گم شدہ بلاگرز واپس نہیں آئے


\"\"پانچ بلاگرز بیس روز سے لاپتہ ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان قومی اسمبلی میں اس امید کا اظہار کرچکے ہیں کہ یہ لوگ جلد واپس آجائیں گے۔ لیکن اب تک ان کی خواہش اور کوششیں بارآور نہیں ہوئیں۔ ایک بیان میں وزیر داخلہ لاپتہ بلاگرز کے بارے میں بے بنیاد خبریں پھیلانے پر بھی خفگی کا اظہار کرچکے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس اہم معاملہ پر بس اسی قدر سرگرمی دکھائی دی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں رائے تو دور کی بات ہے، زندگی کی بھی کوئی وقعت باقی نہیں رہی، کسی ایک وزیر کی اتنی پریشانی کو بھی غنیمت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ چند درجن لوگوں نے ملک کے بعض بڑے شہروں میں بینر اور کتبے اٹھا کر اچانک غائب ہوجانے والوں کی حمایت میں احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان لوگوں کو رہا کیا جائے۔ اگر انہوں نے ملک کا کوئی قانون توڑا ہے تو ان پر مقدمہ قائم کرکے انہیں مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا پا سکیں یا اپنی بے گناہی ثابت کرسکیں۔ یہ احتجاج عرف عام میں ’موم بتی مافیا ‘ کی طرف سے مگر مچھ کے آنسو کہلاتے ہیں ۔ اس لئے حکومت تو دور کی بات ہے، عام آدمی بھی ان پر کوئی خاص توجہ دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ مختلف گروہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ وہ بھی بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ مذہبی انتہا پسندوں کے بعد آزادئ رائے پر بے چہرہ قوتوں کے اس حملہ سے ملک میں خوف کی فضا مزید گہری ہو جائے گی۔

ملک بھر سے غائب ہونے والے سینکڑوں لاپتہ لوگوں کے اہل خانہ طویل عرصہ تک احتجاج کرنے کے بعد آخر کار صبر سے گھر وں کو لوٹ چکے ہیں۔ کمیشن ہو یا عدالتیں ، انہیں اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہ کر کام کرنا ہوتا ہے سو وہ کررہی ہیں ۔ غائب کرنے والے بھی اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں کیوں کہ ملک کا کوئی باختیار ادارہ ان کے اس ’حق‘ کو چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ عوام کے نمائیندے فی الوقت پاناما پیپرز کی تہہ تک پہنچنے اور ملک کے وزیر اعظم کو حتی الامکان خوار کرنے کے لئے زور آزمائی کررہے ہیں یا سرکاری عہدوں پر فائز وزیر اپنے قائد کو بچانے کے لئے اپوزیشن کی پرو پیگنڈا مہم کا منہ توڑ جواب دینے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں گم کئے گئے لوگوں کے حامی و ہمدرد، اہل خاندان اور حق آزادی کے بارے میں پریشان لوگ وزیر داخلہ کی تسلیوں سے دل بہلا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی کسی میں ہمت و حوصلہ نہیں ہے۔ نہ اس سوال کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کو آخر کس جرم میں غائب کیا گیا ہے۔ نہ پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ طریقہ ملک کے کس قانون یا کون سے عالمی ضابطوں کے ذریعے اختیار کیا گیا ہے۔ بس جان لیا جائے کہ یہ کام ملک کے کسی حد درجہ ’حب الوطن‘ نے قومی سلامتی کے تحفظ کے نقطہ نظر سے کیا ہوگا۔

