرف نام نہاد سیکولرز کو تجزئے کا سلیقہ سکھانا اور ساتھ ہی دوسری طرف اُن سے سیکولر ہونے کا مفہوم سمجھانے کی درخواست کرنا بہت دلچسپ لگا۔ آپ کی معصومانہ ہوشیاری کو وجاہت مسعود کی ہوشیار معصومیت نے بلا تبصرہ پیش کرکے اس سے بھی زیادہ دلچسپ کام کیا ہے، تاکہ پڑھنے والوں پر آپ کے سیکولرازم کے پردے کُھلتے دیکھ کر لُطف لیا جائے۔ خیر، خوش رہئے۔ لیکن ہم منافقوں کا، کہ جنہیں سیکولر ہونے نہ ہونےکا کوئی دعوٰی نہیں، ایک توجہ دلاؤُ نوٹس ضرور لیتے جائے: علماء کے ساتھ عوام کا جو بہت گہرا رشتہ ہے وہ لاہور اور اسلام آباد کے عوام میں کہیں نظر آئے تو ہمیں بھی بتائے گا (فطری طور پر علم والوں کا رشتہ علمی و ادبی مراکز میں زیادہ ہونا چاہئے)؛ اگر علمی اور تہذیبی روشنیوں سے دور سماجی اور معاشی پسماندگی کا شکار علاقوں میں نیم خواندہ اور پست فکر قسم کے مُلّاؤں کے ساتھ چند گروہی اور فرقہ وارانہ وابستگیوں کو عوام اور علما کے گہرے رشتے کا نام دینا چاہیں تو ضرور دیجئے، آپ کی مرضی۔ آخر سیکولر بن کر اگر آپ ایسے “علماء” کی عزت کا تحفظ نہ کر پائے تو کیا فائدہ۔ ویسے جاتے ہؤے ایک آخری سوال: کچھ قابلِ عزّت علماء کے نام ہی گِنوادیجئے، ورنہ درسِ نظامی تو مولوی عبدالعزیز، طاہر اشرفی اور وفاق ہائے مدارس کے (ہر سرکار کے حاشیہ نشین) “بزرگوں” نے بھی کر رکھا ہے۔

  • 11-02-2016 at 4:38 am
    Permalink

    قابلِ عزّت عالِم ہونے کا مطلب ہے کہ علمی استطاعت میں ہر سال فارغ ہونے والے سینکڑوں سند یافتگان سے کچھ بہتر، تخلیق و تحقیق سے کچھ منسلک اور عصری شعور سے کچھ آگاہ؛ اور لازمی طور پر شہرت، تن آسانی اور لالچ (پراڈو، گن مین، میڈیا اور ایلیٹ طبقوں کی کاسہ لیسی) اور آزمائشوں کے خوف سے ماورا صاحبِ عزیمت عالِم۔

  • 11-02-2016 at 11:09 am
    Permalink

    فرماتے ہیں “ہم منافقوں کا جنہیں، سیکولر ہونے نہ ہونے کا کوئ دعوئ نہیں؟؟؟؟”

    محترم، تحریر تو سیکولرزم کے علمبرادروں کو مخاطب ہے( اور انکو بھی منافق کہا نہیں گیا،صرف پوچھا گیا ہے)-جب آپ ان میں سے ہیں ہی نہیں تو آپکو کیوں اسقدر چوٹ پڑی۔
    معذرت کہ آپکا یہ “غیرجانبدارانہ درد”، نہ تو “معوصومانہ ہوشیاری” ہے نہ “ہوشیار معصومیت” ہے، بلکہ “مدہوش عیاری” ہے-

    ہماری تو خیر ہے، مگر آپ نے وجاہت مسعود صاحب کی نیت پہ شک کیوں کیا؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ وہ بلاتعصب، ہر کسی کو یہاں اظہار کا حق دیتے ہیں۔کیا آپ کے خیال میں چند لوگوں کو زیر دام لانے وہ حمکت عملی (یامنافقت ) کھیلتے ہیں؟

    حضور، برداشت سیکھئے۔۔۔یہاں سب اپنااپنا راگ الاپتے ہیں اوربہت تکلیف ہو تو پھر کمنٹ میں، دلیل سے جواب لکھا کرتے ہیں، نہ کہ کوسنے طعنے دیتے ہیں(جیسا کہ پہلا کمنٹ موجود ہے)-
    یوں اگر ہمارے اظہار خیال سے آپکو اسقدر ذاتی تکلیف ہوئ اور “ہم سب” پہ آپ اپنے زریں نکتہ نظر کی ہی اجارہ داری چاہتے ہیں تو کھل کر فرمائئے، ہم آپ سے معذرت بھی کریں گے اور آپکا اخبار آپکے حوالے کرکے راہ بدل لیں گے، یہاں لکھنا نہ ہماری معاشی مجبوری ہے نہ نظریاتی۔۔۔والسلام

  • 16-02-2016 at 12:29 am
    Permalink

    حضرت، آپ کے عالمانہ اور کریمانہ تبصرے کو پڑھ کر شدت سے اپنی کم ظرفی کا احساس ہؤا، میں نے طعنوں اور کوسنوں والی زبان استعمال کی۔ معافی کا خواستگار ہُوں

Comments are closed.