علیشاہ ، فردوس بی اے اور صائمہ۔۔۔۔ جسٹس منصور علی شاہ کا تاریخی فیصلہ


\"\"ٹرانس جینڈر، ہیجڑا، زنخا، مخنث، خواجہ سرا اور کھسرا، یہ ہیں وہ معروف شناختیں، جو سماج نے اِس تیسری جنس کے لئے وضع کر رکھی ہیں۔ جو بشمول ہمارے، کسی بھی سماج کے لئے ایک گالی ایک طعنہ سمجھی جاتی ہے۔ کل اس کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کا جو تاریخی فیصلہ آیا ہے، اس کی جتنی بھی توصیف کی جائے کم ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس لاہور منصور علی شاہ کی جانب سے آیا ہے، آئینی درخواست شیراز ذکا ایڈووکیٹ کی دائر کردہ تھی۔ جسے نبٹاتے ہوئے، چیف جسٹس صاحب نے خواجہ سراﺅں کو مردم شماری میں شامل کرنے اور شناختی کارڈ بنوانے (اس میں ان کی جنس کا الگ خانہ رکھا جائے ) جیسے بنیادی شہری حقوق تفویض کر کے، گویا انہیں وقت کی نامعلوم دھند سے باہر نکالنے کی جانب پہلا اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ جس کے بعد اب یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس ملک میں، اس دھتکاری ہوئی مخلوق کی تعداد کیا ہے؟اور یہ بھی کہ کن سیاہ اور گمنام گلیوں، محلوں میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت نے 2014ء میں یہ حق اس مخلوق کو دے دیا تھا، جبکہ بنگلہ دیش میں تو ان لوگوں کو دیگر حقوق کے ہمراہ تعلیم کا حق بھی حاصل ہے، اور جہاں کوئی سماج، کسی دھتکارے ہوئے کو تعلیم کا حق دے دیتا ہے، تو اس کے بعد آہستہ آہستہ اسے وہ آسانیاں بھی حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جو کسی بھی ملک کے شہری کو اِس کا آئین فراہم کرتا ہے۔\"\"

یہ لوگ جنہیں ہم سڑکوں، بازاروں، چوراہوں اور شہر کی پررونق گلیوں میں دیکھنے کے عادی ہیں، جو شادی بیاہ کے موقعوں پر خودبخود کہیں سے آتے ہیں، اور لوگوں کو محظوظ کرنا شروع کردیتے ہیں، یہ لوگ جن کے چہروں پر سستے میک کی تہیں، ہونٹوں پر شوخ لپ اسٹک، اور بدن پر چمکیلا لباس ہوتا ہے، بھڑکتے رنگوں، تیز گونجدار تالی، اور زنانہ مردانہ مکس آواز میں بولتے، گاتے، جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے مخصوص حلیے، حرکات و سکنات اور آواز کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ سماج میں ان کے لئے عمومی تحقیر اور نفرت کے رویے اتنے عام ہیں، کہ انہیں چھپانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ پچھلے برس پشاور میں ، جب یکے بعد دیگرے پانچ عدد ہیجڑے اس سماج کے سوکالڈ مردوں کے ہاتھوں مار دیئے گئے، تو، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں اس مخلوق کے حوالے سے زوردار بحث کا آغاز ہو گیا۔ بحث ان کے حقوق کے متعلق، جو آج تک سماج انہیں نہیں دے سکا۔ بحث ان کی جسمانی ساخت کے متعلق، جس کی وجہ سے ان کے والدین انہیں، اپنی زندگیوں سے کاٹ کر الگ کردیتے ہیں۔بحث اس

\"\"

ظالمانہ نظام کے متعلق، جو دن کو سفید بے شکن بے داغ لباس پہن کر، ان کوپتھر مارتا ہے، اور راتوں کو ان سے منہ کالا کرتا ہے۔ اور اس کے بعد ان پر تشدد بھی کرتا ہے، اور ان کے وجودوں میں گولیوں سے سوراخ بھی چھیدتا ہے۔ علیشاہ جس کے بہیمانہ قتل نے اس بحث مباحثے کو نیا آہنگ نئی آواز دی، اس کے ساتھیوں کو، اس کی موت سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا، کہ پشاور کے جس ہوسپٹل میں لہولہان علیشاہ کو اٹھا کر لایا گیا، اس کے کسی وارڈ نے اسے زخمی اور جاں بلب مریضہ/ مریض کی حیثیت سے قبول نہ کیا۔ وہ شدید زخمی حالت میں مردانہ اور زنانہ وارڈ میں گھمائی پھرائی گئی، جہاں مریضوں اور ان کے لواحقین نے اسے دیکھ کر، آوازے کسے، نفرت سے منہ پھیرا، اور اسے دھتکار کر، وارڈ سے نکال دیا۔ شنید ہے، ان وارڈوں کے مریض اور ان کے پیارے، علیشاہ اور اس کی قوم کے لوگوں پر تحقیر و تضحیک سے بھرے جملے اچھالتے رہے، اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے، اس دوران علیشاہ مرتی رہی، قطرہ قطرہ۔۔۔ اور پھر وہ مر گئی۔ آدھے ادھورے وجود کے ساتھ پوری موت مر چکی علیشاہ اک چبھتا سوال بن کر سماج کے سامنے آن کر کھڑی ہو گئی۔ اور اس سماج کے بڑے اسے دیکھ کر بغلیں جھانکنے لگے۔

اسی بارے میں: ۔  احمد نورانی کو سزا ملنی چاہیے

\"\"