پاکستان میں قومی سلامتی کی اس اصطلاح میں معانی کا ایک جہاں آباد کردیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا تو ایک طرف مین اسٹریم میڈیا کے بحر بے پایاں کے غواث بھی پہلے دن سے دور کی ایسی ایسی کوڑی لائے ہیں کہ ہر انکشاف پر چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ دریافت کرلیا جائے کہ اس خبر کا ماخذ کیا ہے تو وہ آپ کی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ یہ واضح کرنے میں بھی دیر نہیں لگائیں گے کہ ایسے سوال کرنے والے غائب کئے گئے ’ملک و قوم کے دشمنوں اور مذہب بیزار لوگوں‘ کے ساتھی ہی ہو سکتے ہیں ، جن کے گمراہ کن خیالات یا سازشی ہتھکنڈوں کا ابھی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ بصورت دیگر یہ کیسے ممکن ہے کہ اظہار کا حق استعمال کرنے پر کسی کو اٹھایا جائے اور حب الوطن ادارے اس میں غلطی کریں۔ اس ملک میں چوری معاف ہو سکتی ہے، سرکاری حیثیت میں قوم کے وسائل لوٹنے کو بھولا جا سکتا ہے، بچوں پر ظلم کرکے ضمانت حاصل کی جاسکتی ہے ، منہ لپیٹ کر کم سن بچیوں سے زیادتی کرنے کے بعد اس سے انکار کیا جا سکتا ہے یا خواتین کی توہین کرنے کے بعد سرکاری و سیاسی عہدے برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ سارے چھوٹے جرم ہیں لیکن اگر کوئی یہ سوچے کہ وہ قوم کے مفاد سے کھیلے گا اور اس جرم سے بچ نکلے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ اگر اب تک سمجھ نہیں آیا تھا تو ان بلاگرز کے غائب ہونے سے سبق سیکھ لیا جائے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ لوگ غیر معروف تھے یا وہ سوشل میڈیا پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے تھے یا ان کا اعتراض مذہبی انتہا پسندی اور انسانی حقوق کے حوالے سے تھا۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق محفوظ ہے اور وہ کس کے نام سے پیٹنٹ ہے ، اس کا اعلان بھی قومی مفاد کے خلاف ہوگا ۔ اسی لئے تو وزیر داخلہ بھی اشاروں کنایوں میں بات کرکے آگے بڑھنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

یہ خوف کی حکمرانی کی طرف اٹھایا گیا قدم ہے۔ یوں جیتے جاگتے لوگوں کو ملک کے دارلحکومت اور دیگر بڑے شہروں سے اٹھالینے کا مقصد صرف ان چند لوگوں کی آواز بند کرنا ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کو پیغام دینا ہے جو اس ملک میں رہنا چاہتا ہے اور اپنی دیانتدارانہ رائے کا اظہار کرنا بھی قومی مفاد اور ملک کی بہتری کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔ اب یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اس رویہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ جو آواز ہمارے کانوں کو بھلی نہیں لگے گی، جو رائے مذہب اور قومی مفاد کی ایک مخصوص تشریح کے محدود پیمانے میں سما نہیں پائے گی اور جو شخص ان دیکھی قوتوں کے اس بے پایاں حق فیصلہ کو من و عن قبول کرنے کا اعتراف نہیں کرے گا اور جس نے بھی گریز یا انکار کا حوصلہ کیا ، اس کے لئے زندگی کرنے کے امکانات کو ختم کردیا جائے گا۔ یہ دلیل، الزام ، ثبوت یا عدالت، قانون اور انصاف کے معاملے قومی و ملی مفاد کے سامنے ہیچ ہیں۔ ہمیں اپنی حفاظت کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ وہ یوں کہ ہم میں سے کچھ بے نام، بے شناخت چہرے ان لوگوں کو بے نام اور بے شناخت کردیتے ہیں جو اپنی پہچان بنانے اور کسی اصول کو مروج کرنے کی بات کرتے ہوں ۔ اصول بنانا اور ان پر عمل کروانا ہمارا کام ہے۔ یہ ہمیں قبول نہیں ہے کہ کوئی اس اختیار کو پہچاننے میں غلطی کا ارتکاب کرے۔ یہ گمشدہ بلاگرز اپنے جیسے سب لوگوں کو یاد دلواتے رہیں گے کہ حق بات کرنے اور انسانیت کا راگ الاپنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

اور دہشت کا یہ پیغام ایک ایسے وقت میں نشر کیا گیا ہے جب طویل سناٹے کے بعد بعض باہمت لوگ آواز بلند کرنے، رائے کے اظہار کو بنیادی انسانی حق تسلیم کروانے اور جبر اور ہراس کی خوفزدہ کیفیت کو ختم کروانے کے لئے ہمت باندھ رہے تھے۔ خوف اور دہشت کا یہ پیغام صرف پانچ بلاگرز یا ان کے اہل خاندان یا چند دوستوں اور ہمدردوں کے لئے نہیں ہے۔ یہ پیغام ہر اس مرد و زن کے لئے ہے جو لفظ کی حرمت اور رائے کے تقدس کو اہم مانتا ہے۔ یہاں یہ معاملات اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے جو دکھائی تو نہیں دیتا لیکن جو ہمیشہ سے موجود ہے۔ اب یہ آپ سب کا کام ہے کہ اس دائرے کی حدود کو پہچانیں یا اس ملک کو چھوڑ دیں۔ کیوں کہ اعلان کیا گیا ہے کہ یہ ملک ان لوگوں کا نہیں ہو سکتا جو بولنے اور کہنے کا حق مانگتے ہیں اور آزادی سے سانس لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

ہراس اور بے یقینی کی یہ کیفیت یوں تو دائیرہ کھینچنے والی بے نام ، بے چہرہ قوتوں کے سایوں نے برس ہا برس سے عام کی ہوئی تھی۔ اسے مذہب سے وارفتگی کا نام دیا گیا۔ بتایا گیا کہ انسانی خون کی کوئی قیمت نہیں کہ یہ تو ہوتا ہی بہانے کے لئے ہے۔ جو لوگ اس گمراہ خیالی کا شکار ہیں کہ عقیدہ کسی فرد کا ذاتی معاملہ ہے، انہیں جان لینا چاہئے کہ یہاں انفرادیت نہیں اجتماعیت کی بات ہوگی۔ اس بات کا فیصلہ ہم کریں گے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ اس معاملہ میں بحث و تمحیص کی گنجائش نہیں ہے۔ سو سب نے دیکھا کہ اس اجتماعی شعور کو عام کرنے کے لئے نت نئی اور رنگ برنگی تلواریں میانوں سے نکلیں اور انسانوں کی گردنوں کو اپنی دھار پر لے لیا۔ کہیں کوئی دس بارہ سال کی بچی اس عریاں درندگی کا نشانہ بنتے بنتے رہ گئی جو کاغذ کے ٹکڑوں میں قرآنی آیات والے صفحات ملاکر حرمت قرآن کا پیغام عام کرنے کا ڈھونگ کررہی تھی۔ کہیں وحشت نے ایک ان پڑھ جوڑے کو کسی ایسی پلاسٹک کی شیٹ پر سونے کے جرم میں بھٹی کی آگ میں زندہ دفن کردیا جس پر مقدس آیات ثبت ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ کہیں کوئی خاتون پانی پینے پلانے کے جھگڑے میں قصور وار قرار پائی گئی اور کسی چوکیدار نے صوبے کے گورنر کو گولیوں سے بھون کر مذہب کا نام سربلند کیا۔ ایسا کرتے ہوئے الزام بھی اس نے خود عائد کیا، تفتیش کا کٹھن مرحلہ بھی خود ہی عبور کیا، وکالت کا فریضہ بھی آپ ہی سرانجام دیا اور منصف کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلہ بھی خود ہی جاری کیا۔ اسی پر بس نہیں اس فیصلہ کو نافذ کرنے کا حتمی اقدام یعنی سزا کی تکمیل کو بھی اپنے ہی ہاتھوں سے ادا کرکے بتا دیا کہ اگر کسی نے اصول یا حق یا قانون کی بات کی تو اس کے ساتھ ’ فرزندان اسلام ‘ یہ سلوک کرتے ہیں۔ آخر کو کوئی وجہ تو ہوگی کہ وکیل پھول نچھاور کرنے اور سروں پر بٹھانے کو سعادت سمجھتے تھے اور مقدمہ لڑنے کے لئے ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس بنفس نفیس تشریف لائے تھے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ نا انصافی ہے۔ اگر پھر بھی یقین نہیں آتا تو ممتاز قادری کے بلند ہوتے مزار اور اس پر عقیدت سے سرجھکائے انسانوں کے ہجوم کو دیکھ لے۔