کتنا دوغلا ہے یہ پورا معاشرہ، بے رحم، سنگ دل اور بدقماش جس میں ہنس کھیل کر، ناچ گا کر، یہ معصوم اور دھتکارے ہوئے لوگ زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ میں نے آج تک کسی ہیجڑے کو سرِ عام روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (سوائے علیشاہ کی موت کے) میں نے آج تک کسی ہیجڑے کو فراڈ، غبن، چوری یا ڈاکہ ڈالتے نہیں دیکھا۔ میں نے آج تک کسی ہیجڑے کو کسی کا حق مارتے نہیں دیکھا۔ کسی کی جان لیتے نہیں دیکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے آج تک کسی ہیجڑے کو نکاح پڑھاتے بھی نہیں دیکھا۔ کسی ہیجڑے کا دن کی روشنی میں جنازہ اٹھتے بھی نہیں دیکھا۔ کسی مولوی کو ان کا جنازہ پڑھاتے بھی نہیں دیکھا۔ کہ یہ سفید پوش باعزت مردوں کا معاشرہ، ان آدھے ادھورے، دھتکارے ہوئے لوگوں کو سرِ عام گالی تو دیتا ہے، گولی تو مارتا ہے، مگر ان کے جنازے کو کندھا نہیں دیتا۔ اس معاشرے کے عجب دستور اور قاعدے ہیں۔ چوروں، ڈاکوﺅں، وطن فروشوں، نیب یافتاﺅں، قاتلوں، اور فتویٰ بازوں کو کندھوں پر بٹھاتا ہے۔ اور کونوں کھدروں سے لگی اس محروم مخلوق کا مضحکہ اڑاتا ہے، اسے جسم فروشی پر مجبور کرتا ہے، اور بعدازاں بہیمانہ تشدد کے بعد، اس کی جان لے لیتا ہے۔

لاہور فاﺅنٹین ہاﺅس میں، ہر مہینے کے پہلے ہفتے میں، اس مخلوق کی دلداری کے لئے ایک دن مختص کیا جاتا ہے،\"\" خواجہ سرا بحالی پروگرام کے تحت، ایک دفعہ وہاں، فردوس بی اے، اور لحیم شحیم صائمہ نے نہایت دکھ سے مجھے کہا ”ہم نے آج تک کوئی بچہ اغوا نہیں کیا، کسی مسجد کو نہیں جلایا، کسی گرجا گھر کو آگ نہیں لگائی، پھر لوگ ہم سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ کیوں دھتکارتے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  مودی کام کرتا ہے!

یہی سوال اس معاشرے سے میرا بھی ہے۔ جس میں لاہور ہائیکورٹ کا ایک منفرد فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، سماج کے کرتا دھرتا لوگوں سے، صرف یہ عرض کرنا چاہتی ہوں، کہ یہ مخلوق جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، صدیوں کی دھتکاری ہوئی ہے، لعن طعن، ذلت اور گالیاں اس کا مقدر ہیں، جبکہ یہ مقدر اس کا اپنا لکھا ہوا نہیں، اپنے وجود کی پیچیدہ ساخت ، اور پہچان کا بحران اس کا اپنا بنایا ہوا نہیں، لہٰذا اسے مطعون کرنے کے بجائے، اگر اس سے ہمدردی اور رحم کا رویہ اپنا لیا جائے، تو شاید یہ صدیوں کی ذلت سے باہر آ کر، اور کچھ نہیں تو اپنے دائرئہ کار میں رہ کر اپنے لئے باعزت جینے اور مرنے کا حق تو حاصل کرسکے۔ ووٹ کا حق، تعلیم کا حق، علاج معالجے کا حق، قبر کی دو گز زمین حاصل کرنے کا حق، جنازہ پڑھانے کا حق، جنازے کو کندھا دینے کا حق، جو اس ملک کے ہر اچھے برے شہری کو حاصل ہے، انہیں آج تک نہیں مل سکا۔\"\"شناختی کارڈ کے اجرا اور مردم شماری کے ذریعے ہو سکتا ہے، شہری حقوق کے لمبے چوڑے چارٹر سے انہیں مٹھی بھر حقوق مل ہی جائیں۔ مگر ہمارے معاشرتی رویے، جو ہم نے تیسری جنس کے متعلق اپنا رکھے ہیں، کیا ان میں بھی کوئی تبدیلی واقع ہوگی؟ یہ شہر جس کے ہائیکورٹ کی عظیم الشان عمارت سے ایک تاریخی اور منفرد فیصلہ جاری ہوا ہے، اسی شہر میں پچاس سال سے زائد عمر کے ہیجڑے دکھوں، بیماریوں، بڑھاپے ، بھوک اور ذلتوں سے دوچار ہیں۔ وہ منتظر ہیں کوئی محبت بھرا ہاتھ ان کی جانب بڑھے، اور انہیں یقین دلائے، وہ انہیں دھتکاری ہوئی مخلوق نہیں، خدا کی قابلِ رحم مخلوق سمجھتا ہے، اور بطور انسان اس سے ہمدردی بھی رکھتا ہے ، اور محبت بھی! اگر نیکی گورکھ دھندا نہیں، اور نفرت اچھی چیز نہیں، بہت ہی بری چیز ہے، تو ہمیں رب کی بنائی ہوئی اس آدھی ادھوری تخلیق سے نفرت کا حق حاصل نہیں، جو درحقیقت سوچنے والوں کے لئے ایک آزمائش ہے۔ علیشاہ، صائمہ اور فردوس بی اے اس آزمائش کے روپ ہیں، اگر کوئی سمجھے تو!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