مذہب کے نام پر خوف اور نفرت کا یہ پیغام کبھی گلگت بلتستان میں خون بہا کر عام کیا گیا اور کبھی بلوچستان میں بسیں روک کر اور عقیدہ کی بنیاد پر پہچان کے ذریعے مارنے کے عمل سے واضح ہؤا۔ کبھی بم کے دھماکوں نے ’باغیوں ‘ کا صفایا کیا، کہیں چاقو نے اپنی پیاس بجھائی اور کہیں گولیوں سے سینوں کو شق کیا گیا۔ جب یہ سب ہو رہا تھا تو وہ سارے خاموش اور محو نظارہ تھے جو امن اور قانون کے رکھوالے تھے۔ یہ سارے انہی کے سائے تھے۔ یہ وہی کام کررہے تھے جو ان کا مقصد پورا کرسکتا تھا۔ یعنی خوف عام کرنا اور یہ بتا دینا کہ یہاں کسی قسم کا اختلاف کرنا، بات کرنا، دلیل دینا اور بحث کرنا منع ہے۔ سناٹا عام کرنے والے سارے سائے اس ایک آواز کے دشمن تھے جو اپنا حق مانگنے کے لئے حلق سے نکلتی ہے۔ پھر ازن عام ہؤا کہ یہ دہشت گردی ہے۔ انسانوں کا بے مقصد خون بہانا انسانیت کی توہین ہے۔ یہ پاکستان ہی نہیں دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ تب نفرت اور تعصب کے ان ہرکاروں کو لگام ڈالنے کی بات کی گئی۔ تب شرف انسانیت بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو سماعت کا استحقاق ملا۔ آوازیں بلند ہونے لگیں۔ ہمت جمع کرکے رواداری اور بھائی چارے کا عالمگیر پیغام عام کرنے کی باتیں سنائی دینے لگیں۔ پر خوف کے پیامبر یوں بے بسی سے یہ سب ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ دائرہ حرکت کرنے لگا۔ دیکھیں کون اس کی زد میں آتا ہے۔

یہ دائرہ خوف کی علامت ہے۔ یہ کسی بھی آواز کا احاطہ کرسکتا ہے۔ ابھی پانچ اٹھائے گئے ہیں۔ یہ دائرہ ساکت نہیں ہے۔ یہ اپنا حجم اور محور بدلتا رہتا ہے۔ بہتر ہے اس کے سائے بن جاؤ۔ مان جاؤ کہ تمہیں اسی طریقے سے جینا ہے جو تمہیں بتا دیا جائے۔ ورنہ تمہیں پتہ بھی نہ لگے گا کہ تم کب لاپتہ ہوجاؤ گے ۔ بس وزیر داخلہ بیان ضرور دیں گے اور وزیر اعظم تو اپنی کابینہ سمیت پاناما پیپرز کے معاملہ میں مصروف ہیں۔ جو وقت بچتا ہے وہ میٹرو، شاہراہ یا کسی منصوبے کا افتتاح کرنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اب کتبہ اٹھاؤ یا لاشیں یا پھر بیعت کرلو کہ تم کون سا حسین ہو کہ سر کٹا دو گے لیکن بات سے نہیں ہٹوگے۔

لیکن یہ تو ہر دور کی یزیدی قوتوں نے کہا اور اعلان کیا ہے۔ سنت حسین تو ہر زمانے میں زندہ رہی ہے۔ تو آؤ تم اپنی تلوار آزماؤ ہم حبّ حسین میں حق کہنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔ خوف کی یہ فضا ہمیں قبول نہیں ہے۔ ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

(تصویر: کمیل حسن ۔ بشکریہ: بی بی سی۔ اردو)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 646 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “گم شدہ بلاگرز واپس نہیں آئے

  • 25-01-2017 at 3:09 pm
    Permalink

    اِس سے ثابت ہوا کہ ھماری ایجنسیاں اپنا کام ایمان داری سے کر رہی ہیں .
    یہ کام جس ایجنسی نے بھی کِیا ہے، کمال کِیا ہے

  • 25-01-2017 at 9:34 pm
    Permalink

    بهت اعلىٰ مضمون
    مذهب كى آرْ مين نفرت كا كاروبار اب عام هو گيا هى
    ا

Comments are closed.